Loading...
بی جے پی بنام کانگریس: ہریانہ میں کون کس پر بھاری| haryana election 2019 | Webdunia Hindi

بی جے پی بنام کانگریس: ہریانہ میں کون کس پر بھاری

haryana election
Last Updated: شنیوار, 11مئی2019 (10:53 IST)
-سروپریا سانگوان

ہریانہ میں10لوک سبھا سیٹیں ہیں۔ شائد سنکھیا کم لگے مگر یہ راجیہ راشٹریہ سطر پر کتنا مہتو رکھتا ہے یہ نریندر مودی سے لیکر پرینکا گاندھی کی یہاں ہوئی ریلیوں سے بھی پتہ چلتا ہے۔ راجیہ میں12مئی کو ہریانہ کے ایک کروڑ74لاکھ ووٹر متدان کرینگے۔

ہریانہ میں اس وقت بی جے پی نیتاؤں کے بھاشنوں میں مودی اور راشٹرواد کا ذکر زیادہ سنائی دے رہا ہے۔ وہیںنیتاؤں کے بھاشنوں میں مودی ورودھ اور بی جے پی کے بھائی چارا بگاڑنے کے آروپ اور نیائے یوجنا کی بات جیادا ہے۔


ہریانہ کے2014ودھان سبھا چناؤ کے بعد مکھیہ منتری پد کے لئے منوہر لال کھٹر کے نام کی گھوشنا ہوئی۔ بہت سے لوگوں کے لئے یہ چونکانے والا نام تھا۔ بی جے پی کے راشٹریہ نیترتو نے اشارہ دے دیا تھا که پچھلے18سالوں سے جاٹ نیتاؤں کا پرتندھتو دیکھ رہے راجیہ میں کسی غیر جاٹ نیتا کو مقابلے میں کھڑا کرکے ہی الگ راجنیتی کھڑی کی جا سکتی ہے۔

2016میں جاٹ آندولن میں ہوئی ہنسا کے بعد سے ہریانہ کی راجنیتی جاٹ بنام غیر جاٹ ہو گئی۔ اس بار کے لوک سبھا چناؤ میں یہ ایک مدعا ہے۔ روہتک,سونی پت,بھوانیمہیندرگڑھ میں یہ مدعا اپنا پربھاؤ دکھا رہا ہے۔ ان لوک سبھا شیتروں میں مکھیہ منتری منوہر لال کھٹر بھی زیادہ فوکس کر رہے ہیں اور لگاتار امیدوار کے سپورٹ کے لئے ریلیاں کر رہے ہیں۔


روہتک اور سونی پت میں پتا پتر کی جوڑی
ہریانہ کی دو سیٹوں روہتک اور سونی پت پر کانگریس کافی مضبوط نظر آ رہی ہے۔ ان دونوں سیٹوں پر پتا پتر جوڑی بھوپیندر سنگھ ہڈا اور دیپیندر سنگھ ہڈا لڑ رہے ہیں۔

پورو مکھیہ منتری بھوپیندر سنگھ ہڈا نے جاٹ ہارٹلینڈ کی دو پرمکھ سیٹوں روہتک اور سونی پت کی ٹکٹیں جھٹک کر دکھا دیا تھا که وہ جاٹلینڈ پر کسی اور کو قبضہ نہیں کرنے دینگے۔ انہوں نے کرنال سے ودھان سبھا کے پورو سپیکر ایوں موجودہ ودھایک کلدیپ شرما اور کروکشیتر سے پورو منتری نرمل سنگھ کو بھی ٹکٹ دلا کر دکھا دیا که کانگریس ہائی کمان پر انکا کس قدر پربھاؤ ہے۔

کلدیپ شرما اور نرمل سنگھ دونوں ہی ہڈا کے بیحد نزدیکی مانے جاتے ہیں۔ بھوپیندر سنگھ ہڈا کے مقابلے بی جے پی نے رمیش کوشک کو اتارا ہے۔ ہریانہ کے چناووں میں30فیصدی جاٹ اور لگ بھگ25فیصدی براہمن ووٹ نرنائک بھومکا میں ہیں۔


2014لوک سبھا میں مودی لہر کے باوجود دیپیندر سنگھ ہڈا اپنی سیٹ بچا لے گئے تھے۔ روہتک سے لگاتار تین بار کے سانسد دیپیندر اپنے کام اور شرافت کا حوالہ دیکر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ بی جے پی نے روہتک سیٹ سے اروند شرما کو ٹکٹ دیا ہے جو کانگریس سے ہی بی جے پی میں آئے ہیں۔ کرنال میں وہ کانگریس کی سیٹ پر سانسد رہ چکے ہیں۔

بھوانی
کبھی چودھری بنسیلال کا مضبوط گڑھ مانے جانے والے بھوانی ضلعے میں بنسیلال کی پوتی شروتی چودھری2009میں اس سیٹ سے سانسد چنی گئیں تھی۔ لیکن2014میں یہاں دھرم ویر سنگھ نے بڑے انتر سے جیت درج کی تھی اور ایک بار پھر سے بی جے پی نے ان پر بھروسہ جتایا ہے۔ شروتی چودھری تیسرے نمبر پر رہی تھیں۔


بھوانیمہیندرگڑھ کو سنیکت لوک سبھا سیٹ بنائے جانے سے اس سیٹ کے نتیجوں کو بھامپنا اب پہلے جتنا آسان نہیں رہ گیا ہے۔ بھوانی ضلعے میں جاٹ متداتا زیادہ ہیں تو مہیندرگڑھ میں سب سے زیادہ تعداد یادو متداتاؤں کی ہے۔

مودی ورودھ یا مودی سمرتھن
لیکن اس بار بھاجپا اور کانگریس نے جاٹ امیواروں پر بھروسہ جتایا ہے اور انڈین نیشنل لوک دل(انیلود)اور اس سے ٹوٹ کر وجود میں آئی جننایک جنتا پارٹی(جیجیپی)دونوں نے ہی یادو امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ اس سے اس سیٹ کے سمیکرن بری طرح الجھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔


ہریانہ کی راجنیتی کے جانکاروں کا ماننا ہے که جیجیپی کی سواتی یادو اور انیلود کے بلوان سنگھ مکھیہ مقابلے سے باہر ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے آگے رہنے کی ہوڑ میں پرسپر ایک دوسرے کے ووٹ ہی زیادہ کاٹ رہے ہیں۔ انیلود2014میں یہاں دوسرے ستھان پر رہی تھی اور اس بار دونوں پارٹیوں کے ووٹر الگ ہونے کا فائدہ کانگریس یا بی جے پی کسی کو بھی ہو سکتا ہے۔

اس پورے علاقے میں متداتاؤں کا دھرویکرن مودی ورودھ یا مودی سمرتھن کو لیکر ہوتا لگ رہا ہے۔ حالانکہ ہر سیٹ پر بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں اور راشٹریہ مدعوں پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔

<a class=haryana election" class="imgCont" height="416" src="//media.webdunia.com/_media/hi/img/article/2019-05/11/full/1557552198-7869.jpg" style="border: 1px solid #DDD; margin-right: 0px; float: none; z-index: 0;" title="" width="740" />
سرسہ کا سمیکرن
سرسہ سیٹ کانگریس کے پردیش ادھیکش ڈاکٹر اشوک تنور کو ایک بار پھر سے میدان میں اتارے جانے کے کارن پردیش بھر کے لوگوں کا دھیان ضرور کھینچ رہی ہے,لیکن اور کسی امیدوار کی چرچا سرسہ سے باہر نہیں سنائی دے رہی۔

اشوک تنور نے بھوپیندر سنگھ ہڈا کو اپنے پکش میں جنسبھائیں کرنے کے لئے تیار کرکے جاٹ سمودائے میں بڑی سیندھ لگانے میں سپھلتا حاصل کی ہے۔ جاٹوں کے ووٹ یہاں پانچ لاکھ سے زیادہ ہیں۔ اس سیٹ پر بی جے پی سے سنیتا دغل امیدوار ہیں۔


حصار میں تین راجنیتک گھرانے ایک سیٹ پر
حصار سیٹ اس بار دلچسپ بنی ہوئی ہے۔ ہریانہ کے تین بڑے راجنیتک گھرانے اس بار چناؤ میدان میں ہیں۔ پورو اپ پردھان منتری دیوی لال کے پرپوتے دشینت چوٹالا اپنی سیٹ بچانے کے لئے میدان میں ہیں۔ وہیں بھجن لال کے پوتے بھویہ بشنوئی اس بار چناؤ لڑ رہے ہیں۔

ہریانہ کے پرمکھ نیتا سر چودھری چھوٹورام کے ونشج ایوں کیندریہ اسپات منتری چودھری بریندر سنگھ کے بیٹے برجیندر سنگھ بھی بی جے پی کا ٹکٹ لیکر مقابلے میں ہیں۔ یہاں مکھیہ مقابلہ کانگریس کے بھویہ بشنوئی اور نوگٹھت'جننایک جنتا پارٹی'کے دشینت چوٹالا کے بیچ ہی دکھائی دے رہا ہے۔


پچھلے لگ بھگ دو دشکوں کے دوران بھجن لال اور دیوی لال کے پریوار کئی مرتبہ'چناوی جنگ'میں آمنے سامنے ہو چکے ہیں۔ دونوں ہی پریوار کبھی جیت تو کبھی ہار کا منھ دیکھتے رہے ہیں۔ متداتاؤں نے کبھی بھجن لال پریوار کو سر ماتھے پر بیٹھایا تو کبھی دیوی لال پریوار کے سر پر جیت کا سہرا باندھا۔ پچھلی بار دشینت چوٹالا نے بھجن لال کے بیٹے کلدیپ بشنوئی کو لگ بھگ32ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا۔

حصار لوک سبھا سیٹ پر کبھی بھی کسی ایک پارٹی کا ورچسو نہیں رہا۔ یہاں کے متداتاؤں کی پسند سمیہ کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔


گوڑگاؤں اور فریداباد لوک سبھا سیٹ
گوڑگاؤں لوک سبھا سیٹ سے بھاجپا پرتیاشی راؤ اندر جیت سنگھ چھٹھی بار چناؤ لڑ رہے ہیں اور پچھلے پانچ چناووں میں انہوں نے چار بار جیت درج کی ہے۔ بی جے پی کی ٹکٹ پر وہ دوسری بار چناؤ لڑنے جا رہے ہیں۔ گوڑگاؤں سے وہ تیسری بار چناؤ لڑ رہے ہیں اور انکا ووٹ پرتیشت بھی پچھلے دو چناووں سے بڑھ رہا ہے۔

فریدآباد میں بھی بی جے پی نے اپنے سانسد کرشن پال گرجر کو پھر سے کانگریس کے اوتار سنگھ بھڑانا کے خلاف اتارا ہے۔ اس سیٹ پر آخری وقت میں کانگریس نے للت ناگر کا ٹکٹ کاٹ کر اوتار بھڑانا کو ٹکٹ دیا تھا۔ اس سے کانگریس کاریہ کرتاؤں میں ناراضگی بھی تھی۔ اسلئے یہاں بی جے پی بہتر ستھتی میں دکھ رہی ہے۔


ہریانہ کے گٹھن سے لیکر اب تک یہاں سے کیول پانچ مہلائیں ہی سنسد تک پہنچ پائی ہیں۔ اس بار کے لوک سبھا چناؤ میں11مہلائیں میدان میں ہیں۔ ان11میں سے سات تو نردلیہ ہی چناؤ لڑ رہی ہیں۔

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation