Loading...
لوک سبھا چناؤ2019:وشیش راجیہ کے مدعے پر نتیش کمار پھر چھوڑینگے بھاجپا کا ساتھ؟| Webdunia Hindi

لوک سبھا چناؤ2019:وشیش راجیہ کے مدعے پر نتیش کمار پھر چھوڑینگے بھاجپا کا ساتھ؟

پن سنشودھت بدھوار, 15مئی2019 (09:39 IST)
ابھمنیو کمار ساہا,بی بی سی سنوادداتا
مارچ2014: 'ہمارا ابھیان سپشٹ ہے, کو وشیش راجیہ کا درجہ ملنا چاہئیے۔'
 
اگست2015: 'بہار کو وشیش راجیہ کا درجہ نہیں دینا مودی سرکار کا دھوکا۔'
 
اگست2016: 'جب تک بہار جیسے پچھڑے راجیہ کو وشیش درجہ نہیں دیا جائیگا,راجیہ کا صحیح وکاس سمبھو نہیں ہے۔'
 
اگست2017: 'پی ایم مودی کے مقابلے کوئی نہیں',پارٹی نے اس دوران وشیش درجہ کے مدعے پر اگھوشت چپی سادھی!
 
مئی2019: 'اوڈشا کے ساتھ ساتھ بہار اور آندھر پردیش کو بھی ملے وشیش راجیہ کا درجہ۔
 
بہار کو وشیش راجیہ کا درجہ دلانے کے مدعے پرکی پارٹی جنتا دل یونائٹیڈ(جدیو)کا سٹینڈ پچھلے پانچ سالوں میں کچھ اس طرح بدلہ ہے۔ اس دوران بہار کی ستا پر نتیش کمار ہی قابض رہے,حالانکہ کیندر میں سرکاریں بدلیں اور راجیہ میں انکی سرکار کے سہیوگی بھی۔
 
سنیوگ یہ رہا که جب بھی جدیو وشیش درجہ کے مدعے پر آکرامک ہوئی,کیندر اور راجیہ میں الگ الگ گٹھ بندھن کی سرکاریں رہیں اور جب دونوں جگہوں پر اینڈیئے کی سمان سرکار بنی تو پارٹی نے اس مدعے پر چپی سادھ لی۔ اب لوک سبھا چناؤ کے چھہ چرن بیت جانے کے بعد پارٹی نے ایک بار پھر سے راجیہ کو وشیش درجہ دیئے جانے کا راگ الاپا ہے۔
 
جدیو کے مہاسچو اور پروکتا کیسی تیاگی نے اس بار بہار کے ساتھ ساتھ اوڈشا اور آندھر پردیش کو بھی وشیش راجیہ کا درجہ دینے کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے سوموار کو ایک بیان جاری کر کہا, 'سال2000میں بہار کے وبھاجن کے بعد راجیہ سے پراکرتک سنسادھنوں کے بھنڈار اور ادیوگ چھن گئے۔ راجیہ کا وکاس جیسے ہونا چاہئیے تھا,نہیں ہوا۔ اب سمیہ آ گیا ہے که کیندریہ وت آیوگ اس مدعے پر پھر سے وچار کرے۔'
 
فی الحال کیندر اور راجیہ میں سمان گٹھ بندھن کی سرکار ہے اور لوک سبھا چناؤ چل رہے ہیں۔ ایسے میں جدیو کے اس بیان سے راجنیتک گلیاروں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ طرح طرح کے قیاس لگائے جانے لگے ہیں۔
 
19مئی کو انتم چرن میں بہار کی آٹھ سیٹوں پر متدان ہونے ہیں.اور نتیش کمار کے ورودھیوں کا کہنا ہے که وہ ایک بار پھر پلٹی مارنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
 
وہیں جان کار اسے"سودھا کی راجنیتی"کے طور پر دیکھ رہے ہیں.حالانکہ جدیو ان سبھی اشنکا اور آروپوں کو خارج کر رہی ہے اور بھاجپا کے ساتھ اپنے رشتے کو قائم رکھنے کی پرتبدھتا جتا رہی ہے.
 
بھاجپا کا ساتھ چھوڑیگی جدیو؟
کیسی تیاگی نے بی بی سی سے کہا که وہ اوڈشا کے ساتھ ساتھ آندھر پردیش کو بھی وشیش راجیہ کا درجہ دیئے جانے کے سمرتھک ہیں,جسکی حالت بٹوارے کے بعد بگڑ گئی اور جگنموہن ریڈی کے وشیش راجیہ کے درجے کی مانگ کا بھی سمرتھن کرتے ہیں۔
 
حال ہی میں پھنی طوفان نے اوڈشا کو کافی نقصان پہنچایا,اسکے بعد وہاں کے مکھیہ منتری نوین پٹنائک نے کیندر سے راجیہ کو وشیش راجیہ کا درجہ دینے کی مانگ اٹھائی۔ وہیں,آندھر پردیش میں ستادھاری تیلگو دیشم پارٹی اور وپکش کے نیتا جگنموہن ریڈی بھی راجیہ کو وشیش درجہ دیئے جانے کی مانگ پہلے سے کرتے رہے ہیں۔
 
اسی مدعے پر پچھلے سال مارچ کے مہینے میں تیلگو دیشم پارٹی کیندر میں اینڈیئے گٹھ بندھن سے الگ ہو گئی تھی جو که اٹل بہاری واجپئی کے دور سے ہی اینڈیئے کے ساتھ رہی تھی۔
 
کیسی تیاگی کے اس بیان پر راشٹریہ جنتا دل(راجد)نے نتیش کمار پر نشانہ سادھتے ہوئے ایک بار پھر پلٹی مارنے کی آشنکا جتائی ہے۔ پارٹی پروکتا شکتی سنگھ یادو نے بی بی سی سے کہا, 'جنتا کے من میں جو سنشیہ ہیں,اسکی پرشٹھبھومی تیار ہو رہی ہے۔ پلٹی مارنا نتیش کمار کی فطرت ہے,انہیں اسکا انبھو پراپت ہے۔ جدیو کو لگ رہا ہے که دیش میں بھاجپا کی سرکار نہیں لوٹنے والی ہے,اسلئے وہ یہ مدعا اٹھا رہے ہیں۔'
 
نومبر2015میں بہار میں جدیو نے راجد اور کانگریس کے ساتھ ملکر راجیہ میں تیسری بار سرکار بنائی تھی۔ جولائی2017میں جدیو نے آرجیڈی کا ساتھ چھوڑ اینڈیئے میں پھر سے آنے کا فیصلہ کیا تھا تب سے اس مانگ کو لیکر وہ خاموش تھی۔
 
چناؤ کے آخری چرن میں جدیو کی اس مانگ کو نتیش کمار کی دباوٴ بنانے کی رننیتی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
 
جانکاروں کا ماننا ہے که وشیش راجیہ کے مدعے کو پھر سے اٹھنا بھاجپا کو اسہج ستھتی میں ڈال سکتا ہے کیونکہ پارٹی کے بڑے نیتا اور وت منتری ارون جیٹلی پہلے ہی وشیش درجے کی مانگ کو خارج کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں که ایسی مانگوں کا دور سماپت ہو چکا ہے۔
 
ایسے میں سوال اٹھتا ہے که کیا راجد کا آروپ صحیح ثابت ہوگا اور جدیو بھی ٹیڈیپی کی راہ چلیگی,اس سوال پر کیسی تیاگی کہتے ہیں, 'ہم بھاجپا کے ساتھ گٹھ بندھن بھی رکھینگے اور اپنی مانگ بھی جاری رکھینگے۔ ہماری یہ مانگ بہت پرانی ہے۔2004سے یہ مانگ ہم کر رہے ہیں۔ نیا پرسنگ نوین پٹنائک کے بیان کے بعد شروع ہوا ہے,ہم نے اپنی مانگ کو صرف دوہرایا ہے۔'
 
لیکن بھاجپا اب آپکی سہیوگی ہے,پھر کیوں نہیں ملا وشیش راجیہ کا درجہ,اس سوال کا جواب کیسی تیاگی تھوڑی کھیجھ کے ساتھ دیتے ہیں, 'ابھی چناؤ چل رہا ہے,آپ کیسی بات کر رہے ہیں که جیسے آج ہم نے مانگ اٹھائی اور کل کو درجہ مل جائیگا۔ ضروری نہیں ہے که ہر مانگ معنی جائے,ضروری نہیں ہے که ہم ہر مانگ کو اٹھانا چھوڑ دے۔'
 
دونوں پارٹیوں کے بیچ متبھید؟
ضروری نہیں ہے که ہر مانگ معنی جائے...کیسی تیاگی کے اس بیان کو جدیو کا بھاجپا پر گھٹتے وشواس کے روپ دیکھا جا سکتا ہے۔
 
پردیش بھاجپا کے پروکتا نخل آنند اس سندیہ کو خارج کرتے ہیں اور دونوں پارٹیوں کے بیچ کے رشتے کو مضبوط بتاتے ہیں۔ نخل آنند نے بی بی سی سے کہا, 'بہار کو وشیش راجیہ کا درجہ ملے,بہار کو وشیش ترجیح ملے اور اسکے وکاس کے لئے جس طرح کی بھی سہایتا ملتی ہے,ہم اسکا سمرتھن کرتے ہیں۔ اسکو لیکر اینڈیئے میں کوئی کنپھیوجن نہیں ہے۔'
 
وہ بہار کو وشیش راجیہ کا درجہ نہیں دینے کے کیندریہ منتری ارن جیٹلی کے ترک کو دوہراتے ہوئے کہتے ہیں نیتی آیوگ کے پاس صرف بہار کا معاملہ نہیں ہے,اوڈشا,آندھر پردیش اور انیہ راجیوں سے بھی جڑا معاملہ ہے۔'کانگریس کے کاریہ کال میں بھی تو وشیش درجہ نہیں دیا گیا تھا۔ حالانکہ نریندر مودی کی سرکار کے دوران بہار میں کئی ادیوگدھندھوں کو ادھار کیا گیا۔ راجیہ کو کیندریہ یوجناؤں کا بھی خوب لابھ ملا ہے۔'
 
وشیش راجیہ کا درجہ دیئے جانے کے تکنیکی پینچ
سال2011میں سرکار نے سنسد کو بتایا تھا که دیش کے کل11راجیوں کو وشیش راجیہ کی شرینی میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت سرکار نے یہ بھی بتایا تھا که چار راجیوں نے وشیش راجیہ کا درجہ دینے کا انورودھ کیا تھا,جسمیں بہار,اوڈشا,راجستھان اور گوا شامل تھے۔ اسکے بعد آندھر پردیش نے بھی اسکی مانگ کی۔
 
اروناچل پردیش,آسام,ہماچل پردیش,جموں کشمیر,سکم,منی پور,میگھالیہ,نگالینڈ,تریپورہ,اتراکھنڈ اور میزورم کو وشیش راجیہ کا درجہ پراپت ہے۔
 
تتکالین یوجنا راجیہ منتری اشونی کمار نے بتایا تھا که وشیش شرینی کا درجہ راجیوں کو راشٹریہ وکاس پریشد دیتی ہے۔ اسکے لئے کچھ ماپدنڈ تے کئے گئے ہیں تاکہ انکے پچھڑیپن کا سٹیک مولیانکن کیا جا سکے اور اسکے انوروپ درجہ پردان کیا جا سکے۔
 
وہ ماپدنڈ,جن کے آدھار پر راشٹریہ وکاس پریشد راجیوں کو وشیش راجیہ کا درجہ دیتی ہی
سنسادھنوں کی کمی
پرتی ویکتی آئے کم ہونا
راجیہ کی آئے کم ہونا
جنجاتیہ آبادی کا بڑا حصہ ہو
پہاڑی اور درغم علاقے میں ستھت ہو
جن سنکھیا دھنتو کم ہو
پرتکول ستھان
انترراشٹریہ سیما سے راجیہ کی سیما لگتی ہو
 
بہار کے معاملے میں کیندر کی بھاجپا سرکار انھیں تکنیکی وجہوں کو پہلے غنا چکی ہے۔ بھاجپا پردیش اکائی بھی انھیں وجہوں کو گناتی ہیں۔ لیکن آرتھک روپ سے دس فیصدی آرکشن دیا جانا بھی تکنیکی روپ سے ممکن نہیں تھا,اسکے لئے کیندر سرکار تین دنوں کے بھیتر قانون میں بدلاؤ کر دیتی ہے,تو کیا جدیو کی15سال پرانی مانگ کو پورا نہیں کیا جا سکتا ہے؟
 
اس سوال کے جواب میں پردیش بھاجپا پروکتا نخل آنند کہتے ہیں, 'دیکھیئے یہ مدعا پوری طرح آرتھک ادھئین کا معاملہ ہے,شیتریہ اسمانتا کا معاملہ ہے اور آرکشن کا معاملہ ساماجک اتھان سے جڑا معاملہ ہے۔ ان سبھی کو ایک دوسرے سے جوڑ کر نہیں دیکھنا چاہئیے۔'
 
جدیو کی مانگ کا راجنیتک مطلب
چھہ چرن کے متدان بیت جانے کے بعد بھاجپا کی راہ آسان نہیں بتائی جا رہی ہے۔ ایسے میں جدیو کی مانگ کا راجنیتک مطلب کیا ہیں؟ اس سوال پر ورشٹھ پترکار منکانت ٹھاکر کہتے ہیں, 'اتنے سمیہ تک جدیو کی چپی اور اتنے انترال کے بعد وشیش راجیہ کے درجے کا مدعا اٹھایا جا رہا ہے,تو ظاہر ہے که لوگ چوکینگے که ایسا کیوں ہو رہا ہے۔'
 
'مجھے لگ رہا ہے که نتیش کمار کو اپنا یا پھر اپنی پارٹی کا راجنیتک بھوشیہ خطرے میں لگ رہا ہے,اسکے مدنظر یہ بیان دیئے گئے ہیں۔ اگر جدیو کوئی سنکٹ میں پھنستا ہے اور آگے کی چال کیا ہوگی,یہ اسکی پرشٹھبھومی تیار کرنے کی کوشش لگ رہی ہے۔'
 
راجیہ میں دوبارہ بھاجپا کے ساتھ آنے کے بعد وشیش راجیہ کے سوال پر جدیو کے نیتا کہتے تھے که وہ اس مانگ کو پوری طرح چھوڑے نہیں ہیں۔ وشیش پیکیج جو کیندر کی طرف سے ملا ہے,اس سے بہت حد تک ہماری مانگ پوری ہوئی ہے۔ صرف وشیش راجیہ کے درجے کا نام نہیں ملا ہے۔
 
ورشٹھ پترکار منکانت ٹھاکر کہتے ہیں که نتیش کمار اپنی راجنیتک سودھا کے حساب سے اپنی مانگ اٹھاتے ہیں۔'جب آپ نریندر مودی کے ورودھ میں تھے,تب تو آپنے زور ڈالا۔ اور پھر جب ساتھ ہو گئے تو آپنے اسے چھوڑ دیا,اس پر چرچا تک نہیں کی۔ تو ظاہر ہے که سودھا کی راجنیتی اسے ہی کہتے ہیں۔'
 
حالانکہ انت میں منکانت ٹھاکر جدیو کے بیان کا سکاراتمک پکش بھی گناتے ہیں اور کہتے ہیں که ہو سکتا ہے که بھاجپا اسکے لئے تیار ہو اور جدیو کے ساتھ بھاجپا کا جو سمبندھ بنا ہے یا آگے برقرار رہا تو دونوں دلوں کو اس سے اعتراض نہیں ہوگا اور اگر مودی سرکار دوبارہ بنتی ہے تو دونوں مل کر وشیش راجیہ کا درجہ دینے کا راستہ نکالینگے۔'

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation