Loading...
ٹریڈ وار کی بندوق ٹرمپ نے بھارت کی اور کیوں کی| Webdunia Hindi

ٹریڈ وار کی بندوق ٹرمپ نے بھارت کی اور کیوں کی

BBC Hindi| Last Updated: بدھوار, 10جولائی2019 (16:04 IST)
ٹیم بی بی سی ہندی
نئی دہلی

امریکہ اور چین میں جاری'ٹریڈ وار'کی بندوق کی نلی اب بھارت کی طرف بھی مڑتی دکھ رہی ہے۔ منگلوار کی صبح امریکی راشٹرپتی ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کر صاف کر دیا که انکے نشانے پر کیول چین ہی نہیں ہے بلکہ بھارت بھی ہے,لیکن ٹرمپ کی نیتیوں کے کارن بھارت اور امریکہ کے بیچ ایک سال سے تناؤ ہے۔
 
ٹرمپ نے منگلوار کو ٹویٹ کیا که بھارت امریکی اتپادوں پر بھاری ٹیکس لگا رہا ہے۔ اسے لمبے سمیہ تک برداشت نہیں کیا جائیگا۔ ٹرمپ نے چین کے ساتھکی شروعات کی تھی تو اسی طرح کے دعوے کئے تھے۔
 
پچھلے مہینے بھارت نے امریکی اتپادوں پر ٹیکس لگا دیا تھا اور یہ بھارت کی جوابی کارروائی تھی۔ امریکہ نے1جون کو بھارت کو کاروبار میں دی وشیش چھوٹ واپس لے لی تھی اور کہا تھا که اسکے ذریعے بھارت امے‍رکی بازار میں5.6عرب ڈالر کا سامان بنا ٹیکس کے بیچ رہا تھا۔
 
حالانکہ دنیا بھر کا دھیان کیول امریکہ اور چین کے ٹریڈ وار پر ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ پرشاسن2018سے ہی بھارت کے ساتھ کاروباری ٹکراو کے راستے پر ہے۔ مارچ2018میں جب ٹرمپ نے اسپات اور ایلیمنیم کے آیات پر ٹیکس لگانے کی گھوشنا کی تو اسکا اثر بھارت سمیت کئی دیشوں پر پڑا۔
 
پیٹرسن انسٹیوٹ فور انٹرنیشنل اکونامکس کے ایک وشلیشن کے انوسار بھارت سے76.1کروڑ ڈالر کے ایلیمنیم کے آیات پر25فیصدی کا ٹیکس لگا اور38.2کروڑ ڈالر کے آیات پر10فیصدی ٹیکس لگا۔
 
مارچ میں ہی ٹرمپ پرشاسن نے ایک اور فیصلہ کیا جس سے بھارت کو ٹریڈ ایکٹ آف1974کے تحت ملی وشیش چھوٹ کو ختم کر دیا۔ ٹرمپ پرشاسن کا ترک تھا که بھارت امریکی اتپادوں کو اپنے بازار میں برابر اور اچت پہنچ نہیں دے رہا ہے اسلئے یہ فیصلہ لیا گیا۔
 
ٹرمپ پرشاسن کا یہ فیصلہ1جون سے لاگو ہو گیا۔ اسکا مطلب یہ تھا که بھارت بھی کوئی جواب کارروائی کریگا۔ بھارت نے بھی کچھ خاص امریکی اتپادوں پر ٹیکس لگا دیا۔ ٹرمپ کے فیصلے سے بھارت سے نریات ہونے والے5.6عرب ڈالر کے کاروبار پربھاوت ہو رہے ہیں۔
بھارت نے ٹیکس کے ذریعے امریکہ کے کرشی اتپادوں کو ٹارگیٹ کیا ہے۔ پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فور انٹرنیشنل اکونامکس کے سینیئر شودھکرتا چیڈ بان نے نیوزویک سے کہا ہے که بھارت کے پلٹوار سے امریکی بادام کا نریات پربھاوت ہوا ہے۔ بھارت کیلیفورنیا60.0کروڑ ڈالر کا بادام آیات کرتا ہے اور واشنگٹن سے سیب۔
 
امریکہ کا بھارت وستوؤں کے کاروبار میں نوواں سب سے بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے۔ اگر دونوں دیشوں میں کروباری ٹکراو گہراتا ہے تو امریکی ہت بھی پربھاوت ہو نگے۔
 
پچھلے سال امریکہ نے بھارت سے33.1عرب ڈالر کا سامان نریات کیا تھا جبکہ بھارت سے آیات54.4عرب ڈالر کا کیا تھا۔ ظاہر ہے اس میں امریکہ کو21.3عرب ڈالر کا ویوپار گھاٹا ہو رہا ہے۔
 
امریکہ نے پچھلے سال7.9عرب ڈالر کے مہنگے دھاتو اور پتھر کا نریات بھارت سے کیا تھا۔ یہ سب سے مہنگے نریات کی شرینی میں آتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ نے6.2عرب ڈالر کے کھنج ایندھن کا بھی نریات بھارت سے کیا تھا۔
 
اسکے علاوہ3.0عرب ڈالر کا ایئرکرافٹ اتپاد اور2.2عرب ڈالر کی مشینری کا نریات کیا تھا۔ دوسری طرف پچھلے سال امریکہ نے11عرب ڈالر کے مہنگے دھاتو اور پتھر کا آیات کیا تھا۔
 
اسکے علاوہ6.3عرب ڈالر کے میڈکل اتپاد, 3.3عرب ڈالر کی مشینری, 3.2عرب ڈالر کے کھنج ایندھن اور2.8عرب ڈالر کی گاڑیاں بھارت سے آیات کیا تھا۔
 
سٹیل اور ایلیمنیم پر بھاری ٹیکس سے بھارتیہ آیات بھی پربھاوت ہوئے ہیں۔ اسکا اثر الیکٹریکل اتپاد,مشینری اور کیمکلس پر پڑے ہیں۔ بان کہتے ہیں که''ٹیکسوں کے بڑھنے سے بھارتیہ اتپادوں کا نریات امریکی بازار میں مشکل ہوگا اور اس سے امریکی اپبھوکتا پربھاوت ہو نگے۔
 
حالانکہ یہ صاف نہیں ہے که ٹرمپ بھارت کے ساتھ ٹکراو کو آگے بڑھائینگے یا سیمت ہی رکھینگے۔ ٹرمپ انترراشٹریہ ویوپار کو پھر سے آکار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں که اس یدھ میں امریکہ کی جیت ہوگی۔ وہ ودیش نیتی میں ٹیکس کو ٹول کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔
 
ٹرمپ کا یہ ٹویٹ تب آیا ہے جب دونوں دیشوں کے بیچ آدھکارک روپ سے کاروبار پر بات چیت ہونی ہے۔ بھارت نے امریکہ کے28اتپادوں پر پچھلے مہینے5جون سے جوابی ٹیکس لگایا ہے۔
 
بھارت کے اس فیصلے کا ورودھ امریکہ نے وشو ویوپار سنگٹھن میں بھی کیا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے بھی امریکہ کے اترکت اتپاد شلک کا مدعا ڈبلیوٹیؤ میں اٹھایا ہے۔
 
ڈبلیوٹیؤ میں بھارت کے پورو راجدوت جینت داس گپتا نے لائیو منٹ سے کہا ہے که ٹرمپ پرشاسن نے بات چیت سے پہلے ٹویٹ کر دباوٴ بان نے کی رننیتی چلی ہے۔ انکا کہنا ہے که ٹرمپ نے پچھلے مہینے مودی سے بات چیت کے پہلے بھی اسی طرح کا ٹویٹ کیا تھا اور انہوں نے اسی پیٹرن کو آگے بڑھایا ہے۔
 
27جون کو ٹرمپ اور مودی کی جی 20کی بیٹھک سے الگ جاپان کے اوساکا شہر میں بات چیت سے پہلے امریکی راشٹرپتی نے ٹویٹ کیا تھا که''میں بھارت کے ساتھ سمبندھوں کو آگے بڑھانے کے لئے پردھان منتری مودی سے ملنے جا رہا ہوں۔ ان سے بات کرونگا که بھارت لمبے سمیہ سے امریکہ کے خلاف ٹیکس لے رہا ہے۔ یہاں تک که حال ہی میں اسے بڑھا دیا ہے۔ یہ پوری طرح سے اسویکاریہ ہے اور بھارت اسے واپس لے۔
 
ٹرمپ بھارت کو ٹیرف کنگ کہتے ہیں۔ وہ ہر بار ہار لے ڈیوڈسن بائک پر بھارت کے50فیصدی ٹیکس کا ذکر کرتے ہیں۔1990کے دشک کے بعد سے امریکہ اور بھارت کے رشتوں میں گرم جوشی بڑھتی گئی۔ امریکی راشٹرپتی بل کلنٹن اور بھارتیہ پردھان منتری اٹل بہاری واجپئی کے بعد سے دونوں دیشوں کے راشٹر پرمکھوں نے ایک دوسرے کو سوابھاوک ساجھے دار مانا۔
 
بھارت کو امریکہ کے قریب آنے میں لمبا وکت لگا کیونکہ بھارت اور روس میں رننیتک ساجھیداری اتہاسک روپ سے رہی ہے۔ راشٹرپتی ٹرمپ کے کارن ایک بار پھر سے دونوں دیشوں کے رشتوں میں اوشواس بڑھا ہے۔
 
ٹرمپ بھارت کو ایچبی 1ویزا اور میٹلس ٹیرف پر پہلے ہی جھٹکا دے چکے ہیں۔ امریکہ اور بھارت کی دوستی کو لیکر کہا جاتا ہے که امریکہ ایک ایسی شکتی ہے جس پر بھروسہ کرنا مشکل ہوتا ہے اور بھارت اسی وجہ سے اس دوستی کو لیکر انچھک رہتا ہے۔

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation