Loading...
دینک ٹربیون» News »جان لیوا علاج

واجپئی کا حال لینے ایمس گئے مودی !    جاپان سینیگل میچ2-2سے ڈرا !    اویدھ کھنن کرنے کے آروپ میں2پر کیس !    این سی سی کیمپ: 25بچوں کی طبیعت بگڑی !    سوج کی کتاب جانچیگی کانگریس !    کیندر نے کالیجیم کو2نام پھر لوٹائے !    دہلی میں پیڑ بچانے کے لئے چپکو آندولن !    شانتی اہنسا کی ہوتی ہے جیت:مودی !    لندن کے فلیٹ میں آرام کر رہا تھا نیرو مودی !    بیمار پتنی کو چھوڑ پاک نہیں لوٹینگے شریف !    

جان لیوا علاج

Posted On December - 7 - 2017

سنویدنشیل پاردرشی ویوہار ضروری

Edit-1جب جانچ کے بعد ہریانہ کے سواستھیہ منتری کہیں که فورٹس اسپتال میں ڈینگو پیڑتا بچی کی موت لاپرواہی نہیں مرڈر ہے تو کچھ کہنے سننے کو شیش نہیں رہ جاتا۔ دراصل,علاج میں کوتاہی سے سات ورشیہ ادیا سنگھ کی موت ہو گئی تھی۔ سنویدنہینتا کی پراکاشٹھا تب نظر آئی جب مرتکا کے پرجنوں کو سولہ لاکھ روپے کا بل تھمایا گیا۔ اس گھٹنا نے پورے دیش کو ادویلت کیا۔ پنجاب و ہریانہ ہائیکورٹ نے بھی سختی دکھائی اور جنبھاوناؤں کا بھی سرکار پر دباوٴ تھا۔ یہی وجہ تھی که سمیہ رہتے جانچ ہوئی اور اسپتال کو لاپرواہی سے علاج کرنے کا دوشی مانا گیا۔ دراصل,دیش میں سواستھیہ سودھاؤں کی لچر حالت اور سرکاروں کی اداسینتا کے چلتے دیش میں نجی اسپتال ککرمتوں کی طرح اگ آئے ہیں,جو مصیبت کے مارے مریضوں کو الٹے استرے سے مونڈ رہے ہیں۔ دیش میں بڑے اسپتال مالکوں,دوا کاروباریوں,چکتسا جانچ اور چکتسکوں کا اییسا تنتر وکست ہو گیا,جو مریضوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا ہے۔ نشچت طور پر راجنیتک سنرکشن کے بنا اس نرمم کاروبار کو ارورا بھومی نہیں مل سکتی تھی۔ بچی کھچی کسر بیمہ کمپنیوں کی دربھسندھی نے پوری کر دی,جسکے چلتے اسپتال لمبے چوڑے بل مریضوں کو تھما دیتے ہیں۔
ستادھیشوں دوارہ سرکاری اسپتالوں کی بیکدری سے وہاں نہ چکتسا کے آدھونک اپکرن ہیں,نہ پریاپت ڈاکٹر اور نہ ہی دوائیاں۔ یہی وجہ ہے مصیبت کے مارے لوگ جانتے ہوئے بھی بڑے اسپتالوں میں لٹنے کو مجبور ہیں۔ دراصل,پانچ ستارہ اسپتالوں کے مالک ایسے لوگ ہیں,جن کا چکتسا کے سروکاروں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے,محض نویش کے مقصد سے انہوں نے اسپتال کھولے ہیں۔ وہ نہ تو چکتسا پیشے کے اچ مانکوں کا پالن کرتے ہیں اور نہ ہی چکتسا پرکریا میں پاردرشتا نظر آتی ہے۔ اییسے میں ان سے سنویدنشیل ویوہار کی امید کرنا بیمانی ہوگا۔ پچھمی دیشوں میں نجی اسپتالوں میں علاج بہت مہنگا ہے,وہاں بنا ڈاکٹر کی انومتی کے آپ کسی میڈکل سٹور سے دوا بھی نہیں لے سکتے۔ مگر وہاں ایک تو سرکاری اسپتالوں کا سطر برقرار ہے,دوسرے نجی اسپتالوں میں اپچار میں پاردرشتا ہوتی ہے تتھا مریضوں کے ساتھ سنویدنشیل ویوہار ہوتا ہے۔ پھر سخت قانون کے دائرے میں اسپتالوں کو بھاری جرمانہ دینا پڑتا ہے۔ انکی پیشےور نیتکتا سے بھارتیہ اسپتال مالکوں کو سبق سیکھنا چاہئیے۔ دراصل,نجی اسپتالوں پر انکش لگانے کے نظریے سے بھارتیہ قانون لچر ہیں اور وبھن وبھاگوں کے بھرشٹاچار کے چلتے دوشیوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہو پاتی۔ نجی اسپتالوں کی من مانی و سنویدنہین ویوہار پر انکش لگانے کے لئے سخت قانون ضروری ہیں۔


Comments Off onجان لیوا علاج
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

سماچار میں حال لوکپریہ

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation