Loading...
پاکستان میں زندگی کی دعا مانگتے ہزارہ لوگ| hazara community in pakistan | Webdunia Hindi

پاکستان میں زندگی کی دعا مانگتے ہزارہ لوگ

پن سنشودھت بدھوار, 15مئی2019 (11:16 IST)
میں رہنے والے الپ سنکھیک ہزارہ لوگوں کا کہنا ہے که کویٹا میں انکا قتل عام ہو رہا ہے اور ادھیکاری ان پر ہو رہے حملوں کو روک پانے میں ناکام ہیں۔

ہزارہ لوگ بھی مسلمان ہیں لیکن انکا سمبندھ شیعہ سمودائے ہے جبکہ پاکستان میں رہنے والے زیادہ تر مسلمان سنی ہیں۔کی راجدھانی کویٹا میں برسوں سے لاکھوں شیعہ ہزارہ لوگوں کو دو الگ الگ بستیوں میں رکھا گیا ہے جو سنگینوں کے سائے میں رہتے ہیں۔ انکی بستیوں کے پاس بہت ساری چیک پوسٹ اور ہتھیار بند فوجی تعینات ہیں,جو ان لوگوں کو ہنسک چرمپنتھیوں سے بچانے کے لئے تعینات کئے گئے ہیں۔

لیکن ان بستیوں کے بھیتر کیا حالات ہیں؟ ایک ہزارہ کاریہ کرتا بوستان علی کہتے ہیں, "یہ جیل کی طرح ہے۔ ہزارہ لوگ یہاں پر مانسک یاتنا سے گزر رہے ہیں۔"انکا کہنا ہے که یہاں رہنے والے لوگوں کو باقی شہر سے کاٹ دیا گیا ہے اور انہیں صرف چھوٹے سی جگہ میں سمیٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔


پاکستان کے سب سے غریب پرانت بلوچستان کی راجدھانی کویٹا میں شیاؤں کی اچھی خاصی آبادی رہتی ہے۔ سیدھانتک روپ سے ہزارہ لوگ شہر میں کہیں بھی جانے کے لئے آزاد ہیں,لیکن حملوں کے ڈر سے لوگ بہت کم ہی باہر نکلتے ہیں۔ حالت یہ ہے که جب چھوٹا موٹا سامان بیچ کر گجارا کرنے والے ہزارہ لوگ یہاں سے نکلتے ہیں تو انہیں ہتھیاربند سرکشا کرمی مہیا کرائے جاتے ہیں۔

اسکے باوجود ہزارہ لوگوں پر حملے نہیں رک رہے ہیں۔ اپریل میں ایک سبزی منڈی میں ہوئے بم دھماکے میں21لوگ مارے گئے اور47گھائل ہوئے۔ مارے گئے لوگوں میں زیادہ تر ہزارہ تھے۔ اس حملے کی ذمیداری تتھاکتھت اسلامک سٹیٹ سے جڑے سموہ لشکر اے جھانگوی نے لی جو ایک شیعہ ورودھی گٹ ہے۔ ہزارہ لوگوں کے خلاف2013سے لگاتار حملے ہو رہے ہیں جن میں اب تک لگ بھگ200لوگ مارے گئے ہیں۔


سیما پار افغانستان میں بھی ہزارہ لوگوں کی حالت اتنی ہی دینیہ ہیں۔ انکی مسجدوں,سکولوں اور ساروجنک آیوجنوں پر چرمپنتھی حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان لمبے سمیہ سے اشانتی اور سامپردائک ہنسا جھیل رہا ہے۔ اس میں ہزارہ لوگوں کو خاص طور سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہزارہ لوگ مدھیہ ایشیائی لوگوں کی طرح دکھتے ہیں,اسلئے آسانی سے پہچانے جا سکتے ہیں۔ سنی چرمپنتھی انہیں کافر مانتے ہیں اور انہیں بار بار نشانہ بناتے ہیں۔

کویٹا میں ہزارہ لوگوں کی ایک بستی کا نام ہے ہزارہ ٹاؤن۔ یہاں رہنے والے نوروج علی کہتے ہیں که یہاں سے باہر نکلنے کا متبل ہے که اپنی جان کو جوکھم میں ڈالنا,لیکن کمانے نہیں جا ئینگے تو اپنے پریوار اور بچوں کو کیسے پالینگے۔ حملوں کو روکنے میں اپنی ناکامی پر ادھیکاری کہتے ہیں که سامپردائک گٹوں کی ہنسا میں انکے اپنے کرمچاری بھی مارے جا رہے ہیں۔ ادھیکاریوں کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے که وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں۔

ستھانیہ پولیس ادھیکاری ابدر رجاک چیمہ کہتے ہیں که ہزارہ لوگوں کو بچانے کی کوششوں میں"ہزارہ لوگوں سے زیادہ پولیس کرمی مارے گئے ہیں"۔ چیمہ کا کہنا ہے که انکی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے که اتنے سارے آتنکوادی گرفتار کئے گئے ہیں اور مارے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں, "نئے نئے گٹ پیدا ہو رہے ہیں۔ ہم انکا پتہ لگا رہے ہیں اور ان سے ہونے والے خطرے سے نپٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

بھاری سرکشا بندوبست کے باوجود ہزارہ لوگوں کی بستیاں بھی سرکشت نہیں ہیں۔2013میں ایک بستی کے بھیتر زوردار دھماکہ ہوا تھا۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے که بدحال پرستھتیوں کے کارن حال کے سالوں میں75ہزار سے لیکر ایک لاکھ ہزارہ لوگ دیش کے دوسرے حصوں میں یا پھر ودیشوں میں چلے گئے ہیں۔ اس سمودائے سے سمبندھ رکھنے والے طاہر ہزارہ کہتے ہیں, "ہم لوگ بےبس ہیں۔ ہم کس سے امید کریں که وہ ہماری جندگیوں کو بچائیگا۔"

اےکے/اینار(ایئیپھپی)



-->

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation