Loading...
global economy |چین,ایپل اور ٹرمپ: سات طاقتیں جو بدل دینگی دنیا| Webdunia Hindi

چین,ایپل اور ٹرمپ: سات طاقتیں جو بدل دینگی دنیا

پن سنشودھت سوموار, 7جنوری2019 (11:52 IST)
دنیا میں ہو رہے بدلاووں کا ادھئین کرنے والے لیکھک جیف دیجاخدا مانتے ہیں که90کے دشک میں سامنے آئیوہ آخری چیز تھی جس نے ویشوک ارتھویوستھا اور انسانی دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ دیجاخدا اس سمیہ ایک نئی کتاب'وزئلائزنگ چینج ء ڈیٹا ڈروین سنیپشاٹ آف آور ورلڈ'کا سمپادن کر رہے ہیں۔ یہ کتاب دنیا میں ہو رہے دیرگھکالک بدلاووں پر نظر ڈالتی ہے۔

دیجاخدا کہتے ہیں که انٹرنیٹ نے دنیا کو اس طرح بدل کر رکھ دیا ہے جس طرح15ویں شتابدی میں نکولس کوپرنکس کے برہمنڈ ماڈل نے دنیا پر اثر ڈالا تھا۔ کوپرنکس کے اس ماڈل میں برہمنڈ سے جڑی اس سوچ کو چنوتی دی گئی تھی جسکے تحت یہ مانا جاتا تھا که پرتھوی برہمنڈ کے کیندر میں ستھت ہے۔



حالانکہ,تکنیکی شیتر میں انوویشن کوکا واہک مانا جاتا ہے۔ لیکن ویوپارک ماڈلوں,اپبھوکتاؤں کی مانسکتا میں بدلاؤ اور انترراشٹریہ راجنیتی جیسے تتو بھی کئی اہم بدلاؤ لا سکتے ہیں۔ دیجاخدا کہتے ہیں, "دنیا بدلنے والی بیار کسی بھی دشا سے آ سکتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے که کل آنے والا طوفان آج کسی نہ کسی روپ میں کہیں نہ کہیں جنم لے رہا ہے۔"دیجاخدا اور انکی ٹیم کے مطابق,یہ سات طاقتیں آنے والے دنوں میں ویشوک ارتھویوستھا کا چہرہ بدل سکتی ہیں۔

1.تکنیکی شیتروں کے مہارتھی
کئی دشکوں تک دنیا کی تمام بڑی کمپنیوں نے ادیوگک سطر پر اتپادن کرنے سے لیکر پراکرتک سنسادھنوں کو حاصل کرنے کی دشا میں کام کیا۔ امریکی کار نرماتا کمپنی فورڈ,جنرل الیکٹرک اور تیل شیتر کی کمپنی ایکسان ایسی ہی کچھ کمپنیوں میں شامل ہیں۔


اسکے بعد آرتھک سیوائیں اور ٹیلیکام شیتر کی کمپنیوں کا نمبر آیا۔ لیکن اب سوچنا کرانتی کا دور ہے۔ اور دنیا کے شیئر بازاروں میں سب سے زیادہ اہم کمپنیاں تکنیک شیتر کی کمپنیاں ہی ہیں۔ سال2018کی پہلی تماہی میں ایپل,گوگل,مائکروسافٹ اور ٹینسینٹ سب سے پربھاوشالی کمپنیاں بنی رہیں۔ لیکن پانچ سال پہلے پانچ سب سے اہم کمپنیوں کی لسٹ میں کیول ایپل ہی شامل تھی۔

2. کی ترقی
چین کی آرتھک اہمیت کو لیکر پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ لیکن دیجاخدا چین کی آرتھک اور تکنیکی وکاس کی اور دھیان کھینچنا چاہتے ہیں۔ چین کے کچھ شہروں کا آرتھک اتپادن اتنا زیادہ ہے که وہ کئی دیشوں کے آرتھک اتپادن پر بھاری پڑتا ہے۔


اس سمیہ چین میں100سے زیادہ شہروں میں دس لاکھ سے ادھک آبادی رہتی ہے۔ چین کی یینگتسی ندی کے کنارے بسے شہر شنگھائی,سو جو,کھانگجو,ووشی,نینٹانگ,نینجنگ,چانگجو اسی وکاس کا اداہرن ہیں۔ ان شہروں کا بھوتک وکاس انکے آرتھک وکاس کے ساتھ سمان رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے که سال2030تک چین امریکہ کو پچھاڑ کر دنیا کی سب سے بڑی ارتھویوستھا بن جائیگی۔
smart city
3.وشال شہروں کا آغاز
لیکن ایسا نہیں ہے که چین ہی دنیا کا ایک ماتر دیش ہے جہاں شہروں کا وکاس ہو رہا ہے۔ آنے والے کچھ دشکوں میں شہری آبادی میں تیزی سے ہوتی بڑھت ویشوک ارتھویوستھا کو بدل کر رکھ دیگی۔

سینکت راشٹر سنگھ کے انوسار,چین اور کئی پچھمی دیشوں میں جنم در میں ایک ستھرتا نظر آئیگی۔ وہیں,افریقی اور دوسرے ایشیائی دیشوں میں آبادی میں بڑھوتری کے ساتھ ساتھ تیزی سے شہریکرن ہوتا ہوا دکھیگا۔


اس سے ایسے کئی شہر استتو میں آئینگے جہاں رہنے والوں کی سنکھیا ایک کروڑ سے زیادہ ہوگی۔ یوئین کے مطابق,پچھلے سال ایسے شہروں کی سنکھیا47تھی۔ انومان کے مطابق,اس صدی کے انت تک افریقہ میں13ایسے شہر استتو میں آئینگے جو که نیو یارک سٹی سے بھی بڑے ہو نگے۔

4.رن میں بڑھوتری
دیجاخدا کی کمپنی وزئل کیپٹلسٹ کے مطابق,اس سمیہ دنیا بھر کے قرض کی قیمت240ٹرلین ڈالر ہے۔ اس میں سے63ٹرلین ڈالر قرض امریکی سرکار کا ہے جی ڈی پی کے حساب سےپر253فیصدی کا قرض ہے تو وہیں امریکہ پر105فیصدی کا قرض ہے۔


وہیں,اگر جاپان,چین اور امریکہ کو ملا دیا جائے تو تینوں کا کل قرض پوری دنیا کے قرض کا58فیصدی ہے۔ امریکہ,یوروپ اور کچھ ابھرتی ارتھویوستھاؤں نے حال کے سالوں میں اپنے قرض کو بڑھا دیا ہے۔ کیونکہ کچھ سال پہلے ایک دور ایسا آیا تھا جب بیاج دریں کافی کم تھیں۔ لیکن انترراشٹریہ مدرا کوش اتنے بڑے قرض کو لیکر چیتاونی جاری کر چکی ہے۔

حال ہی میں پرکاشت ہوئی آئییمئیف کی رپورٹ کہتی ہے, "سرکاروں کے لئے یہ سجھاؤ ہے که وہ دنیا کے آرتھک حالات ٹھیک رہتے رہتے ہی اپنے وتیہ گھاٹے سے نجات پا لیں۔ تاکہ وہ اگلے دور کے لئے تیار ہو سکیں جب ایک بار پھر آرتھک سنکٹ آئیگا۔ کیونکہ,یہ جلد ہی آنے والا ہے اور اسے ٹالا نہیں جا سکتا ہے۔"


5.تکنیک کی دنیا میں ہوتے بدلاؤ
آدھونک اتہاس کی بات کریں تو بجلی سے لیکر ٹیلفون,کاریں,اور ہوائی جہاز جیسے اوشکاروں نے ایک بدلاؤ کو جنم دیا ہے۔ لیکن ان اتپادوں کو آوشکار کے بعد عام لوگوں کے گھروں تک پہنچنے میں ایک لمبا سمیہ لگا۔

اداہرن کے لئے,امریکہ میں کاریں اجاد ہونے کے بعد انکے امریکہ کے90فیصدی لوگوں تک پہنچنے میں اسّی سال کا سمیہ لگا۔ لیکن انٹرنیٹ نے یہی راستہ صرف23سالوں میں پورا کر لیا۔ اسکے بعد ایک ڈیوائس ٹیبلیٹ نے تین فیصدی اپبھوکتاؤں سے51فیصدی اپبھوکتاؤں تک پہنچنے میں ماتر چھہ سال کا سمیہ لیا۔


دیجاخدا مانتے ہیں که آنے والے سمیہ میں ایسی چیزوں کو آوشکار کے بعد عام لوگوں تک پہنچنے میں کچھ مہینوں کا ہی سمیہ لگا کریگا۔

6.ویوپارک رکاوٹیں
دوتیہ وشو یدھ کے بعد,سرکاروں نے ویوپار میں سامنے والے رکاوٹوں کو دور کرنے کی دشا میں قدم بڑھائے تھے۔ لیکن حال ہی میں امریکہ جیسے دیش نے مکت ویوپار کی نیتی کو چنوتی دیتے ہوئے چین سے آنے والے اتپادوں پر ٹیرف لگاکر ایک نیا ٹریڈ وار شروع کر دیا ہے۔


دیجاخدا اپنی کتاب میں اسے ایک ٹریڈ پیراڈاکس کی طرح دیکھتے ہیں۔ اسکے مطابق,ورتمان ستھتی میں دنیا مکت ویوپار نیتی کی اور جھک سکتی ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو دنیا میں ویوپار کرنے کے نئے نیم جنم لے سکتے ہیں۔

7.ایک نئی ہرت کرانتی؟
بیتے کچھ سالوں میں نوینیکرن اورجا ثروتوں کے استعمال میں کافی بڑھت دیکھی گئی ہے۔ اسکے لئے حال کے سالوں میں کئے گئے تکنیکی سدھار اور قیمتوں میں گراوٹ کو شرییہ دیا جا سکتا ہے۔


انٹرنیشنل اینرجی ایجینسی کے مطابق,سال2050تک سور اورجا دنیا میں اورجا کا سب سے بڑا ثروت بن کر ابھریگی۔ اسکے ساتھ ہی انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سسٹینیبل ڈیولپمینٹ کا انومان بتاتا ہے که اگلے بیس سالوں میں اس سیکٹر میں نویش سات ٹرلین ڈالر کو پار کر جائیگا۔

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation