Loading...
دینک ٹربیون» News »راجکوٹ سیٹ:دو سی ایم کی لڑائی

مالدیو میں آپاتکال اودھی بڑھنیے سے بھارت چنتت !    ہیریٹیج باغیچے کا ادگھاٹن !    ٹوٹّر پر کانگریس نیتاؤں کو فولو کر رہے بگ بی !    گلینڈرس روگ دہلی ہائیکورٹ نے کہا,اگلے آدیش تک کوئی گھڑدوڑ نہیں !    پی ایم ایل این پرمکھ کے روپ میں شریف ایوگیہ قرار !    جیند نپ اپادھیکش پر فائرنگ,گمبھیر !    جیبیٹی شکشکوں کی25کو آکروش ریلی !    پارٹیوں نے کیے روڈ شو !    آدھار کارڈ میں دیری پر بھڑکے,کی نعرےبازی !    پاک کے4پورو سینیہ ادھیکاریوں پر چلیگا بھرشٹاچار کا کیس !    

راجکوٹ سیٹ:دو سی ایم کی لڑائی

Posted On December - 7 - 2017

مانس داس گپتا
راجکوٹ, 7دسمبر
vijay rupaniگجرات ودھان سبھا کے راجکوٹ پچھم سیٹ پر ہو رہے مقابلے کو‘موجودہ تتھا بھاوی’مکھیہ منتریوں کی ٹکر مانا جا رہا ہے۔2اسمان لوگوں کے مقابلے کے باوجود گجرات کے سوراشٹر شیتر کے مکھیہ راجنیتک کیندر راجکوٹ شہر کی2وشدھ شہری سیٹوں میں سے ایک اس سیٹ پر مقابلہ کافی قریبی رہنے کی سنبھاونا ہے۔
اس سیٹ سے دوبارہ میدان میں اترے مکھیہ منتری وجے رپانی کا مقابلہ کانگریس کے اندرانل راجیگرو سے ہے,جو که بلڈر,ہوٹل مالک ہونے کے ساتھ ساتھ راجیہ ودھان سبھا کا چناؤ لڑ رہے سبھی کانگریس پرتیاشیوں میں سب سے امیر ہیں۔ حالانکہ چناؤ لڑ رہی دونوں مکھیہ پارٹیوں میں سے کسی نے بھی مکھیہ منتری پد کے پرتیاشیوں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے,لیکن ایسا مانا جا رہا ہے که اگر بھاجپا کو چناؤ میں جیت ملتی ہے تو روپانی ہی راجیہ سرکار کے مکھیہ بنے رہ سکتے ہیں۔ وہیں,اگر کانگریس22سال سے راجیہ کی ستا پر قابض بھاجپا کو مات دینے میں سپھل رہتی ہے تو کانگریس کسے مکھیہ منتری بناییگی,اس بارے میں پارٹی کی اور سے ابھی کوئی سنکیت نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن راجیگرو اپنے چناؤ شیتر میں چپکے چپکے اس طرح کی بات پھیلا رہے ہیں که اگر وہ جیت جاتے ہیں اور انکی پارٹی ستا میں آتی ہے تو کانگریس نے انہیں مکھیہ منتری بنانے کا‘وعدہ’کیا ہے۔ سنکشیپ میں کہہ سکتے ہیں که دونوں پرتدوندویوں نے اس سیٹ پر چناوی لڑائی کو‘دو مکھیہ منتریوں کے بیچ لڑائی’کا رنگ دے دیا ہے۔
اندرانل2012کے چناؤ میں ساتھ لگتے راجکوٹ پورو شیتر سے جیت کر پہلی بار ودھان سبھا پہنچے تھے۔ لیکن اس بار انہوں نے سویچھا سے روپانی کے خلاف لڑنے کی پیشکش کر دی۔ وہ خود کو جاینٹ کلر مان رہے ہیں,انکے وشواس کے باوجود کانگریس پرتیاشی کے لئے ہر لحاظ سے یہ کام آسان نہیں ہے۔ گجرات کے شہری علاقوں میں بھاجپا آج بھی بہت مضبوط ہے اور کانگریس اسکے قلعے میں سیندھ لگا پانے میں زیادہ سپھل نہیں ہو پائی ہے۔
جاتیہ گنت ہو سکتا ہے مہتوپورن
روپانی کے لئے اس سیٹ پر جیت بہت آسان تھی,لیکن شیتر میں جاتیہ گنت انکے خلاف بہت مہتوپورن کارک ثابت ہو سکتا ہے۔ روپانی جین ہیں تتھا اس ودھان سبھا شیتر میں اس سمودائے کے متداتاؤں کی سنکھیا بہت کم ہے,جبکہ براہمن متداتاؤں کی سنکھیا25,000سے ادھک ہے اور کانگریس پرتیاشی خود بھی ایک براہمن ہیں۔


Comments Off onراجکوٹ سیٹ:دو سی ایم کی لڑائی
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

سماچار میں حال لوکپریہ

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation