Loading...
نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے پوچھا دھونی دیش بدلینگے؟| Ken Williamson | Webdunia Hindi

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے پوچھا دھونی دیش بدلینگے؟

پن سنشودھت گرووار, 11جولائی2019 (12:10 IST)
نیوزی لینڈ کےنے بھارت کے پورو کرکٹ کپتان اور وکیٹ کیپر مہیندر سنگھ دھونی کا بچاو کیا ہے۔ بھارت کے ورلڈ کپ کی ریس سے باہر ہونے کے بعد سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف دھونی کی دھیمی پاری کی آلوچنا ہو رہی ہے۔

نیوزی لینڈ نے بدھوار کو مینچیسٹر کے اولڈ ٹریفرڈ میدان میں سیمی فائنل کے رومانچک مقابلے میں بھارت کو18رن سے ہراکر لگاتار دوسری بار ورلڈ کے فائنل میں جگہ بنائی ہے۔ نیوزی لینڈ کے240رنوں کے لکشیہ کا پیچھا کرنے کے لئے بدھوار کو جب بھارتیہ کھلاڑی بلیبازی کرنے آئے تو پانچ رن پر ہی تین وکیٹ گر گئے۔

ساتویں وکیٹ میں دھونی اور جڈیجہ کی116رن کی ساجھیداری سے پہلے بھارت کے92رن پر چھہ وکیٹ گر گئے تھے۔ جڈیجہ اور دھونی کی جوڑی نے بھارت کی جیت کی امید جگہ دی تھی۔ جڈیجہ نے59گیند پر77رنوں کی شاندار پاری کھیلی جبکہ دھونی نے وکیٹ بچائے رکھا لیکن انکی پاری دھیمی رہی اور انہوں نے72گیند پر50رن بنائے۔
بھارت کو آخری14گیند میں32رن بنانے تھے تبھی جڈیجہ کے شارٹ کو ولیمسن نے کیچ لپک لیا۔ جڈیجہ کے آؤٹ ہونے کے چار گیند بعد ہی مارٹن گپٹل نے دھونی کو بہترین سیدھے تھرو سے رن آؤٹ کر دیا۔ اسکے بعد بھارتیہ پاری کے لئے کچھ بچا نہیں تھا۔ ہار کے کے بعد ایک بار پھر سے دھونی کی آلوچنا ہونے لگی که انہوں نے لکشیہ کے حساب سے اپنی پاری کو تیز نہیں کیا۔ دھونی کو لیکر بھارت کے کپتان وراٹ کوہلی اور نیوزی لینڈ کے کپتان ولیمسن دونوں سے سوال پوچھے گئے۔
نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن سے جیت کے بعد پریس کانفرینس میں ایک پترکار نے پوچھا که اگر وہ بھارت کے کپتان ہوتے تو کیا ٹیم میں دھونی کو رکھتے؟ اس پر ولمسن نے ہنستے ہوئے جواب دیا, ''وہ نیوزی لینڈ کے لئے نہیں کھیل سکتے! لیکن وہ وشو سطریہ کھلاڑی ہیں۔''

پترکار نے پھر اپنا سوال دوہرایا که اگر آپ بھارت کے کپتان ہوتے تب؟ ولیمسن نے کہا, ''بالکل,انکا انبھو اہم موقعے پر بہت کام کا ہوتا ہے۔ انکا یوگدان آج یا کل ہمیشہ رہا ہے۔ جڈیجہ کے ساتھ انکی ساجھیداری بہترین رہی۔ دھونی ورلڈ کلاس کے کرکٹر ہیں۔ کیا وہ راشٹریتا بدلنے پر وچار کر رہے ہیں؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم انکے چین پر وچار کرینگے۔''
دھونی کی آلوچنا گروپ سٹیج کے میچ میں بھی انکی آکرامکتا کو لیکر ہو رہی تھی۔ خاص کرکے انگلینڈ سے ملی ہار کے دوران دھونی نشانے پر تھے۔ لیکن ولیمسن کا ماننا ہے که دھونی ورلڈ کپ میں کھیلنے لائق وشو سطریہ کھلاڑی ہیں۔ ولیمسن نے کہا, ''ہم لوگوں نے کئی موقعوں پر دھونی کو آخر میں میچ اپنی طرف موڑتے دیکھا ہے۔ یہ بہت ہی مشکل وکیٹ تھا اسلئے کچھ بھی آسان نہیں تھا۔''
48ویں اوور میں ٹرینٹ بالٹ نے دھونی اور جڈیجہ کی جوڑی کو توڑا تھا اور ولیمسن کی کپتانی میں ہر فیصلے بھارت کے خلاف معقول ثابت ہوئے۔ سچن تیندولکر نے بھی سیمی فائنل میں دھونی اور جڈیجہ کے ججھارپن کی سراہنا کی ہے۔ حالانکہ سچن نے یہ بھی کہا که بھارتیہ بلیبازی ہمیشہ ٹاپ آرڈر پر نربھر نہیں رہ سکتی۔ نراشا ظاہر کرتے ہوئے سچن نے کہا که بھارتیہ بلیبازوں نے240رن کے سادھارن لکشیہ کو تل سے تاڑ بنا دیا۔
سچن نے کہا, ''میں نراش ہوں کیونکہ ہمیں بیشک240رن کے لکشیہ کو حاصل کرنا چاہئیے تھا۔ یہ کوئی بڑا لکشیہ نہیں تھا۔ ہاں,یہ صحیح ہے که نیوزی لینڈ نے پانچ رن پر تین وکیٹ جھٹک کر اپنی جیت کی بنیاد رکھ دی تھی۔''

سچن نے انڈیا ٹو ڈے سے کہا, ''لیکن ہم ہمیشہ روہت شرما کی بہترین شروعات یا وراٹ کوہلی سے یہ امید کریں که وہ مضبوط بنیاد رکھ کر جائیں۔ باقی کے کھلاڑیوں کو بھی ذمیداری لینی ہوگی۔ اسی طرح ہم ہمیشہ دھونی سے یہ امید نہیں کر سکتے ہیں که وہ مشکل سے مشکل پرستھتی کو جیت میں بدل دیں۔ دھونی نے ایسا کئی بار کیا ہے۔''
دھونی پر کیا بولے کوہلی
کپتان کوہلی نے مہیندر سنگھ دھونی کا بچاو کرتے ہوئے کہا که انہوں نے ضرورت کے حساب سے صحیح بلیبازی کی۔ انہوں نے کہا, "باہر سے کچھ بھی کہنا آسان ہے مگر دھونی کو ایک چھور سنبھالے رکھنا تھا۔ دوسرے چھور سے جڈیجہ اچھا کھیل رہے تھے۔ میرے حساب سے انکا کھیل سمیہ کی ضرورت کے انوکول تھا۔"

کوہلی نے یہ بھی کہا که دھونی سے پہلے پنڈیا کو اوپر بھیجنے کا مقصد یہ تھا که آخر میں اگر حالات خراب ہوں تو دھونی مورچہ سنبھالنے کے لئے موجود رہیں۔ ورلڈ کپ کے بعد بھارتیہ ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر جانے والی ہے۔ اس بیچ دھونی کے سننیاس لینے کی اٹکلوں کو لیکر ایک پترکار نے سوال پوچھا که کیا دھونی نے اگلے دورے کو لیکر اپنے بارے میں کہا ہے که وہ کیا کرنے والے ہیں۔
اسکے جواب میں بھارتیہ کپتان نے کہا, "نہیں,انہوں نے ہمیں کچھ نہیں بولا ہے۔"

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation