Loading...
15مئی انترراشٹریہ پریوار دوس:پریوار کا مہتو اور اسکا بدلتا سوروپ۔International family day | Webdunia Hindi

15مئی انترراشٹریہ پریوار دوس:پریوار کا مہتو اور اسکا بدلتا سوروپ

Family


پریوار ایک ایسی ساماجک سنستھا ہے جو آپسی سہیوگ و سمنویہ سے کریانوت ہوتی ہے اور جسکے سمست سدسیہ آپس میں ملکر اپنا جیون پریم,سنیہہ ایوں بھائیچاراپوروک نرواہ کرتے ہیں۔ سنسکار,مریادہ,سمان,سمرپن,آدر, آدی کسی بھی سکھی سمپن ایوںکے گن ہوتے ہیں۔ کوئی بھی ویکتی پریوار میں ہی جنم لیتا ہے,اسی سے اسکی پہچان ہوتی ہے اور پریوار سے ہی اچھے برے لکشن سیکھتا ہے۔ پریوار سبھی لوگوں کو جوڑے رکھتا ہے اور دکھ سکھ میں سبھی ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔

کہتے ہیں که پریوار سے بڑا کوئی دھن نہیں ہوتا ہیں,پتا سے بڑا کوئی صلاحکار نہیں ہوتا ہیں,ماں کے آنچل سے بڑی کوئی دنیا نہیں,بھائی سے اچھا کوئی بھاگیدار نہیں,بہن سے بڑا کوئی شبھ چنتک نہیں اسلئے پریوار کے بنا جیون کی کلپنا کرنا کٹھن ہے۔ ایک اچھا پریوار بچے کے چرتر نرمان سے لیکر ویکتی کی سپھلتا میں مہتوپورن بھومکا نبھاتا ہے۔


کسی بھی سشکت دیش کے نرمان میں پریوار ایک آدھاربھوت سنستھا کی بھانتی ہوتا ہے,جو اپنے وکاس کاریہ کرموں سے دنوندن پرگتی کے نئے سوپان تے کرتا ہے۔ کہنے کو تو پرانی جگت میں پریوار ایک چھوٹی اکائی ہے لیکن اسکی مضبوطی ہمیں ہر بڑی سے بڑی مصیبت سے بچانے میں کارگر ہے۔ پریوار سے عطر ویکتی کا استتو نہیں ہے اسلئے پریوار کے بنا استتو کے کبھی سوچا نہیں جا سکتا۔ لوگوں سے پریوار بنتا ہیں اور پریوار سے راشٹر اور راشٹر سے وشو بنتا ہیں۔
اسلئے کہا بھی جاتا ہے‘وسدھیو کٹمبکم’ارتھات پوری پرتھوی ہمارا پریوار ہے۔ ایسی بھاونا کے پیچھے پرسپر ویمنسیہ,کٹتا,شترتا و گھرنا کو کم کرنا ہے۔ پریوار کے مہتو اور اسکی اپیوگتا کو پرکٹ کرنے کے ادیشیہ سے پرتیورشکو اسمپورن وشو میں'انترراشٹریہ پریوار دوس'منایا جاتا ہے۔ اس دن کی شروعات سنیکت راشٹر امریکہ نے1994کو انترراشٹریہ پریوار ورش گھوشت کر کی تھی۔ تب سے اس دوس کو منانے کا سلسلہ جاری ہے۔
پریوار دو پرکار کے ہوتے ہیں۔ ایک ایکاکی پریوار اور دوسرا سنیکت پریوار۔ بھارت میں پراچین کال سے ہی سنیکت پریوار کی دھارنا رہی ہے۔ سنیکت پریوار میں وردھوں کو سمبل پردان ہوتا رہا ہے اور انکے انبھو و گیان سے یووا و بال پیڑھی لابھانوت ہوتی رہی ہے۔ سنیکت پونجی,سنیکت نواس و سنیکت اتردایتو کے کارن وردھوں کا پربھتو رہنے کے کارن پریوار میں انوشاسن وکا ماحول ہمیشہ بنا رہتا ہے۔ لیکن بدلتے سمیہ میں تیور ادیوگیکرن,شہریکرن,آدھنکیکرن و اداریکرن کے کارن سنیکت پریوار کی پرمپرا چرمرانے لگ گئی ہے۔ وستت: سنیکت پریواروں کا بکھراو ہونے لگا ہے۔

ایکاکی پریواروں کی جیون شیلی نے دادا دادی اور نانا نانی کی گود میں کھیلنے و لوری سننے والے بچوں کا بچپن چھین کر انہیں موبائل کا عادی بنا دیا ہے۔ اپبھوکتاوادی سنسکرتی,اپرپکوتا,ویکتیگت آکانکشا,سوکیندرت وچار,ویکتیگت سوارتھ سدھی,لوبھی مانسکتا,آپسی منمٹاؤ اور سامنجسیہ کی کمی کے کارن سنیکت پریوار کی سنسکرتی چھن بھن ہوئی ہے۔

گاؤوں میں روزگار کا ابھاؤ ہونے کے کارن اکثر ایک بڑی آبادی کا وستھاپن شہروں کی اور گمن کرتا ہے۔ شہروں میں بھیڑبھاڑ رہنے کے کارن بچے اپنے ماتا پتا کو چاہ کر بھی پاس نہیں رکھ پاتے ہیں۔ یدی رکھ بھی لے تو وہ شہری جیون کے انوسار خود کو ڈھال نہیں پاتے ہیں۔ گاؤوں کی کھلی ہوا میں سانس لینے والے لوگوں کا شہری کی سنکری گلیوں میں دم گھٹنے لگتا ہے۔

اسکے علاوہ پچھمی سنسکرتی کا پربھاؤ بڑھنے کے کارن آدھونک پیڑھی کا اپنے بجرگوں و ابھبھاوکوں کے پرتی آدر کم ہونے لگا ہے۔ وردھاوستھا میں ادھکتر بیمار رہنے والے ماتا پتا اب انہیں بوجھ لگنے لگے ہیں۔ وہ اپنے سنسکاروں اور مولیوں سے کٹ کر ایکاکی جیون کو ہی اپنی اصلی خوشی و آدرش مان بیٹھے ہیں۔

دیش میں'اولڈ ایج ہوم'کی بڑھتی سنکھیا اشارہ کر رہی ہے که بھارت میں سنیکت پریواروں کو بچانے کے لئے ایک سوستھ ساماجک پرپریکشیہ کی نتانت آوشیکتا ہے۔ وہیں مہنگائی بڑھنے کے کارن پریوار کے ایک دو سدسیوں پر پورے گھر کو چلانے کی ذمیداری آنے کے کارن آپس میں ہین بھاونا پنپنے لگی ہے۔

کمانے والے سدسیہ کی پتنی کی ویکتیگت اچھائیں و سپنے پورے نہیں ہونے کے کارن وہ الگ ہونا ہی ہتکر سمجھ بیٹھی ہے۔ اسکے علاوہورگ اور آدھونک پیڑھی کے وچار میل نہیں کھا پاتے ہیں۔ بزرگ پرانے زمانے کے انوسار جینا پسند کرتے ہیں تو یووا ورگ آج کی سٹائلش لائف جینا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں کے بیچ سنتلن کی کمی دکھتی ہے,جو پریوار کے ٹوٹنے کا کارن بنتی ہے۔

یدی سنیکت پریواروں کو سمیہ رہتے نہیں بچایا گیا تو ہماری آنے والی پیڑھی گیان سمپن ہونے کے بعد بھی دشاہین ہوکر وکرتیوں میں پھنس کر اپنا جیون برباد کر دیگی۔ انبھو کا کھجانا کہے جانے والے بجرگوں کی اصلی جگہ وردھاشرام نہیں بلکہ گھر ہے۔ چھت نہیں رہتی,دہلیز نہیں رہتی,در ودیوار نہیں رہتی,وہ گھر گھر نہیں ہوتا,جسمیں کوئی بزرگ نہیں ہوتا۔

ایسا کون سا گھر پریوار ہے جسمیں جھگڑے نہیں ہوتے؟ لیکن یہ منمٹاؤ تک سیمت رہے تو بہتر ہے۔ منبھید کبھی نہیں بننے دیا جائے۔ بزرگ ورگ کو بھی چاہئیے که وہ نئے زمانے کے ساتھ اپنی پرانی دھارناؤں کو پرورتت کر آدھونک پرویش کے مطابق جینے کا پریاس کریں۔


 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation