'میرا سپنا ہے پانی,جو پانی لائےگا اسے ووٹ دونگی':گراؤنڈ رپورٹ

یشودا زول امیج کاپیرئٹ Piyush Nagpal

"روزانہ اپنے سر پر پانی کے بڑے بڑے گھڑے اور ہنڈے اٹھانے کے کارن ہمارے یہاں مہلاؤں کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں اور وہ گنجی ہو رہی ہیں" - 18سال کی یشودا زول مجھ سے اپنے گاؤں کی سمسیا بتا رہی تھیں.

جنوری کی دوپہر تھی لیکن مہاراشٹر کے اس علاقے میں گرمی کے کارن ہمیں پسینہ آ رہا تھا.آنے والے سوکھے کے دنوں کے نشان صاف دکھ رہے تھے.

ہم ایک کئیں کے پاس بیٹھے تھے جہاں یشودا پانی لینے کے لئے آئی تھی.دن میں تین بار وہ کئیں پر پانی بھرنے آتی ہیں.

یشودا کا گاؤں پہاڑی پر ہے اور اسے روز پہاڑی سے اتر کر کئیں پر آنا ہوتا ہے.واپس لوٹتے وقت وہ پانی سے بھرے دو بڑے بڑے گھڑے اپنے سر پر لے کر جاتی ہے

وہ کہتی ہے, "آپ کہہ سکتے ہیں که میری زندگی پانی کے ہی آس پاس گھومتی ہے.میں سویرے اٹھتی ہوں تو یہی سوچتی ہوں که آج پانی لینے کہاں جانا پڑےگا.اور سونے سے پہلے ہی دماغ میں یہی بات گھومتی رہتی ہے که کل کہاں سے پانی آئیگا."

جہاں ہم کھڑے تھے وہاں ہمارے چاروں طرف دور دور تک صرف سوکھی زمین تھی.ہم مہاراشٹر کے پالگھر ضلعے کا جوہار تحصیل میں ہیں.اس آدیواسی بہل شیتر میں ہم یشودا کے گاؤں پاورپاڑا پہنچے.

یشودا کہتی ہیں, "مجھے اپنے گھر میں پانی چاہئیے.میں اسی کے لئے ووٹ کرونگی جو میرے گھر کے پاس تک پانی کا نل لائےگا."

یشودا زول امیج کاپیرئٹ Piyush Nagpal

اچھے مانسون کے باوجود سوکھا ہے یہ علاقہ

مانسون کے چار مہینوں میں جوہار اور اس سے سٹے علاقوں میں اچھی بارش ہوتی ہے,کبھی کبھی یہاں3287ملی میٹر تک بارش ہوتی ہے.

یشودا کہتی ہیں, "مانسون کے دوران اتنی بارش ہوتی ہے که ہمارے سارے کام ایک سے بند ہو جاتے ہیں.بارش کے ندی نالے پانی سے لبالب بھر جاتے ہیں اور کئی گاؤوں کا سڑک سمپرک ٹوٹ جاتا ہے."

یہ سال کا وہ وقت ہوتا ہے جب ممبئی,ٹھانے اور ناشک سے سیکڑوں کی سنکھیا میں پریٹک جوہار کے آس پاس کے علاقوں کے ہرے بھرے نظاروں کا لطف لینے آتے ہیں.

کئی لوگ یہاں کے جھرنوں,جنگل اور وہاں کھلے جنگلی کے پھولوں کو کیمرے میں بھی قید کرتے ہیں.

لیکن یہ جنوری کا مہینہ تھا اور ہم لوگ لگ بھگ سوکھ چکے اس کئیں کے پاس بیٹھے تھے.دور دور تک جیون کی کوئی نشان نہیں دکھ رہا تھا.بارش کے دنوں میں لہراکر بہنے والے جھرنے سوکھ چکے تھے.نہ تو ہریالی تھی نہ اسے دیکھنے آئے شہر کے لوگ.

وہاں بیٹھ کر یہی سوچ رہی تھی که جو لوگ مانسون میں جوہار آتے ہیں کیا انہیں پتہ بھی ہے که سال کے دوسرے دنوں یہاں پانی کی ایک بوند تک نہیں ملتی.

یشودا کہتی ہیں, "میرے دن کا ادھکتر وقت پانی لانے میں ہی گزر جاتا ہے.میں ہی نہیں بلکہ آس پاس کے گاؤں کی اور مہلاؤں کے ساتھ بھی یہی سمسیا ہے,انکا ادھکتر وقت پانی لانے میں بیتتا ہے."

لائن
لائن
یشودا زول امیج کاپیرئٹ Piyush Nagpal

یشودا سویرے تڑکے اٹھتی ہیں اور سب سے پہلا کام جو وہ کرتی ہیں وہ ہیں پہاڑی سے اتر کر کئیں تک پہنچنا.کالج کے لئے نکلنے سے پہلے وہ دو گھڑے پانی گھر پہنچا چکی ہوتی ہیں.اسکے بعد ایک گھنٹے کا سفر تے کر وہ جوہار شہر میں موجود اپنے کالج پہنچتی ہیں جہاں وہ بی اے کی اپنی پڑھائی کر رہی ہیں.

کالج کے بعد وہ کمپیوٹر کوچنگ کلاس جاتی ہیں اور وہاں سے شام تک اپنے گھر لوٹتی ہیں.گھر پر خالی گھڑے انکا انتظار کر رہے ہوتے ہیں.یشودا گھڑے اٹھاتی ہیں اور پھر پانی کے لئے نیچے کئیں کی طرف جاتی ہیں.

یشودا کی بہن پرینکا انڈین ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ(آئی ٹی آئی)میں پڑھائی کر رہی ہیں.انکی دنچریا بھی کچھ ایسی ہی ہے.

لیکن اس علاقے میں رہنے والی دوسری لڑکیوں کی تلنا میں پرینکا اور یشودا خود کو لکی مانتی ہیں.انکے انوسار انہیں اپنی پڑھائی پوری کرنے کا موقع مل رہا ہے جو دوسرو کو آسانی سے نہیں ملتا.

گھر کے کام کرنے کے لئے کئی لڑکیاں اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ چکی ہیں.ان لڑکیوں کے لئے بھی سب سے مہتوپورن اور بڑا کام گھر کے لئے پانی لانا ہے.

پلےبیک آپکے اپکرن پر نہیں ہو پا رہا
وگیانکوں نے گیہوں کی ایک لاکھ جینس کی پہچان کی ہے.

لینک مانسون کی اچھی بارش کے باوجود اس علاقے میں پانی کی اتنی کمی کیوں ہوتی ہے؟ کیا اسکے پیچھے کوئی بھوگولک کارن ہے؟

اسکا جواب سرل نہیں ہے.جوہار کالج میں مراٹھی وبھاگ میں پروفیسر پرادنیہ کلکرنی کہتی ہیں, "یہ ناگریک سمسیا نہیں بلکہ جینڈر سمسیا ہے." وہ کالج کے ایک انیہ پروفیسر انل پاٹل کے ساتھ مل کر آدیواسی گاؤوں میں پانی,سوچھتا اور شکشا کے مدعے پر کام کرتی ہیں.

پرادنیہ کلکرنی کہتی ہیں "سرکار نے یہاں سنچائی کی ویوستھا کے لئے ادھک کام نہیں ہے.یہاں بھوگولک ستھتی تھوڑی مشکل ہے,یہ میدانی علاقہ نہیں ہے بلکہ پٹھاری علاقہ ہے او یہاں پر جل سنرکشن پریوجناؤں کو لاگو کرنا آسان نہیں."

"لیکن یہ بھی سچ ہے که ذمیداری کیول سرکار کی نہیں ہے.یہاں کی پرشستاتمک سوچ بھی کچھ حد تک ان سمسیاؤں کے لئے ذمیدار ہے.گھر کے لئے پانی لانا یہاں مہلاؤں کی ذمیداری معنی جاتی ہے.اور اس کارن کوئی یہ نہیں سوچتا که مہلاؤں کو اس کارن کتنی مشکلیں ہوتی ہیں."

پروفیسر انل پاٹل کہتے ہیں, "ایک آدیواسی گاؤں میں ہم ایک ایسا کواں بنانا چاہتے تھے جسکے ذریعے پہاڑی کے نیچے کے کئیں سے اوپر گاؤوں تک پانی لایا جا سکے.ہم نے اسکے لئے کوششیں بھی کیں.ہمیں سرکار کی طرف سے اسکے لئے آرتھک مدد بھی مل رہی تھی جو ہونے والے خرچ کا90فیصد تک ہوتی."

"اس طرح کی پریوجنا میں بچا10فیصد پیسہ گاؤں کے لوگوں کو خود جمع کرنا ہوتا ہے.اسکے لئے گاؤں کے پرشوں نے منا کر دیا.انہوں نے پوچھا که جو چیز ہمیں مفت میں ملنی چاہئیے اسکے لئے ہم پیسے کیوں دیں.میں اس پریوجنا کو پورا کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں نے7مہینے کی گربھوتی ایک مہلا کو سر پر دو گھڑے اٹھا کر پہاڑ چڑھتے دیکھا تھا.لیکن میرا دل ہی ٹوٹ گیا."

یشودا زول امیج کاپیرئٹ Piyush Nagpal

پرشوں کو لگتا ہے که پانی مفت میں ملنا چاہئیے.لیکن واقعی میں کیا ایسا ہے؟

کہا جاتا ہے که آپ کو ملنے والی ہر چیز کی کوئی نہ کوئی قیمت ضرور ہوتی ہے اور اس "مفت "پانی کی کیا قیمت تھی؟

سنیکت راشٹر کی رپورٹ'ورلڈ وومن ڈے2015:ٹرینڈ اینڈ سٹاٹسٹکس'کے انوسار پوری دنیا میں پانی کی تلاش میں مہلائیں20کروڑ گھنٹے ضائع کرتی ہیں.اسکا مطلب ہے22,800سال کیول پانی کی تلاش میں ختم ہو جاتے ہیں.

اس رپورٹ کے انوسار بھارت کی46فیصدی مہلائیں دن کے پندرہ یا اس سے ادھک منٹ پانی لانے میں بتاتی ہیں.یہ مفت پانی کی قیمت ہے.

لائن
لائن

فیصلہ پرشوں کا,مانتی ہیں مہلائیں

کئیں کے پاس بیٹھے ہم یشودا سے بات کر رہے تھے.ہمیں پہاڑی کے اوپر سے سکول یونپھارم پہنی کچھ لڑکیاں ہمارے طرف آتی دکھائی دیں.انکے ہاتھوں اور سروں پر گھڑے تھے.میں نے یشودا سے پوچھا که سکول کی لڑکیاں یہاں کیوں آ رہی ہیں؟

یشودا نے بتایا, "یہ لڑکیاں مڈ ڈے میل بنانے کے لئے پانی لینے آ رہی ہیں."

ظاہر سی بات ہے که جو ایک مہلا سبھی بچوں کے لئے مڈ ڈے میل بنا رہی ہوگی اسکے لئے اتنا پانی لے کر جانا اسمبھو ہے.اور سکول کے آس پاس پانی کا کوئی ثروت نہیں ہے.یہ آشچریہ کی بات تھی که پانی کے لئے کے لئے کیول لڑکیاں ہی آئی تھیں,ایک بھی لڑکے کو اسکے لئے نہیں بھیجا گیا تھا.

سندیش سپشٹ تھا پانی لانا مہلا کا کام ہے.وڈمبنا یہ ہے که اس معاملے میں مہلاؤں کی مرضی کوئی معنی نہیں رکھتی.

یشودا زول امیج کاپیرئٹ Piyush Nagpal

ہم نزدیکی گاؤں نانگارموڑا گئے.گاؤں سے پورو سرپنچ دھنبھاؤ نے ہمارا سواگت کیا.

ہمیں گاؤں میں پانی کا ایک ٹینک دکھا.دھنبھاؤ نے ہمیں بتایا که یہیں پانی کے لئے نل ہیں لیکن نہ تو ٹینک میں پانی ہے نہ ہی نلوں میں پانی ہے.

دھنبھاؤ سے میں نے پوچھا که سودھا ہونے کے بابجود مہلاؤں کو دور سے پانی کیوں لانا پڑ رہا ہے.

انہوں نے کہا, "میں نے فیصلہ کیا که ہم نل سے پانی نہیں لیں گے اور مہلائیں پانی لائینگی.اگر مہلائیں نل سے پانی لیتی ہں تو وہ کافی پانی برباد کرتی ہیں,.ہمیں گرمی کے دنوں کے لئے پانی بچانا ہے.اسلئے یہی بہتر ہے که ہم نل کا پانی استعمال نہ کریں.مہلائیں دور سے جا کر پانی لاتی ہیں اور وہ سنبھل کر پانی استعمال کرتی ہیں."

گرمی کے لئے پانی بچانے کا انکا فیصلہ پرشنساجنک ہو سکتا ہے لیکن انکے فیصلے میں پترستا کی جھلک صاف دکھ رہی تھی.میں نے پوچھا که کیوں انہوں نے فیصلہ لینے سے پہلے مہلاؤں سے بات کی که انکی مشکلوں کو آسان کیا جا سکتا ہے.

انہوں نے کہا, "اس میں پوچھنے والی کون سی بات ہے؟"

ہم یہاں ماتر ایک اداہرن دے رہے ہیں,لیکن اس طرح کے اداہرن آپ کو پورے بھارت میں دیکھنے کو ملیں گے.

یشودا کے گاؤں میں پانی ملنا مشکل ہے.کارن-یہاں پرشوں نے جل کر(پانی کا ٹیکس)چکانے سے منا کر دیا ہے.

یشودا کہتی ہیں, "آپ دیکھینگے که گاؤں مے نل کی سبھی ٹوٹیاں ٹوٹی ہوئی ہیں."

لائن
لائن
یشودا زول امیج کاپیرئٹ Piyush Nagpal

اس علاقے کی کسی بھی مہلا سے بات کریں تو آپ پائیں گے که پانی کے مدعے پر وہ بیحد سنویدنشیل ہیں.اور اسکا کارن بھی سپشٹ سمجھ آتا ہے.

یشودا جیسی لڑکیوں کو دیکھیں کو پتہ چلتا ہے که انکے دنچریا میں کا بڑا حصہ پانی لانے میں خرچ ہوتا ہے اور اسکا اثر انکے سواستھیہ اور شکشا پر پڑتا ہے.

یشودا کہتی ہیں, "پانی لانے کا سمیہ بچ جائے تو میں کئی اور کام کر سکتی ہوں.میں تھوڑا ادھک وقت پڑھائی کر سکتی ہوں اور آرام بھی کر سکتی ہوں."

18سال کی یشودا کو راجنیتی کی بھی تھوڑی بہت سمجھ ہے.وہ کہتی ہیں, "آپ کو پتہ ہے که سرکار کیوں اس مددے پر دھیان نہیں دے رہی.کیونکہ ہماری سرکار میں کم مہلا منتری ہیں.حالت میرے گاؤں جیسی ہے,جہاں فیصلے ہوتے ہیں وہاں مہلائیں ہیں ہی کہاں."

اپنی پڑھائی پوری کرنے کے بعد وہ پولیس کانسٹیبل بننا چاہتی ہیں.دو بار وہ پھزکل ٹیسٹ بھی پاس کر چکی ہیں لیکن لکھت پریکشا میں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں.

"مجھے لگتا ہے که پڑھائی میں تھوڑا پچھڑ رہی ہوں,مجھے اپنی پڑھائی پر زیادہ دھیان دینا ہے."

لیکن سوال یہ ہے که کیا وہ اپنی دنچریا سے پڑھائی کے لئے ادھک وقت نکال پائینگی.

یشودا کہتی ہیں, "یہاں مہلائیں پانی کا سپنا دیکھتی ہیں."

یشودا شہر میں جاکر بسنا چاہتی ہیں جہاں جہاں نل کھولتے ہی پانی ملیگا اور انہیں پانی کے لئے دور جانا نہیں ہوگا.

لیکن انکا یہ سپنا تب تک پورا نہیں ہوگا جب تک یہاں گھر کے لئے پانی کی ویوستھا کرنا پرش کا کام نہیں بن جاتا.

لائن

(بی بی سی ہندی کے اینڈرائیڈ ایپ کے لئے آپیہاں کلککر سکتے ہیں.آپ ہمیںفیسبک, ٹوٹّر, انسٹاگراماوریوٹیوبپر فالو سکتے ہیں.)

بی بی سی نیوز میکرس

چرچا میں رہے لوگوں سے بات چیت پر آدھارت ساپتاہک کاریہ کرم

سنئے

سمبندھت سماچار