Loading...
دینک ٹربیون» News »جیون کے سندھیاکال میں بے بسیبیکدری

گجرات میں پرچار کا آج انتم دن,پی ایم کر رہے ہیں سی پلین سے پرچار,راہل پہنچے مندر !    برفیلا ہماچل:جن جاتیہ شیتروں میں بیپٹری زندگی,پریٹن میں آئیگی گرماہٹ !    پنجاب نے دوگنی کی ودھائکوں کی میڈکل گرانٹ !    ہنیپریت,انیہ آروپی عدالت میں پیش !    پراپرٹی ڈیلر کی گولی مارکر ہتیا !    فریدآباد کی سینک کالونی میں اویدھ نرمان توڑے !    ابھی راجنیتی میں آنے کا ارادہ نہیں:خلیع !    بی بی سی آئی کی وشیش عام بیٹھک میں ہوئے فیصلے !    شکایت کرتا کی موت,بینک بچوں کو دیگا1.27کروڑ !    گوشالاؤں کے آرتھک سنکٹ پر کیا وچار !    

جیون کے سندھیاکال میں بے بسیبیکدری

Posted On December - 7 - 2017

10712818cd _Untitled_1465922690_835x547ابھی بیتی30نومبر تک نجی شیتر کی کمپنیوں سے سیوانورت ہو گئے کرمی اپنے ہی بینکوں کے چکر کاٹ رہے تھے۔ انھیں بینکوں میں انکی سانکیتک پینشن آتی ہے۔ دراصل,انھیں بینکوں میں اسلئے جانا پڑ رہا تھا تاکہ وہاں پر جاکر بتا سکیں که یہ ابھی بھی جیوت ہیں اس سنسار میں۔ یہ ایک وارشک کاریہ ہے,جو ان پینشنبھوگیوں کو ایک رسم کی طرح ہر سال کرنا ہی پڑتا ہے۔ اسی لئے دیش بھر میں لاکھوں پینشنبھوگی اپنے اپنے بینکوں میں جا رہے تھے۔ ان سبھی کو1250روپے سے لیکر10ہزار روپے تک کی ماسک پینشن ملتی ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں که اتنی کم راشی میں اپنے اور اپنی پتنی کے لئے دال روٹی کا انتظام کرنا بھی اسمبھو ہے۔
ہاں,کیندر اور راجیہ سرکاروں کے رٹائر کرمیوں کو تو پینشن اب کافی سنتوشجنک ملنے لگی ہے۔ اب کیندر سرکار سے سیکشن آفیسر پد سے رٹائر ہونے والے کرمی کو ماسک40ہزار روپے سے ادھک تک کی ماسک پینشن مل جاتی ہے۔ رٹائر ہونے پر اسے پیئیپھ,گریچیٹی,سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج جیسے اور دوسرے لابھ تو ملتے ہی ہیں۔ اگر دیش بھر کی بات کریں تو کیندر اور راجیہ سرکاروں کے وبھن وبھاگوں میں کام کرنے والوں سے لیکر رٹائر ہو گئے کرمیوں کا آنکڑا بمشکل تین چار کروڑ تک ہی ہوگا۔ اگر اس میں کیندر اور راجیہ سرکاروں کے اپکرموں میں کام کر رہے یا پھر سیوانورت ہو گئے کرمیوں کو بھی جوڑ لیں تو یہ آنکڑا پانچ چھہ کروڑ کے آس پاس ہو جاتا ہے لیکن,ان میں سب کو پینشن نہیں ملتی۔ یہ سنکھیا کچھ کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
نجی شیتروں میں تو چھوڑ ہی دیں,زیادہ تر سرکاری وبھاگوں اور اپکرموں میں بھی اب ٹھیکے پر ہی کرمیوں کو رکھا جا رہا ہے۔ ٹھیکے پر کام کرنے والے ملاجموں کو تو پھییرویل پارٹی بھی نصیب نہیں ہو پاتی۔ زیادہ تر کو انکی رٹائرمینٹ سے پہلے ہی چلتا کر دیا جاتا ہے۔ یہ ورشٹھ ناگریک ہونے پر تل تل کو محتاج ہو جاتے ہیں۔ یہ اپنے جیون کا شیش بھاگ کسی طرح جیسے تیسے گجارتے ہیں۔ نوئیڈا سے نئی دہلی کی اور آنے کے دوران مجھے ایک بزرگ دمپتی ایک پارک کے باہر روز مل جاتا تھا۔ ایک دن صرف بوڑھے بابا بیٹھے دکھے۔ میں نے آواز دی! پوچھا,آج ماتاجی سیر کرنے نہیں آئی؟ بابا نے بڑے دو:کھ سے جواب دیا,وہ تو پچھلے شنیوار کی رات ہی چلی گئی۔ ہم سیر کرنے تھوڑے ہی آتے تھے,بیٹا! بارہ بجے پیچھے مندر میں لنگر کھانے آتے تھے۔ بیٹے بہو آج کل کہاں پوچھتے ہیں؟ وہ بھی کیا کریں؟ معمولی سی نوکری ہے۔ گھر چلانا ہے! بچے پالنے ہیں۔ شام کو تھوڑی سی ٹیوشن میں ہی پڑھا دیتا ہوں۔ بڑھیا تو چلی گئی۔ اب میں انتظار کر رہا ہوں۔
سب سے وکٹ ستھتی ہے دیش میں اسنگٹھت شیتروں سے جڑے کروڑوں کامگاروں کی۔ انکی ساماجک سرکشا کے بارے میں کیا کوئی سوچ رہا ہے؟ اور,جب اسنگٹھت شیتروں سے جڑے مزدور60سال کی آیو کو پار کر لیتے ہیں تو انہیں کون دیکھتا ہے۔ انکی چھت,بھوجن,بیمار ہونے پر دوائی وغیرہ کی ویوستھا کس طرح سے ہوتی ہے؟ سواستھیہ دیکھ بھال اور بڈھاپا پینشن جیسے سا‍ماجک سرکشا کے لابھ سنگٹھت شیتر کے کرمچاریوں کو ہی ملتے ہیں۔ اگر بات غیر سنگٹھت شیتروں میں کام کرنے والوں کی کریں تو انھیں صحیح طرح سے سرکاری یوجناؤں کے لابھ تک نہیں مل پاتے۔ دیش کی کل شرم شکتی کا90فیصدی حصہ انسگٹھت شیتروں سے جڑا ہے۔
مودی سرکار یوجنا لائی ہے, ‘اٹل پینشن یوجنا’۔ لیکن,اسکا لابھ صرف کامگار ہی لے سکتا ہے,وہ بھی صرف اپنے لئے۔ اسکے پاس نہ تو اترکت پیسہ ہوتا ہے نہ ہی اتنا سادھن یا سمیہ که وہ اس یوجنا کا لابھ لینے کے لئے چکر کاٹے یا سالانہ نوینیکرن کروایے۔ کچھ بڑے سنستھانوں نے اپنے کرمچاریوں کو اس یوجنا کا لابھ دینا بھی چاہا تو نیم آڑے آ گئے۔ سرکار منموہن کی ہو یا مودی کی؟ بابو تو وہی ہیں۔ انہیں کو پینشن ملنی ہی ہے,دوسروں کو کیوں ملے,اسکے لئے اپنی بابوگیری کا پورا اپیوگ کر رہے ہیں۔
ہمارے یہاں ہر سطر پر یووا شکتی کی وشیش روپ سے بہت چرچا ہوتی ہے,پرنتو اس کرم میں انکی ان دیکھی نہیں ہو جنہوں نے جیون بھر دیش کے لئے دن رات ایک کیا۔ دیش میں بجرگوں کی آبادی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے,اسلئے انکے انوکول ستھتیاں بنانی ہونگی۔ پچھلے ایک دشک میں ورشٹھ ناگرکوں کی سنکھیا میں39.3پرتیشت کی بڑھوتری ہوئی ہے اور دیش کی آبادی میں انکی حصے داری ورش2001کے6.9پرتیشت کی تلنا میں بڑھکر ورش2011میں8.3پرتیشت ہو گئی ہے۔ بیشک,سرکار کے انیک ساماجک سرکشا کے کاریہ کرم چل رہے ہیں۔ لیکن,انکے لابھارتھی سیمت ہی ہیں۔ ان میں اسنگٹھت شیتر کے بہت کم کامگار یا انکے پریوار لابھارتھیوں میں شامل ہو پاتے ہیں۔ غیر سنگٹھت شیتر کے شرمکوں اور انکے آشرتوں کو بیماری,ادھک عمر,درگھٹناؤں یا مرتیو کے کارن بیحد غریبی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرف سرکار اور سماج کو دیکھنا ہوگا۔
ہمارے آس پاس رہنے والے بجرگوں میں10میں سے8کی نیمت آئے کا کوئی ثروت نہیں ہے۔ وہ پوری طرح سے اپنے پریوار پر ہی نربھر ہیں۔ چونکہ,وہ آرتھک روپ سے سواولمبی نہیں ہیں,اسلئے انہیں اپنے گھر میں بھی دتکار ہی مل رہی ہے اور باہر بھی۔ اگر کسی شخص کے دو یا تین پتر ہیں تو وہ انکے پاس باری باری سے رہنے کے لئے ابھشپت ہیں۔
یعنی بزرگ ہونے پر وہ شخص ستھائی یاتری کی بھومکا میں آ جاتا ہے۔ یہ ہے پتروں کو ترپن کرنے والے دیش میں بجرگوں کی اصلی ستھتی۔ بہت ہی کم ایسے پریوار ہیں جہاں بزرگوں کو عزت سے روٹی نصیب ہے۔ اس بابت سرکار کو سوچنا ہی ہوگا۔ اپنے جیون کے سندھیاکال میں پہنچ گئے بجرگوں کے ہتوں کو سمجھنا ہی ہوگا۔ آج کل مہانگروں اور بڑے شہروں میں اولڈ ایج ہوم کھل رہے ہیں۔ ان میں پریاپت سودھائیں اپلبدھ رہتی ہیں۔ لیکن,ان میں بھی وہ ہی رہ سکتے ہیں,جن کی مالی حالت ٹھوس ہے۔ یدی وہ بیس ہزار روپیہ ہر ماہ خرچ کرنے کے لئے تیار ہیں تب تو انکا گزارا ہے,ورنہ نہیں۔ اگر دمپتی ہیں تو یہ آنکڑا اور بڑھ جاتا ہے۔

آر.کے.سنہا

آر.کے.سنہا

دیش میں بجرگوں کی یا یوں کہیں که60سال سے ادھک عمر کی آبادی کے سمبندھ میں کچھ چونکانے والے آنکڑے سامنے آئے ہیں۔ سال2011کی جنگننا کے انوسار,دیش میں ڈیڑھ کروڑ بزرگ بالکل اکیلے جیون ویتیت کر رہ رہے ہیں۔ ان میں تین چوتھائی آبادی تو عورتوں کی ہے۔ گرامین بھارت کے32.5فیصدی گھروں میں کم سے کم ایک بزرگ تو ہے ہی۔ جبکہ,شہری بھارت میں یہ سنکھیا29فیصدی ہی رہ جاتی ہے۔ گرامین بھارت میں28لاکھ مہلائیں اکیلے رہ رہی ہیں۔ شہروں میں یہ سنکھیا8.2لاکھ ہے۔ بجرگوں کی سکھ سودھا کے لئے انیک طرح کے قدم بھی حال کے ورشوں میں اٹھائے گئے ہیں۔ آوشیکتا اس بات کی ہے که سرکار اور سماج ہر بزرگ کے پرتی سنویدنشیل رویہ اپنائے۔ سرکاری یوجناؤں اور کاریہ کرموں میں دیش کے دور دراز شیتروں میں رہنے والے بجرگوں کو کم سے کم چھت,دوائی,بھوجن کی ویوستھا تو اوشیہ ہی ہو۔

 (لیکھک راجیہ سبھا سدسیہ ہیں۔)


Comments Off onجیون کے سندھیاکال میں بے بسیبیکدری
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

سماچار میں حال لوکپریہ

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation