Loading...
لوک سبھا چناؤ2019:گورکھپور میں بی جے پی کے روی کشن کو ہرائینگے یا جتائینگے نشاد ووٹر؟| Webdunia Hindi

لوک سبھا چناؤ2019:گورکھپور میں بی جے پی کے روی کشن کو ہرائینگے یا جتائینگے نشاد ووٹر؟

ravi kishan
پن سنشودھت سوموار, 13مئی2019 (11:24 IST)
-کلدیپ مشر(گورکھپور سے)

کبھی کبھی بھگوان کو بھی بھکتوں سے کام پڑے
جانا تھا گنگا پار پربھو,کیوٹ کی ناؤ چڑھے...
گورکھپور میں ایک نشاد بہل علاقے کی ایک دوکان پر رام کا یہ بھجن بج رہا ہے۔ ہندو مانیتا کے انوسار,کیوٹ نے رام,سیتا اور لکشمن کو اپنی ناؤ میں بٹھاکر گنگا پار کرائی تھی۔ وہیں کیوٹ جنہیںکے لوگ آرادھیہ مانتے ہیں اور انہیں'نشادراج کیوٹ'کہتے ہیں۔

بھاجپا ادھیکش امت شاہ نے اسی ہفتے الہ آباد کی ایک ریلی میں نشادراج کیوٹ کی ایک وشال پرتما بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ضلعے کے نشاد تیرتھ شررنگویرپر میں80فٹ اونچی یہ پرتما34کروڑ کی لاگت سے بنائی جائیگی۔
نشاد ووٹوں کا اثر پوروی اتر پردیش کی کئی سیٹوں پر ہے لیکن پردیش کے مکھیہ منتری یوگی آدتیناتھ کی کرمبھومی گورکھپور میں اس جاتی کے ووٹوں کو لیکر کوتہل سب سے ادھک ہے۔

2018میں ہوئے اپ چناؤٔ میں بھاجپا نے یہ سیٹ گنوا دی تھی اور سپہ بسپا اور نشاد پارٹی کے سنیکت پرتیاشی پروین نشاد وجئی ہوئے تھے۔ لیکن اس بار معاملہ تھوڑا پینچیدا ہے کیونکہ نشاد پارٹی نے چونکاتے ہوئے بھاجپا کا دامن تھام لیا ہے۔ مقابلہ بھوجپوری فلموں کے ابھینیتا اور بھاجپا نیتا روی کشن شکل,سپہ بسپا گٹھ بندھن کے رامبھوال نشاد اور کانگریس کے مدھوسودن تیواری کے بیچ ہے۔
ایک انومان کے مطابق گورکھپور لوک سبھا میں نشاد ووٹروں کی سنکھیا کم سے کم ساڑھے تین لاکھ ہے۔ نشاد سماج کے نیتا اسے ساڑھے چار لاکھ تک بتاتے ہیں۔ زاہرن ان آنکڑوں کا کوئی پرمان نہیں ہے لیکن اس میں سنشیہ نہیں که نشادوں کا رخ اس سیٹ پر جیت اور ہار تے کر سکتا ہے۔

اسلئے گورکھپور میں اس وقت سب سے موجوں سوال ہے که نشاد ووٹر اپنی پارمپرک پارٹی کے اثر سے بھاجپا کے ساتھ جائیگا یا اپنے سجاتیہ سپہ بسپا گٹھ بندھن امیدوار کو چنیگا؟
نشادوں میں راجنیتک چیتنا
گورکھپور میں نشاد راجنیتی میں پہلے سے سکریہ رہے ہیں۔ منڈل راجنیتی کے بعد سے یہاں دو بڑے نشاد نیتا ابھرے۔ یوگی کے خلاف کئی لوک سبھا چناؤ لڑ چکے جمنا نشاد اور دو بار ودھایک اور پردیش سرکار میں منتری رہے رامبھوال نشاد۔

اسی بیچ ایک اہم گھٹنا اور ہوئی۔ ڈیڑھ دشک پہلے یہاں کٹ کا گاؤں میں ایک سنگھرش میں ایک نشاد یووک کی موت ہو گئی تھی,جسکے بعد بڑے سطر پر نشادوں نے ورودھ پردرشن کئے تھے۔ اس گھٹنا کو علاقے میں نشاد بنام کشتریہ کی عداوت کا پرستھان بندو مانا جاتا ہے۔
نشاد راجنیتک روپ سے آگے آ رہے تھے لیکن انہیں پہلے سے ستھاپت پارٹیوں میں ہی پرتندھتو ملتا تھا۔ پر اس کہانی میں ٹوسٹ آیا جب سال2016میں الیکٹرو ہومیوپیتھی کی کلینک چلانے والے ڈا.سنجے نشاد نے نئی پارٹی بنائی نربل انڈین شوشت ہمارا عام دل۔

انگریزی میں اسکا سنکشپتیکرن کرتے ہوئے اسے انہوں نے اسے نام دیا NISHADپارٹی۔ ایک الگ پارٹی اور ایک الگ جھنڈے کے بینر تلے انہوں نے نشادوں کی راجنیتک چیتنا کو ایک سوتنتر روپ دینے کی کوشش کی اور اسکا پرسار بند,دھیمر,ملاح اور ساہنی اپنام والی جاتیوں تک کیا۔
ستھانیہ پترکار منوج سنگھ کے مطابق, "انہوں نے نشادوں کے بیچ پستکائیں بنٹوائیں۔ ان سے کہا که یہ علاقہ نشادوں کا رہا ہے,وہ یہاں کے راجا رہے ہیں اور انکا ایک گوروشالی اتہاس ہے۔ نشاد ایک سنسکرتی اور سبھیتا ہے۔"

اتنا ہی نہیں,انہوں نے گورکھپور مٹھ پر نشادوں کا ادھیکار بتاکر بھاجپا کے لئے بڑی مشکل کھڑی کر دی۔

منوج سنگھ بتاتے ہیں, "انہوں نے یہ بھی پرچارت کیا که گورکھ ناتھ کے گرو متسییندرناتھ(مچھندرناتھ)مچھلی کے پیٹ میں رہے تھے۔ اس دوران انکا لالن پالن نشادوں نے کیا۔ اسلئے وہ نشاد وراثت کے پرتیندھی تھے اور اس لحاظ سے یہاں کے گورکشناتھ مٹھ پر کشتریوں کا نہیں,نشادوں کا حق ہے۔ حالانکہ ان باتوں کا اتہاسک پریکشن ہونا ابھی باقی ہے لیکن نشاد ووٹروں کے مانس پر اسکا اثر پڑا۔"
اس طرح نشادوں میں ایک ایسی چیتنا بنی جو یہاں کے موجودہ مٹھ پربندھن کے خلاف تھی۔ وہ مٹھ,جسکے بیتے تین مہنت کشتریہ رہے تھے اور جن کے کاریہ کال میں مٹھ کا رجحان ناتھ سنپردائے کی سماویشی دھارا سے کھسک کر سناتن ہندتو کی اور ہونے لگا تھا۔

اور پھر سنجے نشاد نے اس جاتی کے ووٹروں کو سیدھے پربھاوت کرنے والا مدعا اٹھایا۔ انہوں نے مانگ کی که نشاد سماج کی سبھی اپجاتیوں کو انوسوچت جاتی کا درجہ دیا جائے۔ ابھی کچھ نشاد اپجاتیوں کو ہی انوسوچت جنجاتی کا درجہ پراپت ہے۔ یہی مانگ نشاد راجنیتی کی مکھیہ مانگ بن گئی۔
پترکار منوج سنگھ کے مطابق, "انھیں سنجے نشاد نے بھاجپا کو منوادی اور براہمنوادی پارٹی کہا تھا۔ لیکن جب راجنیتک چیتنا بنتی ہے تو وہ ویکیوم میں نہیں جاتی۔ اب نشاد ووٹر کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہوگا که وہ آج سنجے نشاد کے کہنے پر بھاجپا کو ووٹ کیوں دے دیں؟"

نشاد پارٹی اور بھاجپا کا بیمیل وچار
سنجے نشاد کے بھاجپا میں جانے پر یہاں کے پرانے نشاد نیتا اور گٹھ بندھن امیدوار رامبھوال نشاد ایک'ڈیل'کا حصہ بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں, "آپ سوچیے که سنجے نشاد اسپتال میں پڑے اپنے لوگوں کو چھوڑکر اسی بھاجپا سے جاکر مل گئے,جس نے ان پر لاٹھی چارج کروایا۔ ایسے ویکتی کی اب نشاد سماج میں کیا پراسنگکتا رہ گئی ہے؟"
gorakhpur
11مئی کو گورکھپور میں اپنی ریلی میں سپہ پرمکھ اکھلیش یادو نے بھی سنجے نشاد پر آروپ لگاتے ہوئے کہا, "لوگ کہہ رہے ہیں که انہیں مٹھ سے پرساد مل گیا ہے۔"
سنجے نشاد یہ کہ کر نشادوں کو ایکجٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں که وہ آرکشن اور ستا میں نشادوں کی بھاگیداری سنشچت کرنے کے لئے بھاجپا کے ساتھ آئے ہیں,کیونکہ ستا اسی کے پاس ہے۔

اکھلیش یادو کے بیان پر سنجے نشاد نے بی بی سی سے کہا, "مٹھ سے پرساد تو ملا ہے اور وہ پرساد ہے آرکشن۔ میرا مدعا تو سرکار ہی حل کر سکتی ہے۔ وپکش نہیں کر سکتا۔ میری امت شاہ,جیپی نڈا اور مہیندرناتھ پانڈے سے بات ہو گئی ہے۔ نشادوں کے آرکشن پر رکا ہوا شاسنادیش چناؤ بعد لاگو ہونے کا آشواسن ملا ہے۔"
سنجے نشاد نے بھاجپا سے گٹھ بندھن کے ساتھ ہی انہوں نے نشاد اور کشتریوں کی پرانی عداوت کو بھی بھلا دیا ہے اور مٹھ پر نشادوں کے حق کا سور بھی انہوں نے مدھم کر لیا ہے۔

وہ کہتے ہیں, "وہ تھل کشتریہ ہیں اور ہم لوگ جل کشتریہ ہیں۔ دونوں ساتھ ہیں۔ ہم تو مٹھ کا دھنیواد کرتے ہیں که انکے ساہتیہ کی وجہ سے ہمیں متسییندرناتھ جی کے بارے میں پتہ چلا۔ ہماری وراثت کو مٹھ نے سہیجکر رکھا ہے۔"
نشاد ووٹروں کا رخ
نشاد پارٹی کو بھاجپا سے گٹھ بندھن کرکے پڑوس کی سنت کبیر نگر سیٹ ملی ہے۔ سال بھر پہلے گورکھپور میں یوگی کا قلعہ دھوست کرنے والے پروین نشاد یہاں سے کمل کے نشان پر چناؤ لڑ رہے ہیں۔12مئی تک سنجے نشاد اور انکے زیادہ تر کاریہ کرتا سنتکبیرنگر میں ہی لگے رہے جس کا یہ سندیش بھی گیا که گورکھپور نشاد پارٹی کی پراتھمکتا میں نہیں ہے اور وہ سنتکبیرنگر میں ہی ادھک ویست ہے۔
حالانکہ سنجے نشاد کا کہنا ہے که چناؤ پرچار کے لئے12سے17تاریخ کا سمیہ انکے لئے پریاپت ہے اور80فیصدی نشاد ووٹر انکے ساتھ ہیں۔ وہ کہتے ہیں, "جیسے جاٹووں نے مایاوتی اور یادووں نے اکھلیش کو اپنا کمانڈر مان لیا ہے,ویسے ہی نشادوں نے مجھے اپنا کمانڈر مان لیا ہے۔"

لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
گورکھپور کے نشاد بہل روستمپر مرزاپو علاقے میں ایک نشاد مندر ہے جہاں یہاں کے دونوں بڑے نشاد نیتا اور اب ایک دوسرے کے ورودھی سنجے نشاد اور رامبھوال نشاد اکثر جاتے ہیں۔
یہاں20سے ادھک نشاد ووٹروں سے بات ہوئی اور زیادہ تر کھلے طور پر گٹھ بندھن امیدوار رامبھوال نشاد کو چننے کی بات کہی۔ لوگوں نے بتایا که سنجے نشاد نے اسی مندر میں قسمیں دلائی تھیں که جب شادی اپنی جاتی میں کرتے ہیں تو ووٹ بھی صرف اپنی جاتی کو دیجیے۔

لیکن اب جب وہ بھاجپا کےکے پکش میں پرچار کرینگے تو اسکا اثر ہوگا؟
یہاں ملے ایک سرکاری ادھیاپک نے نام نہ چھاپنے کی شرط پر کہا, "آپ کسی کا ہاتھ پکڑکر اسے کچے راستے سے آرسیسی کی روڈ پر لے آئیں اور پھر خود اس سے کہیں که اب میرے کہنے سے پھر سے کچے راستے پر چلو,تو کیا یہ سمبھو ہے؟"

اس مندر کے پجاری رام دیال نشاد کو بھروسہ نہیں ہے که بھاجپا نشادوں کو آرکشن دلوا سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں که نشادوں میں آج بھی گھور اشکشا ہے اور انکی بڑی سنکھیا مزدوریدہاڑی کا کام کرتی ہے۔ انکے مطابق, "سنجے نشاد کے بھاجپا کے ساتھ جانے سے ان لوگوں کی امیدوں کو جھٹکا لگا ہے۔"
وہ کہتے ہیں که یہ نشاد بہل علاقہ ہے اور یہاں سے نشاد کا بیٹا ہی سانسد ہونا چاہئیے۔ اگر بھاجپا نشاد پرتیاشی اتارتی تو وہ ضرور سوچتے۔

ہندتو اور نشاد
کیا نشاد سماج کا کچھ حصہ بھاجپا کی وچار دھارا سے خود کو جوڑ پاتا ہے؟

پترکار منوج سنگھ کہتے ہیں, "یہاں نشاد سماج کافی دھارمک بھی ہے,اسلئے انکی چیتنا پوری طرح سناتن براہمنوادی ویوستھا کے خلاف وکست نہیں ہو پائی ہے۔ ابھی وہ وکست ہونے کی پرکریا میں ہے۔ اسلئے ایسا نہیں کہا جا سکتا که وہ ہندتو سے پوری طرح کٹ گئے ہیں۔"
سمبھوت: اسی لئے بھاجپا نشادراج کیوٹ کے اس روپ کو ستھاپت کرنا چاہتی ہے جسمیں وہ پربھو رام کے چرنوں میں انکی سیوا کر رہے ہیں۔ کیا نشاد پارٹی بھی اپنی جاتیہ پہچان کے گرویلے رخ کو چھوڑ بھاجپا کی سیوا کی بھومکا میں آ گئی ہے؟

گورکھپور میں ہندستان اخبار کے پترکار وویکانند اسے دوسری طرح سے دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں, "جاتیاں اب کیول اپنی دھارمک اور پورانک پہچان ہی نہیں چاہتیں۔ وہ ساماجک پہچان اور رتبہ بھی چاہتی ہے۔ اس وقت بھاجپا کے ہاتھ میں ستا ہے۔ اس سے جڑ کر نشاد پارٹی اپنی اسمتا بڑھانا چاہتی ہے۔ آگے ہوا کا جیسا رخ ہوگا,شائد ویسا کریگی۔"
وویکانند مانتے ہیں که بھاجپا نے نشاد ووٹروں کے بیچ بٹوارا کرنے کی کوشش کی ہے اور اگر وہ بٹوارا ہوتا ہے تو یہ بڑی سپھلتا ہوگی۔

پترکار منوج سنگھ نشادوں کو'ججھارو'پرکرتی کا بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں, "گورکھپور میں نشاد دبو نہیں ہیں۔ انکی راجنیتک چیتنا اتنی وکست ہو گئی ہے که انہیں دبانا اب آسان نہیں ہے۔ اسلئے نشادوں کا ایک الگ راجنیتک دل کے طور پر ابھرنا بڑے دلوں کے لئے خطرہ ہے۔ اپنے دلوں میں پرتندھتو دیکر انہیں نینترت رکھنا آسان ہے۔"
ستھانیہ پترکار وویکانند مانتے ہیں که شروع میں ایسا لگ رہا تھا که نشاد ووٹر اس بار گٹھ بندھن کے پکش میں ہے,پر ایک دو دنوں سے آ رہی رپورٹ بھاجپا کے لئے سکھد ہے۔ انکے مطابق, "کئی جگہوں پر نشاد ووٹروں کا رجحان بھاجپا کی اور ہو رہا ہے اور سنجے نشاد کے پرچار ابھیان کے بعد اس میں اور اضافہ ہوگا۔"

گورکھپور کا چناؤ اب اس بات پر آ کر ٹک گیا ہے که سنجے نشاد کتنے نشاد ووٹروں کو بانٹینگے اور کانگریس امیدوار مدھوسودن تیواری کتنے براہمن کاٹینگے۔ مندر میں نوجوان دلیپ نشاد سے اس بھجن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا, ''بھگوان رام گنگا پار جانے کے لئے کیوٹ کی ناؤ چڑھے تھے لیکن بھاجپا کو کون سی نییا پار کرنی ہے,سب جانتے ہیں۔
وہ پوچھتے ہیں, "ہم کب تک اپنی ناؤ میں سب کو پار ہی کراتے رہینگے؟"

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation