Loading...
دینک ٹربیون» News »گجرات کس کا

گجرات میں پرچار کا آج انتم دن,پی ایم کر رہے ہیں سی پلین سے پرچار,راہل پہنچے مندر !    برفیلا ہماچل:جن جاتیہ شیتروں میں بیپٹری زندگی,پریٹن میں آئیگی گرماہٹ !    پنجاب نے دوگنی کی ودھائکوں کی میڈکل گرانٹ !    ہنیپریت,انیہ آروپی عدالت میں پیش !    پراپرٹی ڈیلر کی گولی مارکر ہتیا !    فریدآباد کی سینک کالونی میں اویدھ نرمان توڑے !    ابھی راجنیتی میں آنے کا ارادہ نہیں:خلیع !    بی بی سی آئی کی وشیش عام بیٹھک میں ہوئے فیصلے !    شکایت کرتا کی موت,بینک بچوں کو دیگا1.27کروڑ !    گوشالاؤں کے آرتھک سنکٹ پر کیا وچار !    

گجرات کس کا

Posted On December - 7 - 2017

پشپرنجن
گجرات میں ودھان سبھا چناؤ کے پہلے چرن کے لئے پرچار تھم گیا ہے۔ کل دکشن گجرات اور سوراشٹر کی89سیٹوں پر متدان ہوگا۔ یہی دو علاقے گجرات کا راجنیتک بھوشیہ تے کرتے ہیں۔ جس پٹیل سمودائے کے دم پر اب تک بھاجپا گجرات جیتتی آئی ہے,وہ اب اسکے خلاف کھڑا نظر آ رہا ہے۔ پاٹیدار آندولن کے اگوا ہاردک پٹیل کی ہنکار اور راہل گاندھی کے پلٹوار سے بھاجپا کی راہ آسان نہیں ہے۔ یہی کارن ہے که پی ایم مودی کے گھر میں پارٹی نے سبھی منتریوں اور سنتریوں کو پرچار میں لگایا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے که گجرات کی جنتا کسے‘باس’بناتی ہے۔

Gujaratگوجرات ودھان سبھا چناؤ کے لئے متدان کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔ پہلے چرن کا چناؤ پرچار کا شور تھم گیا ہے۔9دسمبر کے متدان کے لئے جتنے تیر چھوٹنے تھے,چھوٹ لئے۔9دسمبر کو سوراشٹر اور دکشن گجرات میں متدان ہونا ہے۔ پہلا چرن اسلئے خاص ہے,کیونکہ سوراشٹر پٹیل بہل شیتر ہے۔ پٹیل,پچھلے کئی چناؤ سے بھاجپا کو ووٹ کرتے رہے۔ جو پٹیل بھاجپا کے واسطے چناؤ میں ایک ہوکر تن من دھن سے لگ جاتے تھے,اب بنٹ گئے۔ پٹیل سمیکرن ڈیڑھ سال پہلے ہوئے اگر آندولن کے بعد الٹا پڑ گیا۔ بھاجپا ورودھی اس آگ کو جلایے رکھنا چاہتے ہیں۔ ستا میں بنے رہنے والوں کو22سال کے حساب کتاب سے بچنا ہے,تو انہیں ہندو کارڈ اور رام مندر آسان دکھتا ہے۔
اردھ مروستھلی شیتر سوراشٹر میں گجرات کے12ضلعے آتے ہیں۔ اس میں دوارکا,جام نگر,موربی,راجکوٹ,پوربندر,جونا گڑھ,گر سومناتھ,امریلی,بھاونگر,بوتاڑ,سریندر نگر,احمدآباد کا کچھ حصہ اور دھان کا تالکا کو جوڑ دیا گیا ہے۔ دکشنی گجرات میں صورت,بھروچ,نوساری,دانگ,والساڈ,نرمدا,تاپی ضلعے آتے ہیں۔ دکشن گجرات اور سوراشٹر,یہ دو ایسے علاقے ہیں,جو گجرات کا راجنیتک بھوشیہ تے کرتے ہیں۔ متدان کے پہلے دور میں89سیٹوں کے لئے متدان ہوگا۔
14دسمبر کو دوسرے دور میں14ضلعوں کی93سیٹوں پر متدان ہونا ہے۔ بھاجپا ادھیکش امت شاہ نے دعویٰ کیا ہے که ودھان سبھا کی کل182سیٹوں میں سے150سیٹیں انکی پارٹی جیتیگی۔50ہزار128متکیندروں سے ای وی ایم پیٹ مشینیں18دسمبر کو کاؤنٹنگ کے سمیہ کیا نتیزے دینگی,اس بارے میں ابھی بھوشیہ وانی کرنا مشکل ہے۔
کیا گجرات سے ایک ہزار کلومیٹر دور اتر پردیش کے ستھانیہ چناؤ پرنام کو اس صوبے کے متادیش کا مانک مان لیں؟ یا پھر ورلڈ بینک نے‘ازی بزنس ڈوئنگ’کے جو سلمہ ستارے وت منترالیہ کو دئیے,اس سے ہم مان لیں که صورت کے ویوپاریوں کو اب کوئی شکایت نہیں۔ اتھوا نیویارک ستھت موڈی نے جو ریٹنگ کر دی,اسکے بناہ پر ہم مان لیں که گجرات میں بلے بلے ہے؟ اتھوا5.7پرتیشت جی ڈی پی گروتھ ریٹ کے آدھار پر مان لیں که150سیٹیں پا لینا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ایک کے بعد ایک ان4اپلبدھیوں کی لیڈ وت منتری ارن جیٹلی لے رہے تھے۔ مگر,پکچر ابھی باقی ہے متروں۔
گراؤنڈ زیرو دیکھیں تو سوراشٹر میں سرکار سے صرف پٹیل ناراض نہیں ہیں۔ کولی,دربار,بھارواڑ,اہیر جاتی بہل علاقوں میں گھومیے تو تصویر الگ ہے,جو ٹی وی پر شائد ہی دکھتی ہے۔ گجرات میں کپاس کسانوں کا ایک بڑا حصہ ٹھگا سا محسوس کرتا ہے,جسے پردھان منتری مودی نے حسین سپنے دکھائے تھے۔ مودی جی نے2014کے لوک سبھا چناؤ میں کہا تھا, ‘کپاس کو سفید سونا بنا دینگے۔’مگر,جب سمرتھن مولیہ سے کم پر کپاس بیچنے کو کسان ووش ہوئے,تب انہیں لگا که مودی نے ان سے چھل کیا ہے۔ ایگریکلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی(ایپیئیمسی)کے ادھیکش تلسیبھائی بھتاڑا بتاتے ہیں, ‘نریندر بھائی جب مکھیہ منتری تھے,تب وعدہ کیا تھا که کپاس کا سمرتھن مولیہ1400روپے کونٹل کر دینگے۔ مگر ورتمان سرکار نے1200روپے تے کیا۔ زمینی حقیقت یہ ہے که کسان800روپے کونٹل پر کپاس بیچنے کو ووش ہیں۔’
سوراشٹر کے مونگ پھلی کسانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ کپاس اور مونگ پھلی کی کھیتی زیادہ تر کولی جاتی کے کسان کرتے ہیں۔ کولی جاتی ایک‘سائلینٹ ووٹ بینک‘ہے,جو پورے صوبے میں24فیصدی کے آس پاس ہیں۔ سوراشٹر میں کولی,راٹھڑیا راجپوت,اہیر,یہ سبھی پچھڑی جاتی سے ہیں۔ سوراشٹر میں جو اپر کاسٹ راجپوت ہیں,انکی منستھتی کے بارے میں بھارت چڈاسما بتاتے ہیں که ڈھولیرا شیتر میں وشیش ویوپار و نویش شیتر بنانے کے لئے سرکار نے زمین ادھگرہن کرنا شروع کیا,جسکے خلاف کسان سڑک پر امڑ پڑے تھے۔ لمبا آندولن ہوا,اسی میں ہم نے سنکلپ کر لیا تھا که چناؤ آنے دو پھر بھاجپا کو سبق سکھاتے ہیں۔
gujrat assاپر کاسٹ راجپوت خود کو’دربار‘سماج کا کہنے میں اپنی شان سمجھتے ہیں,کاٹھیاگواڑ انکا گڑھ ہے۔ زمینیں چھن جانے کے بعد بھاونگر کے علاقے میں انکے لوگ آٹو رکشا چلا رہے ہیں۔ وکاس کا یہ‘گجرات ماڈل’نہ تو کولی کو راس آ رہا,نہ اگڑے پچھڑے راجپوتوں کو۔ جونا گڑھ اور گر سومناتھ کے جو اہیر ہیں,انمیں زیادہ تر کا جھکاو کانگریس کی اور ہونے کی وجہ یہ بتاتے ہیں که کانگریس نے ٹکٹ ادھک دئیے,اور بھاجپا نے کم۔ کانگریس نے بہل جونا گڑھ اور گر علاقے میں آٹھ اہیر پرتیاشی اتارے ہیں,اور بھاجپا نے ماتر دو۔ سبھی جاتیوں کی اپنی اپنی سمسیائیں ہیں,مگر جو کیندریہ وشیہ ہے,وہ یہ که لوگوں کے پاس کام نہیں ہے,بیروزگاری بیتحاشہ بڑھی ہے۔ مودی کی چناوی سبھا میں کرسیاں خالی دکھنے کا مطلب کیا نکالا جائے؟
گجرات ماڈل یدی گاؤوں میں سپھل ہے,تو کسان آتم ہتیا کیوں کر رہے ہیں؟ ایک بڑا سوال ہے۔ گرہ منترالیہ کے آنکڑے بتاتے ہیں که2013سے2015کے بیچ گجرات کے1483کسانوں نے آتم ہتیا کی۔2014سب سے خراب سال رہا جب600سے ادھک گجراتی کسانوں نے جان دے دی۔ ایک ہی پارٹی کی ستا کیندر اور راجیہ میں ہے,مگر جو بیورے دئیے جا رہے ہیں,اس میں ورودھابھاس دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔24مارچ2017کو صوبے کے کرشی منتری بابو بوکھریا نے ودھان سبھا میں کانگریس کے سدسیہ تیجاشریبین پٹیل کے سوال پر جانکاری دی که اکتوبر2016تک پچھلے پانچ سال میں صرف91گجراتی کسانوں نے آتم ہتیا کی۔ اب کس رپورٹ کو صحیح مانے؟ سنکھیا چاہے جو ہو,مگر,دونوں سرکارییں اقرار کرتی ہیں که گجرات میں کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ پھر یہ کیسا ماڈل,جسمیں دیش کا ان داتا دیہہ تیاگ کو ووش ہو جائے!
اس طرح کے راجنیتک سائڈ افیکٹ کو چرچا کے کیندر میں وپکش بھی پرزور طریقے سے نہیں لا پاتا۔ یہ ٹھیک ہے کانگریس نے جنیؤ دکھاکر اور راہل کے مندر درشن کو دکھاکر ان لوگوں کا منھ بند کیا,جو انھیں ہندو وروگھی کے چشمیں سے دیکھتے تھے۔ مگر,راہل کا گجرات کے مندروں میں جانا,مودی کو شدید مرچی کی طرح لگ رہی تھی۔ انکے بیان دن ب دن تیکھے ہوتے جا رہے تھے۔‘تمہاری دادی کے باپ نے سومناتھ مندر بننے نہیں دیا تھا۔’دیش کے ورتمان پردھان منتری کے منھ سے اپنے پوروورتی دو پردھان منتریو کے لئے ایسے کڑوے بول پر انکے چاہنے والوں نے تالیاں ضرور بجاییں,مگر جو اسکا نشپکش آکلن کر رہے تھے,انہیں یہ بات مریادہ سے باہر کی لگی۔
اگر ستھانیہ چناؤ,پرانتیہ چناؤ کے لئے پیرا میٹر ہیں,تو پھر اسکا پرنام بھی ودھان سبھا کے متدان سمپن ہو جانے کے بعد ہونا چاہئیے۔ یہ ایک ایسا وشیہ ہے,جس پر چناؤ آیوگ کو ومرش کرنے کی آوشیکتا ہے۔
گجرات کے ثمر میں یوگی کا وجے رتھ گھمایا جانا اور اس پر سوار یوپی بھاجپا کے وہ تمام میئر پرہسن کا حصہ بن گئے,جسے دیش کے کسی بھی ودھان سبھا چناؤ میں نہیں دیکھا گیا۔ اس طرح کے راجنیتک کرتب پر چناؤ آیوگ موک درشک کیوں رہا؟ بڑا سوال ہے۔ ایک ہزار کلومیٹر سے ادھک دور یوپی میں ستھانیہ چناؤ کی چھایا گجرات میں کیسے پڑ جاتی ہے؟
گجرات کے بغل والے صوبے مہاراشٹر,راجستھان,یا مدھیہ پردیش میں ستھانیہ نکائے چناؤ تازہ تازہ ہوئے ہوتے,تب تال ٹھوکتے,تو بات تھوڑی بہت گلے سے اتر بھی جاتی۔ دھیان سے دیکھیے, 2014کے جس لوک سبھا چناؤ میں گجرات کی26کی26سیٹیں بھاجپا کی جھولی میں چلی گئی تھیں,ڈیڑھ سال بعد گرامین متداتاؤں نے وہ جھولی اس پارٹی سے چھین لی۔2015کے دسمبر مہینے میں گجرات میں ضلع پنچائت کی31سیٹوں پر کانگریس کو23سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اور تالکا پنچائت کی193میں سے113سیٹوں پر کانگریس کا قبضہ ہو چکا تھا۔ دو سال پہلے کے ستھانیہ چناؤ میں راہل گاندھی گجرات گئے بھی نہیں تھے,نہ ہی کیندر سے کانگریس کا کوئی کداور نیتا گجرات جھانکنے گیا تھا۔ تب بھی اس طرح کا رزلٹ! کلپنا کیجئے,یدی ستھانیہ چناؤ کے ساتھ ساتھ اس سمیہ گجرات میں ودھان سبھا چناؤ بھی ہو جاتا,تو کیا ہوتا؟
شبدبھیدی وانوں کی بوچھار
کیا یہ پہلے سے تے تھا که گجرات چناؤ کے دوران کب کیا ہونا ہے؟ پدماوتی کو لیکر بوال, 5دسمبر کو رام مندر پر سپریم کورٹ میں سنوائی اور پھر کپل سبل کو لیکر گجرات میں غدر کاٹنا,کیا اسکی پٹکتھا پورو نیوجت تھی؟ گجرات تو گویا,شبدبھیدی وان چلانے کا ادھکیندر ہو گیا ہے۔ راہل گاندھی شدھ جنیؤدھاری براہمن ہیں,انکا یگیوپوی سنسکار ہو چکا ہے,اسکا ثبوت گجرات کے متداتاؤں کو دیا جا رہا ہے۔‘امت شاہ ہندو نہیں,‘جین’ہیں۔’ ’فیروز گاندھی مسلمان تھے۔ وہی مسلمان,جو لو جہاد کرتا ہے! ایودھیا سے واپس ہندو تیرتھیاتریوں سے بھری ٹرین کو گودھرا میں پھونکنے والا مسلمان!….بابر,اورنگزیب کی سوچ کو آگے بڑھانے والے!8ہفتے میں دس مندروں کے درشن,یہ کانگریس کا’یو ایس پی’ہے۔
راہل گاندھی جیسے جیسے مندروں کے درشن کر رہے ہیں,پردھان منتری نریندر مودی کا بلڈپریشر بڑھتا جا رہا ہے۔ اپنے پرتدوندوی پر کن شبدوں سے پر ہار کرنا ہے,جو سروویاپی ہو جائے,یہ گجرات چناؤ پرچار میں ادھک دکھا ہے۔ دس سال پہلے,ورش2007کے ودھان سبھا چناؤ میں‘موت کا سوداگر’شبد سے اس سمیہ کے مکھیہ منتری مودی تلملا گئے تھے۔ حالانکہ,یہ شبد سونیا گاندھی کے منھ سے نکلا تھا,مگر اسکا ازاد پرسدھ پترکار راماسوامی نے کیا تھا۔ جیئیسٹی کے لئے‘گبر سنگھ ٹیکس’ایسا سٹیک بیٹھا,مانو کانوں میں کسی نے پگھلاہ ہوا سیسہ ڈال دیا ہو۔ جانے کہاں سے شبدبھیدی وان جٹایے جا رہے ہیں! ایک بار پھر‘خون کی دلالی’جیسی شبداولی سے ستا پکش آہت ہے۔‘کوئلے کی دلالی’کو بھیدنے کے واسطے‘خون کی دلالی!’
10712694cd _Patidar_پاورپھل پاٹیدار
ہاردک پٹیل کیا اس پورے مہابھارت کے ابھمنیو ہیں؟ اس سوال کا اتر18تاریخ کو ہی ملیگا۔ مگر,ہاردک پٹیل کی چناوی سبھا میں جس طرح لوگوں کی بھیڑ امڑنے لگی,کچھ پریکشک2012کی یاد تازہ کرتے ہیں,جب کیشبھائی پٹیل کی سبھاؤں میں ایسا پردشیہ اپستھت ہوتا تھا۔ کیشبھائی نے گجرات پرورتن پارٹی(جیپیپی)کی ستھاپنا کی تھی اور انہیں یہ لگا تھا که پٹیل کارڈ چھوڑکر گجرات کا راجنیتک مانچتر بدل دینگے۔ مگر,جب پرنام آیا,تو کیشبھائی پٹیل کے ساتھ‘جیپیپی’کا کیول ایک امیدوار جیت پایا۔ گجرات میں پٹیل یا انھیں پاٹیدار کہیں,کل آبادی کے12.3پرتیشت ہیں۔ ان میں60فیصدی لیؤوا پٹیل,اور40پرتیشت کڑوا پٹیل ہیں۔ یہ لوگ کاروباری ہیں۔ ہوٹل ویوسائے اور کرشی پر انکی پکڑ ہے,اسلئے راجنیتک روپ سے سجگ ہیں۔ بابوبھائی پٹیل,چمن بھائی پٹیل,کیشبھائی پٹیل اور آنندی بین پٹیل اس سمودائے کے وہ چہرے ہیں,جن میں سے تین کو گجرات میں شاسن کرنے کا اوسر کئی بار ملا۔ سوال یہ ہے که انہوں نے مکھیہ منتری رہتے اپنے سمودائے کو آرکشن دلوانے میں کوتاہی کیوں کی؟ پاٹیدار1970سے کانگریس کے ساتھ تھے,مگر مادھو سنگھ سولنکی جب ستا میں آئے تو انہیں آرکشن آندولن کو جھیلنا پڑا,جس وجہ سے1985میں انہیں استیفا دے دینا پڑا۔ منھ سے جلے مادھو سنگھ سولنکی نے مٹھا بھی پھونک پھونک کر پینا شروع کیا,اور غیر پاٹیدار شترپوں کو جوڑکر‘خام‘پھامورلے کو شروع کیا۔ کشتریہ,ہرجن,آدیواسی,مسلم کو ملاکر‘خام’فارمولا ہٹ کر گیا اور مادھو سنگھ سولنکی دسمبر1989میں دوبارہ سے ستا میں آ گئے۔ اپیکشت پٹیلوں نے1990میں کھیل کر دیا,جس سے مارچ مہینے میں جنتا دل بھاجپا کی ساجھا سرکار آ گئی۔ چمن بھائی پٹیل مکھیہ منتری بنے۔ مگر,یہ گٹھ بندھن25اکتوبر1990کو ٹوٹ گیا۔ چمنبھائی پٹیل کانگریس کے ساتھ ملکر1994تک ستا میں رہے۔ مگر,پٹیل ووٹ کا اصل کھیل1995میں ہوا,جب وہ ایک مت سے بھاجپا کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔14مارچ1995میں بھاجپا کی سرکار بنی اور کیشبھائی پٹیل مکھیہ منتری بنے۔ اس سے ایک بات تو تے ہو گئی که پٹیل,جسکے ساتھ کھڑے ہیں,ستا کی چابی اسکے پاس ہوتی ہے۔


Comments Off onگجرات کس کا
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

سماچار میں حال لوکپریہ

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation