Loading...
'نیتا مکت'کیسے ہو گئی دشکوں تک راج کرنے والی کانگریس: نظریہ| Webdunia Hindi

'نیتا مکت'کیسے ہو گئی دشکوں تک راج کرنے والی کانگریس: نظریہ

پن سنشودھت منگلوار, 9جولائی2019 (14:58 IST)
-سواتی چترویدی(ورشٹھ پترکار)

کیا بھارت میں وپکش کی راجنیتی کا دور ختم ہو گیا ہے؟
آج پردھان منتری نریندر مودی اور بی جے پی ادھیکشدیش کی راجنیتی کے سب سے کداور کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کی وشال سیاسی مشینری اور اتھاہ دولت کی بدولت وپکش کو راجنیتی کے کھیل سے ہی باہر کر دیا ہے۔

اس بات کے دو ڈراونے سنکیت صاف دکھ رہے ہیں۔ پہلا اشارہ تو کوما میں پڑیکا حال دیکھ کر ملتا ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں ہار کے بعد خراب پردرشن کی ذمیداری لیتے ہوئے راہل گاندھی نے کانگریس ادھیکش پد سے استیفا دے دیا۔ کیونکہ انکی اگوائی میں کانگریس پارٹی لگاتار دوسرا عام چناؤ ہار گئی۔
راہل کے استیفے کے40دن بعد بھی کانگریس میں جمبش نہیں ہو رہی ہے۔ اور دیش میں وپکش کی راجنیتی کے خاتمے کا دوسرا سنکیت کرناٹک سے آیا۔ ذرا سوچیے,ودھائکوں کو لانے لے جانے کے لئے چارٹرڈ ومان اس طرح استعمال کئے جا رہے ہیں,جیسے وہ آٹو رکشا ہوں۔ حال یہ ہے که پریوار کے ساتھ چھٹی منانے امریکہ گئے کرناٹک کے مکھیہ منتری ایچ.ڈی.کمار سوامی بھی چارٹرڈ فلائٹ سے ہی سودیش لوٹے۔
ایسا لگ رہا ہے که کرناٹک کی موجودہ سرکار جلد ہی اتہاس بننے والی ہے۔ وہیں,مدھیہ پردیش کی معمولی بہہ مت والی کمل ناتھ سرکار بھی مشکل سے ہی بچی ہوئی ہے۔ یوں تو کمل ناتھ ہمارے دیش کی راجنیتی کے ماہر کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ پھر بھی انہیں اپنی معمولی بہہ مت والی سرکار بچانے میں مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی بہہ مت کا انتر کم ہے اور وہاں بھی اس طرح کی ستھتیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
راجیوں میں بی جے پی کی طوطی
آج دیش کی راجنیتی میں بی جے پی کا یہی آتموشواس حاوی ہے۔ ذرا بہار میں وپکش کے حالات پر غور کیجئے۔ لوک سبھا چناؤ میں پرمکھ وپکشی دل آرجیڈی,اپنے یووا نیتا تیجسوی یادو کی اگوائی میں ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکا۔ اس اتہاسک ہار کے بعد لاپتہ ہوئے تیجسوی یادو ابھی حال ہی میں پرکٹ ہوئے ہیں۔ لالو پرساد یادو کی ناٹکیہ راجنیتی کا انت نکٹ ہے۔ کیونکہ خود لالو یادو جیل میں ہیں اور بی جے پی پورے راجیہ کی راجنیتی پر حاوی ہوتی جا رہی ہے۔
آج کی تاریخ میں بی جے پی,نتیش کمار کی سرکار میں بھی ورشٹھ سہیوگی دل بن چکی ہے۔ بی جے پی نے کئی بار نتیش کو انکی اوقات دکھائی ہے۔ اینڈیئے سرکار کے دوسرے کاریہ کال کی شروعات میں ہی مودی اور شاہ کی جوڑی نے جدیو کو کیول ایک منترپد کا پرستاؤ دیا تھا۔ وہیں,اتر پردیش میں طاقتور شیتریہ دلوں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا گٹھ بندھن دوسری بار ٹوٹ گیا۔

لوک سبھا چناؤ کے لئے ہوا دونوں دلوں کا'اتہاسک گٹھ بندھن'بی جے پی کو80سیٹوں والے اتر پردیش میں روک نہیں سکا۔ ابھی ایسا لگ رہا ہے که بی جے پی کا اتر پردیش کی راجنیتی میں جو دبدبہ ہے,وہ لمبے سمیہ تک قائم رہنے جا رہا ہے۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی,بی جے پی کے ساتھ تال میل کے لئے تیار ہیں۔ وہیں,اکھلیش یادو اپنی ہار اور گٹھ بندھن ٹوٹنے کے زخم ہی سہلا رہے ہیں۔
منڈل کے دور کی راجنیتی میں اہم رہی سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کا اثر اب بہت سیمت رہ گیا ہے۔ کبھی انیہ پچھڑے ورگ کی نمائندگی کرنے والی ان پارٹیوں میں سے سماجوادی پارٹی اب کیول یادووں کی پارٹی رہ گئی ہے۔ تو,بی ایس پی کا قور ووٹ بینک اب کیول جاٹو(مایاوتی کی اپنی جاتی)بچے ہیں۔

تو,راشٹریہ وپکش کے بارے میں کیا وچار ہے؟
اگلے تین مہینوں میں تین اہم راجیوں,مہاراشٹر,ہریانہ اور جھارکھنڈ میں ودھان سبھا چناؤ ہونے جا رہے ہیں۔ کانگریس ان راجیوں میں بی جے پی سے مقابلے کی حالت میں بھی نہیں ہے۔ کیونکہ راہل گاندھی کے استیفے کے بعد پارٹی کے بھیتر انترکلہ اور بڑھ گئی ہے۔ پرانی پیڑھی اور یووا نیتاؤں جیسے جیوترادتیہ سندھیا,ملند دیوڑا اور سچن پائلٹ کے بیچ جنگ اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ہو سکتا ہے که کانگریس میں پھوٹ ہی پڑ جائے۔
پچھمی یوپی میں ہار کی ذمیداری لیتے ہوئے جیوترادتیہ سندھیا نے استیفا دے دیا۔ وہیں,ملند دیوڑا نے ممبئی میں ہار پر استیفا دے دیا۔ دونوں ہی نیتا راہل گاندھی کے سمرتھن میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان نیتاؤں کے نشانے پر اصل میں مدھیہ پردیش کے مکھیہ منتری کمل ناتھ اور راجستھان کے سی ایم اشوک گہلوت ہیں۔ گہلوت تو اپنے راجیہ راجستھان میں پارٹی کو25میں سے ایک بھی سیٹ نہیں جتا سکے۔ کمل ناتھ بھی صرف اپنے بیٹے کو جتا پائے۔
سیاسی پاورپلے
ورتمان میں پورا گاندھی پریوار سکریہ راجنیتی میں ہے۔ حالانکہ ابھی وہ دیش سے باہر ہیں۔ وہیں,کانگریس کے دوسرے نیتا آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اگر کانگریس گاندھی پریوار سے باہر کے کسی ویکتی کو ادھیکش چنتی ہے,تو بھی پارٹی کی اصلی باگ ڈور گاندھی پریوار کے ہی ہاتھ میں رہیگی۔ یہی وجہ ہے که کوئی نیتا کانگریس پارٹی کا ادھیکش نہیں بننا چاہتا۔

پنجاب کے مکھیہ منتری کیپٹن امریندر سنگھ نے راہل گاندھی کی جگہ کسی, 'یووا اور تیز طرار'نیتا کو ادھیکش بنانے کی وکالت کرکے پارٹی کے بھیتر سیاسی پاورپلے کو کھلے میں لاکر رکھ دیا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں پرانی پیڑھی کے نیتاؤں کا دبدبہ ہے۔ وہ سبھی امریندر سنگھ سے خفا ہیں کیونکہ وہ یتھاستھتی بنائے رکھنا چاہتے تھے۔
پرینکا گاندھی,راہل گاندھی کے استیفے کے سخت خلاف تھیں۔ اگر وہ بھی پوروی اتر پردیش کی پر بھاری مہاسچو پد سے استیفا دے دیتی ہیں,تو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے سدسیوں کا بنے رہنا مشکل ہو جائیگا۔

مہتواکانکشی نیتا سچن پائلٹ نے راجستھان میں پارٹی کو ستا میں واپس لانے کے لئے پانچ سال تک کڑی محنت کی تھی۔ انہوں نے کھل کر اشارے کئے ہیں که وہ مکھیہ منتری بننا چاہتے ہیں۔ کیونکہ,پائلٹ کا ماننا ہے که یہ پد ان سے چھین کر اشوک گہلوت کو دے دیا گیا تھا۔ راجستھان کے ایک ورشٹھ کانگریس نیتا کہتے ہیں که, "اشوک گہلوت کو کانگریس ادھیکش کا پد سنبھالنا چاہئیے۔ وہ لوکپریہ دلت نیتا ہیں۔"
اشوک گہلوت کانگریس کی سانپ سیڑھی والی اس سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ وہ پد چھوڑنے کو راضی نہیں ہیں۔ اشوک گہلوت نے تو ساروجنک روپ سے کہا تھا که, "راہل گاندھی کے استیفے نے کانگریس میں سبھی کانگرسیوں کو پریرت کیا ہے۔"لیکن,وہ خود استیفا دینے کو پریرت نہیں ہوئے۔

پھوٹ پڑنے کی آشنکا
راہل گاندھی چاہتے تھے که انکے ساتھ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے سبھی نیتا استیفا دے دیں۔ لیکن,کسی نے ایسا نہیں کیا۔ اس بات سے وہ بیحد خفا ہیں۔ اس سے راہل گاندھی کو اندازہ ہو گیا که جس کامراج 2پلان کو انہوں نے تیار کیا تھا,وہ ناکام ہو گیا ہے۔ اور اسکے پیچھے کانگریس کے وہ ورشٹھ نیتا ہیں,جو بنا کسی جوابدہی کے پد چاہتے ہیں۔
ایسے میں کانگریس میں پھوٹ پڑنے کی آشنکا صاف طور سے دکھ رہی ہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی سرکار گرنے کے بعد شائد ایسا ہو بھی جائے۔ نیترتووہین کانگریس بھیتر ہی بھیتر بکھر رہی ہے۔ کوئی یہ نہیں جانتا که کانگریس کے سدھانت کیا ہیں۔ وہ کن وچاروں کی نمائندگی کرتی ہے۔

سب کو بس یہ پتہ ہے که گاندھی پریوار کی پارٹی ہے۔ کانگریس میں نئی جان پھونکنے کی بات تو چھوڑئے,ابھی تو حالت یہ ہے که کانگریس کو بچانا ہی مشکل دکھ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے که موجودہ حالات میں دیش کی سب سے پرانی پارٹی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ اور,جہاں مودی اور شاہ نے بی جے پی میں ونشواد کے ورش کو پنپنے دیا ہے۔ وہیں,انہوں نے گاندھی پریوار کی پانچویں پیڑھی کو اہنکاری,جنتا سے دور اور ستا کے لئے بےقرار ثابت کر دیا ہے۔
ستھتی یہ ہے که پورا کا پورا وپکش نستیج ہے۔ ایسے میں آج دیش کو ایک ایسے وپکش کی سخت ضرورت ہے,جو بیحد طاقتور ہو چکی بی جے پی کا مقابلہ کر سکے۔ کوئی بھی اصلی لوکتنتر بنا سکشم وپکش کے کامیاب نہیں ہو سکتا۔

(اس لیکھ میں ویکت وچار لیکھک کے نجی ہیں۔ اس میں شامل تتھیہ اور وچار بی بی سی کے نہیں ہیں اور بی بی سی اسکی کوئی ذمیداری یا جوابدہی نہیں لیتی ہے)

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation