Loading...
12جولائی2019 :دھن دھانیہ اور اچھی بارش کے لئے ضروری ہے دیوشینی ایکادشی ورت,پڑھیں کتھا اور پوجن ودھی| Webdunia Hindi

12جولائی2019 :دھن دھانیہ اور اچھی بارش کے لئے ضروری ہے دیوشینی ایکادشی ورت,پڑھیں کتھا اور پوجن ودھی

سال کی سب سے شبھ دیوشینی ایکادشی ورت کتھا اور پوجن ودھی

12جولائی کو ہے دیوشینی ایکادشی,پڑھیں اسمپورن ورت کتھا اور پوجا ودھی

دیوشینی ایکادشی2019:جانئے,ورت کتھا,پوجا ودھی

دیوشینی ایکادشی(2019)کو شاستروں میں اتیدھک خاص مانا گیا ہے۔ دیوشینی ایکادشی کے آرمبھ ہوتے ہی سبھی پرکار کے شبھ کاریوں میں ورام لگ جاتا ہے۔

اس مہینے دیوشینی ایکادشی آشاڑھ شکل ایکادشی یعنی12جولائی2019کو ہے۔ دیوشینی ایکادشی کے دن سے دیوؤٹھنی ایکادشی تک بھگوان شری ہری چار مہینے کے لئے پاتال لوک میں شین ہیتو چلے جاتے ہیں۔ اسلئے اس چار مہینے کو چاترماس کہا جاتا ہے۔

دیوشینی ایکادشی پوجا ودھی

دیوشینی ایکادشی ورت کی شروعات دشمی تتھی کی راتری سے ہی ہو جاتی ہے۔ دشمی تتھی کی راتری کے بھوجن میں نمک کا پر یوگ نہیں کرنا چاہئیے۔ اگلے دن پرات: کال اٹھ کر دینک کاریوں سے نورت ہوکر ورت کا سنکلپ کرنا چاہئیے۔

بھگوان وشنو کی پرتما کو آسن پر آسین کر انکا شوڈشوپچار سہت پوجن کرنا چاہئیے۔ پنچامرت سے سنان کرواکر,تتپشچات بھگوان کی دھوپ,دیپ,پشپ آدی سے پوجا کرنی چاہئیے۔
بھگوان کو سمست پوجن سامگری,پھل,پھول,میوے تتھا مٹھائی ارپت کرنے کے بعد وشنو منتر دوارہ ستتی کی جانی چاہئیے۔ اسکے اترکت شاستروں میں ورت کے جو سامانیہ نیم بتائے گئے ہیں,انکا کٹھورتا سے پالن کرنا چاہئیے۔
آشاڑھ شکل ہرشینی دیوشینی ایکادشی کی کتھا
دھرمراج یودھشٹر نے کہا ہے کیشو! آشاڑھ شکل ایکادشی کا کیا نام ہے؟ اس ورت کے کرنے کی ودھی کیا ہے اور کس دیوتا کا پوجن کیا جاتا ہے؟ شری کرشن کہنے لگے که ہے یودھشٹر! جس کتھا کو برہما جی نے ناردجی سے کہا تھا وہی میں تم سے کہتا ہوں۔ ایک سمیہ ناردجی نے برہما جی سے یہی پرشن کیا تھا۔

تب برہما جی نے اتر دیا که ہے نارد تم نے کلیگی جیووں کے ادھار کے لئے بہت اتم پرشن کیا ہے,کیونکہ دیوشینی ایکادشی کا ورت سب ورتوں میں اتم ہے۔ اس ورت سے سمست پاپ نشٹ ہو جاتے ہیں اور جو منشیہ اس ورت کو نہیں کرتے وہ نرکگامی ہوتے ہیں۔ اس ورت کے کرنے سے بھگوان وشنو پرسن ہوتے ہیں۔ اس ایکادشی کا نام پدما ہے۔ اسے دیوشینی ایکادشی,وشنوشینی ایکادشی,آشاڑھی ایکادشی اور ہرشینی ایکادشی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اب میں تم سے ایک پورانک کتھا کہتا ہوں۔ تم من لگاکر سنو۔ سوریہ ونش میں ماندھاتا نام کا ایک چکرورتی راجا ہوا ہے,جو ستیوادی اور مہان پرتاپی تھا۔ وہ اپنی پرجا کا پتر کی بھانتی پالن کیا کرتا تھا۔ اسکی ساری پرجا دھن دھانیہ سے بھرپور اور سکھی تھی۔ اسکے راجیہ میں کبھی اکال نہیں پڑتا تھا۔

ایک سمیہ اس راجا کے راجیہ میں تین ورش تک ورشہ نہیں ہوئی اور اکال پڑ گیا۔ پرجا ان کی کمی کے کارن اتینت دکھی ہو گئی۔ ان کے نہ ہونے سے راجیہ میں یگیادی بھی بند ہو گئے۔ ایک دن پرجا راجا کے پاس جاکر کہنے لگی که ہے راجا! ساری پرجا تراہی تراہی پکار رہی ہے,کیونکہ سمست وشو کی سرشٹی کا کارن ورشہ ہے۔
ورشہ کے ابھاؤ سے اکال پڑ گیا ہے اور اکال سے پرجا مر رہی ہے۔ اسلئے ہے راجن! کوئی ایسا اپائے بتاؤ جس سے پرجا کا کشٹ دور ہو۔ راجا ماندھاتا کہنے لگے که آپ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں,ورشہ سے ہی ان اتپن ہوتا ہے اور آپ لوگ ورشہ نہ ہونے سے اتینت دکھی ہو گئے ہیں۔ میں آپ لوگوں کے دکھوں کو سمجھتا ہوں۔ ایسا کہ کر راجا کچھ سینا ساتھ لیکر ون کی طرف چل دیا۔ وہ انیک رشیوں کے آشرم میں بھرمن کرتا ہوا انت میں برہما جی کے پتر انگرا رشی کے آشرم میں پہنچا۔ وہاں راجا نے گھوڑے سے اتر کر انگرا رشی کو پرنام کیا۔
منی نے راجا کو آشیرواد دیکر کشلکشیم کے پشچات ان سے آشرم میں آنے کا کارن پوچھا۔ راجا نے ہاتھ جوڑکر ونیت بھاوٴ سے کہا که ہے بھگون! سب پرکار سے دھرم پالن کرنے پر بھی میرے راجیہ میں اکال پڑ گیا ہے۔ اس سے پرجا اتینت دکھی ہے۔ راجا کے پاپوں کے پربھاؤ سے ہی پرجا کو کشٹ ہوتا ہے,ایسا شاستروں میں کہا ہے۔ جب میں دھرمانسار راجیہ کرتا ہوں تو میرے راجیہ میں اکال کیسے پڑ گیا؟ اسکے کارن کا پتہ مجھ کو ابھی تک نہیں چل سکا۔
اب میں آپکے پاس اسی سندیہ کو نورت کرانے کے لئے آیا ہوں۔ کرپا کرکے میرے اس سندیہ کو دور کیجئے۔ ساتھ ہی پرجا کے کشٹ کو دور کرنے کا کوئی اپائے بتائیے۔ اتنی بات سن کر رشی کہنے لگے که ہے راجن! یہ ست یگ سب یگوں میں اتم ہے۔ اس میں دھرم کو چاروں چرن سملت ہیں ارتھات اس یگ میں دھرم کی سب سے ادھک انتی ہے۔ لوگ برہم کی اپاسنا کرتے ہیں اور کیول براہمنوں کو ہی وید پڑھنے کا ادھیکار ہے۔ براہمن ہی تپسیا کرنے کا ادھیکار رکھ سکتے ہیں,پرنتو آپکے راجیہ میں ایک شودر تپسیا کر رہا ہے۔ اسی دوش کے کارن آپکے راجیہ میں ورشہ نہیں ہو رہی ہے۔
اسلئے یدی آپ پرجا کا بھلا چاہتے ہو تو اس شودر کا ودھ کر دو۔ اس پر راجا کہنے لگا که مہاراج میں اس نرپرادھ تپسیا کرنے والے شودر کو کس طرح مار سکتا ہوں۔ آپ اس دوش سے چھوٹنے کا کوئی دوسرا اپائے بتائیے۔ تب رشی کہنے لگے که ہے راجن! یدی تم انیہ اپائے جاننا چاہتے ہو تو سنو۔

آشاڑھ ماس کے شکل پکش کی پدما نام کی ایکادشی کا ودھپوروک ورت کرو۔ ورت کے پربھاؤ سے تمہارے راجیہ میں ورشہ ہوگی اور پرجا سکھ پراپت کریگی کیونکہ اس ایکادشی کا ورت سب سدھیوں کو دینے والا ہے اور سمست اپدرووں کو نعش کرنے والا ہے۔ اس ایکادشی کا ورت تم پرجا,سیوک تتھا منتریوں سہت کرو۔
منی کے اس وچن کو سن کر راجا اپنے نگر کو واپس آیا اور اسنے ودھپوروک پدما ایکادشی کا ورت کیا۔ اس ورت کے پربھاؤ سے ورشہ ہوئی اور پرجا کو سکھ پہنچا۔ ات: اس ماس کی ایکادشی کا ورت سب منشوں کو کرنا چاہئیے۔ یہ ورت اس لوک میں بھوگ اور پرلوک میں مکتی کو دینے والا ہے۔ اس کتھا کو پڑھنے اور سننے سے منشیہ کے سمست پاپ نعش کو پراپت ہو جاتے ہیں۔


 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation