Loading...
لوک سبھا چناؤ2019 :ہماچل میں مٹھی بھر مسلمان,کس سے خوش,کس سے ناراض| Webdunia Hindi

لوک سبھا چناؤ2019 :ہماچل میں مٹھی بھر مسلمان,کس سے خوش,کس سے ناراض

himachal muslim
Last Updated: سوموار, 13مئی2019 (22:38 IST)
-آدرش راٹھور(منڈی کے ڈنک گاؤں سے)

ہمالیہ کی گود میں بسے بھارت کے اتری راجیہکو مندروں اور تیرتھ ستھانوں کے لئے جانا جاتا ہے۔ وارانسی سے چناؤ لڑ رہے پردھان منتری نریندر مودی نے شکروار کو منڈی میں جنسبھا کو سمبودھت کرتے ہوئے ستھانیہ منڈیالی بولی میں کہا میں ایک بار پھر بڑی کاشی سے یہاں چھوٹی کاشی میں آپ کا اور دیوی دیوتاؤں کا آشیرواد لینے آیا ہوں۔

ہماچل پردیش ہندو بہل راجیہ ہے اور یہاں پر انیہ دھرموں کو ماننے والوں کی سنکھیا بہت کم ہے۔2011کی جنگننا کے آنکڑوں کے مطابق ہماچل میں95.17%ہندو اور اسکے بعد2.18%تھے۔ منڈی ضلعے میں ہندو98.16 %اور مسلم ماتر0.95 %ہیں۔

ہماچل پردیش میں کبھی کوئی مسلم ودھایک نہیں رہا اور نہ ہی کسی کو لوک سبھا میں پرتندھتو کا موقع مل پایا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس جیسی مکھیہ پارٹیوں کے الپ سنکھیک مورچوں میں مسلم ہیں مگر ستھانیہ نکائے چناووں سے عطر کسی کو پارٹی نے ودھان سبھا یا لوک سبھا چناؤ میں نہیں اتارا۔
مگر کانگریس نے کبھی مسلم امیدوار کو موقع دینے کے بارے میں وچار کیوں نہیں کیا,اس بارے میں ہماچل پردیش کانگریس ادھیکش کلدیپ سنگھ راٹھور بتاتے ہیں که اسکی بڑی وجہ ونیبلیٹی ہے۔ انہوں نے کہا, "ہماری پردیش کانگریس کمیٹی میں مسلم سدسیہ ہیں اور پدوں پر نیکت ہیں۔ جہاں تک چناؤ کی بات ہے,اس میں امیدواروں کی جیتنے کی سنبھاونائیں دیکھی جاتی ہیں۔ اس کارن کبھی ایسا ہو نہیں پایا۔"
ہماچل پردیش میں آزادی کے پہلے سے مسلم آبادی رہتی ہے۔ کچھ لوگ وبھاجن کے سمیہ پاکستان چلے گئے مگر بہت سے لوگ نے یہیں پر رہے۔ منڈی ضلعے کی بات کریں تو یہاں سندرنگر کے پاس چار گاؤں ایسے ہیں جہاں پر مسلم آبادی کا گھنتو زیادہ ہے۔ انھیں میں سے ایک گاؤں ہے ڈنک جہاں مسلموں کی آبادی لگ بھگ4سے5ہزار کے لگ بھگ ہے۔

ڈنک گاؤں ڈگرائی پنچائت کے تحت آتا ہے۔ اس پنچائت کی مکھیہ آبادی انوسوچت جاتی اور مسلم سمودائے کے لوگوں کی ہے اور اس میں بھی مسلموں کی سنکھیا ادھک ہے۔ پاس ہی ڈڈوہ اور ڈھابن گاؤں بھی ہیں,جہاں پر مسلم آبادی ہے۔ ہم نے منڈی لوک سبھا سیٹ کے تحت آنے والے اس گاؤں میں جاکر لوگوں سے سمجھنا چاہا که ہماچل پردیش میں رہنے والے مسلم اس لوک سبھا چناؤ کو کس طرح سے دیکھتے ہیں اور مودی سرکار کے پچھلے پانچ سال کے کاریہ کال کو لیکر انکی رائے کیا ہے۔
منڈی سے سندرنگر کی اور مکھیہ سڑک پر19کلومیٹر چلنے کے بعد کنیڈ نام کی جگہ سے بائیں اور کو ایک لنک روڈ جاتا ہے۔ گھنے پیڑوں سے ہوتی ہوئی یہ سڑک ایک نالے کے بغل میں چلنے لگےگی اور آگے آپ کو میدانی علاقے میں کھیتوں کے بیچ لے جائیگی۔ یہ بلہ گھاٹی کا سب سے اپجاؤ شیتر ہے۔ جب ہم پہنچے تو ایک اور گیہوں کی کٹائی چل رہی تھی تو دوسری اور دور تک ٹماٹر کے پودھوں کے لئے لگائی گئی بانس کی بلیاں نظر آ رہی تھیں۔
دوپہر کا سمیہ تھا اور گرمی چرم پر تھی۔ دھوپ بیشک تیز تھی مگر ہوا میں ٹھنڈک برقرار تھی۔ گاؤں کی اکھڑی ہوئی دھول بھری ویران سڑک ہمیں گاؤں کے مڈل سکول تک لے گئی۔ اسکے ساتھ ہی پنچائت بھون تھا۔ جمے کی نماز کا سمیہ تھا تو ہم نے سوچا که کیوں نہ پاس کی ہی مسجد کی اور چلا جائے,جہاں پر نماز پڑھکر لوٹ رہے لوگوں سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ سامنے ایک شخص سے مسجد کا پتہ پوچھ کر ہم کچی سڑک پر بڑھ چلے۔

یہ مسجد دیکھنے میں سامانیہ سے حل کی طرح تھی۔ نہ کوئی مینار,نہ کوئی بورڈ۔ لوگ جمے کی نماز پڑھنے کے بعد مسجد سے نکلے۔ سامنے کی اور سے پرش اور پیچھے کی اور سے بنے دروازے سے مہلائیں اور لڑکیاں باہر نکلیں۔ اپنے سامنے مائک اور کیمرہ دیکھ لوگ ٹھہرے اور کوتہل سے دیکھنے لگ گئے مگر بات کرنے سے شرماتے رہے۔ اس دوران ایک لمبے سے امردراز شخص سامنے آئے اور پوچھا که آپ بی بی سی سے ہیں؟
وہ بتانے لگے که ہر روز وہ بی بی سی ورلڈ دیکھتے ہیں۔ وہ بڑے اتساہ سے بات کرنے کے لئے تیار ہوئے۔ انہوں نے اپنا پرچیہ حلیم انصاری کے طور پر دیا۔

اس سے پہلے که میں ان سے کوئی سوال کرتا,خود کہنے لگے, "ہماری پنچائت کی خاص بات یہ ہے که یہاں الپ سنکھیکوں اور انوسوچت جاتی کے لوگوں کی سنکھیا ادھک ہے اور دونوں میں اچھے رشتے ہیں۔ یہاں پنچائت چناؤ میں پردھان کی سیٹ مہلا کے لئے آرکشت تھی اور السپنکھیکوں کے ووٹوں سے ریتا دیوی پردھان چنی گئی ہیں۔"
انہیں بولتا دیکھ آس پاس اور لوگ بھی جٹ گئے اور لوگوں نے کھل کر بات کرنا شروع کر دیا۔ اسکے بعد بغل کی ہی جامع مسجد میں آئے لوگوں سے بھی بات ہوئی اور انہوں نے اپنی سمسیاؤں,چنوتیوں اور امیدوں پر کھل کر بات کی۔

himachal muslim
مودی سرکار کے پانچ سال کیسے رہے؟
جس طرح سے ان لوک سبھا چناووں میں بھارتیہ جنتا پارٹی پلوامہ حملے,بالا کوٹ اییرسٹرائک اور راشٹریہ سرکشا جیسے مدعوں پر چناؤ لڑ رہی ہے,وہیں پردھان منتری نریندر مودی لگاتار گاندھی پریوار کے اتہاس کا ذکر کرکے کانگریس پر نشانہ سادھ رہے ہیں۔
وپکشی دلوں کے نیتاؤں کی بھاشا بھی آکرامک ہی رہی ہے۔ راہل گاندھی رفال مدعے کو اٹھاتے ہوئے'چوکیدار چور ہے'کا نعرہ لگاتے ہوئے پرچار میں جٹے ہیں۔ اس بیچ جنتا سے جڑے اصل مدعوں پر بات کم ہی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ تو اس پورے چناؤ کو ہماچل کے مسلم کس طرح سے دیکھ رہے ہیں؟

گاؤں کے بزرگ حلیم انصاری کہتے ہیں, "دیکھیئے,جنتا کے بنیادی مدعوں,وکاس,آل اینڈ آرڈر اور دیش کی سرکشا پر کوئی بات نہیں رہی ہو رہی۔ تو تو,میں میں ہو رہی ہے اور بیوجہ اتہاس کے ان ہسو کو اجاگر کیا جا رہا ہے جن کا بھارت کی جنتا کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ راجیو گاندھی نوسینا کے جہاز پر چھٹی منانے گئے تھے یا آدھکارک روپ سے,اس مدعے کو اٹھانے سے نوجوانوں کے مدعے حل نہیں ہو نگے۔ سبھی پارٹیوں کو دیکھیں تو لگتا ہے که وار آف ٹائٹن ہو رہا ہے۔ دیش کی جنتا کی تو بات ہی نہیں ہو رہی۔"
یہ جواب دینے والے حلیم انصاری وبھن دیشوں میں رہ کر اب اپنے گاؤں میں رہ کر ساماجک کاریوں میں جٹے ہیں۔ انکی طرح اس گاؤں میں بہت سے لوگ ہیں جو کام کے سلسلے میں ودیش میں رہتے ہیں اور بہت سے لوٹ کر اب گاؤں میں رہی رہتے ہیں اور کھیتیباری سے جڑے ہوئے ہیں۔ ماجد علی بھی انہیں میں سے ایک ہیں۔ وہ مودی سرکار کے کاریہ کال کو پہلے کی سرکاروں جیسا ہی سامانیہ مانتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں, "کوئی نیا کام نہیں ہوا۔ نارمل کام ہوا ہے,جیسا پچھلی سرکاروں کا تھا۔ ہمارا گاؤں الپ سنکھیکوں کا گاؤں ہیں۔ بچوں کے لئے کوئی سپیشل چیز نہیں آئی۔ کانگریس کے سمیہ وظیفہ ملتا تھا,وہ بھی نہیں ملا۔ نوکریاں نہیں ہیں۔ ہم نے گزارش کی تھی که ہم میں بھی جاتیاں ہیں۔ تیلی ہیں,کمہار ہیں,موچی ہیں کیونکہ ہم میں سے ادھکتر کنورٹیڈ ہیں۔ جس جاتی کو ہندو ہونے کے کارن آرکشن ملتا ہے,ہمارے یہاں اسی جاتی کے شخص کو آرکشن نہیں ملتا۔ ہماری شکایت یہی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ اس کارن بوڑھے ہو گئے ڈگریاں لئے ہوئے۔ گھر پر ہی رٹائر ہو گئے۔"
گاؤں کے ہی ایک یووک عمران خان نے کہا, "ہمارے گاؤں میں بیروزگاری بہت ہے۔ سب کسان ہی ہیں۔ بچے پڑھائی کرکے بیٹھے ہیں مگر نوکریاں نہیں ہیں۔ سرکار کی اور سے قدم نہیں اٹھائے گئے۔ آرکشن ہمیں ملتا نہیں اور پرائیویٹ نوکریوں کا یہاں سکوپ نہیں ہیں۔"

مودی سرکار کے پانچ سال کے کاریہ کال پر ماجد علی کہتے ہیں, "پروپگینڈا بہت ہے,اتنا کام نہیں ہوا ہے۔ سرجکل سٹرائک پر اتنا زیادہ بولا گیا که شائد ہی کوئی بات اتنی بولی گئی ہو۔ یہ تو سینا کا کام ہے اور وہ اچھا کام کر رہی ہے۔ مودی جی کیوں شرییہ لیں؟ سینا جانتی ہے که پہلے کتنی ہوئی ہونگی۔ مگر انہوں نے سینا کے کام کو ساروجنک کر دیا۔ اگر کوئی اتنی بڑی سرجکل سٹرائک ہوئی ہوتی تو ایک بھی آتنکوادی نہ آتا,پلوامہ نہ ہوتا,پٹھانکوٹ نہ ہوتا۔ سرکار نے گراؤنڈ پر کوئی کام نہیں کیا ہے,جملیبازی ہے۔ لوگوں کی اس پر اپنی رائے ہوگی,مگر میرا یہ ماننا ہے۔"
کیندر کی یوجناؤں کا لابھ ہوا یا نہیں
شبیر محمد کافی دیر سے کچھ کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سے پہلے که میں ان سے پوچھتا,وہ خود بولنے لگے که کیندر نے جو2000روپے دینے تھے کسانوں کو,وہ بھی نہیں مل رہے۔

شبیر گیہوں اور ٹماٹر کی کھیتی کرتے ہے۔ وہ کہتے ہیں, "25لوگوں کا فارم پہلے واپس آئے تھے,اب ہم40لوگوں کے آ گئے۔ ہم20-20بار بینک جاکر چیک کر آئے که پیسے آئے ہو نگے,مگر کچھ آیا نہیں۔ پنچائت میں پوچھا بولنے لگے که رجیکٹ ہو گئے فارم۔ ہم نے پوچھا که کیوں ہوئے,کیا کوئی کمی تھی؟ تو کہتے ہیں اسکا ہمیں نہیں پتہ۔"
وہاں موجود اور لوگوں نے بھی انکی بات کا سمرتھن کیا۔ ذاکر حسین کنسٹرکشن کے کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں, "یہاں پیسے تو کسی کے نہیں آئے,فارم رجیکٹ ہو گئے مگر پیسے نہیں آئے۔ اپچارکتائیں پوری تھی مگر جن کے فارم رجیکٹ ہوئے,انہیں بتایا نہیں گیا که ایسا کیوں ہوا۔ بینک والے کہتے ہیں که پیسے آئے تھے مگر واپس ہو گئے ہیں۔"

گاؤں کے شوکت علی دوکان چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں که سوچھتا ابھیان تک کا اثر یہاں دیکھنے کو نہیں ملا۔ گٹر اور گھروں کی نالیوں کا پانی سڑک پر آ رہا ہے مگر اس پر کام نہیں ہو رہا۔
وہ کہتے ہیں, "سانسد کوئی بھی ہو,کسی بھی پارٹی کا ہو کام ہونا چاہئیے۔ سب کا ساتھ,سب کا وکاس کی باتیں ہوئیں مگر وکاس تو سب کا نہیں ہوا۔ مسلانوں کے علاقوں میں وکاس کے نام پر کام نہیں ہوا۔ ہمارے بچوں کو نوکری نہیں مل رہی,ہمیں سودھائیں نہیں مل رہیں۔ پڑھے لکھے بچے بیروزگار گھوم رہے ہیں۔ کھیتوں میں کام کر رہے ہیں۔ اور کھیتوں میں اگر سوکھے کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے,اسکی بھی کوئی سدھ نہیں لیتا۔"
نیتاؤں سے ناراضگی
ڈنک گاؤں کے لوگوں کو سب سے بڑی سمسیا اپنے گاؤں کی سڑکوں کی لگتی ہے۔ جس کسی سے بھی ہم نے بات کی,اسنے سڑک کا ذکر ضرور کیا۔ چونکہ یہاں کے لوگوں کا مکھیہ کام کھیتیباری ہے,اسلئے فصلوں کو ڈھونے اور سامان لانے لے جانے میں تنگ اور اکھڑی ہوئی سڑکوں سے دقت ہونا لازمی ہے۔
himachal muslim
وہ ناراض ہیں که نیتا یا تو انکے گاؤں آتے نہیں اور جو آتے ہیں,وہ سمسیاؤں کو سلجھانے کو لیکر گمبھیر نہیں ہوتے۔ حلیم انصاری کہتے ہیں که انہوں نے سانسد ندھی سے کوئی کام اپنی پنچائت میں ہوتے نہیں دیکھے اور انہوں نے پانچ سالوں میں سانسد کو اپنے علاقے میں دیکھا بھی نہیں۔ ودھایک کو لیکر انہوں نے کہا که وہ راجنیتک مدعوں کو اٹھانے آتے ہیں مگر سمسیاؤں کو پوچھنے نہیں آتے۔
منڈی سے موجودہ سانسد بی جے پی کے رامسوروپ شرما ہیں۔ یہ پنچائت ناچن ودھان سبھا شیتر کے تحت آتی ہے جہاں سے ودھایک بی جے پی کے ہیں۔ ڈگرائیں پنچائت کے وارڈ نمبر پانچ کے سدسیہ عبدل فاروق بھی اسنتوش جتاتے ہوئے کہتے ہیں که سانسد نے ریل لانے جیسے کئی سارے وعدے کئے تھے جو پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا که ودھایک پنچائت میں پیسے دیتے ہیں مگر ورودھیوں کو نہیں۔

وہ کہتے ہیں, "جس راستے سے آپ آئے ہیں,وہ دو تین پنچایتوں کو چھوتا ہے۔ ہماری پنچائت کا سسٹم ایسا ہے که ہم پیسے کو سڑک کے کاموں میں استعمال نہیں کر سکتے۔ چاہ کر بھی کام نہیں کروا سکتے۔ لوگوں نے بدلاؤ کے لئے سمیہ دیا تھا پانچ سال کا۔ کون سا وعدہ پورا کر پائے ہیں؟ نہ روزگار دیا,نہ100سمارٹ سٹی بنے,نہ رام مندر بنا نہ گنگا کی صفائی ہوئی۔ اب کہہ رہے که پکوڑے تلو۔"
محمد خالق کھیتی کرتے ہیں۔ انکی نراشا اس بات سے ہے که چناؤ کے اس ماحول میں کوئی بھی پارٹی یہاں نہیں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں, "کوئی پارٹی نہیں آ رہی بات کرنے کو۔ جو آتے ہیں وہ ووٹ مانگنے آتے ہیں اور پھر درشن دینے نہیں آتے۔"وہیں ایک انیہ بزرگ محمد صفی کی شکایت تھی که سڑک کے لئے آئے پیسے کا دراپیوگ ہوتا ہے اور پھر جو لوگ سڑکوں پر اتیکرمن کر رہے ہیں,اس پر بھی کوئی روک نہیں ہے۔
کیا دیش میں ماحول بدل گیا ہے؟
محمد شفیق سینا میں رٹائرڈ ہیں اور اب گاؤں میں ہی رہ کر کھیتی باڑی کرتے ہیں۔1971کی بھارت پاک جنگ میں حصہ لے چکے شفیق دیش میں گورکشا کے نام پر ہنسا,ماب لنچنگ اور راجنیتی میں سامپردائک دھرویکرن کو لیکر چنتا جتاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں, "یہ جو گھٹنائیں ہو رہی ہیں بہت دکھدایی ہیں۔ ہم بھی اسی ملک کے باشندے ہیں۔ ہم بھی آرمی میں تھے۔17سال سینا میں رہا اور بانگلادیش کو ہم نے آزاد کروایا۔ مسلمانوں کا ہاتھ دیش کی آزادی میں بھی رہا ہے۔ مگر جب دھرم کو لیکر ایسی باتیں ہوتی ہیں که آپ مسلم ہیں,ہندو ہیں,سکھ ہیں;اس سے بہت دکھ ہوتا ہے۔"
اسی گاؤں میں رہنے والے نور احمد ندوی کہتے ہیں که ہماچل پردیش میں تو ماحول ٹھیک ہے,مگر دیش میں پچھلے پانچ سالوں کی گھٹناؤں سے مسلموں کے اندر ڈر ہے۔

وہ کہتے ہیں, "ان چیزوں کو دیکھ کر بھے ہوتا ہے۔ ہندستان میں پانچں سال کے اندر کی گھٹناؤں سے مسلموں میں ڈر ہے۔ سرکار آتی ہے جنتا کی رکشا کے لئے۔ مگر الرٹا لوگوں میں خوف ہو جائے تو کیا سمجھینگے که سرکار کیا کر رہی ہے۔ رہی ہماچل کی بات یہ شانتپریہ پردیش ہے۔ یہاں ہندو مسلم جیسی بات نہیں ہے,پیار محبت ہے۔"
ہماچل میں بھی پچھلے دنوں کچھ ایسی گھٹنائیں دیکھی گئی تھیں,جن میں کچھ ہدتووادی سنگٹھنوں کے کاریہ کرتاؤں نے مسلموں کو نشانہ بنایا تھا۔ کانگڑہ ضلعے کے نگروٹا میں انیہ پردیشوں سے آ کر دوکان چلا رہے یووکوں کی پٹائی ہوئی تھی وہیں پلوامہ کے حملے کے بعد پالمپر میں کشمیری یووکوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تو کیا یہ گھٹنائیں دیش کی انیہ گھٹناؤں سے الگ ہیں؟ اس پر ندوی کہتے ہیں, "یہاں چھوٹی موٹی گھٹنائیں ہوئی ہیں مگر ہماچل کی حکومت نے ان پر ایکشن لیا ہے,شانتی بنائے رکنے کے لئے کام کیا ہے۔ مگر مسلموں کے اندر حالات کو دیکھ کر ڈر تو ہوتا ہے ہی ہے۔"
سب سے بڑی شکایت کیا؟
یہاں کے لوگوں میں تین طلاق کے وشیہ کو لیکر بھی ناراضگی دکھی۔ لوگوں کا کہنا تھا که اس مدعے کو اٹھاکر اس طرح کی چھوی بنائی گئی که مسلم عورتوں پر ظلم کرتے ہیں۔ ماجد علی کہتے ہیں که جس پرکریا کی بات کرکے تین طلاق کو لیکر قانون بنایا گیا,اسلام میں وہ ہے ہی نہیں۔ اگر کوئی ایمسئیمئیس کرکے,فون پر اور شراب پیکر ہڑدنگ کر رہا ہے وہ تو جرم ہے,طلاق نہیں۔ وہ کہتے ہیں, "یہ ہمارے دھرم پر پر ہار ہے۔"
تین طلاق اور اس پورے مسئلے پر ہم مہلاؤں سے بات کرنا چاہتے تھے,مگر ہمیں اس گاؤں میں مہلائیں کم دیکھنے کو ملیں۔ جو مہلائیں مدینہ مسجد میں نماز پڑھنے آئی تھیں,وہ بھی ترنت گھروں کی اور چل دیں۔ سکولوں سے کچھ بچیاں ضرور سائیکل اور سکوٹی سے اپنے گھر کی اور بڑھتی دکھیں۔

اس سمبندھ میں جب ستھانیہ لوگوں سے بات کرنی چاہئیے تو انکا کہنا تھا که مہلائیں بات کرنے سے ہچکینگی اور پھر رمضان کے مہینے میں روزہ رکھا ہونے کے کارن وہ گھر پر ہی ہیں۔
ماجد علی اسی وشیہ پر بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں که پہلے یہاں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں تھا مگر10-20سال سے ماحول بتلا ہے۔ وجہ پوچھنے پر بتاتے ہیں, "یہاں10-20سال پہلے تک لڑکیوں کو نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ لڑکے تک نہیں پڑھتے تھے۔ سکول دور دور تھے۔ مگر اب حالات بدلے ہیں۔ بیٹیاں ڈاکٹر ہیں,بی ڈی او ہیں,انجنیر ہیں,انہوں نے ایم ایس سی کی ہے۔ مگر افسوس که لوگوں کا رجحان کم ہو رہا ہے۔ لوگوں نے اسلئے بچوں کو پڑھنا شروع کیا تھا که نوکری کرینگے,انکا بھوشیہ اچھا ہوگا مگر نوکریاں ہیں نہیں۔ لوگ بچوں کی پڑھائی کے لئے زمین کے بدلے قرض رکھتے ہیں,نوکری ملتی نہیں ہیں اور زمین نیلام ہوتی ہے۔ پھر سوچتے ہیں که کیا فائدہ۔"
تو پھر اس بار کے چناؤ میں ووٹ کس حساب سے دینگے؟ اس پر ذاکر حسین نام کے شخص کہتے ہیں, "ملک کی ترقی کون کریگا,کون ہمارے سمودائے کے لئے اچھا کام کریگا,اس حساب سے ووٹ دینگے۔ پانچ سال میں کچھ خرابیاں آئی ہیں تو کچھ اچھائیاں بھی ہیں۔"

کیا اچھائیاں ہیں اور کیا برائیاں,اس سوال پر انہوں نے کہا, "خرابیاں جیسے که یوپی میں لوگوں سے مارپیٹ کہتے ہیں۔ ہماچل میں ایسی دقت نہیں ہے مگر باہر حالات خراب ہوئے ہیں۔ اچھائیاں یہ ہیں که ہماچل میں پرشاسن نے ہماری اچھی دیکھ ریکھ کی ہے۔ ہماچل میں دقت نہیں ہے۔ مگر نوکریاں ہیں نہیں اور زمینداری پر فوکس کرنا پڑ رہا ہے۔"

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation