Loading...
جنگل سے ایک طرفہ سنواد بھاگ4 | Webdunia Hindi

جنگل سے ایک طرفہ سنواد بھاگ4


Last Updated: بدھوار, 8اکتوبر2014 (12:52 IST)
- کے ہمالیی دھولاگری انچل سے لوٹ کر سچن کمار جین بھوگول کا ادھیاتم 
 
 
یہ جنگل,یہ پروت اور جھرنے ہمیں ادھیاتم کا وشیہ لگتے ہیں,پرنتو اس سے پہلے یہ بھوگول کا وشیہ ہیں اور ادھیاتم بھوگول کا وشیہ بھی ہے۔ جب ان ان درشیوں کو میں نے بھوگول کے ساتھ جوڑا تو ان پروتوں کی اونچائی سے زیادہ گہرائی کا اندازہ ہوا۔> > واستو میں آج بھارت پرتھوی کے جس حصے پر ہے(یعنی ایشیاء میں)بہت سال پہلے یہ یہاں نہیں تھے۔22.5کروڑ سال پہلے یہ آسٹریلیائی تٹوں کے آس پاس تیرتا ایک دیپ تھا۔ ٹیتھس مہاساگر اسے ایشیاء سے الگ کرتا تھا۔ اسکا جڑاؤ ایشیاء سے نہیں تھا۔ میں دھولاگری انچل کے جن اونچے پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا,وہ لاکھوں سال پہلے کہیں استتو میں تھے ہی نہیں۔ بھارت تب گونڈوانا یا گونڈوانا بھومی کا حصہ تھا۔ گونڈوانا بھومی میں شامل تھے دکشن کے دو بڑے مہادویپ اور آج کے انٹارکٹکا,میڈاگاسکر,بھارت,افریقہ اور دکشن امریکہ جیسے دیشوں سے ملکر بنی ہوئی بھومی۔
 
گونڈوانا انچل کا استتو57سے51کروڑ سال پہلے مانا جاتا ہے۔ آسٹریلیا کے وگیانک ایڈورڈ سئیس نے یہ نام دیا تھا جس کا مطلب ہوتا ہے گونڈوں کا جنگل۔ ایک بات اور جاننے لائق ہے که آج جس زمین,جس سیما ریکھا اور راجنیتک نقشے کے لئے لوگ لڑ رہے ہیں,وہ پہلے ایسا نہیں تھا اور آگے بھی ایسا نہیں ہوگا۔ بھو بھاگ بدلتے رہے ہیں اور آگے بھی بدلتے رہینگے۔ پھر یہ بدلاؤ چاہے1یا2کروڑ سالوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ یہ کیسا راشٹرواد,جبکہ راشٹر کی کوئی ستھائی سیماریکھا ہی نہیں ہے۔ بس جنگل,پہاڑ,ہوا,بوند کی بات کیجئے,وہی ہمارے استتو کو جندا رکھینگے;ہمارے نہ ہونے کے بعد بھی۔
 
اپنی اس دھرتی کی اوپری سطح کو بھو پٹل کہتے ہیں۔ اس میں ایلیمینیم,سلیکون,لوہا,کیلشیم,سوڈیم,پوٹیشیم اور آکسیجن سریکھے تتو ہوتے ہیں۔ بھو پٹل کے نیچے کی سطح کو ستھل منڈل کہتے ہیں۔ یہی مہادویپوں اور مہاساگروں کو آدھار دیتا ہے۔ اسکی موٹائی سادھارنت100کلومیٹر یا اس سے کچھ زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس آورن میں مضبوط چٹانیں ہوتی ہیں۔ دھرتی میں ستھل منڈل کے نیچے کی پرت کو دربلتا منڈل کہتے ہیں۔ یہ پرت دروی یا ترل ہوتی ہے۔

 
مضبوط چٹانوں والا ستھل منڈل اسی پرت پر تیرتا رہتا ہے۔ ستھل منڈل میں بہت مضبوط چٹانیں ہوتی ہیں,جو طشتریوں یا پلیٹ کے روپ میں ہوتی ہیں۔ یہ تشتریاں(جنہیں ٹیکٹونک پلیٹ کہتے ہیں)ستھر نہ ہوکر گتیمان ہوتی ہیں یعنی بھوگربھی گھٹناؤں اور پرتوں کی چار ترک وشیشتاؤں کے کارن کھسکتی رہتی ہیں۔ ٹیکٹونک پلیٹوں کی گتیشیلتا کے کارن کئی مہادویپ ملکر3لاکھ سال پہلے وشال پینجیا مہادویپ(اس سمیہ کا سب سے بڑا مہادویپ,جو کئی دویپوں سے ملکر بنا تھا)بن گئے تھے۔
 
سپشٹ ارتھوں میں بھارت تب افریقہ سے سٹہ ہوا تھا۔20کروڑ سال پہلے دھرتی کے اندر تاپ سنچرن کی کریاؤں کے فلسوروپ ہونے والی بھوگربھی گھٹناؤں کے کارن یہ مہادویپ ٹوٹنے لگے اور چھوٹے چھوٹے دویپوں میں بنٹکر الگ الگ دشاؤں میں جانے لگے۔ تب8.40کروڑ سال پہلے بھارت نے اتر دشا میں بڑھنا شروع کیا۔ اپنے تب کے ستھان سے شروع کرکے اس نے6ہزار کلومیٹر کی دوری تے کی اور4سے5کروڑ سال پہلے ایشیاء کے اس حصے سے ٹکرایا۔ اس ٹکر کے چلتے بھومی کا وہ حصہ اوپر کی اور اٹھنے لگا۔ دو مہادویپوں کے ٹکرانے سے پلیٹیں ایک دوسرے پر چڑھنے کے کارن ہمالیہ بنا۔ ذرا سوچیے که اوپر اٹھنے کا مطلب کیا ہے؟ ان پروتوں پر سمندری جیووں کے اوشیش ملتے ہیں۔ ہمالیہ شرنکھلا کے پروتوں پر سمندری جیووں کے اوشیش...ان پہاڑوں کی اوپری سطح کے کھر نے سے جو پتھر نکلتے ہیں,وہ بھی ایسے گول ہوتے ہیں,جیسے ندیوں یا بہتے پانی میں آکار لیتے ہیں یعنی یہ حصہ کبھی نہ کبھی پانی میں رہا ہے۔
 
مانا جاتا ہے که بھارت کا بھو بھاگ زیادہ ٹھوس تھا اور ایشیاء کا نرم,اسلئے ایشیاء کا بھو بھاگ اوپر اٹھنا شروع ہوا اور ہمالیہ پروتیہ شرنکھلا کی رچنا ہوئی۔ انیہ دوسرے پروتوں کی تلنا میں یہاں کے پروتوں کی اونچائی زیادہ تیز گتی سے بڑھی اور یہ اب بھی ہر سال1سینٹی میٹر کی در سے بڑھ رہی ہے۔ انکی اونچائی بڑھتی رہیگی,کیونکہ بھارتیہ وورتنک پلیٹ(ٹیکٹونک پلیٹ)بھوکمپوں کے کارن اب بھی دھیمی گتی سے کنتو لگاتار اتر کی طرف کھسک رہی ہے;یعنی ہمالیہ اب بھی اور اونچا ہوگا۔ تتھیہ یہ ہے که ہمیشہ سے ہمالیہ کی اونچائی1سینٹی میٹر کی گتی سے نہیں بڑھ رہی تھی۔


 
یدی یہ گتی ہوتی تو4کروڑ سالوں میں ہمالیہ کی اونچائی400کلومیٹر ہوتی۔ پریاورنیہ کارنوں اور انرتھکاری مانو وکاس کی لولپتا کے چلتے وورتنک پلیٹوں میں زیادہ گتیودھی ہو رہی ہے اور بھوکمپوں کے نجرئے سے یہ شیتر بہت سنویدنشیل ہو گیا ہے۔ پرکرتی ورودھی وکاس ہمیں وناش کی اور لے جا رہا ہے۔ کسی کو سنکیتوں میں بات سمجھ آتی ہے تو اسکا مطلب یہ ہے که پہاڑوں کو کاٹنے,ندیوں کو باندھنے اور جنگلوں کو مٹانے کا مطلب وکاس نہیں ہے,یہ خود کو مٹانے کی بھوتک تیاری ہے۔
 
جب کسی آدھونک واہن میں سپاٹ سڑک کے راستے ہم پریٹن کے لئے نکلتے ہیں,تب کیا ہمیں کبھی یہ احساس ہوتا ہے که دھرتی کے جس حصے پر ہم چل رہے ہیں,اسکا جیون4سے5کروڑ سال کا ہو چکا ہے۔ وہ پروت دو مہادویپوں کی ٹکر کے کارن پیدا ہوا اور یہ کبھی پانی میں ڈوبا رہا ہوگا؟ یہ تب تک پتہ نہیں چلتا,جب تک که ہم اسکے ساتھ اپنے بھیتر کے تتووں کو جوڑ نہیں لیتے۔ اپنے بھیتر کے وہی تتو,جنہیں ہم صبح شام پنچ تتو کہتے ہیں۔
 
 

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation