Loading...
بال چٹ‍ٹھی:نو ورش کا سواگت...! | Webdunia Hindi

بال چٹ‍ٹھی:نو ورش کا سواگت...!

پیارے بچوں, 
اب وقت آ گیا ہےکا سواگت کرنے کا۔ آدمی کا جیون جب کچھ ورشوں کا ہے تو سوابھاوک ہے که ہرایک ورش کی بہت بڑی قیمت ہے۔ کہتے ہیں که1ورش کی قیمت اس ودیارتھی سے پوچھو جو اپنی ککشا میں پاس نہیں ہو سکا اور1سیکنڈ کی قیمت اس دھاوک سے جو1سیکنڈ سے بھی کم سمیہ سے پچھڑ کر سورن پدک حاصل کرنے سے چوک گیا۔
 
بچوں,کبھی آپنے اس بات پر غور کیا ہے که ہمارا جیون کیا ہے۔ یہی ایک ایک پل سے بنا ہے,کیونکہ جو پل ایک بار چلا گیا وہ پلٹ کر کبھی بھی نہیں آئیگا۔ تو کیوں نہ ہم اس سمیہ کی اور ایک ایک ورش کی قیمت پہچانیں۔
 
وگت ورش میں ہم نے جو بھی کیا,اسے ایک بار پلٹ کر دیکھیں که ہم نے کیا حاصل کیا اور کیا حاصل کرنے سے چھوٹ گیا۔ ہم نے اپنے جن گنوں کے کارن کچھ اچھا پایا,انہیں ہم برقرار رکھیں اور جو ہم پراپت کر سکتے تھے‍لیکن ہماری کسی غلطی سے ہم اسکے حقدار نہیں بن سکے,ان کمیوں کو دور کرتے چلیں اور ان باتوں کو آگے بھی دھیان رکھیں اور جیون میں اسے عمل میں لائیں۔
 
بچوں,غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے۔ آج ہمارے دیش میں کتنے بڑے بڑے ادیوگپتی ہیں۔ سبھی کو پہلے پریاس میں تو سپھلتا نہیں مل جاتی۔ انہیں بھی کسی کسی ویوسائے میں کچھ سمیہ گھاٹا اٹھانا پڑتا ہے۔ گاندھی جی بھی کہتے تھے'چاہے سو غلطیاں کرو,لیکن کسی بھی غلطی کو دوہراؤ مت کیونکہ غلطی کو دوہرانا مورکھتا ہے۔'
 
تو بس ضرورت ہے اپنی ان غلطیوں کو دور کرنے کی,تاکہ جیون میں آپ سپھل کہلائیں۔ آپ سویں پر اور آپکے پرجن آپ پر غرو محسوس کر سکیں۔ میں آشا کرتی ہوں ان باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے آپ اپنے نوورش کی شروعات کرینگے۔ 
 
سبھی بچوں کو نو ورش کی ڈھیروں شبھ کامنائیں۔ ہیپی نیو ایئر...! 
 
تمہاری دیدی 
مولی 
 

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation