Loading...
Google CEO Sundar Pichai exclusive Interview with Dainik Bhaskar on his 47th birthday |کتنے بھی ویست ہوں,پریوار کو پریاپت سمیہ دینا ہی چاہئیے: سندر پچائی- Dainik Bhaskar

بھاسکر انٹرویو/ کتنے بھی ویست ہوں,پریوار کو پریاپت سمیہ دینا ہی چاہئیے: سندر پچائی



Google CEO Sundar Pichai exclusive Interview with Dainik Bhaskar on his 47th birthday
X
Google CEO Sundar Pichai exclusive Interview with Dainik Bhaskar on his 47th birthday

  • ٹیکنولاجی کی دنیا میں اب‘ایائی’سب سے بڑا گیمچینجر ہوگی
  • بھارتیہ یوواؤں کو ایک بار سلیکون ویلی دیکھنے جانا چاہئیے

Dainik Bhaskar

Jul 20, 2019, 09:24 PM IST

کیلیفورنیا. آج گوگل سی ای او سندر پچائی اپنا47واں جنم دن منا رہے ہیں۔ پچھلے15سال میں گوگل کے ساتھ سندر نے زندگی اور دنیا میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں,خاص طور پر ٹیک ورلڈ میں۔ جنم دن کے موقعے پر دینک بھاسکر کے لئے گوگل کے پورو کرمی اور ورتمان میں یوئین میں کاریرت ٹیک گرو سدھارتھ راج ہنس نے انکی زندگی اور کام کو سمجھنے کی کوشش کی۔

 

سندر کہتے ہیں که اب ہم گوگل کے ہر پروڈکٹ اور سروس کے ساتھ اس بات کا دھیان رکھ رہے ہیں که اس سے دنیا کی کسی نہ کسی سمسیا کا حل نکل سکے۔ ساتھ ہی,آپ کتنے بھی ویست کیوں نہ ہو,اپنے پریوار کے لئے سمیہ نکالئے۔ یہ ایک ایسا گن ہے جو ہر انسان میں ہونا چاہئیے۔

 

.

 

بھاسکر کے سوال اور پچائی کے جواب 

 

دنیا میں تین بدلاؤ تیزی سے ہو رہے ہیں- 5جی,آرٹی فیشیل انٹیلجینس اور الیکٹرک وہیکلس۔ ان تینوں میں سے کسے گیم چینجر مانتے ہیں۔

 

سندر: میں ویکتیگت طور پر ان تینوں میں سے‘ایائی’کے پکش میں ہوں اور اسکا سمرتھن کرتا ہیں۔ مجھے لگتا ہے که ایک ذمیداری کے ساتھ کچھ نیا کرنا یعنی“رسپانسبل انوویشن”انڈسٹری میں گیم چینجر ہوگا۔ میں پچھلے دنوں برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی(Technische Universität)کے چھاتروں سے بات کر رہا تھا اور میں نے اسی وشیہ کو سامنے رکھ کر اپنے وچار رکھے۔ مجھے لگتا ہے که5جی ایک اچھا بدلاؤ ہے,لیکن یہ صرف ٹیکنولاجی کو ایک قدم آگے لے جائیگی اسے موجودہ کمیونیکیشن انڈسٹری کی ٹیکنولاجی کا اپ گریڈ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن,جو اصلی چھلانگ ہے جو که ٹیکنولاجی کو بہت آگے لے جائیگی,وہ“ایائی” ہے اور میں اسے ہی ایک گیم چینجر کا نام دونگا۔ 

 

گوگل اور دنیا کے لئے اسکے یوگدان کو لیکر آپکے من کی ایک بات کیا ہے؟ 

سندر: میں نے2004میں گوگل جوائن کی تھی اور میں یہاں پر انوویشن اور پروڈکٹ مینیجمینٹ کے کئی انوبھووں سے ہوکر گذرا ہوں۔ میں نے اس کمپنی کو کروم آپریٹنگ سسٹم,کروم براؤجر,گوگل ڈرائیو,جی میل اور میپس جیسے نئے نئے ورٹکلس میں بدلتے دیکھا ہے۔ مجھے لگتا ہے که گوگل دنیا کی ایک ادوتیہ کمپنی بن چکی ہے اور آج یہ انٹرنیٹ کی پریائے ہے۔ ہمارا لکشیہ اسی آئڈیولاجی کو اور آگے لے جانا ہے۔

 

.

 

بطور گوگل سی ای او4سال کے بعد اب زندگی کتنی بدل گئی؟

سندر: میں کہونگا که ایک پد سے زیادہ,یہ بھوشیہ کو سنوارنے کی ایک ذمیداری ہے۔ اس میں ٹیکنولاجی کے آگے بڑھنے کی گتی کو سنبھالنا اور اسکے اوپر بھوشیہ کا نرمان کرنا ہے یہ رومانچک ہونے کے ساتھ ہی چنوتیبھرا کام ہے۔ لیکن,میری زندگی لگ بھگ ویسی ہی ہے,جیسی تھی میرے ساتھی,پریوار اور دوست سبھی ویسے ہی ہیں۔ ہاں,لوگوں تک پہنچنے اور انکا نیترتو کرنے کی شمتا کافی تیزی سے بڑھی ہے اور میں اسکے پرتی کرتگی ہوں۔

 

کسی بھارتیہ یووا میں ایک گن کیا ہونا چاہئیے جس سے وہ دوسرا سندر پچائی بن سکے؟

سندر: مجھے لگتا ہے که وہ اگر شروع سے کڑی محنت کریں اور سکول میں پڑھنے کے دوران ہی کھیل اور پڑھائی دونوں پر برابری سے دھیان دیکر اچھا پردرشن کریں تو کوئی بھی زندگی میں آگے نکل سکتا ہے۔ میں تو ایک چھوٹا سا اداہرن ہوں,دنیا بھر میں,کیلیفورنیا کے بے ایریا(کھاڑی شیتر)میں انیکوں ایسے بھارتیہ ہے جنہوں نے بھارت کا سمان بڑھایا ہے۔ 

 

.

 

تین بڑے بدلاؤ جو بطور سی ای او آپ گوگل میں لیکر آئے ہیں؟ آپکی سوچ سے ایسا کچھ جو ہر سپھل کمپنی اور اسکے کرمچاریوں میں ہونا چاہئیے؟ 

سندر: میں مانتا ہوں که ایک اچھے لیڈر کو اپنی کمپنی میں ہونے والی ہر ایک چیز کے لئے جوابدہ ہونا چاہئیے۔ تو میرے حساب سے پہلا بدلاؤ ہوگا- “جوابدہی(accountability)”۔ میں گوگل کے ساتھیوں کے ساتھ نیمت روپ سے ماس ای میل کے مادھیم سے بات کرتا ہوں۔ اس سے مجھے کمپنی کو سنبھالنے اور سب کے ساتھ اپنی ویلیوج کو بانٹنے میں مدد ملتی ہے۔

 

میری نظر میں بدلاؤ کا دوسرا بندو ہوگا“سب کی بھاگیداری(Inclusivity)”۔ دنیا بھر میں کافی سرخیاں بنی تھیں,جب میں نے ایک گوگل کرمچاری کو کمپنی سے نکال دیا تھا جس نے کہا تھا که,بایولاجکلی مہلائیں کچھ پروجیکٹس کو پورا کرنے کے لئے اپیکت نہیں ہوتی ہیں۔ میں پوری طاقت کے ساتھ اس بات میں یقین کرتا ہوں که شریرک لکشنوں کے آدھار پر کسی کی بھی آلوچنا کرنا پوری طرح سے غلط ہے۔ اسلئے,سب کو ساتھ لیکر,سماویش کرکے چلنا ایک اچھے سی ای او کے گن ہیں۔

 

تیسرا,اپنی کمپنی کو الپھابیٹ(Alphabet )کے بینر تلے پھر سے سنگٹھت کرنا-ہم ہمارا دائتو ایسی قور ٹیکنولاجی پر دھیان دینا ہے جو گوگل کو چلاتی ہے۔ اسلئے ٹیکنولاجی پر ایک“کلیئر وزن”ہونا میری لیڈرشپ سٹائل کا مہتوپورن پہلو ہے۔ 

 

مجھے لگتا ہے که ان قور ویلیوج کا ایک اچھا مشرن کسی بھی اچھی کمپنی کو پرگتی پتھ پر لے جائیگا۔

 

.

 

پی ایم مودی کے دوبارہ ستا میں آنے کے بعد,بھارتیوں کو زیادہ نوکریوں کا کوئی وشیش پلان ہے؟

سندر: مجھے لگتا ہے پی ایم مودی بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ میں عموماً کوئی راجنیتک بات کہنے سے پرہیز کرتا ہوں۔ ہم لگاتار بھارت میں اپنا بیس بڑھا رہے ہیں اور وہاں پر ہمارے پورٹفولیو میں نئے جابس بھی جڑ رہے ہیں۔ ہم اسی طرح بھارتیوں کو اپنے ساتھ جوڑنا جاری رکھینگے اور میں سوچتا ہوں که وہ ہمارے لئے بہت ضروری گوگلرس ہیں۔ 

 

یووا بھارتیوں کے لئے آپ کا کوئی میسیج?

سندر: اپنے بھارتیہ ہونے پر غرو کریں اور کڑی محنت کرتے رہیں۔ یہ ضروری نہیں که آپ کو ہمیشہ سپھلتا ملے گی یا آپ کو اسی ڈومین(شیتر)میں کام کرنے کا موقع ملیگا جسمیں آپنے پڑھائی کی ہے۔ میں نے خود نے میٹلرجکل انجینئرنگ کی ہے اور آج میں دنیا کی سب سے بڑی ساپھٹوییر کمپنی میں سے ایک کا ہیڈ ہوں۔ اپنا ایک سپنا ہونا,ایک وزن ہونا اچھی بات ہے,لیکن لگاتار کڑی محنت ہی سپھلتا کے تالے کی چابی ہے۔

 

.

10باتیں:پچائی کی پسند اور جیون مولیہ

  1. کون سا گن ہونا ضروری؟

    ‘اپنے پریوار کو پریاپت سمیہ دینا’میرے حساب سے ایک پتا کے لئے سب سے ضروری گن ہے۔ سی ای او بننے کے بعد,میں نے ایک پکی عادت یہ بنائی که بچوں کے سونے کے سمیہ سے پہلے میں گھر لوٹ آؤں۔ مجھے لگتا ہے که ایک اچھا پتا بننے سے ہی ایک اچھے سماج کی نینو پڑتی ہے۔
     

  2. کن کے ساتھ وقت بتاتے ہیں؟

    اپنے بچوں,کرن اور کاویا کے ساتھ وقت بتانا سب سے اچھا لگتا ہے۔ میرے بیٹے کرن نے حال ہی میں میرے بنائے ہوم میڈ گیمنگ پی سی میں اتھیریم نام کی کرپٹوکرنسی مائن کی ہے۔ ڈنر ٹیبل پر انکے ساتھ ایک پورے دن کے بارے میں اور اپنی اکونامی کی ویلیو جیسی باتوں پر چرچا کرنا اچھا لگتا ہے۔ میری پتنی انجلی بھی بہت بڑا سپورٹ سسٹم ہے۔

  3. کیا گنگناتے ہیں؟

    میں بہت اچھا نہیں گاتا ہوں,لیکن اب کچھ ایسی عادت بن گئی ہے که جب بھی موقع ملتا ہے یوٹیوب میوزک پر گانے ضرور سنتا ہوں۔ میری پلیلسٹ میں ٹرینڈ میں چل رہے ٹاپ10گانوں کا مکس ہوتا ہے۔ مجھے بالی وڈ بھی بہت پسند ہے۔ میں عموماً گنگناتا ہوں,اور اسی لئے مجھے امیرکن سنگر برونو مارس پسند ہے۔

  4. کس کے ہاتھ کا بنا کھانا؟

    .

     

    میں ویجٹیرین ہوں اسلئے مجھے وہ سب کچھ پسند ہے جو ماں بناتی ہے۔ مجھے دہی چاول اچھے لگتے ہیں,خاص طور پر چینئی والے۔

  5. پسندیدہ فلم؟

    مجھے“د مین ہو نیو انپھنٹی”دیکھنا پسند ہے۔ اس میں ایکٹر دیو پٹیل نے شری نواس رامانجن کی کمال کی بھومکا نبھائی ہے۔ میں چاہونگا که اسے دوبارہ دیکھوں۔

  6. بالی وڈ میں کون پسند؟

    دیپکا پادکون۔ میں انکے کام کی سراہنا کرتا ہوں۔

  7. کوئی پسندیدہ جگہ؟

    چونکہ آپکی سائٹ بھارتیوں کے لئے ہے,تو میں بھارت کے یوواؤں اور ٹیکنو فرینڈلی لوگوں کو کہونگا که سلیکون ویلی دیکھنے جائیے۔ وہاں کی یاترا آپ کو ٹیکنولاجی اور اینٹرپرینیورشپ کی دنیا کا نالیج بڑھانے والا انبھو دیگی۔

  8. پسندیدہ سمارٹپھون؟

    مجھے ایک سمیہ میں بلیک بیری استعمال کرنا پسند تھا۔ حالانکہ,آج سمارٹپھون کی ورتمان جنریشن کے حساب سے کہوں تو,میں پکسیل3XLکا فین ہوں۔

  9. من پسند کرکٹر؟

    مجھے کرکٹ پسند ہے۔ میں اپنی سکول کرکٹ ٹیم کا کیپٹن تھا۔ میں دیوانگی کے ساتھ کرکٹ کو فولو کرتا ہوں اور مجھے لگتا ہے کوہلی بہت اچھا کر رہے ہیں۔ میں آئی سی سی ورلڈکپ بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے لگتا ہے که روہت شرما وہ نام ہے جسے لیکر مجھے بڑی امیدیں ہیں۔ 

  10. ایک پریرک وچار؟

    یہ ہے, “The ability to empower others around you is a wonderful value”یعنی اپنے آس پاس کے لوگوں کو سشکت بنانے کی شمتا ایک ادبھت گن ہے۔ صرف ایک دوڑ کے روپ میں پرتسپردھا کرنے کی بھاونا ہم سبھی کو پیچھے لے جائیگی۔ یہ کچھ ایسا ہے جسے میں سی ای او کے روپ میں بھی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میرے لئے لوگوں کی سمسیاؤں کے حل کھوجنا سب سے ضروری کام ہے۔ پرائویسی کے النگھن کے بنا "ٹیکنولاجی کا ذمیدار اپیوگ"کچھ ایسا وچار ہے جسکے بارے میں ان دنوں میں لگاتار بات کر رہا ہوں۔

     

     

    .

     

COMMENT

آج کا راشی پھل

پائیں اپنا تینوں طرح کا راشی پھل,روزانہ
Web Tranliteration/Translation