Loading...
الور: پتی کے سامنے'گینگ ریپ'والے دن کیا ہوا تھا؟ پتی کی جبانی| Webdunia Hindi

الور: پتی کے سامنے'گینگ ریپ'والے دن کیا ہوا تھا؟ پتی کی جبانی

Alwar
پن سنشودھت شکروار, 10مئی2019 (19:05 IST)
-سندھواسنی(تھاناگاجی راجستھان)سے)

9مئی, 2019,راجستھان کےسے سٹہ ایک گاؤں۔ جیسے جیسے دن چڑھتا ہے,دھوپ بےرحم ہوتی جاتی ہے۔ گاؤں میں گھر کے سامنے دروازے پر سفید پگڑی باندھے پرشوں کی بھیڑ جمع ہے۔ کچھ گاڑیاں اور پولیس کرمی بھی دکھائی پڑتے ہیں۔ ایک چھوٹا بچہ دوڑ دوڑکر سب کو پانی پلا رہا ہے۔ برامدے میں10-15عورتیں بیٹھی ہیں,ان میں سے کئی گھونگھٹ میں ہیں اور گھونگھٹ اوڑھے ہی چلم پی رہی ہیں۔

"نہیں,آپ اندر نہیں جا سکتیں...کوئی اندر نہیں جائیگا۔ ہم تھک گئے ہیں۔ نیتا اس پر راجنیتی کرنے میں لگے ہیں اور میڈیا کچھ بھی لکھ رہا ہے...یہیں بیٹھیئے پلیز,پانی دینا ادھر۔"ایک یووک پترکاروں کی بھیڑ قابو کرنے کی کوشش میں غصہ نظر آتا ہے۔


یہ18سال کی اس لڑکی کا گھر ہے جسکے پتی کے سامنے اسکے ساتھ کتھت طور پر پانچ یووکوں نےکیا,اسکا ویڈیو بنایا اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔ دلت پریوار کی لڑکی کے ساتھ یہ جگھنیہ26اپریل کو ہوا تھا لیکن اسکے بعد ایک ہفتے تک پولیس اور پرشاسن حرکت میں نہیں آیا۔

حالانکہ مئی کے دوسرے ہفتے تک معاملہ ستھانیہ میڈیا سے ہوتے ہوئے راشٹریہ میڈیا اور ستا کے گلیاروں تک پہنچ چکا تھا۔ ان سب کا اثر سب سے زیادہ پیڑتا کے پریوار اور گھر پر دکھ رہا تھا,جہاں اسکے پرجن نیتاؤں,میڈیاکرمیوں اور سہانبھوتی پرکٹ کرنے والوں کا دھیان رکھتے رکھتے تھک چکے تھے۔


جب پیڑتا سے ہوئی ملاقات
کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد اور پیڑت پریوار کی سرکشا کے لئے نیکت کئے گئے سادے کپڑوں میں تعینات ایک سرکشاکرمی سے منتیں کرنے کے بعد ہم پیڑتا اور اسکے پتی سے مل سکے۔
انکتا(پیڑتا کا بدلہ ہوا نام)بمشکل17-18سال کی لگتی ہیں۔

"18سال پورے ہو گئے ہیں اسکے, 19واں لگنے والا ہے۔"ارن(پیڑتا کے پتی کا بدلہ ہوا نام)بتاتے ہیں۔

"ہم نے چہرہ دھندھلا کر دیا ہے",ارن کے چنتا ظاہر کرنے پر ہم نے انہیں بھروسہ دلایا۔

"میم,پھر بھی سیفٹی کے لئے کپڑا رکھ لیتا ہوں۔ کل ایک چینل والے نے کہا که چہرہ دھندھلا کر دینگے لیکن میرا چہرہ تو صاف دکھ رہا تھا۔"یہ سن کر میں نے ارن کی اور کپڑا بڑھایا اور اس طرح بات چیت شروع ہوئی۔
اس دن سے اب تک؟: ارن کی جبانی
26اپریل کا دن تھا,تین سوا تین بجے تھے۔ ہم دونوں بائک پر تھے,میرے گھر میں دو دو شادیاں ہیں تو ہم نے سوچا بازار سے کپڑے وغیرہ خرید لیں۔ سوچا تھا که لوٹتے ہوئے مندر میں درشن بھی کر لیں گے۔
ہم جدھر سے آ رہے تھے,وہ پورا سنسان علاقہ ہے۔ پہاڑ اور ریت کے ٹیلوں کے سوائے وہاں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ شائد یہیں سے انہوں نے ہمارا پیچھا کرنا شروع کیا تھا۔ وہ پانچ لوگ تھو,دو بائک پر...پیچھا کرتے کرتے اچانک ہمارے پاس آ گئے اور دھکا دیکر ہمیں ریت کے ٹیلوں پر گرا دیا۔


وہ ہم سے پوچھنے لگے, "کہاں سے آئے ہو؟ یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟ کیوں گھوم رہے ہو؟"ہم لوگوں نے انہیں بتایا که ہم پتی پتنی ہیں۔ ہماری شادی کے ایک سال سے زیادہ ہو گئے ہیں,چاہو تو ہمارے گھروالوں سے پوچھ لو لیکن وہ نہیں مانے۔ وہ کہتے رہے,گھومنے آئے ہو دونوں,جھوٹھ بول رہے ہو۔
اسکے بعد وہ ہمارے کپڑے پھاڑنے لگے۔ انہوں نے مجھے بہت بری طرح مارا۔ انکتا کو بھی تین چار بار مارا۔ ہم بہت چلائے,مدد کے لئے آواز لگائی,انکے سامنے گڑ گڑائے لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں...سنتا کون؟

تین پونے تین گھنٹے تک انہوں نے ہمیں ٹارچر کیا۔ ویڈیو بناتے رہے,ہم انکے سامنے گڑ گڑاتے رہے که ویڈیو مت بناؤ لیکن وہ نہیں مانے۔


میں جم جاتا ہوں,گاؤں کا محنتی لڑکا ہوں لیکن اس دن میری طاقت کو جانے کیا ہو گیا تھا۔ میں انکا مقابلہ ہی نہیں کر پایا۔ میرے پاس کچھ چھہ ہزار روپے تھے,انہوں نے سب چھین لئے۔ پھر میں نے ان سے کہا که ہمارے گھر میں شادی ہے اور یہی کل روپے ہیں میرے پاس۔ اسکے بعد انہوں نے چار ہزار مجھے لوٹا دیئے اور دو ہزار خود رکھ لئے۔

اسکے بعد ہم دونوں جیسے تیسے اٹھے اور بائک پر ہی واپس آئے۔ میں نے انکتا کو مائکے چھوڑا اور خود گھر آ کر سو گیا...سویا کیا,رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔ کسی سے کچھ نہیں بتایا۔ ہمت ہی نہیں پڑی,سمجھ میں نہیں آ رہا تھا که کیا ہو گیا۔ اگلے دن چپ چاپ جے پور نکل گیا,جہاں میں پڑھائی کرتا ہوں...لیکن اکیلے کمرے پر جانے کی ہمت نہیں ہوئی ایک رشتےدار کے یہاں چلا گیا۔ انکتا نے روتے روتے اپنی ماں سے سب کچھ بتا دیا تھا اور وہ بھی بہت گھبرا گئی تھیں۔ تین دن تک ہم لوگ بڑی دو دھا میں تھے۔

ویڈیو,فوٹو وائرل کرنے کی دھمکی
اس بیچ ان لوگوں کے الگ الگ نمبروں سے فون آنے لگے۔ وہ بلیک میل کرنے لگے,دھمکی دینے لگے۔ وہ10ہزار روپے مانگ رہے تھے۔ کہتے تھے, "ہمیں دارو مرغے کی پارٹی کرنی ہے۔ پانچ لوگ ہیں۔ دو دو ہزار لگا لو سب کے۔10ہزار دے دو ورنہکر دینگے۔ ہمارے پاس11ویڈیو ہیں, 50سے زیادہ فوٹو ہیں,سب وائرل کر دینگے۔"
آخرکار میں نے اپنے گھر والوں کو سب بتا دیا,سن کر وہ بھی ایک دم سے سہم گئے لیکن پھر30تاریخ کو ہم سب ہمت کرکے ایس پی آفس گئے۔ ہم ایس پی آفس میں تھے تب بھی انکا فون آیا تھا,وہ ہم سے پیسے مانگ رہے تھے اور ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ ایس پی نے ساری باتیں سنی اور کارروائی کا بھروسہ دلاکر تھاناگاجی پولیس اسٹیشن بھیج دیا۔


6مئی کو چناؤ کی بات کر کوئی کارروائی نہیں کی
تھاناگاجی کے ایس ایچ او نے کہا که تھانے میں لوگ کم ہیں اور سب کی6مئی کو الور میں ہونے والے الیکشن میں ڈیوٹی لگی ہے,اسلئے کچھ دن بعد ہی کارروائی ہو پائیگی۔ اسکے بعد30تاریخ سے لیکر2مئی کے بیچ کچھ نہیں ہوا۔ ہم2تاریخ کو پھر تھاناگاجی اسٹیشن گئے۔ اس دن ایفائیار لکھی گئی لیکن اور کچھ ہوا نہیں۔

4مئی کو انہوں نے ویڈیو وائرل کر دیا۔ میری رشتیداری کے ایک بڑے بھائی نے مجھے فون کرکے اس بارے میں بتایا۔ اسکے بعد ہم پھر بھاگ کر تھانے گئے۔ اب تک بات کسی طرح میڈیا میں پہنچ گئی تھی اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ہاتھ پیر مارنے شروع کئے۔ میں نے وہ ویڈیو آج تک نہیں دیکھا,میری ہمت نہیں ہوئی...


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation