Loading...
جانئے کیسے ہوئی بیش قیمتی رتنوں کی اتپت‍ی,پڑھیں پورانک کتھا| Webdunia Hindi

جانئے کیسے ہوئی بیش قیمتی رتنوں کی اتپت‍ی,پڑھیں پورانک کتھا

آچاریہ وراہمہر نے بھی پران پرمپرا کا آشریہ لے آج سے1500ورش پورو اپنی ورہتسنہتا میں رتنادھیائے کا ورنن کرتے ہوئے رتنوتپتی کے کارنوں کا ورنن کیا ہے,پرنتو انہوں نے ساتھ ہی'کیچدبھو: سوبھاوادویچتریں پراہروپلانام(پرتھوی کے سوبھاؤ ہی سے کچھ لوگوں کے مت سے رتنوں کی وچترتا ہوئی ہے)کہ کر اپنے اوپر کوئی ذمیداری نہیں لی۔
رتنانی بلادیتیادیدھچی ودننتی جاتانی۔
کیچد بھو: سوبھاوادویچتریں پراہروپلانام۔۔

بلی دیتیہ اور ددھیچی کی ہڈیوں سے رتنوں کے اتپن ہونے کی بات بتاکر پرتھوی کی سوابھاوکپرسو سامرتھیہ کی چرچا بھی کی ہے۔

ہیرے- انہوں نے کہا ہے که جب بلی دیتیہ کی استھیاں ادھر ادھر اڑکر گریں تب وہ جہاں گریں اس پردیش میں اندردھنش کو چکاچوندھ کر دینے والے وچتر ہیرے اتپن ہو گئے۔

موتی- اسکی دنتپنکتیاں نکشتر مالکہ کی طرح آکاش تک پھیلی تھیں,جو سمندر آدی ستھانوں میں جا پڑیں وہ'موتی'روپ میں پرورتت ہو گئیں۔
-سوریہ کے کھر کرن سے اسکا زمین پر گرا ہوا رقت سوکھ کر رجوں دوارہ گگنگامی ہو رہا تھا,پر راون نے اسے راہ میں ہی روک کر سنہل دیپ کی اس ندی میں ڈال دیا,جہاں سپاری کے پیڑ لگے ہیں۔ تبھی سے اس ندی کا نام'راون گنگا'بھی ہو گیا اور اس میں پدمراگ مانکیہ اتپن ہونے لگے۔
پنا-
ناگراج واس کی اس دیتیہ کے پتروں کو لیکر آکاش پتھ سے جا رہے تھے که مارگ میں گروڑ نے حملہ بول دیا۔ ووش ہو انہیں تروشک کی کلیوں کی سر بھی سے ویاپت مانکیہ گری کی اپتیکا میں اسے ڈال دینا پڑا۔ وہاں پنا کی کھدانیں ہو گئیں۔

لہسن یا-سنہل رمنیوں کے کرپلو کے اگربھاگ کی طرح وستار پانے والی ساگر کی تٹورتی بھومی پر اسر کے نیلنین گر گئے۔ ان سے اندرنیل منی کی اتپتی ہوئی اور مرنے کے سمیہ اسر کی گھنگھور گرجنا سے گئی رنگوں کے ویدریہ(لہسن یا)اتپن ہوئے۔
-چرم کے ہمالیہ پر گر جانے سے پکھراج کی اتپتی ہوئی اور ناخونوں کے کملدھن میں پڑ جانے سے کرکیت(ویکرانت)کا جنم ہوا۔

گومید-راکھشس کے ویریہ,جو ہ‍می پروت کے اتر بھاگ میں گرا تھا,سے گومید اتپن ہوا اور اتراورت کی جن ندیوں اور پردیشوں میں انیہ انگ کے انش گرتے گئے,وہاں گنجا,سرما,مدھو,کملنال,ورن کے گندھرو,اگنی تتا کیلے کی طرح ورن والے,دیپتمیہ,پلک,پرکاش مان کئی رتن بن گئے۔

مونگا- اگنی نے اسر کے روپ کو نرمدا میں لے جاکر ڈال دیا تھا اسلئے اس میں ردھراکش(عقیل)رتن بننے لگے تتھا آنتوں سے پروال ودرم(مونگے)کی اتپتی ہوئی۔

سپھٹی‍ک- اسی اسر کی چربی جہاں جہاں کاویری,وندھیہ,پون,چین نیپال آدی دیشوں میں پہنچی وہاںآدی کی کھدانیں بنیں۔
اس پرکار پران کے'اسر انگ'کو ہم الگ بھی کر دیں,تب بھی اسکے انگ نردوش کی بھومی جلاشیہ آدی کا جو سنکیت ہمیں ملتا ہے,وہ ان رتنوں کی جنم بھومی کے پرگیان پریویکشن کے لئے پریاپت ہو سکتا ہے۔ انگوں کے روپ لکشن پرکرتی سامیہ پر بھی پرکشیلن کرنے والے پروین پرشوں کو کوئی تتھیہ پراپت ہو جائے تو وسمیہ کا کارن نہیں۔

پورانک کتھا کے روپ میں یہ مان لینے کی آوشیکتا نہیں که وہ مانو(اسر)انگ کے دوارہ ہی پدارتھوتپادن سوچنا ہے۔ کنتو سوکشم درشٹی سے وچار کیا جائے تو جن جن رتنوں کی اتپتی جن جن انگوں سے سوچت کی ہے ان رتنوں کو پرکرتی سادھرمیہ کے لئے تتھا اسکے ان ان انگوں کے اپیوگ کے اوچتیہ کی پشٹی سے بھی وستستھتی پر پرکاش پڑتا ہے۔
پران نہ تو وگیان کے گرنتھ ہیں,نہ اپچار کے۔ وہ اتہاسک تتھیوں کے آدھیاتمک ایوں ساماجک بھاوناؤں کے کتھا روپ میں سندر ہردیگراہی چی‍تر ہیں جن سے سروسادھارن کو انوپریرنا ملتی ہے۔ انمیں سمست گیان,ویاپک روپ سے وبھن ستھلوں میں(اپنے وشیش درشٹیکون سے ہی)نحت ہے۔

رتنوں کی اتپتی,اپیوگتا تتھا گن دوشوں کا وویچن یدیپی پرانوں میں سوتنتر روپ سے نہیں ہے تو بھی انکی اپنی لاکشنک ورنن شیلی میں وہ تتھیہ اوشیہ اپلبدھ ہو سکتا ہے,جو وویچک کے وگیان کے لئے اپیکشت ہے۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation