Loading...
motivational story, inspirational story, prerak katha, life management tips, positive thinking |برائی کرنے والوں کو جواب دینے میں سمیہ برباد نہیں کرنا چاہئیے- Dainik Bhaskar

پریرک کتھا/ برائی کرنے والوں کو جواب دینے میں سمیہ برباد نہیں کرنا چاہئیے



motivational story, inspirational story, prerak katha, life management tips, positive thinking
X
motivational story, inspirational story, prerak katha, life management tips, positive thinking

  • سنت کو شترو ماننے والا پنڈت پھیلا رہا تھا غلط باتیں,ششے سنتے ہی ہو گیا کرودھت

Dainik Bhaskar

Jun 10, 2019, 05:56 PM IST

جیون منتر ڈیسک۔ایک پرچلت کتھا کے انوسار کسی گاؤں میں ایک سنت کا آگمن ہوا۔ سنت بہت ہی سرل سوبھاؤ کے تھے۔ انکے پاس آنے لوگوں کو گیان کی صحیح باتیں بتاتے تھے۔ اس کارن گاؤں میں انکی خیاطی کافی پھیل گئی تھی۔ سنت کی پرسدھی دیکھ کر ایک پنڈت ان سے گھرنا کرنے لگا۔ پنڈت کو ڈر تھا که اگر سنت کے پاس سبھی لوگ جانے لگینگے تو اسکا دھندھا چوپٹ ہو جائیگا۔ اسی لئے پنڈت نے گاؤں میں سنت کے لئے غلط باتیں پھیلانا شروع کر دی۔
> ایک دن سنت کے ششے کو یہ معلوم ہوا تو وہ کرودھت ہو گیا۔ ششے ترنت ہی اپنے گرو کے پاس آیا اور بولا که گردیو وہ پنڈت آپکے بارے جھوٹھی باتیں پھیلا رہا ہے۔ ہمیں اسے جواب دینا چاہئیے۔ سنت نے کہا که تم غصہ نہ کرو,کیونکہ اگر اسے جواب دینگے تو کیا یہ باتیں پھیلنا بند ہو جائینگی؟ یہ باتیں تو ہوتی رہینگی۔ اسی لئے ہمیں اسے جواب دینے میں سمیہ برباد نہیں کرنا چاہئیے۔
> سنت نے ششے کو سمجھایا که جب ہاتھی چلتا ہے تو کتے بھونکتے ہی ہیں۔ اگر ہاتھی ان کتوں سے لڑنے لگےگا تو اسکا ہی قد چھوٹا ہو جائیگا,وہ کتوں کے سمان مانا جائیگا۔ اسی لئے ہاتھی کتوں کے بھونکنے پر دھیان نہیں دیتا ہے۔ وہ آرام سے اپنے راستے چلتے رہتا ہے۔ یہ باتیں سن کر ششے کا کرودھ شانت ہو گیا۔
کتھا کی سیکھ
> اس کتھا کی سیکھ یہ ہے که ہمیں برائی کرنے والوں کو جواب دینے میں سمیہ برباد نہیں کرنا چاہئیے,کیونکہ ایسا کرنے پر ہمارا ہی نقصان ہے۔ ہمیں صرف اپنے کام پر دھیان دینا چاہئیے۔ برائی کرنے والے لوگ کبھی شانت نہیں ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے ایسی باتوں پر کرودھت نہیں ہونا چاہئیے۔

COMMENT
Web Tranliteration/Translation