Loading...
پھادرس ڈے سپیشل:آخر باپ ہوں تمہارا... | Webdunia Hindi

پھادرس ڈے سپیشل:آخر باپ ہوں تمہارا...


میری اچھی بیٹی

پیار اور آشیرواد

کیسی ہو تم؟ اچھی ہی ہوگی۔ میرا اور تمہاری ماں کا من پل پل تمہیں آشیرواد دیتا رہتا ہے پر اپنے آشیش سے زیادہ تمہاری کھلکھلاتی ہنسی پر یقین ہے که تم اچھی ہی ہوگی۔ پر باپ ہوں نہ کبھی کبھی تمہیں سوچ کر بہت پریشان ہو جاتا ہوں۔

تم جانتی ہو نہ بیٹی که تمہارے اور میرے وچار کبھی نہیں ملے۔ تم پورو تو میں پچھم رہا ہوں۔ کئی بار تمہاری باتوں نے میرا دل توڑا ہے اور جانے کتنی بار میں نے تمہارا من دکھایا ہے۔ ہم اکثر بدلتے دور کے ہر مدعے پر آمنے سامنے ہوئے ہیں ظاہر ہے میں ہی جیتا ہر بار اور انت میں تم روندھے کنٹھ سے یا کئی بار کرودھ کی جوالا سے پھپھکارتی دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ تاتکالک روپ سے میرا پرشتو بھلے ہی جیت گیا ہو پر میرا من جانتا
ہے که میراہر بار ہارا ہے۔

مجھے یاد ہے جب تم اس دنیا میں آنے والی تھی تب کتنی نازک اور نرم انوبھوتیوں کے بیچ میں روز ڈوبتااتراتا تھا۔ ہر دن سپنے دیکھتا تھا تمہارے۔ کیسی ہوگی تم....
گلابی گلابی,سفید سفید یا پھر میری طرح شیامل سانولی. ..آنکھیں کیسی ہوگی ہرنی کی طرح یا چڑی‍یا کی طرح..

ہنسی کیسی ہوگی دودھ سے دھولی ہوئی سندر سوچھ یا پھر شرماتی لجاتی پتلی سی ریکھا..تم زور سے ہنسوگی اٹاہاس یا دھیمے سے مسکراؤگی سمتہاس...
آخر وہ دن آیا جب تم میرے ہاتھوں میں تھیں اور میرے ہاتھ کانپ رہے تھے..ایسا نہیں ہے که اس سے پورو کبھی بچے گود میں نہ لئے ہوں,پر تم..تم تو ان سب سے الگ تھی نہ بیٹی..میری بیٹی..میری اپنی بیٹی..میں کتنا کوتک سے بھرا تھا که اوہ...ایسا ہوتا ہے ننھا سا جیو..لال گلابی ہاتھوں کی وہ ایک دم ننھی سی پتلی پتلی انگلیاں میں کبھی نہیں بھول سکتا...۔ لگا جیسے کسی نے تازے مکھن کی چکنی سی ٹکیا مجھے تھما دی ہو۔

تمہارے اس نرم ریشمی احساس کو میں آج بھی کلیجے سے لگاکر بھاوک ہو اٹھتا ہوں۔

پھر تو ہر دن تم مجھے نئی نویلی لگتی۔ تمہیں تیار چاہے ماں کرتی ہو پر تمہارے ماتھے پر کاجل چاند ٹیکا میں ہی لگاتا تھا...پھر ننھیں مٹھیوں کو کھول کر انمیں کاجل بندی لگاتا پھر سکومل پیروں کو ہاتھ میں لیکر ان پر بھی نظر کا کالا ٹیکا لگاتا۔

جیسے جیسے تم بڑی ہوتی گئی میرے ویوہار میں انچاہا پرورتن آتا گیا اور اس ویوہار سے تم مجھ سے دور ہوتی گئی۔ میری ہر بات تمہیں بری لگنے لگی۔ میری ٹوکا ٹوکی,میری دکھلئنداجی سے تم مجھ سے ناراض ہوتی گئی۔ نہ کبھی میں نے تمہیں سمجھنے کی کوشش کی نہ تم نے کبھی اپنے پتا کا دل پڑھنا چاہا اور دوریاں بڑھتی گئی...دوش تمہارا نہیں میری پرورش کا ادھک ہے۔ میں ہر وقت آشنکت اور آتنکت رہا نہ جانے کس ہونی ان ہونی کے ڈر سے اور تم پر دباوٴ ڈالتا گیا...میں نے جتنا تم پر نینترن چاہا تم اتنی ہی سوچھند ہونے کے لئے چھٹپٹانے لگی...بات یہاں تک آن پڑی که تم نے مجھ سے بات کرنا بند کر دیا۔

پھر ایک دن تمہاری شادی ہو گئی۔ میرے پسند کے لڑکے سے۔ جس دن تم اس گھر سے بیاہ کر بدا ہوئی..میں خالی ہو گیا اور تم آزاد...اس دن میں نے بیٹھ کر خوب سوچا که آخر کیا ملا مجھے تم پر لگائی اناوشیک پابندیوں کا پھل...اب تم میری کہاں رہی اب تم اپنے پتی کی ہو گئی ہو...ایک آزاد خیال والے پریوار کی بہو...میں جانتا ہوں تمہیں میری پسند پر قطعی بھروسہ نہیں تھا پر تم چپ چاپ شادی کے لئے تیار ہو گئی۔ جاتے جاتے تم نے مجھ سے کہا تھا, ''پاپا,میں نے شادی کے لئے اسلئے ہاں کی کیونکہ میں آپکے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی۔ میرا دل پھٹ گیا تھا اس دن...

میں نہیں سمجھ پا رہا ہوں که میں اپنا گناہ گار خود ہوں یا سماج سے چھن کر آتی وکرت خبروں نے مجھے ایسا بنایا پر یقین مانو بیٹی میں نے تمہارا سہج سوابھاوک جیون کبھی نہیں چھیننا چاہا۔ آخر باپ ہوں تمہارا...۔ لیکن افسوس که میں نے ایسا ہی کیا جو مجھے نہیں کرنا چاہئیے تھا۔

تم خوش ہو نہ اپنے پتی کے ساتھ..یقین مانو اب میں بھی ویسا نہیں رہا پر کبھی کبھی بہت یاد آتی ہو تم که میں تمہیں نہ جانے کس ڈر سے کبھی پیار نہیں کر پایا..ویسا جیسا بچپن میں کیا کرتا تھا...ہو سکے تو اس خط کو پڑھکر''پھادرس ڈے''پر گھر آنا میں اچھا پتا بننا چاہتا ہوں تمہارے لئے...ایک بار سچے دل سے سوری کہنا چاہتا ہوں...آؤگی نہ؟

خوب سارا پیار
تمہارا پاپا

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation