Loading...
امرکنٹک: ندیوں کا شہر| Webdunia Hindi

امرکنٹک: ندیوں کا شہر


ونیہ کشواہا

شیشم,ساگون,سال,شریش کے اونچے اونچے گھنے ون جہاں سورج کی کرنیں بھی دھرا پر نہیں پہنچتی۔ جہاں تک نظر جا رہی ہے وہاں تک گھنے شانت ون اور دور دور تک دکھائی دیتے اونچے اونچے پروت۔ مارچ کی ہلکی پھلکی ٹھنڈ موسم کو اور زیادہ خوشنما بنا رہی ہے۔ میں بات کر رہا ہوں'امرکنٹک'کی۔

میکل پروتشرینی کی سب سے اونچی شرنکھلا ہے,جو مدھیہ پردیش کے انوپپر ضلعے کے پشپراجگڑھ تحصیل میں ستھت ہے۔ وندھیاچل,ستپڑا اور میکل پروتشرینیوں کی شروعات یہی سے ہوتی ہے۔ امرکنٹک اپنے پراکرتک سندرتا کے لئے جانا جاتا ہے۔ امرکنٹک جانے کے لئے میری یاترا کی شروعات کٹنی سے سڑک کے راستے ہوئی۔ کٹنی سے امرکنٹک کی دوری لگ بھگ250کمی ہے,جوکہ منموہک ہریالی سے بھرا پڑا ہے۔ کہیں عام کے باغیچے دکھائی دیتے ہیں تو کہی سیماوہین تالاب اور پوکھر۔ راستے میں باندھوگڑھ نیشنل پارک کی32پہاڑیاں بھی دکھائی دیتی ہے,مانو ایسا لگتا ہے که جیسے پہاڑوں نے ہریالی کی چادر اوڑھی ہو۔

سمدرتل سے امرکنٹک3600فیٹ کی اونچائی پر ستھت ہے,یہاں تک کا پہنچ مارگ گھماودار راستوں اور گھنے جنگلوں کے بیچ سے گزرتا ہے۔ امرکنٹک کو ندیوں کی جننی کہا جاتا ہے۔ یہاں سے لگ بھگ پانچ ندیوں کا ادگم ہوتا ہے۔ امرکنٹک ایک ایسی جگہ ہے جو که اتہاسک وراثت کو سنجوئے ہوئے ہے۔ امرکنٹک میں سب سے پہلے میں کوٹتارتھ پہنچا۔ کوٹتیرتھ کا ارتھ ہے کروڑو تیرتھوں میں سروشریشٹھ۔ یہی پر ماں نرمدا کا ادگم ستھل۔ جگت گرو شنکراچاریہ نے یہی پر نرمدا کے سمان میں نرمداشٹک لکھا تھا۔ سفید رنگ کے لگ بھگ34مندر واتاورن کو دھول کر دیتے ہے۔
یہاںہے,جہاں سے نرمدا ندی کا ادگم ہے۔ یہی سے نرمدا پرواہمان ہوتی ہے۔ مندر پرسروں میں سوریہ,لکشمی,شو,گنیش,وشنو آدی دیوی دیوتاؤں کے مندر ہے۔ اس مندر پرسر میں آنے پر آپ محسوس کرینگے که جیسے تاپمان میں کمی ہو گئی ہو۔
امرکنٹک کا الیکھ مہابھارت کال میں بھی ملتا ہے۔ بھارت بھرمن کرتے سمیہ شنکراچاریہ نے کچھ دن یہاں گجارے اور کئی مندروں کی ستھاپنا کی۔ کوٹتیرتھ سے کچھ قدموں کی دری پر ستھت ہے کلچری راجاؤں کے دوارہ بنائے گئے مندر۔ یہاں مندر کا سموہ جن میں پاتالیشور مہادیو مندر,شو,وشنو,جوہلا,کرن مندر اور پنچمٹھ ہے۔ یہ سمست مندرہے جنہیں اب پراتتو وبھاگ کے انترگت رکھا گیا ہے۔ یہ مندر اتنے کلاتمک ڈھنگ سے بنائے گئے ہیں که من کرتا بس دیکھتے جاؤ۔

پتھروں کو تراش کر بنائے گئے ان مندروں کو ستھاپتیہ کلا کا ادوتیہ نمونہ کہا جائے تو اتشیوکتی نہ ہوگی۔ اس مندر پرسر میں ستھت پاتالیشور مہادیو مندر میں ستھت شولنگ کی ستھاپنا شنکراچاریہ نے کی تھی۔ اس مندر کی وشیشتا یہ ہے که شولنگ مکھیہ بھومی سے دس فیٹ نیچے ستھت ہے یہاں شراون ماس کے ایک سوموار کو نرمدا کا پانی پہنچتا ہے۔

امرکنٹک ایک سنگم ہے جہاں دھارمکتا اور پراکرتک سوندریہ کا ملن ہوتا ہے۔ ایک طرف اتہاسک مندر اور ایک ندیوں کا ادگم ستھل ایوں گھنے جنگل۔ یہاں کے مندروں کو سنوارنے کا کاریہ کئی شاسکوں نے کیا جن میں ناگ,کلچری,مراٹھا اور بگھیل ونش کے شاسک رہے ہے۔

کوٹتیرتھ سے لگ بھگ ایک کمی دور ستھت ہے'سونمنگ'۔ سونمنگ کو سونمڑا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سونمنگ سے ہی سون ندی کا ادگم ہوتا ہے جو اتر کی اور بہتی ہوئی گنگا ندی میں مل جاتی ہے۔ سون ندی کو سورن ندی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ اس میں سونے کے کن ملتے ہے۔ سونمنگ سے پراکرتک نظارہ دیکھنے لائق ہے۔ پرکرتپریمیوں کے لئے یہ جگہ آنند دینے والی ہے۔ یہاں لنگوروں کی آپ پوری فوج کو دیکھ سکتے ہے جو آپکے ہاتھ سے چنے کھاتے ہیں۔


سونمنگ سے ایک کمی دور ستھت ہے'مائی کی بغیا'۔ لوک اودھارنا ہے که یہاں نرمدا ندی بچپن میں کھیل کھیلا کرتی تھی۔ امرکنٹک اپنے اوشدھی والے جنگل کے لئے جانا جاتا ہے۔ یہاں طرح طرح کی اوشدھیاں ملتی ہے۔ مائی کی بغیا میں گل بکاولی کے پودھیں بڑی ماترا میں پائے جاتے ہے۔ اس پودے کے پھول کا عرق آنکھوں کے روگ کے لئے پر یوگ کیا جاتا ہے۔
مائی کی بغیا سے لگ بھگ3کمی دور ستھت ہے نرمدا دوارہ بنایا گیا پہلا جلپرپات جسے کپلدھارا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ کپلدھارا جلپرپات میں نرمدا100فیٹ کی اونچائی سے گرتی ہے۔ پرکرتی کو انبھو کرنا ہے تو یہاں ضرور آنا چاہئیے۔ یہ جگہ پراکرتک سورگ کی طرح ہے۔ کپلدھارا سے کچھ دوری پر درغم مارگ کو پار کرکے آتا ہے'دگدھدھارا جلپرپات'۔ نرمدا ندی کا پانی بالکل دودھ کے جیسے سفید ہو جاتا ہے اسلئے اسے دگدھدھارا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

امرکنٹک سادھو سنتوں کی آشریہ ستھلی ہے۔ یہ کئی رشیوں کی تپوستھلی رہی ہیں,جن میں بھرگو,جمدگنی آدی ہے۔ کبیر نے بھی یہاں کچھ سمیہ بتایا تھا,جسے آج کبیر چورا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کبیر چورا کو کبیر چبوترہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہی کچھ سمیہ رہ کر دھیان لگایا تھا۔ کبیر چورا کوٹتیرتھ سے لگ بھگ5کمی دور ستھت ہے۔ گھنے ون کے بیچ ستھت یہ جگہ من کو شانتی دینے والی ہے۔ یہ جگہ من میں چل رہی وچاروں کی آندھی کو شانت کر دیتی ہے۔

کوٹتیرتھ سے آٹھ کمی اتر میں ستھت ہے'جلیشور مہادیو'۔ امرکنٹک پوری طرح بھگوان کی بسائی گئی سورگ کی پرتکرتی ہے۔ جلیشور مہادیو سے جوہلا سون ندی نکلتی ہے۔ یہ جگہ سوریودیہ اور سوریاست کو دیکھنے کے لئے منوہر جگہ ہے۔
امرکنٹک ایک ایسی جگہ ہے جو دھارمکتا کا بھی انبھو کراتی ہے ساتھ ہی ساتھ پرکرتی کے سمیپ بھی لے جاتی ہے۔ امرکنٹک ایک بار اوشیہ دیکھیئے۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation