Loading...
سب سے پیارا شبد ہے-ماں۔Mothers Day 2019 | Webdunia Hindi

سب سے پیارا شبد ہے-ماں






ماں شبد کوش کا ہی نہیں اپتو جیون کے واڈمیہ کا بھی سب سے پیارا شبد ہے۔ ششو کے مکھ سے سب سے پہلے یہیپھوٹتا ہے۔ یدیپی ماں کے اترکت ماتا,مائی,عما,جننی,مییا آدی کتنے ہی شبد اس ارتھ میں پراپت ہوتے ہیں,کنتو ماں شبد میں جو مہمہ ہے وہ انیتر نہیں ملتی۔ تتھاپی ویوہار میں ماتا شبد سب سے ادھک پرچلت ہے۔

بھارتیہ واڈمیہ میں ماتا کا ابھپرائے اور سوروپ اتینت وشد ہے۔ شبدکوشوں کے انوسار ماتا ستریلنگ سنگیا شبد ہے۔ یہ ایساسوچک پد ہے جسمیں آدر اور شردھا کا بھاوٴ سوت سماہت ہے۔ ناریوں کے لئے سمبودھن سوچک انیہ شبدوں میں وہ گرما نہیں ملتی جو ماتا شبد میں ہے۔ اسی لئے بھارتیہ من پرناریوں کو ماتا کہ کر سمبودھت کرتا ہے۔ یہ بھارتیہ سنسکرت کا ریکھانکنی ویششٹیہ ہے۔
آج بھلے ہی ہم پاشچاتیہ انوکرن پر انگریزی بھاشا کے پربھاؤ کے کارن‘اینڈ جینٹلمین’کے انوواد کے روپ میں‘دیویوں اور سجنوں’کہ کر سویں کو ابھجاتیہ ایوں سبھے سمجھنے کا دمبھ کریں کنتو اس میں وہ سانسکرتک اسمتا کہیں نہیں جھلکتی جس کا درشن ماتا سمبودھن میں سلبھ ہے۔ وستت یہ پورب اور پچھم کا سانسکرتک بھید ہے۔

پچھم کی سبھیتا پورو کی سنسکرتی سے یہاں بہت پیچھے چھوٹ جاتی ہے۔ پچھم میں اپنی جننی ماں ہے۔ اسکے لئے‘مدر’سمبودھن ہے کنتو انیہ ناریاں‘مدر’نہیں ہیں۔ وہ لیڈیز ہیں۔ بھارتیہ درشٹی اس سندربھ میں نتانت بھن ہے۔ وہ انیہ ناریوں کو ناری نہ کہ کر ماتروت مانتی ہے۔ انہیں ماتا کہتی ہے۔ اسکا آدر بھاوٴ انیہ ناریوں کے پرتی بھی وہی ہے,جو اپنی ماتا کے پرتی ہے۔ اسی لئے اس میں نبھرانت سندیش ہے

ماتروت پرداریشو پردروییشو لوشٹھوت۔
آتموت سروبھوتیشو ی پشیتی س پنڈت۔۔

ارتھات جسکی درشٹی میں پرائی ناریاں ماتا کے سمان ہیں,پرایا دھن مٹی کے ڈھیلے کے سمان ہے اور سبھی پرانی اپنے ہی سمان ہیں,وہی گیانی ہے۔ گیان کی یہ درشٹی جب پرسار پاتی ہے تو اپرادھ تھم جاتا ہے۔ پرائی استری میں ماتا کا درشن کرنے والے پورانک پاتر ارجن اور اتہاسک نائک شواجی کے سمان اچ آدرش اپستھت کرتے ہیں۔‘لیڈیز’شبد آدر سوچک اوشیہ ہے,کنتو اس میں ماتا شبد جیسی شردھاپورن پوترتا نہیں ہے۔ کارن یہ ہے که‘لیڈی’بھوگ یا ہو سکتی ہے,اسکے پرتی رتبھاو جاگرت ہو سکتا ہے کنتو ماتا کے پرتی ایسی سنبھاونا نگنیہ ہے۔ رتبھاو کی اسوستھ جاگرتی ویبھچار کی دشٹ پرورتی کو پروتساہت کرتی ہے اور کبھی کبھی تو بلاتکار جیسے جگھنیہ اپرادھ تک پتت کر دیتی ہے۔ ابودھ بالکائیں تک اس سے نہیں بچ پاتیں۔ نٹھاری ہتیاکانڈ جیسے آپرادھک پرکرن اس دکھد تتھیہ کے ساکشی ہیں۔

بھارتیہ سماج کی یہ پتنونمکھی ستھتیاں اپنی سنسکرتی سے دور ہٹنے اور پرائی سبھیتا کے چھدم جال میں الجھنے کا دشپرنام ہیں۔ منشیہ کے من میں پرناریوں کے پرتی ماتربھاو کی پشٹی ہی ایسی انشٹکاری ستھتیوں کو نینترت کر سکتی ہے۔ کسی باحیہ اپائے اتھوا دنڈودھان ماتر سے ایسی درگھٹنائیں روک پانا اتینت دشکر کاریہ ہے۔ ات یہ اتینت آوشیک ہے که ہم اپنے سانسکرتک اسمتا کی میردنڈ ماتر شکتی کے سوروپ,مہتو ایوں گورو کی پنرپرتشٹھا کریں۔

گیانانبھووں سے اتپن چنتن کا سروادھک پربھاؤ پورن لکھت پرستتی واڈمیہ کہی جاتی ہے۔ ساہتیہ واڈمیہ کے اپار وستار کا سب سے ادھک منورم روپ ہے۔ اسنے صدا سے سماج کو گیان کی انیہ پرستتیوں کی اپیکشا ادھک پربھاوت کیا ہے۔ ات وشو کی سبھی وکست بھاشاؤں میں نرنتر ساہتیہ سرشٹی ہوتی رہی ہے اور اس ساہتیہ میں مہتوپورن وشیوں کو نرنتر پرستت کیا جاتا رہا ہے تاکہ مانو سمودائے انکے مہتو کو وسمرت نہ کر پائے اور ان پر درشٹی کیندرت رکھ سکے۔

ماتا کے سندربھ میں رچت وشو ساہتیہ بھی اس تتھیہ کا ساکشی ہے۔ جہاں بھارتیہ ساہتیہ میں سنسکرت سے لیکر آدھونک بھارتیہ بھاشاؤں تک ماں کے سندربھ میں وپل سامگری ملتی ہے وہاں انگریزی,روسی,جاپانی آدی ودیشی بھاشاؤں کے ساہتیہ میں بھی ماں کو شردھا اور آدر کے ساتھ سمرن کیا جاتا رہا ہے۔ میکسم گورکی کا اپنیاس‘ماں’اس تتھیہ کی پشٹی کرتا ہے۔ انگریزی کوی کالرج کی کوتا‘دی تھری گری بس’میں ماں کی مہمہ کا بکھان ہے۔

یہاں تک که وبھاشاؤں اور بولیوں میں بھی ماں کا سوروپ,اسکا واتسلیہ,اسکی ممتا ایوں سیوا بھاونا,اسکا تیاگ اور نشچھل نسوارتھ پریم ورنت ہے۔ لوککتھائیں,لوریاں اور لوک گیت ماں کے واتسلیپورن ممتو کے وسترت دھراتل پر ممتامیہ روپوں میں انکت ہیں کنتو بھارتیہ بھاشاؤں میں اسکا ورنن جتنا وشد اور گورواسپد ہے اتنا انیتر درلبھ ہے۔ اسی لئے ماترروپ ورنن میں بھارتیہ ساہتیہ وششٹ ہے۔

وشو ساہتیہ میں ماتا کی پرتشٹھا کا کارن ماتا کی اتکرشٹ رچناتمک سامرتھیہ ہے۔ اس سامرتھیہ کے بل پر ماتا اپنے پریوار,سماج اور راشٹر کو دور تک پربھاوت کرتی ہے۔ وہ پربھاوی بھومکا میں ہونے پر بھی پربھاوت کرتی ہے اور اپربھاوی ہونے پر بھی اپنا پرچر پربھاؤ ڈالتی ہے۔ ماتا کی پربھاوی بھومکا سپرناموتی اور مدھمتی ہوتی ہے کیونکہ اس ستھتی میں وہ اتکرشٹ سرشٹی کرتی ہے۔ اپربھاوی بھومکا میں اسکی رچناشکتی کا سدپیوگ نہیں ہو پاتا ہے اور تب وہ پریوار,سماج اور راشٹر کو شریسکر اپلبدھیاں پردان کرنے میں اسفل رہ جاتی ہے۔

منشیہ سماج کی لگھتم اکائی ہے۔ منشیہ کو منشیتا ماتا سکھاتی ہے۔ وہی ششو کا سنرکشن,پوشن کرتی ہوئی اسے شریشٹھ ناگریک بناتی ہے۔ شریشٹھ ناگرکوں سے اچھے سماج اور سشکت راشٹر کا نرمان ہوتا ہے۔ اسکے وپریت اپربھاوی بھومکا میں ماتا اپیکت دائتو کے نرواہ میں اسفل رہتی ہے اور تب منشیہ میں معنویہ سدگنوں کا سمیک وکاس بادھت ہوتا ہے;سسنسکرت سماج اور سشکت راشٹر کے نرمان کی سنبھاونائیں شین ہو جاتی ہیں۔ ات سماج نرمان میں ماتا کی مہتی بھومکا سوت سدھ ہے۔



ماتا کا سنیہہ نسوارتھ ہوتا ہے۔ وستت نسیم واتسلیہ کی مردل سامرتھیہ ہی ماترتو ہے۔ ماترتو سنتان کے لئے سروسو نیوچھاور کرنے کو پرستت رہتا ہے۔ پراکرتک درشٹی سے یہ بھاوٴ اتنا پربل ہے که نہ کیول ودیا بدھی سمپن ناری جاتی میں ویاپت ہے,اپتو جیو ماتر میں تتھیو سنویاپت ہے۔ جس پرکار ماں دوار پر کھڑی ہوکر سکول سے لوٹتے بچے کی باٹ دیکھتی ہے,اسی پرکار سندھیا بیلا میں گھر لوٹتی گو بھی اپنے بچھڑے سے ملنے کے لئے آتر ہوتی ہے۔ اپنے بچھڑے سے ملنے کو آتر پونچھ اٹھاکر دوڑتی ہوئی گو کی آترتا میں ماترتو بھاوٴ کی ویاپتی سہج ہی دیکھی جا سکتی ہے۔ نیڑستھ شاوکوں کے لئے چونچ میں دانا لاتی چڑیا کا بھاوپورن واتسلیہ ششو کو پریم پوروک بھوجن کراتی ماتا کے واتسلیہ بھاوٴ سے بھن نہیں ہے۔ اس سے سپشٹ ہوتا ہے که ماترتو بھاوٴ کیول منشیہ کی ہی نہیں اپتو جیو ماتر کی ندھی ہے۔ وہی سرشٹی کرم کا سنچالک ہے۔ ات ماتا پرتیک روپ میں وندنی ہے۔ اسکے ناریئیتر انیہ جیو روپ بھی سروتھا آدراسپد ہیں۔

ماتا واتسلیہ بھاوٴ کا پریائے ہے۔ سمست وشو کو پریم سے اپنی باہوں میں بھر لینے والی اپرمت واتسلیہ بھاونا کی سنگیا ماتا ہے۔ ماتا ادارتا کا دوسرا نام ہے۔ وہ اپنے اور پرائے میں بھید نہیں کرتی بلکہ اتینت ادار بھاوٴ سے اپرچت ششو کو بھی پتروت پیار دیتی ہے۔ اسکا آنچل رتنگربھا وسندھرا کے آنچل کی بھانتی سب کو آشریہ پردان کرنے والا ہوتا ہے۔


ماتا نشچھل پریم کی وہ جلدھارا ہے جو اپنے سمپرک میں آنے والے سمست پتروں کو اپنے سنیہہ سے ابھشکت کرتی ہے۔ اسکے ستنوں سے ششو کے لئے جیوندایی پیہ ہی پرسروت نہیں ہوتا بلکہ اسکے من سے اسکے لئے ممتا کا اجسر نرجھر بھی نرنتر جھرتا رہتا ہے۔ اسی لئے وہ مہان ہے,پوجنیہ ہے,وندنی ہی نہیں رکشنی بھی ہے;سیونی ایوں ماننیہ بھی ہے۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation