Loading...
دینک ٹربیون» News »ہم ووٹ,وہ جملے پھینکتے رہینگے

گجرات میں پرچار کا آج انتم دن,پی ایم کر رہے ہیں سی پلین سے پرچار,راہل پہنچے مندر !    برفیلا ہماچل:جن جاتیہ شیتروں میں بیپٹری زندگی,پریٹن میں آئیگی گرماہٹ !    پنجاب نے دوگنی کی ودھائکوں کی میڈکل گرانٹ !    ہنیپریت,انیہ آروپی عدالت میں پیش !    پراپرٹی ڈیلر کی گولی مارکر ہتیا !    فریدآباد کی سینک کالونی میں اویدھ نرمان توڑے !    ابھی راجنیتی میں آنے کا ارادہ نہیں:خلیع !    بی بی سی آئی کی وشیش عام بیٹھک میں ہوئے فیصلے !    شکایت کرتا کی موت,بینک بچوں کو دیگا1.27کروڑ !    گوشالاؤں کے آرتھک سنکٹ پر کیا وچار !    

ہم ووٹ,وہ جملے پھینکتے رہینگے

Posted On December - 7 - 2017

ترچھی نظر

آدتیہ جین
نوٹنکی تگڑی ہے,کھیل ذرا رس کی ہے۔ جملوں کے گلاس میں ستا کی وہسکی ہے۔‘جاتی’کے کاجو ہیں, ‘وعدوں’کا چنا ہے۔‘جھوٹھ’کی پرتیوگتا میں‘سچ’کہنا منا ہے۔‘سنہتا’کے‘آچار’میں تیل چڑھ گیا ہے۔‘سرکس’میں جوکروں کا‘رول’بڑھ گیا ہے۔‘آلو’کو سونا بنانے کی ضد ہے۔ جنیؤ تک چڑھا لئے, ‘تکڑم’کی حد ہے۔ انکی‘اکھاڑ’ہے,انکی‘پچھاڑ’ہے۔‘دھرم’کی آڑ میں ووٹوں کا جگاڑ ہے۔‘کرتیوالا’آستین چڑھانے لگا ہیں… ‘سوٹ والے’کی‘ٹینشن’بڑھانے لگا ہے۔ چناوی ٹھنڈ میں اپائے بےاثر ہیں۔ پھر سے‘نمونیا’کے پھیلنے کا ڈر ہے۔‘شاہ’اور‘مات’کا کھیل چل رہا ہے۔ سانپ اور نیولوں کا میل چل رہا ہے۔ کل ملاکر سیاست کا‘سٹہ’اب کے گجرات چناؤ پر ہے۔ اور‘جن گن’کا بھوشیہ پھر سے دانو پر ہے۔
‘فی الحال‘ہاتھ’کے بس کی تو بات نہیں ہے۔‘مٹھی’کیا بندھیگی… ‘انگلیاں’ہی ساتھ نہیں ہیں۔‘جھاڑو’کے بھی‘بکھرنے’کا احساس ہو گیا ہے۔‘کھانسیوالا’کھانس کھانس کے‘خاص’ہو گیا ہے۔‘ہاتھی’کے حوصلے تو ویسے ہی پست ہیں۔‘بہن جی’ابھی‘پرچہ’پڑھنے میں ویست ہیں۔ اور اب… ‘اچھے دن والے بابا’کے‘پروچنوں’کا‘رپیٹ ٹیلی کاسٹ’سن سن کر وکاس کے پیدا ہونے کی بھی امید کھو گئی ہے۔‘وکاس’تو ہوا نہیں…بدلے مییں‘تین چھوریاں’ہو گئی ہیں… ‘نوٹبندی,جیئیسٹی,اور مہنگائی’۔ اوپر سے‘صاحب’بھی کہتے پھر رہے ہیں… ‘بھائیو اور بہنوں…مہاری چھوریاں,چھوروں سے کم ہیں کے؟’ایسے میں‘چناؤ’تو کیا ہیں…بس‘پھارمیلٹی’نبھانی ہے۔‘کئیں’میں کودے یا‘کھائی’میں…جان تو‘ہماری’ہی جانی ہے۔ باقی‘چھٹبھییوں’کی قسمت تو ضمانت ضبط کروانے تک سمٹ گئی ہے۔ بچی کھچی‘ہاردک’بھاونائیں بھی‘سی ڈی’میں نپٹ گئی ہیں۔
ایسے میں راجنیتک پڑھےلکھوں کی یہی رائے ہے۔ سارے جتن کرکے دیکھ لئے…اب تو‘شہجادے’کی‘تاج پوشی’ہی انتم اپائے ہے۔ اور پارٹی کے پاس بھی کوئی دوسرا چہرہ نہیں ہے۔ دولہے تو بہت ہیں مگر سب کے پاس‘خاندانی’سہرا نہیں ہے۔ ارے…سچ تو یہ ہے که یہ‘چناوی جملے’تو بس آنکھوں کا دھوکا ہے۔ پچھلے ستر سالوں کا بس اتنا سا لیکھا جوکھا ہے۔ دیش‘فادر آف نیشن’سے‘فادر آف فیشن’تک آ چکا ہے۔‘راجپتھ’ ‘جنپتھ’کا حق کھا چکا ہے۔ سیاسی لوگ ترقی پہ ترقی کر رہے ہیں۔ پہلے سمندر سے‘چلو’بھرتے تھے…اب‘چلو’میں سمندر بھر رہے ہیں۔ سچ پوچھو تو‘بھارت’کا‘بھاگیہ’سو گیا ہے۔ پہلے وکاس‘وکلانگ’تھا…اب‘دویانگ’ہو گیا ہے۔
سیاست کی اس ان دیکھی پرگتی کو ہم کیا سمجھ پائیں گے۔ ارے ایک‘شہجادا’…چایوالے سے‘جواب’کا‘سوال’مانگ رہا ہے…اس سے زیادہ‘اچھے دن’کیا آئینگے۔ مگر ہمیں کیا…ہم تو عام لوگ ہیں…یوں ہی چناوی دھارا میں بہتے رہینگے۔ خود کی‘سپاری’خود ہی دیتے رہینگے۔ دھرم یا جاتی یا شیتر کے نام پر…یا ہاتھوں میں‘نوٹ’اور‘بوٹل’کو تھام کر…اپنا مت انکو پروستے رہینگے۔ اور چناؤ کے بعد قسمت کو کوستے رہینگے۔
پھر تماش بینوں کی طرح‘تالیاں بجاکر’دیکھتے رہینگے…وہاں,وہ لوگ کرسیوں پر بیٹھ کے جملے پھینکتے رہینگے۔


Comments Off onہم ووٹ,وہ جملے پھینکتے رہینگے
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.

سماچار میں حال لوکپریہ

Powered by : Mediology Software Pvt Ltd.
Web Tranliteration/Translation