Loading...
اچھا مرتیو کی راہ پر چل پڑی ہے کانگریس؟: نظریہ| Webdunia Hindi

اچھا مرتیو کی راہ پر چل پڑی ہے کانگریس؟: نظریہ

Last Updated: شکروار, 12جولائی2019 (08:28 IST)
موجودہ راجنیتی کے سمبھوت: اپنے سب سے بڑے سنکٹ سے جوجھ رہی ہے۔ پارٹی کی امید کہے جا رہے یووا ادھیکش راہل گاندھی نے پد سے استیفا دے چکے ہیں اور کاریہ سمتی کے سامنے استیفا سونپنے کے پچاس دن کے بعد بھی نئے نیترتو کا چناؤ نہیں ہو پایا ہے۔
ادھر لگاتار پردیش اکائیوں سے کانگریس کے لئے بری خبریں آ رہی ہیں۔ کرناٹک میں وہ جنتا دل سیکیلر(جیڈیئیس)کے ساتھ اپنی گٹھ بندھن سرکار بچانے کے لئے سنگھرش کر رہی ہے اور گوا میں اسکے دو تہائی ودھائکوں نے راتونرات بھاجپا کا پٹکا پہن لیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی مکھیہ منتری کمل ناتھ کی بڑی اور جا ودھائکوں کو ایکجٹ رکھنے میں خرچ ہو رہی ہے۔

کانگریس کی ایسی حالت کا ذمیدار کون ہے,کیا پارٹی خود پردھان منتری نریندر مودی اور امت شاہ کے'کانگریس مکت بھارت'کے سپنے کی اور بڑھ چلی ہے اور اس سے ابرنے کا کیا کوئی راستہ نظر آتا ہے؟
انھیں سوالوں کے ساتھ بی بی سی سنوادداتا کلدیپ مشر نے کانگریس کی سیاست پر نظر رکھنے والے دو ورشٹھ پترکاروں ونود شرما اور سواتی چترویدی سے بات کی۔

کانگریس راجنیتی کرنا ہی نہیں چاہتی: سواتی چترویدی کا نظریہ
'کانگریس مکت بھارت'کا سپنا نریندر مودی اور امت شاہ نہیں,بلکہ خود کانگریس پارٹی ساکار کر رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے که انہوں نے خود اچھامرتیو کا فیصلہ کر لیا ہے۔
میں ایک پترکار ہوں اور چناؤ نتیجے آنے کے پہلے ہی میں نے لکھا تھا که بھاجپا یہ چناؤ جیتتی ہے تو کانگریس کی تینوں پردیش سرکاریں خطرے میں آ جائینگی۔ ایک پترکار کو اگر یہ بات پتہ ہے تو کانگریس کے نیتا کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔

کرناٹک کی وہ تصویر یاد کرئے جب ممبئی میں کانگریس نیتا ڈی کے شوکمار سرکار بچانے کی کوشش میں کتنے اکیلے نظر آ رہے تھے۔ جب یہ بات ٹوٹّر پر آ گئی تو حال ہی میں ممبئی کانگریس کے ادھیکش ملند دیوڑا کا بیان آیا که انہوں نے ڈی کے شوکمار سے فون پر بات کر لی ہے۔ کیا آج کل کانگریس نیتا شکتپردرشن اور سمرتھن فون پر کرنے لگے ہیں؟
مدھیہ پردیش میں یہ حال ہے که مکھیہ منتری کمل ناتھ نے ایک ایک منتری کو دس دس ودھائکوں پر نظر رکھنے کی ذمیداری دی ہے تاکہ وہ ٹوٹے نہیں۔ ایسے سرکار کیسے چلیگی؟

یہ حال تب ہے,جب ہریانہ,جھارکھنڈ اور مہاراشٹر میں اسی سال چناؤ ہونے ہیں۔ یہاں سیدھے بھاجپا اور کانگریس کی ٹکر ہے۔ ایک زمانے میں کانگریس کی ہائی کمان بڑی شکتی شالی سمجھی جاتی ہے جو اب لگتا ہے که بالکل ختم ہی ہو گئی ہے۔
راہل گاندھی کو استیفا دیئے پچاس دن ہو گئے۔ وہ دو دن پہلے امیٹھی گئے۔ اچھا ہوتا که وہ ممبئی جاتے اور وہاں کانگریس نیتا ڈی کے شوکمار کے بغل میں کھڑے ہوتے,اپنی ممبئی اکائی کو بلاتے,انکے پاس تین پورو مکھیہ منتری ہیں,انہیں بلاتے اور ایک سندیش دیتے۔ راجنیتی سڑکوں پر ہوتی ہے,سوشل میڈیا پر نہیں۔ پر آج کل ایسا لگتا ہے که کانگریس راجنیتی کرنا ہی نہیں چاہتی۔

صحیح بات ہے که وپکش کے بنا لوکتنتر ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن وپکش خود کو ختم کر رہا ہے تو ہم اس میں بھاجپا کو کیسے دوش دے سکتے ہیں۔ یہاں تک که اتنا سمیہ بیت جانے کے بعد بھی نیترتو پرورتن پر نہ کوئی گمبھیرتا ہے,نہ کوئی نیتا ہے۔
اسکے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے که کانگریس ایسی پارٹی ہے جسکے کیندر میں ونشواد ہے۔ وہاں اب تک یہ ویوستھا تھی که شیرش پد گاندھی پریوار کے ساتھ رہیگا اور باقی سب انکے نیچے ہو نگے۔ اور گاندھی پریوار انہیں چناؤ جتائیگا۔ اب گاندھی پریوار چناؤ جتا نہیں پا رہا۔

اب جو بھی نیا ادھیکش بنےگا,اسے طاقت کے دوسرے کیندر گاندھی پریوار سے بھی ڈیل کرنا ہوگا۔ کانگریس جس طرح کی پارٹی ہے,وہ لوگ سب گاندھی پریوار کی طرف جا ئینگے۔ درباری پرمپرا اس دیش میں کانگریس کے ساتھ آئی ہے۔
میری خود کئی نیتاؤں سے بات ہوئی ہے اور وہ کہتے ہیں که ہمیں اس پد سے کیا ملیگا؟ ہم یہ پد کیوں لیں؟ ایک تو ہمیں گاندھی پریوار کی کٹھپتلی کی طرح کام کرنا ہوگا اور ساری پارٹی ہم پر ہی حملے کریگی۔

دھاگے سے بندھا پتھر اور کانگریس کی کیندریہ طاقت: ونود شرما کا نظریہ
ابھی جو ہوا ہے,وہ بہت ہی وچلت کرنے والا ہے۔ ایک وگیانک سدھانت ہے که کیندریہ بل,جسے'سینٹرپھیوگل فورس'کہتے ہیں,جب وہ ختم ہو جاتا ہے تو یہی ہوتا ہے۔
جب آپ کسی دھاگے پر پتھر باندھ کر اسے گھما رہے ہوں اور بیچ میں اسے چھوڑ دیں تو پتھر دھاگے سمیت چھٹک کر دور جا گرتا ہے۔ یہی ہو رہا ہے۔ کانگریس کا نیترتو جو اسکا کیندریہ بل تھا,وہ آج ندارد ہے۔ اسکا اثر اسکی پرانتیہ اکائیوں پر دکھ رہا ہے۔ خاص کر ان پرانتوں میں جہاں کانگریس کمزور ہیں اور جہاں نیتاؤں کی نیت بھی خراب ہیں,وہاں ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے۔

میں گوا کو اس سندربھ میں نہیں گنونگا۔ گوا کا'آیارام گیارام'والا اتہاس رہا ہے۔ وہاں کے ودھایک ایک پارٹی میں ستھر نہیں رہے اور وہ دل بدلنے میں ماہر ہیں۔ لیکن کرناٹک میں جو ہو رہا ہے اور اس سے پہلے تیلنگانہ میں جو ہوا,وہ پریشان کرنے والی ستھتی ہے۔
جہاں تک کانگریس مکت بھارت کے نعرے کا تعلق ہے,وہ نعرہ جس نے بھی دیا ہو,میں نہیں سمجھتا که وہ آدمی لوکتنتر میں وشواس رکھتا ہے۔ دیش کو ایک مضبوط وپکش کی ضرورت ہوتی ہے۔

منووگیان میں'اینٹی نیسٹ سنڈروم'ہوتا ہے۔ جب چڑیا کے بچے گھونسلا چھوڑکر اڑ جاتے ہیں تو انکی ماں ڈپریشن میں آ جاتی ہے۔ یہ134برس کی پارٹی راہل گاندھی کے گھر چھوڑ جانے سے ڈپریشن کے دور سے گزر رہی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا ہے که فیصلہ کیسے لے۔
'کافی دوش راہل کا,پر سارا نہیں'

اگر آپ یہ چاہتے ہیں که اسکا سارا دوش میں راہل گاندھی پر مڑھ دوں,تو انہیں سارا دوش تو نہیں لیکن بہتیرا دوش ضرور دونگا۔ اگر وہ پد چھوڑنا چاہتے تھے تو اس سے پہلے انہیں اپنے انترم اترادھیکاری کے چناؤ کی پرکریا شروع کرانی چاہئیے تھی۔ اس انترم نیتا کے تتوادھان میں کاریہ سمتی یا نئے ادھیکش کے چناؤ ہو سکتے تھے۔ ایسے چٹھی لکھ کر چلے جانا کوئی اچھی پرتھا نہیں ہے۔
اگر آپ جا رہے ہیں تو آپ اپنے تمام نیتاؤں کو بلائیے,ایک سماگم کیجئے,اپنی بات رکھیے اور کہئے که ادھیکش پد پر نہ رہتے ہوئے بھی آپ پارٹی میں سکریہ رہینگے۔ یہ سب انہیں کرنا چاہئیے تھا جس سے کاریہ کرتا کا حوصلہ بنا رہتا,اسے لگتا که یہ نیترتو پرورتن ہو رہا ہے لیکن پارٹی وگھٹت نہیں ہو رہی۔

جب میں نیترتو پرورتن کی بات کرتا ہوں تو میں ویوستھا پرورتن کی بھی بات کرتا ہوں۔ اگر آپ کو یاد ہو تو مشیرل حسن صاحب نے تین چار انکوں میں کانگریس کاریہ سمتی کے پرستاووں کا ایک سارانش پرکاشت کیا۔ وہ جلوہ تھا اس سمیہ کانگریس کاریہ سمتی کا که اسکے پرستاؤ دیش کا راجنیتک ایجنڈا تے کرتے تھے۔
'ساموہک نیترتو کی ضرورت'

آپ کو کانگریس کاریہ سمتی کو ایک ساموہک نیترتو کے سوروپ میں سویکار کرنا چاہئیے۔ کانگریس کاریہ سمتی کے چناؤ ہوں۔ وہاں جو ساٹھ ستر لوگ بیٹھتے ہیں,انکی جگہ کوئی12یا21لوگ بیٹھے ہوں۔ جو سنجیدہ ہوں اور وویکشیل ہوں اور جن کا پارٹی میں سمان ہو۔

یہ ساموہک نیترتو راجنیتک فیصلے لینے میں نئے ادھیکش کی مدد کرے۔ میں سمجھتا ہوں که اس نئے ساموہک نیترتو میں گاندھی پریوار کی بھی بھومکا ہو سکتی ہے۔
یہ بات سچ ہے که گاندھی پریوار کانگریس کے لئے بوجھ بھی ہے اور طاقت بھی ہے۔ بوجھ اسلئے که اسکے ساتھ کانگریس پر ونشواد کا آروپ نتھی ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہئیے که گاندھی پریوار لوکتانترک ونشواد کا اداہرن ہے۔ وہ چناؤ لڑکر آتے ہیں,چناؤ میں ہارتے اور جیتتے ہیں۔

لوکتانترک ونشواد کے ایسے اداہرن پورے دکشن ایشیاء اور پوری دنیا میں ہیں۔ میں نہیں کہتا که یہ اچھی بات ہے۔ اسکے بنا اگر آپ کام چلا سکتے ہیں تو چلائیے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں که آنے والے وقت میں گاندھی پریوار کی ایک بھومکا ہوگی اور وہ بھومکا فیصلے لینے کی ساموہکتا تک سیمت ہونا چاہئیے۔ ایسا نہ ہو که وہ پارٹی کے بھیتر طاقت کا ایک سمانتر کیندر بن جائیں۔
اسکے لئے مانسک بدلاؤ لانا ہوگا۔ رویہ بدلنا ہوگا۔ سنگٹھن میں بدلاؤ کرنے ہو نگے اور فیصلہ لینے کی پرکریا کو بدلنا ہوگا۔ ساموہک نیترتو میں ہی کانگریس کو آگے بڑھنا چاہئیے۔

(اس لیکھ میں ویکت وچار لیکھک کے نجی ہیں۔ اس میں شامل تتھیہ اور وچار بی بی سی کے نہیں ہیں اور بی بی سی اسکی کوئی ذمیداری یا جوابدہی نہیں لیتی ہے۔)

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation