Loading...
Lifestyle News In Hindi : The children growing up in a motherless village |بنا مانؤں والا گاؤں;یہاں ماں ودیش میں نوکری کرتی ہیں,پتا سنبھالتے ہیں بچے- Dainik Bhaskar

انڈونیشیا/ بنا مانؤں والا گاؤں;یہاں ماں ودیش میں نوکری کرتی ہیں,پتا سنبھالتے ہیں بچے



The children growing up in a motherless village
X
The children growing up in a motherless village

  • 1980کے دشک میں شروع ہوا تھا مہلاؤں کے ودیش میں نوکری کرنے کا سلسلہ
  • کچھ بچوں کے ماتا پتا دونوں ودیش میں,ایسے بچوں کا سکول میں جیون بیت رہا

Dainik Bhaskar

May 15, 2019, 11:09 AM IST

لائف سٹائل ڈیسک. پوروی انڈونیشیا کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جہاں مائیں نہیں رہتیں۔ یہاں کی لگ بھگ سبھی مائیں دوسرے دیشوں میں نوکری کے لئے جا چکی ہیں۔ انڈونیشیا کے لوگ اسے بنا ماں والا گاؤں کہتے ہیں۔ ماں کے گاؤں چھوڑنے پر بچوں کو سنبھالنے کی ذمیداری پتا کی ہوتی ہے۔ زیادہ تر گھروں میں یہی ستھتی ہونے کے کارن پڑوسی ایک دوسرے کے بچے کی دیکھ بھال میں بھی مدد کرتے ہیں۔

 

یہاں کے بچوں کے لئے ماں کو جاتے دیکھنا بیحد ایموشنل پل ہوتا ہے۔ یہاں کچھ بچے ایسے بھی ہیں جن کے ماتا پتا دونوں ہی ودیش میں رہتے ہیں۔ انہیں ایسے سکول میں رکھا گیا ہے جہاں وہ رہتے ہیں اور پڑھائی بھی کرتے ہیں۔ ایسے سکولوں کو یہاں کی ستھانیہ مہلاؤں اور مائگرینٹ رائٹ سموہوں دوارہ چلایا جا رہا ہے۔ 

مہلاؤں کے ساتھ ودیش میں درویوہار کے معاملے بھی

  1. زیادہ تر مانؤں کے ودیش میں نوکری کرنے کا مقصد بچوں کو بہتر پرورش اور جیون دینا ہے۔ یہاں کے زیادہ تر مرد کسانی اور مزدوری کرکے گھر کا خرچہ اٹھاتے ہیں,وہیں مہلائیں ودیشوں میں گھریلو نوکر یا نینی بن کر کام کر رہی ہیں۔ پوروی انڈونیشیا سے مہلاؤں کے ودیش جانے کا سلسلہ1980کے دشک میں شروع ہوا تھا۔

     

    ''

     

  2. بچوں کی آواز میں ماں سے بچھڑنے کا درد

    ودیش میں نوکری کرنے والی کچھ مہلائیں وطن لوٹ آتی ہیں, کیونکہ قانونی نیم نہ ہونے کے کارن انکے ساتھ ودیش میں درویوہار کیا جاتا ہے۔ کچھ مائیں اپنے وطن کفن میں لپٹ کر آتی ہیں۔ وہیں کچھ ایسی ہیں جنکو کام پر رکھنے والے لوگ بری طرح پیٹتے ہیں۔ 

  3. ''

     

    کچھ مہلاؤں کو بنا پیسہ دیئے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ زبردستی شریرک سمبندھ بھی بنائے جاتے ہیں۔ یہی کارن ہے که یہاں کے گاؤں میں بچوں کی شکل صورت میں بھی وبھنتا ہے۔18سال کی فاطمہ یہاں کے دوسرے ٹین ایجرز سے الگ ہیں۔ لوگ انہیں آشچریچکت ہوکر دیکھتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں تم بیحد سندر ہو کیونکہ عرب سے ہو۔ لیکن گاؤں کے لوگوں کی طرح نہ دکھنے کے کارن سکول میں چڑھایا جاتا ہے۔ فاطمہ کہتی ہیں انہوں نے اپنے سؤدی عرب میں رہنے والے پتا کو کبھی نہیں دیکھا,لیکن وہ مجھے پیسے بھیجتے تھے۔ کچھ سمیہ پہلے انکی موت ہو گئی,اس سے ہمارا جیون بیحد کٹھن ہو گیا۔ ماں نے سؤدی عرب میں ہی دوسری نوکری تلاش لی ہے۔ 

  4. ''

     

    ایلی سسیاوٹی کہتی ہیں جب میں11سال کی تھی تبھی میری ماں مجھے دادی کے سہارے چھوڑ گئی تھیں۔ ماتا پتا الگ ہونے کے کارن مجھے میری ماں کو سونپا گیا تھا۔ ماں مارشیا سؤدی عرب میں ہیلپر کی نوکری کرتی ہیں۔ ایلی سکول کی انتم ورش کی چھاتر ہیں اور بتاتی ہیں ماں کے جانے کے بعد سب کچھ بیحد پریشان کرنے والا تھا۔ ایلی واناسابا نام کے گاؤں میں رہتی ہیں۔

  5. 1سال کی عمر میں چھوڑکر گئی تھیں ماں

    ''

     

    کریمتل ادب یا کی ماں اسے1سال کی عمر میں ہی چھوڑکر چلی گئی تھیں۔ اسے ماں کے ساتھ بتایا گیا ایک پل بھی یاد نہیں ہے۔ کریمتل کی دیکھ بھال انکی آنٹی کر رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں مجھے یاد ہے فون پر ایک بار میری ماں آنٹی سے لڑ رہی تھیں که میری بیٹی مجھے کیوں نہیں جانتی۔ آنٹی نے کہا تھا,انکی میرے ساتھ کوئی تصویر نہیں ہے۔ میں انہیں یاد کرتی ہوں اور غصہ بھی آتا ہے کیونکہ وہ بیحد کم عمر میں مجھے چھوڑکر چلی گئی تھیں۔

  6. کریمتل کی عمر13سال ہے,وہ روزانہ ماں سے ویڈیو کال پر بات کرتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو میسیج بھیجتے ہیں,لیکن سمبندھ اتنے مدھر نہیں ہے جو ماں بیٹی کے بیچ ہونے چاہئیے۔ کریمتل کہتی ہیں اب جب بھی میری ماں یہاں آتی ہیں تب میں آنٹی کے ساتھ ہی رہتی ہوں۔ کریمتل کی آنٹی نو بچوں کی اور دیکھ بھال کرتی ہیں۔ جن میں سے ایک بچہ انکا بھی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے بچے ہیں جن کی مائیں ودیش میں کام کرنے گئی ہیں۔ 

     

    23مئی کو دیکھیئے سب سے تیز چناؤ نتیجے بھاسکرAPPپر 

COMMENT

آج کا راشی پھل

پائیں اپنا تینوں طرح کا راشی پھل,روزانہ
Web Tranliteration/Translation