Loading...
Zings Director David Ligertwood's statement over Bails issue in world cup 2019 |تیز گیندوں پر بیلس نہیں گرنے سے اسے بنانے والی کمپنی بھی حیران,کہا گلیوں کا وزن اسکے لئے ذمیدار نہیں- Dainik Bhaskar

بھاسکر خاص/ تیز گیندوں پر بیلس نہیں گرنے سے اسے بنانے والی کمپنی بھی حیران,کہا گلیوں کا وزن اسکے لئے ذمیدار نہیں



Zings Director David Ligertwood's statement over Bails issue in world cup 2019
X
Zings Director David Ligertwood's statement over Bails issue in world cup 2019

  • اس ورلڈ کپ میں5بار ایسے موقعے سامنے آئے,جب گیند سٹمپ پر تو لگی,لیکن گلی نہیں گری
  • آسٹریلیا ستھت جنگ بیلس کے ڈایریکٹر ڈیوڈ لگرٹوڈ کا کہنا ہے که بھوشیہ میں انکی کمپنی اس میں بدلاؤ کر سکتی ہے

Dainik Bhaskar

Jun 12, 2019, 12:04 PM IST

نئی دہلی.ورلڈ کپ2019میں5بار ایسے موقعے آئے جب گیند سٹمپ پر لگی لیکن گلیاں نہیں گریں۔ اس وجہ سے کھلاڑی کو آؤٹ نہیں دیا گیا۔ رویوار کو لندن کے اوول میں کھیلے گئے بھارت آسٹریلیا میچ میں بھی ایسا ہوا۔ وارنر بلے باز کر رہے تھے تبھی انکے بلے کا بھیتری کنارہ لگتے ہوئے گیند سٹمپ پر لگی,لیکن گلیاں نہیں گریں۔ اس وقت آسٹریلیائی پاری کا دوسرا ہی اوور چل رہا تھا۔ میچ کے بعد دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے گلیوں کے بھاری ہونے کو اسکا کارن بتایا۔

 

پورو کرکیٹرس نے بھی سوشل میڈیا پر ان جنگ بیلس کو ٹرول کیا۔ بھاسکر پلس ایپ نے اس مدعے پر ان بیلس کو بنانے والی جنگس کمپنی کے ڈایریکٹر ڈیوڈ لگرٹوڈ سے بات کی۔ انکا کہنا ہے که ورلڈ کپ میں جو ہو رہا ہے,اس سے ہم بھی حیران ہیں۔ حالانکہ,گیند لگنے پر گلیوں کے نہیں گرنے کی وجہ کیول انکا وزن نہیں ہے,اسکے پیچھے انیہ کارن بھی ہیں۔ لگرٹوڈ نے یہ بھی کہا که بھوشیہ میں ایسا نہیں ہو,اسکے لئے ہم اس میں کچھ بدلاؤ کر سکتے ہیں۔

 

'ورلڈ کپ میں گلیوں کا نہ گرنا زیادہ دیکھنے میں آ رہا'
لگرٹوڈ بتاتے ہیں که سٹمپس سے گلیوں کا گرنا یا نہ گرنا کھیل کا ایک حصہ ہے۔ جب تک گیند ایک ضروری فورس کے ساتھ سٹمپ سے نہیں ٹکرائیگی,گلیاں نہیں گرینگی۔ یہ جنگ بیلس کے ساتھ ہی نہیں,لکڑی کی بنی گلیوں کے ساتھ بھی ہوتا تھا۔ پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا ہے جب گیند سٹمپ سے ٹکرائی لیکن لکڑی کی گلیاں نہیں گریں۔ ہاں,اس ورلڈ کپ میں یہ زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن اسکا ایکماتر کارن جنگ بیلس کا وزن نہیں ہے۔ اسکے اور بھی کئی کارن ہو سکتے ہیں,جیسے سٹمپ گروس(گلیوں کو سٹمپ پر ٹکانے کی جگہ)کا آکار اور گہرائی,پچ کی ستھتی,سٹمپ میں لگے کیمرے آدی۔ لگرٹوڈ نے اپنی کمپنی کا بچاو کرتے ہوئے کہا که کئی پریکشنوں میں یہ ثابت بھی ہو چکا ہے که گلیوں کا وزن انکے گرنے یا نہیں گرنے کے پیچھے سب سے بڑا کارن نہیں ہے۔

 

'جنگ بیلس سے رناؤٹ کا پتہ لگانا زیادہ آسان'
انگلینڈ میں ورلڈ کپ کے دوران باربار سامنے آ رہی اس ستھتی پر لگرٹوڈ کہتے ہیں,یہ واقعی اہم ہے۔ ایک کھلاڑی جب کھیل کے انوسار آؤٹ ہے تو اسے آؤٹ ہونا ہی چاہئیے,لیکن گلیوں کا نہیں گرنا,دونوں ہی پکشوں کے لئے ایک جیسا ہے۔ لگرٹوڈ کہتے ہیں که اس سندربھ میں ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا چاہئیے که جنگ بیلس رن آؤٹ اور سٹمپنگ کے سمیہ صحیح فیصلہ دینے میں تھرڈ امپایر کی بہت مدد کرتی ہیں۔ بال لگنے پر ملسیکنڈس میں ایلئیڈی کے چمکنے سے صحیح فیصلہ آتا ہے۔ اگر بیٹسمین آؤٹ ہوتا ہے تو ہمیشہ اسے آؤٹ ہی دیا جاتا ہے۔ ایسا لکڑی کی گلیوں کے ساتھ نہیں تھا۔

 

'کھیل کی مانگ بھی یہی که گلیاں آسانی سے نہیں گریں'
لگرٹوڈ کہتے ہیں که ویسے تو اس کھیل کی ڈیمانڈ بھی یہی ہے که گلیاں اتنی آسانی سے نہیں گریں۔ جیسے اگر گلیوں کا وزن کم ہو,تو وہ تیز ہوا میں باربار گر سکتی ہیں۔ ایسے میں کھیل کو روک کر باربار امپایر کو سٹمپ پر گلیاں لگانی ہوتی ہیں۔ کھیل کے باربار رکنے سے مزہ بھی خراب ہوتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح گلیاں اگر زیادہ ہلکی ہوں تو وہ گیند لگنے پر ٹوٹ بھی سکتی ہیں۔ ایسے میں انکا مضبوط اور ہلکا وجنی ہونا ٹھیک ہے۔ لگرٹوڈ کے مطابق,جنگ وکیٹ سسٹم کا ہزاروں میچوں میں استعمال ہو چکا ہے لیکن یہ پہلی بار ہے جب لگاتار ایسی چیز سامنے آئیں ہیں۔ ہم اسکی مانٹرنگ کر رہے ہیں۔ ضروری ہوا تو ہم بھوشیہ میں اس میں بدلاؤ بھی کرینگے۔


جب تک گلی نہیں گریگی,تب تک بلے باز آؤٹ نہیں مانا جائیگا
کرکٹ کے نیم29.1کے مطابق,بلے باز کو تبھی آؤٹ مانا جائیگا جب گلیاں گرینگی یا سٹمپ اکھڑینگے۔ اگر گیند لگنے کے بعد بھی سٹمپ نہیں اکھڑتے یا گلیاں نہیں گرتیں تو بلے باز آؤٹ نہیں مانا جائیگا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے که اگر گیند لگنے پر گلیوں میں کوئی ہلچل ہوتی ہے لیکن اگر وہ نہیں گرتیں تو بھی بلے باز آؤٹ نہیں مانا جا سکتا۔

 

ورلڈ کپ2019میں5بار ایسا ہوا,لیکن جیت گیندباز ٹیم کو ہی ملی
منگلوار تک ورلڈ کپ کے16 میچ ہو چکے ہیں۔ ان میں سے5بار ایسا ہوا ہے جب گیند سٹمپ پر تو لگی لیکن گلی نہیں گری۔5میں سے4بار گلیاں تیز گیندباز کی گیند پر نہیں گریں۔ ایسا مشیل سٹارک(آسٹریلیا),ٹرینٹ بولٹ(نیوزی لینڈ),بین سٹوکس(انگلینڈ)اور جسپریت بمراہ(بھارت)کی گیند پر ہوا۔ یہ سبھی گیندباز 140کمی پرتی گھنٹے کی رفتار سے گیند ڈالتے ہیں۔ 
 

میچ

گیندباز

بلے باز

اوور

نتیجہ

انگلینڈv/sدکشن افریقہ

عادل رشید

کونٹن ڈیکاک

11واں

انگلینڈ جیتا

نیوزی لینڈv/sشری لنکا

ٹرینٹ بولٹ

دمتھ کرنارتنے

6واں

نیوزی لینڈ جیتا

آسٹریلیاv/sویسٹ انڈیج

مشیل سٹارک

کرس گیل

تیسرا

آسٹریلیا جیتا

انگلینڈv/sبانگلادیش

بین سٹوکس

سیپھدین

46واں

انگلینڈ جیتا

بھارتv/sآسٹریلیا

جسپریت بمراہ

ڈیوڈ وارنر

دوسرا

بھارت جیتا

 

آئی سی سی نے2012میں جنگ بیلس کے استعمال کی منظوری دی تھی
انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل(آئی سی سی)نے2012میں انترراشٹریہ میچوں میں جنگ بیلس کے استعمال کی منظوری دی تھی۔ جنگس کمپنی کے مطابق,اب تک ایک ہزار سے زیادہ میچوں میں ان گلیوں کا استعمال ہو چکا ہے۔2015کے ورلڈ کپ میں بھی ان گلیوں کا استعمال ہوا تھا۔ اس وقت بھی گیند لگنے پر گلیوں کے نہیں گرنے کی گھٹنا سامنے آئی تھی۔ حالانکہ,اس وقت ایسا ایک دو بار ہی ہوا تھا۔ انترراشٹریہ میچوں کے علاوہ بھارت کی آئی پی ای اور آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں بھی ان گلیوں کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ ان میچوں میں بھی کئی بار ایسے واکیے ہو چکے ہیں۔

COMMENT

آج کا راشی پھل

پائیں اپنا تینوں طرح کا راشی پھل,روزانہ
Web Tranliteration/Translation