Loading...
چنبل کے سنیمائی گلیمر سے پرے کیا ہیں اصل مدعے| chambal valley | Webdunia Hindi

چنبل کے سنیمائی گلیمر سے پرے کیا ہیں اصل مدعے

chambal valley
Last Updated: شکروار, 10مئی2019 (18:48 IST)
-پرینکا دبے(چنبل گھاٹی,مدھیہ پردیش سے لوٹ کر)

'سون چڑیا'سے لیکر'پان سنگھ تومر'اور چنبل کی قسم'جیسی فلموں کے ذریعے آپنے'چنبل گھاٹی'کے ڈکیتوں کی کہانیاں تو ضرور دیکھیں سنی ہونگی۔ لیکن ڈکیتوں کے اس سنیمائی گلیمر سے پرے,چنبل گھاٹی کے روزمرہ میں جیون کے جھانک کر یہاں کے زمینی چناوی مدعوں کی پڑتال کرنے بی بی سی کی ٹیم چمبل کے ککھیات بیہڑوں میں پہنچی۔

راجدھانی دہلی سے قریب350کلومیٹر دور,ہم مدھیہ پردیش کے مرینا ضلعے کے بیہڑوں سے گزر رہے ہیں۔ لگ بھگ دو منزلا عمارتوں جتنی اونچائی والے ریتیلے پٹھاروں کے بیچے سے ہوتے ہوئے ٹیڑھے میڑھے راستے۔ بیچ بیچ میں کنٹیلی جنگلی ونسپتیوں کے بڑے بڑے جھاڑ جو گجراتی گاڑیوں کے بند شیشوں پر'سکریچ'کے نشان چھوڑ جاتے ہیں۔

مکھیہ شہر اور بیہڑوں سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہمیں چمبل کا صاف نیلا پانی پہلی بار نظر آیا۔ لیکن مرینا ضلعے سے گزر نے والی یہ ندی یہاں تک ایک لمبا راستہ تے کرکے پہنچی ہے۔
مولت یمنا کی مکھیہ سہایک ندیوں کے طور پر پہچانی جانے والی چمبل کی شروعات وندھیاچل کی پہاڑیوں میں مؤ شہر کے پاس سے ہوتی ہے۔ پھر وہاں سے مدھیہ پردیش,راجستھان,اور اتر پردیش کی سیماؤں سے ہوتی ہوئی یہ واپس مدھیہ پردیش آتی ہے اور انت میں اتر پردیش کے جالون میں یمنا میں مل جاتی ہے۔ لیکن قریب960کلومیٹر لمبی اپنی اس یاترا میں چنبل اپنے آس پاس ریتیلے کنٹیلے بیہڑوں کا لمبا سامراجیہ کھڑا کرتے ہوئے جاتی ہے۔ ہر سال قریب800ہیکٹیئر کی در سے بڑھ رہے بیہڑ آج چمبل گھاٹی کی سب سے بڑی سمسیا ہے۔

گاؤوں پر بیہڑوں کا اتیکرمن
درسل2019کا لوک سبھا چناؤ آزادی کے بعد کا وہ پہلا چناؤ ہے جب چنبل گھاٹی سےپوری طرح ختم ہو چکے ہیں۔ چناؤ پرچار کے دوران اس بات کا شرییہ لیکر ووٹ بٹورنے کی ہوڑ بھی بھاجپا اور کانگریس دونو ہی پارٹیاں کر رہی ہیں۔ دور سے'ڈاکو مکت چمبل'کی یہ تصویر اچھی بھی لگتی ہے۔ لیکن لگاتار پھیلتے بیہڑوں اور گھٹتے زمینی رکبے کی وجہ سے ڈکیت بننے اور بنانے کی پرستھتیاں یہاں آج بھی موجود ہیں۔

شیوپر,مرینا سے لیکر بھنڈ ضلعے تک مدھیہ پردیش میں چمبل ندی کے کنارے بسے ادھکانش گاؤں بڑھتے بیہڑوں کی چپیٹ میں آ کر ختم ہو رہے ہیں۔ اپجاؤ اور رہائشی زمینی رکبے لگاتار ریتیلے پٹھاروں اور پہاڑی ٹیلوں میں بدل رہے ہیں اور ستھانیہ نواسی کو مجبوراً اپنے گھر چھوڑکر پلیان کرنا پڑ رہا ہے۔

بڑھتے بیہڑوں کی وجہ سے وستھاپت ہوئے ایسے گاؤوں کو یہاں'بیچراگ گاؤں'کہا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک بیچراگ گاؤں ہے مرینا ضلعے کا کھنڈولی گاؤں جو اپنے مول ستھان سے وستھاپت ہو چکا ہے۔

گاؤں میں بنے مندر کے پاس بیٹھے ایک بزرگ رتی رام سنگھ سکروار بتاتے ہیں, "آپ آج جہاں آئی ہیں یہ تو نیا کھنڈولی گاؤں ہے۔ ہمارا مول گاؤں تو آج بیہڑ میں بدل چکا ہے۔ ہمارے پرکھے,باپ دادا سب وہیں رہتے تھے۔ پھر دھیرے دھیرے وہ گاؤں ریت اور بنجر بیہڑ میں بدلنے لگا تو ہم سب گاؤں چھوڑکر یہاں ایک دو کلومیٹر آگے آ کر بس گئے۔ اب تو وستھاپت کھنڈولی گاؤں میں12نئے پورا بس چکے ہیں۔ لیکن پھر سے پلائن کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈرا رہا ہے۔ کیونکہ بڑھتے بڑھتے مٹی کا کٹاؤ اب اس نئے گاؤں کے کنارے تک آ چکا ہے"
'کہیں بچوں کو بھی گھر نہ چھوڑنا پڑ جائے'
کھنڈولی کے نواسی بتاتے ہیں که بڑھتے بیہڑوں کی وجہ سے لوگ نش چنت ہوکر اپنی ہی زمین پر پکے مکان نہیں بنوا پاتے۔ بیہڑ کے مشکل ریتیلے بھوگول کی وجہ سے یہاں سڑک اور بجلی جیسی مولبھوت سودھائیں بھی نہیں پہنچ پاتی۔ یہاں تک که زمین کھود کر لگائے گئے ہینڈ پمپ بھی دس سال کے بھیتر بنجر ہوتی زمین کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔

رتی رام کا کہنا ہے که اس مدعے پر نیتاؤں اور پرشاسن پہلے سے اداسین ہے۔ وہ کہتے ہیں, "چناؤ کے وقت نیتا آتے ہیں,جنتا ان سے نویدن کرتی ہے,ہمارے کہنے کے بعد انکی ہاں ہاں ہو جاتی ہیں۔ لیکن چناؤ کے بعد معاملے پر کاریہ واہی کچھ نہیں ہوتی ہے۔"

اپنی پریشانی کو پختہ طور پر سمجھانے کے لئے رتی رام کے بیٹے پرتیک سنگھ سکروار ہمیں کھنڈولی کے اس نئے'پورا'کے مہانے تک لے جاتے ہیں۔

گاؤں کے سامنے پھیلے بیہڑ کی اور اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں, "یہاں سامنے کبھی کھیتی تھی ہماری لیکن آج وہبن چکی ہے۔ کل پچاس بیگھہ زمین تھی ہماری اور آج وہ پوری کی پوری ختم ہو گئی ہے۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے گھر کھیت سب بنجر بیہڑ میں تبدیل ہو گیا۔ آج جہاں آپ کو جنگل دکھائی دے رہا ہے,کئی سال پہلے وہاں ہمارے داداجی کھیتی کیا کرتے تھے۔ لیکن برسات کے کٹاؤ کی وجہ سے آپکے سامنے پھیلا ایک کلومیٹر سے زیادہ کا علاقہ بیہڑ ہو گیا ہے۔ پھر ہم لوگ پلائن کرکے باہر آئے اور یہاں اس نئے کھنڈولی گاؤں میں آ کر بسے۔ لیکن دیکھیئے,اب تو یہاں بھی گاؤں کے نزدیک میں کٹاؤ آ چکا ہے۔ صرف یہی ڈر ستاتا ہے که کل کو کٹاؤ کی وجہ سے ہمارے بچوں کو بھی یہ گاؤں گھر نہ چھوڑنا پڑ جائے"۔
پھیلتے بیہڑوں کی وجہ سے اپنے کھیت اور گھر کھو دینے والے پرتیک اکیلے نہیں ہے۔ وہ پورے کھنڈولی گاؤں کے وستھاپت ہوکر12نئے ٹولوں میں بسنے کی کہانی کا ایک انش ماتر ہیں۔ اس کہانی کے نشان کھوجتے ہوئے ہم نئے کھنڈولی گاؤں کے پاس چمبل کے بیہڑوں میں پہنچے۔ سگھن بیہڑوں میں قریب دو کلومیٹر اندر جانے پر ہمیں ریتیلے پہاڑوں کے بیچ قریب سو سال پرانا کواں اور ایک پرانا مندر دکھائی پڑا۔

مندر کے پجاری نے بتایا که پرانے مول کھنڈولی گاؤں کی آخری نشانی کے طور پر اب صرف ایک کواں بچا ہے۔"اس سو سال پرانے کئیں پر پہلے روز سیکڑوں لوگ پانی بھرنے آیا کرتے تھے۔ لیکن آج یہ جگہ اجاڑ ہے کیونکہ اس پورے گاؤں کو بڑھتے بیہڑ نے نگل لیا"۔

آنکڑوں کی بات
سرکاری آنکڑے بتاتے ہیں که بیتے60سال میں چنبل گھاٹی کی قریب8000ہیکٹیئر زمین ریتیلے بیہڑ میں تبدیل ہو چکی ہے۔1953سے لیکر1992کے بیچ یہاں'سٹیٹ سائل کنزرویشن'اور'روائن اروزن کنٹرول'جیسی کئی بڑی سرکاری یوجنائیں بھی پھیلتے بیہڑوں کو روکنے کے لئے چلائی گئیں۔
لیکن ان یوجناؤں سے جڑی فائلیں کرشی,راجسو,قانون اور ساماجک نیائے جیسے راجیہ کئی وبھاگوں کے بیچ گھومتی رہیں۔ ایک ذمیدار وبھاگ نہ ہونے کی وجہ سے اس معاملے میں جاوبدیہی تے نہیں ہو پائی اور زمین کا کٹاؤ جث کا تس رہا۔
سوال ہے که چنبل کے کنارے زمین کو ریت میں بدلنے والے یہ بیہڑ آخر بنتے کیوں ہیں۔ بہت ڈھوڑھنے پر ہمیں چنبل میں بیہڑ کے پھیلاو پر شودھ کرنے والے وشیشگیہ ڈاکٹر شوبھارام بگھیل کے بارے میں پتہ چلا۔ وہ علاقے میں بیہڑ پر شودھ کرنے والے چنندہ ستھانیہ اکادمک وشیشگیوں میں سے ہیں۔

ڈاکٹر بگھیل چمبل کنارے لگاتار بڑھ رہے زمین کے کٹاؤ کے لئے دھرتی کے بھیتر موجود'ٹیکٹانک پلیٹس میں زاری آنترک دباوٴ'کے ساتھ ساتھ یہاں کی جلوایو کو بھی ذمیدار مانتے ہیں۔"بہت تیز سوکھے کے بعد یہاں پانی پڑتا ہے۔ اوپر سے یہاں کی مٹی بھی بھربھری ہے۔ ریت جیسی مٹی میں یہ بوندے سیدھی گڑ جاتی ہیں۔ گڑنے کے بعد جب وہ بہتی ہیں تو انکا سوروپ نالی جیسا ہو جاتا ہے۔ پھر نالی سے اور بڑی نالی اور وہاں سے کھڈ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہی کھڈ دھیرے دھیرے ریتیلے ٹیلوں میں بدل جاتے ہیں"۔
وہیں دوسری اور بیہڑوں پر کام کرنے والے ستھانیہ ساماجک کاریہ کرتا بشیندر پال سنگھ جادون کا ماننا ہے که ڈکیتوں کے خاتمے کے بعد سے بیہڑ کا پھیلاو تیز ہو گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں, "جب تک بیہڑوں میں ڈکیت تھے,تب تک انکے ڈر کی وجہ سے بیہڑ سنرکشت تھے۔ کیونکہ لوگ بیہڑ میں نہیں جاتے تھے۔ ڈکیتوں کے خاتمے کے بعد جتنے ورش تھے,سب دھیرے دھیرے کاٹ دیئے گئے۔ اس طرح بیہڑ ہریالی سے مکت ہو گئے اور پھر مٹی کا کشرن تیز ہو گیا۔ آب حال یہ ہے که ہر سال یہاں800سے900ہیکٹیئر بھومی'ریوائنس'یا بنجر بیہڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مدھیہ پردیش کی چمبل بیلٹ میں اب تک لگ بھگ2500گاؤں بیچراگ ہو چکے ہیں۔ اور ان بیچراگ گاؤوں کی سنکھیا ہر سال بڑھتی ہی جا رہی ہے"۔

نئے ڈاکؤں کے پنپنے کے حالات
شیتریہ جان کار بتاتے ہیں که راجنیتک پارٹیاں بھلے ہی2019کے لوک سبھا چناؤ میں'ڈاکو مکت چنبل'کی چھوی کو بھنا کر ووٹ مانگ رہی ہوں لیکن نئے ڈاکؤں کے پنپنے کی پرستھتیاں اب بھی یہاں موجود ہیں۔
ستھانیہ ورشٹھ پترکار دیو شریمالی بتاتے ہیں, "سرکاری فائلوں میں ڈاکو تو ختم ہو گئے لیکن جن کارنوں سے چمبل کے لوگ پہلے ڈاکو بنا کرتے تھے وہ ساری پرستھتیاں تو یہاں آج بھی موجود ہیں۔ لوگ لگاتار پلائن کر رہے ہیں کیونکہ گاؤں کے گاؤں بیچراگ ہو رہے ہیں۔ لوگوں کو دوسری جگہ بسنا پڑ رہا ہے۔ اس وجہ سے مرینا اور گوالیر جیسے شہروں پر بوجھ بھی بہت بڑھ رہا ہے۔"

وہ مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں که سیکڑوں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس آج سے60سال پہلے تک سو سو بیگھہ زمین تھی۔ اب انکے پاس دو بیگھہ بھی زمین نہیں ہے۔ انہوں نے کہیں کوئی زمین بیچی بھی نہیں ہے۔ انکی ندی کنارے کی اپجاؤ زمین بنجر بیہڑ میں تبدیل ہوکر ختم ہو گئی ہے۔

بیروزگاری ان حالات کو اور برا بنا دیتی ہے۔ دیو شریمالی کے مطابق, "اب ان لوگوں کے پاس روزگار کا کوئی سادھن بھی نہیں ہے۔ زمین کو لیکر جھگڑے-جھنجھٹ اور مارپیٹ یہاں اسلئے بھی ہوتی ہیں کیونکہ زمین کا رقبہ لگاتار کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے ہی جھگڑوں میں شامل ہوئے لوگ ایک ہتیا ہو جانے کے بعد خود کو بچانے کے لئے ڈاکؤں کے گینگ بنا لیتے ہیں۔"

کھنڈولی سے لوٹتے ہوئے سورج ڈھلنے لگا تھا۔ یہاں ہر دن اپنی زمین اور گھر کھو دینے کے خوف میں جی رہے لوگ اب چمبل کے سنیمائی مہمامنڈن سے تھک چکے ہیں۔ ڈکیتوں کی کہانیوں سے اوب چکے ان پریواروں کو اس چناؤ میں'ثابت زمین'اور'وکاس'کا انتظار ہے۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation