Loading...
وہ کھوج جس نے لاکھوں سمندری جہازوں کو بچایا| Lighthouse for Sea Ship | Webdunia Hindi

وہ کھوج جس نے لاکھوں سمندری جہازوں کو بچایا

Lighthouse
پن سنشودھت گرووار, 11جولائی2019 (12:44 IST)
-ایڈرین برنہارڈ(بی بی سی ٹریول)

"جو میں رومن کیتھولک ہوتا تو شائد اس اوسر پر مجھے کسی سنت کے لئے چیپل بنانے کا سنکلپ لینا چاہئیے تھا,لیکن چونکہ میں وہ نہیں ہوں اسلئے اگر مجھے کوئی سنکلپ لینا ہے تو وہ ایکبنانے کا سنکلپ ہوگا۔"-بینجامن فرینکلن,جولائی1757
لائٹ ہاؤس صدیوں سے جہازوں کو بندرگاہ تک پہنچنے کا راستہ دکھاتے رہے ہیں۔ پہلے پہاڑیوں کے اوپر آگ جلاکر سمندری جہازوں کو سنکیت دیا جاتا تھا که وہ تٹ کے قریب پہنچنے والے ہیں۔ بعد میں کوئلے اور تیل کے لیمپوں نے انکی جگہ لے لی۔ لیمپوں کی روشنی بڑھانے کے لئے آئینے لگائے جاتے تھے تاکہ دور سمندر سے ہی وہ دکھائی پڑے۔

لیکن اندھیری اور طوفانی راتوں میں لیمپ کی روشنی کارگر نہیں تھی,اسلئے تٹوں پر نوکاؤں کے ٹوٹے ہوئے پتوار اور پال بکھرے ملتے تھے,کیونکہ انکے ناوک سمیہ رہتے تٹ کو نہیں دیکھ پاتے تھے۔
نئی کھوج
1820کے دشک میں یہ سب بدل گیا جب ایک فرانسیسی بھوتک وگیانی آگسٹن فریسنیل نے نئے طرح کے لینس کا آوشکار کیا۔ انہوں نے کرسٹلیہ پر جم کے رنگ کو گمبد کی آکار میں ویوستھت کیا جو اپراورتت پرکاش کو بھی پراورتت کر سکتی تھی۔

فریسنیل نے اس لینس کو فرانس کے کارڈون لائٹ ہاؤس پر لگایا۔ یہ لائٹ ہاؤس بارڈیکس سے قریب100کلومیٹر اتر گرونڈے مہانے پر بنا ہے۔ فریسنیل لینس لگانے کے بعد لائٹ ہاؤس کا لیمپ کئی سمندری میل دور سے ہی ناوکوں کو راستہ دکھانے لگا۔
فرانس کا سب سے پرانا اور چالو لائٹ ہاؤس کھلے سمندر میں بنا دنیا کا پہلا لائٹ ہاؤس ہے۔ سفید پتھروں سے بنی اسکی عمارت پنرجاگرن کال کی ادبھت کرتی ہے,جسمیں کیتھیڈرل,قلعہ اور شاہی نواس ہیں۔ اسے"سمندر کا ورسائے"بھی کہا جاتا ہے اور یہ اتہاس اور سمندری انجینئرنگ کا سمارک ہے۔

سمندر کا ورسائے
فرانس کے سنسکرتی منترالیہ نے1862میں اسے اتہاسک سمارک گھوشت کیا تھا۔ اسی سال پیرس کے ناٹر ڈام کو بھی سمارک گھوشت کیا گیا تھا۔ کارڈون لائٹ ہاؤس تک کیول ناؤ سے پہنچا جا سکتا ہے۔ سیڑھیاں اس کے اوپر تک لے جاتی ہیں,جہاں سے پریٹکوں کو فرانس کی وراثت کے بارے میں ادبھت جانکاریاں ملتی ہیں۔
میڈاک اٹلانٹک دکشن پچھمی فرانس کا سمردھ علاقہ ہے جو انگور کے بگانوں,وائن اور محلوں کے لئے مشہور ہے۔ کچھ ہی سیلانی بارڈیکس کے اتر میں سینٹ پیلیس سرمیر شہر پہنچتے ہیں۔ اس انگھتے ہوئے شہر میں کارڈون لائٹ ہاؤس کی فکر کم ہی لوگوں کو ہے۔

سمندر تٹ پر بنے کیفے تازی مچھلیاں اور نیوٹیلا کریپس بناتے ہیں,جو ستھانیہ لوگوں کی پسند ہیں۔ کئی لوگ ناؤ سے سینٹ جیکس کے چکر لگاتے ہیں اور دیودار کے جنگلوں میں گھومتے ہیں۔
دن میں ایک بار ایک کٹمرین(بڑی ناؤ)پورٹ راین سے سواریوں کو لیکر لائٹ ہاؤس کی طرف جاتی ہے۔ شہر جب دھیرے دھیرے اوجھل ہونے لگتا ہے تو لائٹ ہاؤس دکھنے لگتا ہے۔ کئی لوگ اب بھی حیران رہ جاتے ہیں که بیچ سمندر میں ایسا شاندار شو پیس کیوں بنایا گیا۔

بیجوڑ واستشلپ
واستو میں کارڈون لائٹ ہاؤس کا بیجوڑ واستشلپ ایک لمبے اور اتھل پتھل بھرے اتہاس کا پرنام ہے۔ کہا جاتا ہے که یہاں کے ایک چھوٹے ٹاپو پر9ویں صدی کی شروعات سے ہی ایک چھوٹی پرکاش ویوستھا موجود تھی,جب شارلیمین(چارلس مہان)نے یہاں روشنی کرنے کا آدیش دیا تھا۔
بلیک پرنس(ایڈورڈ آف ویلس)نے1360میں یہاں ٹاور بنوایا تھا۔ دو سو سال بعد1584میں کنگ ہینری ترتیہ نے گرونڈے کے مہانے پر لائٹ ہاؤس بنوایا۔ ہینری ترتیہ اپنے شاہی رتبے کے انوروپ شاندار ٹاور چاہتے تھے,جو ایڈورڈ کے بنائے ٹاور کے کھنڈہر کی جگہ لے سکے۔

انہوں نے پیرس کے مشہور واستکار لئی ڈی پھواں کو لائٹ ہاؤس کے ساتھ ساتھ شاہی نواس,رکھوالوں کے کوارٹر,ایک بڑا لیمپ اور چیپل بنانے کے آدیش دیئے۔ دھارمک لڑائیوں اور کئی طرح کے وتیہ اور تکنیکی چنوتیوں کے کارن نرمان کاریہ دھیما رہا,لیکن لئی ڈی پھواں اپنے کام میں لگے رہے۔ ہینری ترتیہ کے ندھن کے بعد بھی کام چلتا رہا۔
1611میں اٹلانٹک اور گرونڈے کے سنگم کی اور جانے والے ناوکوں نے پہلی بار67.5میٹر اونچے شاندار لائٹ ہاؤس کو دیکھا۔ ہوادار جھروکھوں کے بیچ سے ہوتے ہوئے300سے زیادہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا جا سکتا تھا۔ جہازوں کے کپتان شائد اسکے سب سے اوپری گیلری ڈیک پر چڑھنے سے پہلے چیپل ناٹر ڈام ڈی کارڈون میں اپنے جہازوں کی سرکشت یاترا کے لئے پرارتھنا کرتے ہو نگے۔
Lighthouse
لائٹ ہاؤس کا ایندھن
لائٹ ہاؤس کو پہلی بار پہلی بار1611میں جلایا گیا تھا۔ تب ایندھن کے لئے ٹار,پچ اور لکڑی کا استعمال کیا گیا۔1640کے دشک کے مدھیہ میں ایک طوفان سے کارڈون کی پرکاش ویوستھا دھوست ہو گئی۔ تب یہاں وہیل کی چربی کے تیل سے جلنے والے لالٹین لگائے گئے اور اسے دھاتو کے بیسن کے اوپر رکھا گیا۔
اس سے لالٹین کی لو پر نینترن بڑھا لیکن اس سے کم روشنی آتی تھی۔18ویں صدی میں وہیل کے تیل کی جگہ کوئلے کا پر یوگ شروع کیا گیا,لیکن اسکی روشنی کو بنائے رکھنا مشکل تھا۔ رکھوالوں کو باربار ایندھن لیکر اوپر جانا پڑتا تھا اور بھٹی میں کوئلہ جھونکنا پڑتا تھا۔

1782میں تیل کے لالٹین اور تامبے کے رپھلیکٹر لگائے گئے جس سے رکھوالوں کو باربار اوپر نہیں جانا پڑتا تھا۔18ویں صدی کے انت میں گھڑی بنانے والے کاریگروں نے گھڑی کی پرنالی کا ہی استعمال کرکے گھومنے والا لائٹ بنا دیا۔ اس طرح یہ دنیا کا پہلا گھومنے والا لائٹ ہاؤس بن گیا۔
شانت موسم میں تیل سے جلنے والے لیمپ ناوکوں کی پریاپت مدد کرتے تھے,لیکن انکی روشنی اتنی تیز نہیں تھی که طوفانی راتوں میں بھی ناوکوں کی مدد کر سکیں۔

راج شاہی کے پرتیک
1789کی فرانسیسی کرانتی کے بعد فرانس کی پرانی سامنتی ویوستھا کے ہر پرتیک کو مٹانے کی کوشش ہوئی۔ کارڈون کے اندر بنی شاہی مورتیوں اور راج شاہی کو سمرپت شلالیکھوں کو بھی مٹا دیا گیا۔
شلپکار لئی ڈی پھواں کی مورتی کو چھوڑ دیا گیا۔ یہ بھاری بھرکم مورتی پرویش دوار کے پاس آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ پرانے پرتیکوں کو مٹانے کے ساتھ ساتھ اس لائٹ ہاؤس کی اپیوگتا سدھارنے اور اسکی روشنی کو دور تک پہنچانے کے لئے بڑے پیمانے پر کام شروع کئے گئے۔

شاندار کھوج
19ویں صدی میں آپٹکس(پرکاشکی)ایک ابھرتا ہوا شیتر تھا۔ ڈچ بھوتک وگیانی کرشچین ہائگینس نے پرکاش کا سدھانت دیا تھا,جسکے مطابق پرکاش ترنگوں کے روپ میں چلتا ہے۔ وگیانک اس سدھانت سے پرچت تھے,لیکن کئی لوگوں کو سندیہ بھی تھا۔ آگسٹن فریسنیل نے ہائگینس کے سدھانت کو پربھاوی طریقے سے ثابت کیا۔
نے پتہ لگایا که چھوٹے چھوٹے اتل(convex)پر جموں کو مدھو مکھی کے چھتے کے آکار میں جوڑکر وہ پرکاش کی ترچھی کرنوں کو صحیح دشا میں موڑ سکتے ہیں۔ فریسنیل کی ویوستھا جیامتیہ پرکاشکی کے ایک پرمکھ سدھانت پر آدھارت تھی۔ اسکے مطابق جب پرکاش کی کرن ایک مادھیم سے دوسرے مادھیم میں پرویش کرتی ہے(جیسے ہوا سے کانچ میں اور پھر کانچ سے ہوا میں)تو اسکی دشا بدل جاتی ہے۔
فریسنیل لینس کی سنکیندرت ویوستھا اور پرکاش کے"دشا پرورتن"نے لائٹ ہاؤس کی روشنی کو اسکے ثروت سے بھی بہت تیور بنا دیا۔ اسکی چمک کو اب بہت دور سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ فریسنیل نے اس ویوستھا کو کارڈون لائٹ ہاؤس پر لگایا,جو فرانس میں پہلے سے ہی بہت مہتوپورن تھا۔

کارڈون کے پاس کا شیتر آڑے ترچھے سمندر تٹ اور(ناوکوں کو)دھوکا دینے والے چٹانی ابھار کے لئے جانا جاتا ہے۔1860کے دشک تک چھوٹے بندرگاہوں سے لیکر بڑے سمندری لائٹ ہاؤس تک ہزاروں جگہ فریسنیل لینس لگا دیئے گئے۔
کارڈون کے رکھوالے
کارڈون لائٹ ہاؤس کے چار سنرکشک ہیں,لیکن ایک ساتھ دو سنرکشک ہی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔ ہر پکھواڑے انکی ڈیوٹی بدل جاتی ہے۔ انھیں سنرکشکوں میں سے ایک مکیل نیوو کہتے ہیں, "ہر لائٹ ہاؤس کی اپنی وشیشتا ہوتی ہے۔"

کارڈون لائٹ ہاؤس کی روشنی جلتی بجھتی رہتی ہے۔ فریسنیل لینس کی اور اشارہ کرتے ہوئے نیوو کہتے ہیں, "ہر12سیکنڈ میں یہاں کی روشنی3بار جلتی ہے۔"کارڈون کا لینس گھومنے سے اسکا پینل سنکریدت روشنی کا بیم بناتا ہے جو کئی میل دور ناوکوں تک پہنچتا ہے۔
دکشن دشا میں لال رنگ کی روشنی جاتی ہے,پچھم میں ہرے یا سفید رنگ کی روشنی پہنچتی ہے۔ روشنی کا رنگ سمندری ٹریفک کو جہاج کے آکار کے مطابق نینترت کرتا ہے ہرا رنگ مہانے کے مکھیہ مارگ کی اور سنکیت کرتا ہے,جسمیں بھاری ویاوسایک جہاج چلتے ہیں۔

دکشنی مارگ کا سنکیت لال روشنی سے ملتا ہے۔ اس مارگ پر چھوٹے اور ہلکے جہاج چلتے ہیں۔ کارڈون فرانس کا آخری لائٹ ہاؤس ہے جہاں سنرکشک رہتے ہیں۔ اپریل سے نومبر کے بیچ یہاں عام لوگ بھی آ سکتے ہیں۔ سنرکشک یہ سنشچت کرتے ہیں که اسکی روشنی دن رات لگاتار چمکتی رہے اور ٹاور کے ساتھ ساتھ آس پاس کی جگہ کی دیکھ ریکھ بھی ہوتی رہے۔
2002میں اسے یونیسکو نے وشو دھروہر گھوشت کیا تھا۔ لائٹ ہاؤس کے رکھوالے ساماجک جیون اور پریوار سے دور ایکانت میں رہتے ہیں,پھر بھی لگاتار سترکتا بنائے رکھتے ہیں۔

بینایٹ جینوریے پچھلے8سال سے لائٹ ہاؤس کے سنرکشک ہیں۔ اپنی نوکری کے سب سے کٹھن پہلو کے بارے میں پوچھنے پر انکا کہنا ہے که سبھی سنرکشکوں کے لئے یہ الگ الگ ہے۔ وہ کہتے ہیں, "موسم کی ستھتیاں مشکل ہیں۔ پھر روز کے کام ہیں,سردیاں ہیں...اصل میں سردیاں میں آرام رہتا ہے جب کوئی مہمان یہاں نہیں آتے۔"

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation