Loading...
جنگل سے ایک طرفہ سنواد:بھاگ2 | Webdunia Hindi

جنگل سے ایک طرفہ سنواد:بھاگ2


Last Updated: گرووار, 2اکتوبر2014 (17:23 IST)
-نیپال کے ہمالیی دھولاگری انچل سے لوٹ کر سچن کمار جین
 
 
نیپال کا دھولاگری انچل,جو انپورنا پروت کا آدھار ہے,پرکرتی اور مانو سماج کو سمجھنے کے لئے سب سے عمدہ وشوودیالیہ ہے۔'دھولاگری'شبد کی اتپتی'دھول'سے ہوئی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے بہت چمکیلا سفید, 'گری'کا مطلب پروت۔ دھولاگری پروت کا مطلب ہے دنیا کا ساتواں سب سے اونچا پروت,جسکی اونچائی8167میٹر۔ یہ ایک انچل مانا جاتا ہے جسمیں نیپال کے چار ضلعے شامل ہیں۔ باگلنگ ان میں سے ایک ہے۔
 
ہمالیی پہاڑوں کے ہمکھنڈوں سے نکل کر کالی گنڈکی ندی اپنی پوری تیورتا سے پرواہت ہو رہی ہے۔اور ندی کے رشتے یہ بتا رہے ہیں که وہ سنسار کو بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ ندی اپنے راستے سے نہیں بھٹکتی,جب تک کوئی جنگل پر آکرمن کرکے انکا وناش نہیں کر دیتا ہے۔ 
 
جنگل کیول زمین کے اوپر ہی تھوڑے ہوتا ہے۔ جنگل زمین کے بھیتر بھی اتنا ہی گھنا اور گہرا ہوتا ہے۔ جڑیں زمین کے اندر پھیل کر مٹی کو تھام لیتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کنوں سے مٹی کو ایک آدھار بنا دیتی ہیں۔ جڑیں اور ندی میں بہہ جانے سے بچا لیتی ہیں۔ جنگل موسلدھار اور کبھی کبھی کئی دنوں تک ہونے والی بارش کو بھی تھام لیتا۔
 
پہاڑوں کے جنگل ایک یوجنا بناکر کونے کونے میں رات بھر ہوئی بارش کی بوندوں کو سمیٹ لے رہے تھے۔ کتنی ویوستھت ہے نہ یہ پرکرتی۔ جب تک پانی زمین سے نہیں ٹکراتا,تب تک بوند ہی بنا رہتا ہے۔ زمین اسکا روپ,آکار اور پربھاؤ ہی بدل دیتی ہے اور اسے دھارا بنا دیتی ہے۔ پتہ نہیں ان پہاڑوں کا پیٹ کتنا بڑا ہوگا,جو بوندوں کو دھارا تو بنا دیتا ہے,پر باڑھ بننے سے روک دیتا ہے۔
 
 
دھولاگری ہمالیی پہاڑوں سے یہ دھارائیں نکل کر کالی گنڈکی ندی میں سما جاتی ہیں۔ ایک دھارا ہو چاہے ایک ندی,یہ انسان جانوروں,پیڑوں,پکشیوں,سریسرپوں,مچھلیوں اور سورج کو انکا حصہ دیتی چلتی ہیں۔ کوئی اس سے اسکا پرواہ,اسکی نرملتا,اسکی ترلتا چھیننے کی کوشش نہیں کرتا۔ 
انہیں پتہ ہے,ندی کے ہونے سے جنگل ہے اور جنگل کے ہونے سے ندی اور پہاڑ۔ یہ دیگر بات ہے که انسان اس ندی سے بھی اسکے ہونے کا حق چھین لینا چاہتا ہے۔ اب کالی گنڈکی میں سے ریت کھود کر نکلی جانے لگی ہے۔ بس یہیں سے تو شروعات ہوتی ہے ندی کے وناش کی,کیونکہ اس سے ندی کی وہ جھریں مٹنے لگتی ہیں جن سے آ کر وہ ندی میں ملتی ہے۔
 
شائد بادلوں کو بھی اپنے کام کا احساس ہے۔ میرا من ایک سوال پوچھ رہا تھا۔ جب ہم اپنی دنیا سے نراش ہو جاتے ہیں تو ندی پہاڑوں جنگل کی ترکونیہ دنیا میں ہی کیوں آنا چاہتے ہیں؟ ایسا یہاں کیا ہوتا ہے,جو نراشا کو مٹا دیتا ہے؟ کچھ تو ہے,جسے میں ہوا میں,ہزاروں جھینگروں کی ایک ساتھ نکل رہی چیں کی ختم نہ ہونے والی دھن میں,پہاڑی جھرنوں میں,پہاڑوں پر چڑھتے سمیہ کھلتے پھیپھڑوں میں محسوس کر سکتا ہوں۔
 
باگلنگ کے تاتاپانی محلے تک پہنچنے کے لئے ہم نے ڈیڑھ گھنٹے کی پھینپھڑا کھڈکاؤ چڈھائی چڑھی۔ من میں یہ سوال لیکر ہم چڑھے که کتنا کٹھن جیون ہے یہاں کے لوگوں کا؟ انکے آس پاس کچھ نہیں ہے۔ ہر چھوٹی موٹی ضرورت کے لئے پہاڑ چڑھنا اترنا پڑتا ہیں انھیں۔65گھروں کی یہ بستی پہاڑ سے نیچے کیوں نہیں اتر آتی؟ اس سوال کا جواب60سال کی چوراکماری کسان(یہاں رہنے والی ایک دلت مہلا)دیتی ہیں کوئی پیڑا نہیں ہے۔ جیسے کچھ لوگ سپاٹ سڑک پر چلتے ہیں,ویسے ہی ہم پہاڑ پر اور جنگل میں چڑھتے ہیں۔ ہمارے رشتے کیول آپس میں ہی نہیں ہیں, (جنگل اور پہاڑ کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی ہیں)ان سے بھی تو ہیں۔ پچھلے کئی سالوں میں ایک بھی مہلا کی ماترتو مرتیو نہیں ہوئی,کوئی بچہ کپوشن سے نہیں مرا,ایک بھی بلاتکار نہیں ہوا۔ بچے سکول جاتے ہیں۔ ہمیں دکھ یہ پہاڑ نہیں دیتے,اپنا سماج دیتا ہے۔ جب کام کاج نہیں ملتا تو دوسرے شہر پلائن کرنا پڑا۔ ہر گھر سے کوئی نہ کوئی قطر,ملیشیا,جاپان یا بھارت میں جاکر کام کر رہا ہے۔ یہاں جاتگت بھید بھاو ہمارے لئے چنوتی پیدا کرتا ہے,جنگل یا پہاڑ نہیں۔ ہمیں تو یہیں اچھا لگتا ہے بس۔
 
یہاں کے لگ بھگ7ہزار یووا پلائن کرتے ہیں,کیونکہ ساماجک بھید بھاو نے انکے ستھانیہ اوسر چھین لئے۔ انہیں یہاں کام مل سکتا تھا۔ اسی بدحالی کے پلائن کی ستھتی کو اب سرکاریں اوسر کے روپ میں پکا رہی ہیں تاکہ اسے آدھار بناکر یہاں وکاس کے نام پر بڑی پریوجنائیں لائی جا سکیں۔ انکی نظر پہاڑوں کے بیچ کی ترشولی اور کالی گنڈکی ندی پر ہے۔ جنگل اب بھی بچا ہوا ہے,شائد اسلئے کیونکہ اونچے پہاڑوں تک پہنچنا اب بھی تھوڑا کٹھن ہے یا پھر شائد اسلئے کیونکہ لوگ انھیں اپنا آرادھیہ مانتے ہیں یا یہ بھی ہو سکتا ہے که ان پر ابھی لٹیروں کی نظر نہ پڑی ہو! 
 
اسکے باوجود سوال یہ ہے که چلو,دھولاگری کے لوگوں نے اپنے وشواس کے چلتے انھیں(پیڑوں پہاڑوں)کو مٹنے نہ دیا تو کیا اس سے وہ خود سنکٹ سے بچ جا ئینگے؟ بڑا پیچیدہ سوال ہے,کیونکہ ہمارے گھر کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے جو گرمی اور جہر ہم باہر پھینک رہے ہیں,وہ کسی سیما میں بندھتا نہیں ہے۔ اور پہنچ جاتا ہے دھولاگری۔ وہ ہمالیہ پروت شرنکھلا کے برف کے پہاڑوں کو بھی پگھلاہ رہا ہے۔ جب برف کے پہاڑ پگھلینگے تو کالی گنڈکی میں بھی باڑھ آئیگی اور وناش پھیلائیگی۔ دنیا میں ایک ویکتی یا ایک سمودائے کے قرم دوسرے ویکتی,سمودائے اور شیتر کو سیدھے سیدھے پربھاوت کرتے ہیں۔ یہاں بھی کرینگے۔ یہی کارن ہے که میں دھولاگری کے پہاڑوں کے بیچ بسے گاؤوں سے خود کو الگ کرکے نہیں دیکھ سکتا۔ کچھ نہ کچھ تو رشتے ہیں ہی۔  >  

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation