Loading...
یاترا ورتانت:پریاورنیہ ارتھ شاستر| Webdunia Hindi

یاترا ورتانت:پریاورنیہ ارتھ شاستر


-راجیش گھوٹیکر
 
> >  
ہم سبھی گنگا ندی کے کنارے پر گھومتے ہوئے رشکیش کے لکش‍من جھولا کے سمیپ'راپھٹ' (ربر والی نوکا)کے لئے بھاوتاو کر رہے تھے۔ آخر سودا تے ہوا اور ہم ندی میں اترنے کے لئے اپنے کپڑے بدلنے چلے گئے۔
 
جب تک گاڑی'راپھٹ'رکھی جاتی ہے اور ہم اپنی یاترا پرارمبھ ستھل کو روانہ ہوتے,ہماری پانچ سدسیوں کی ٹیم میں ایک سدسیہ کی بڑھوتری راپھ‍ٹنگ منیجر نے کر دی۔ جیپ پر راپھٹ باندھی جاکر ہمیں اس میں بیٹھنے کو کہا گیا تو کماری'کوری'سے پرچیہ ہوا۔ کوری ہیڈرسن سنیکت راجیہ امریکہ سے تین ماہ کا ویجا لیکر ہندوستان دیکھنے آئی تھی۔ اسکی انمکتتا کی وجہ سے اس سے جلدی ہی مترتا ہو گئی۔ اگلی سیٹوں پر میں نے اور بھارت نے قبضہ کر لیا تھا,جبکہ تشار اور ادت ستھان چین کرنے کے باوجود کوری کے لئے جگہ چھوڑ راپھٹ کے نیچے کھلی جگہ میں بیٹھ گئے۔ نریندر,کوری اور راپھٹنگ پرشکشک ہری نے پچھلی سیٹوں پر قبضہ جمایا۔
 
چرچا کرتے کراتے گھماودار پہاڑی سڑک سے ہم لگ بھگ16کمی دور ندی کے تٹ پر پہنچے۔ ناؤ اتاری جانے لگی اور ہمیں لائف جیکٹ,ہیلمیٹ اور پتوار تھما کر نردیش دیئے جانے لگے۔ ہری نے سبھی نردیش انگریزی میں دینا پرارمبھ کئے۔ ناؤ میں کیسے بیٹھا جائے,پتوار کیسے پکڑی جائے,کیا کہنے پر پتوار سے پانی دھکیلنا ہے اور سٹاپ کہنے پر پتوار کو کیسے رکھا جائیگا,سمجھایا گیا۔
 
 

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation