Loading...
کرکٹ کی دیوانگی: گاڑی سے17دیش لانگھ گیا بھارتیہ پریوار| Webdunia Hindi

کرکٹ کی دیوانگی: گاڑی سے17دیش لانگھ گیا بھارتیہ پریوار

Last Updated: منگلوار, 9جولائی2019 (19:24 IST)
ایڈم ولیمس
بی بی سی سپورٹ
کرکٹ کے لئے بھارتیہ فینس کی دیوانگی اکثر لوگوں کو چونکاتی ہے۔ ایسا ہی ایک پریوار ہے جومیں ٹیم انڈیا کا سمرتھن کرنے سڑک کے راستے48دنوں تک سفر کرکے سنگاپور سے انگلینڈ پہنچا ہے۔
ماتھر پریوار کی تین پیڑھیوں نے17دیشوں سے ہوتے ہوئے,بھومدھیہ ریکھا اور آرکٹک سرکل سے دو مہادویپوں کو پار کرکے ساڑھے22ہزار کلومیٹر کا یہ سفر کیا ہے۔

ماتھر پریوار کی تین سال کی بیٹی اویا سے لیکر67سال کے دادا جی اکھلیش اپنی سات سیٹوں والی گاڑی پر20مئی کو سنگاپور سے نکلے تھے اور48دن بعد گرووار رات لندن پہنچے۔

اب ان بھارتیہ فینس کو امید ہے که انکا یہ سفر انجام پر14جولائی کو پہنچیگا,جب وہ وراٹ کوہلی کے ہاتھ میں وشو کپ ٹرافی دیکھینگے۔
انکے اس سفر میں سب سے زیادہ چنوتیپورن کیا رہا۔ اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں که جب بھارت شنیوار کو شری لنکا کے خلاف جیتا تو منگلوار کو نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والے میچ کی ٹکٹیں حاصل کرنا سب سے چنوتیپورن تھا۔

سیدھے فلائٹ سے کیوں نہیں آئے
لیکن برف,اولوں کی بارش اور ریگستانی طوفان سے جوجھتے ہوئے کرکٹ دیکھنے کے لئے سات دن تک کار میں سفر کرکے آنے کی کیا ضرورت تھی,جبکہ وہ سیدھے فلائٹ سے آسانی سے آ سکتے تھے؟
دو بچوں کے پتا انوپم نے بی بی سی سے کہا, 'مارچ سے ہی ہمیں پتہ تھا که ورلڈ کپ آ رہا ہے اور ہمیں لگا که بھارت کو سپورٹ کرنے کے لئے ہمیں وہاں ہونا ہی چاہئیے۔'فلائٹ سے آنا سب سے آسان تھا۔ لیکن پھر ہم نے سوچا, 'نہیں۔ دیش کے لئے کچھ خاص کرتے ہیں۔ سب کو ساتھ لیکر۔'

وہ اس میں سب کو ساتھ لینا چاہتے تھے۔ انوپم کے ماتا پتا,اکھلیش اور انجنا اور انکا چھہ سال کا بیٹا اویو پورے سفر میں انکے ساتھ تھے۔ جبکہ انکی پتنی ادتی اور چھوٹی بیٹی اویا اس یاترا میں کافی دور تک انکے ساتھ رہے۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہے جب انوپم نے سڑک مارگ سے دنیا دیکھنے کا فیصلہ کیا ہو۔
انکے پریوار کے بلاگ سے پتہ چلتا ہے که اس ٹرپ کے پہلے انوپم96ہزار کلومیٹر تک کا سفر کر چکے ہیں اور36دیش دیکھ چکے ہیں۔ یہ سفر انہوں نے خود گاڑی چلاکر کیا ہے۔ اب اس میں22ہزار میل اور جڑ جا ئینگے۔ کرکٹ کی دیوانگی لئے انوپم کا پریوار اس ٹرپ میں ان دیشوں سے گذرا۔

سنگاپور
ملیشیا
تھائی لینڈ
لاؤس
چین
کرگستان
اجبیکستان
کجاکھستان
روس
فنلینڈ
سویڈن
ڈنمارک
جرمنی
نیدرلینڈس
بیلجیئم
فرانس
انگلینڈ(ابھی سکاٹ لینڈ,ویلس,اتری آئرلینڈ اور رپبلک آف آئرلینڈ باقی ہیں۔)
انوپم کہتے ہیں که بچپن سے ہی میرا سپنا تھا که میں ڈرائیو کرکے لمبی دوری کی ٹریپس کروں۔ میں ڈرائیو کرکے پوری دنیا گھومنا چاہتا تھا۔

جس صبح وہ لندن پہنچے میں ان سے ملا۔ وہ سات ہفتوں کے اس سفر سے تھکے ہوئے نظر نہیں آ رہے تھے,بلکہ منزل تک پہنچنے کی وجہ سے انکی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔

وہ اس بات کو لیکر اتساہت تھے که انہیں اگلے دن بھارت بنام شری لنکا کا میچ دیکھنے کے لئے ایک اور لیکن پہلے سے چھوٹی ٹرپ کرنی ہے۔
انہوں نے پورا سفر سات سیٹوں والی گاڑی میں تے کیا۔ اس گاڑی کا باہری حصہ انوپم نے خاص طرح سے سجایا ہوا تھا۔ اس میں وہ روٹ اور دیش بھی نظر آ رہے تھے,جن سے ہوتے ہوئے وہ آئے ہیں۔

مول روپ سے چینئی سے

ایک بینک کے لئے سٹریٹیجسٹ کے طور پر کام کرنے والے انوپم اور انکا پریوار مول روپ سے چینئی سے ہے۔ لیکن پچھلے14سال سے سنگاپور میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔ لیکن صرف کچھ کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے انہوں نے اتنا لمبا روڈ ٹرپ کیسے پلین کیا؟
انوپم کہتے ہیں, 'میں نے دیکھنا شروع کیا که روڈ سے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہمیں کن دیشوں سے ہوتے ہوئے جانا ہوگا۔ پھر میں نے پایا که یہ سبھی دیش آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔' 'اسکے بعد ہم نے یوجنا بنانی شروع کی۔ سینکڑوں ویزا اپلائی کئے اور سب کچھ اپنے آپ ہوتا گیا۔'

'قسمت سے ہمیں بہت اچھے گائڈ بھی ملے۔ جنہوں نے ہماری کچھ دیشوں میں مدد کی۔' 'یہ سب میں اپنے ڈرائیونگ کے جنون کی وجہ سے کر پایا اور ہم یہ اپنے دیش اور کرکٹ کے لئے کر رہے ہیں۔'
اس یاترا میں انوپم کے ماتا پتا اور بیٹا ہر وقت ساتھ رہے۔ انکے ماتا پتا نے ضرورت پڑنے پر روڈ سائڈ کچن بناکر گھر کا کھانا بھی کھلایا۔

انوپم کے پتا اکھلیش کہتے ہیں, 'پہلے مجھے سمجھ نہیں آیا که کیسے کریں۔ اتنا لمبا سفر اور صحت کا خیال بھی آیا۔' 'لیکن پھر میں نے فیصلہ کیا که ہم جا ئینگے اور پورے جوش کے ساتھ جا ئینگے۔ تاکہ ہم نئی جگہوں کو دیکھ سکیں اور انکا انبھو کر سکیں۔'

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation