Loading...
سیدھے سادے لوگوں کی دھرتی ہے لداخ| Webdunia Hindi

سیدھے سادے لوگوں کی دھرتی ہے لداخ


لیہ(لداخ)۔ بھارت میں اگر سب سے ادھک پوجا پاٹھ تتھا بھگوان کو مانا جاتا ہے تو وہ لداخ میں مانا جاتا ہے۔ لداخ,جسے'چندربھومی'کا نام بھی دیا جاتا ہے,سچ مچ چندربھومی ہی ہے۔ یہاں پر دھرم کو ادھک مہتو دیا جاتا ہے۔
 
ننگے پہاڑوں سے گھری لداخ کی دھرتی,جہاں پر پیڑ نامماتر کے ہیں تتھا بارش اکثر چڑھا کر بھاگ جاتی ہے,لاماؤں کی دھرتی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ یہاں پر دھرم کو بہت ہی مہتو دیا جاتا ہے۔ پرتیک گلی محلے میں آپ کو ستوپ(چھوٹے مندر)تتھا'پرییر وھیل' (پرارتھنا چکر)بھی نظر آئینگے جنہیں گھومانے سے سبھی پاپ دھل جاتے ہیں تتھا بھگوان کا نام کئی بار جپا جاتا ہے,ایسا لیہواسیوں کا دعویٰ ہے۔
 
لیہ میں کتنے ستوپا ہیں,اسکی کوئی گنتی نہیں ہے۔ کہیں کہیں پر انکی قطاریں نظر آتی ہیں۔ صرف شہر کے بھیتر ہی نہیں,بلکہ سبھی سیمانت گاؤوں,پہاڑوں ارتھات جہاں بھی آبادی کا تھوڑا سا بھاگ رہتا ہے,وہاں انھیں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان ستوپوں میں کوئی مورتی نہیں ہوتی بلکہ مندر کے آکار کے مٹی پتھروں سے بھرا ایک ڈھانچہ کھڑا کیا گیا ہوتا ہے جسے ستوپا کہا جاتا ہے۔ ویسے پرتیک پریوار کی اور سے ایک ستوپا کا نرمان اوشیہ کیا جاتا ہے۔
 
ستوپا کے ساتھ ساتھ پرارتھنا چکر,جسے لداکھی بھاشا میں'مانے تنجر'کہا جاتا ہے,لداخ میں بڑی سنکھیا میں پائے جاتے ہیں۔5سے6فٹ اونچے ان تامبے سے بنے چکروں پر'اوم منے پدمنے ہوں'کے منتر کھدے ہوتے ہیں سیکڑوں کی سنکھیا میں۔ یہ چکر دھریوں پر گھومتے ہیں اور ایک بار گھمانے سے وہ کئی چکر کھاتا ہے تو کئی بار ہی نہیں,بلکہ سیکڑوں بار اپروکت منتر اوپر لگی گھنٹی سے ٹکراتے ہیں جن کے بارے میں بودھوں کا کہنا ہے که اتنی بار وہ بھگوان کا نام جپتے ہیں اپنے آپ۔
 
ویسے بھی'مانے تنجر'بودھوں کی زندگی میں مہتوپورن ستھان رکھتا ہے۔ اسکو گھمانے کے لئے کوئی سمیہ نردھارت نہیں ہوتا ہے۔ جب بھی اچھا ہو یا پھر سمیہ ملنے پر آدمی اسے گھما سکتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے که ہر آنے والا ویکتی اسے گھماتا ہے اور دن میں کئی بار اسے گھمایا جاتا ہے,کیونکہ ہر گلی محلے,چوک بازار آدی میں یہ مل جاتے ہیں۔ انکے بارے میں پرچلت ہے که انہیں گھمانے سے آدمی کے سارے پاپ دھل جاتے ہیں۔
 
سیدھی سعدی زندگی ویتیت کرنے والے لداکھی کتنی دھارمک بھاونا اپنے بھیتر سمیٹے ہوتے ہیں,یہ اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے که ایک بڑے پریوار کا سب سے بڑا بیٹا لامہ بننے کے لئے دے دیا جاتا ہے,جو بعد میں لہاسا میں جاکر شکشا پراپت کرتا ہے اور برہم چریہ کا پالن کرتا ہے۔
 
کبھی بھی لداکھیوں کے بیچ جھگڑوں کی بات سننے میں نہیں آتی ہے جبکہ جب انہوں نے'فری لداخ فارم کشمیر'تتھا لیہ کو کیندر شاست پردیش کا درجہ دیئے جانے کی مانگ کو لیکر آندولن چھیڑا تھا تو سرکار ہی نہیں,بلکہ سارا دیش حیران تھا که ہمیشہ شانتپریہ رہنے والی قوم نے یہ کون سا راستہ اختیار کیا ہے؟ لداکھیوں کا یہ پرتھم آندولن تھا جسمیں ہنسا کا پر یوگ کیا گیا تھا جبکہ اکثر لڑائی جھگڑوں میں وہ پتھر سے ادھک کا ہتھیار پر یوگ میں نہیں لاتے تھے۔ اسکے معنی یہ نہیں ہے که لداکھی کمزور دل کے ہوتے ہیں بلکہ دیش کی سیماؤں پر جوہر دکھلانے والوں میں لداکھی سب سے آگے ہوتے ہیں۔
 
طاقتور,شورویر تتھا سیدھے سادے ہونے کے ساتھ ساتھ لداکھواسی نرم دل تتھا پروپکاری بھی ہوتے ہیں۔ مہمان کو بھگوان کا روپ سمجھ کر اسکی پوجا کی جاتی ہے۔ انکی نرم دلی ہی ہے که انہوں نے تبت سے بھاگنے والے سیکڑوں تبتیوں کو اپنے جہاں شرن دینے کے ساتھ ساتھ انکی بھرپور مدد بھی کی۔ 
 
اسی لئے تو انکی دھرتی کو'چاند کی دھرتی'کہا جاتا ہے,کیونکہ جہاں لوگوں کے دل چاند کی طرح صاف ہیں۔ 

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation