Loading...
rafale deal |آخر پہیلی کیوں بنا ہے رفال سودا؟:نظریہ| Webdunia Hindi

آخر پہیلی کیوں بنا ہے رفال سودا؟:نظریہ

پن سنشودھت شنیوار, 5جنوری2019 (11:56 IST)
-پرمود جوشی(ورشٹھ پترکار)
رفال معاملے کو لیکر رکشامنتری نرملانے گوپنیتا کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ باتوں کی صفائی بھی دی ہے۔ پھر بھی لگتا نہیں که کانگریس پارٹی ان سپشٹیکرنوں سے سنتشٹ ہوگی۔ سندیہ جتنا گھنا ہوگا,اتنا اسے لابھ ملیگا۔ پارٹی کی یہ راجنیتک رننیتی ہو سکتی ہے لیکن باتوں کو صاف کرنے کی ذمیداری دونوں پکشوں پر ہے۔ سندیہوں کا آدھار سپشٹ ہونا چاہئیے۔ جتنے صاف آروپ ہوں,انکے جواب بھی اتنے ہی صاف ہونے چاہئیے۔ پتہ لگنا چاہئیے که گھوٹالا ہے تو کیا ہے۔

لوک سبھا میں بدھوار کو ہوئی چرچا میں راہل گاندھی نے کہا که سرکار بتائے که ایک ومان کی قیمت560کروڑ روپے کے بجائے1600کروڑ روپے کیوں دی گئی؟ انہیں کیا لگتا ہے,کیوں بڑھی قیمت؟ راہل نے اسکے بعد ایک ٹویٹ میں اپنے آروپوں کو تین سوالوں کی شکل دی۔ قیمت بڑھنے کے علاوہ انہوں نے ایک سوال پوچھا که126کے بجائے36ومان کیوں؟


ایچئیئیل کا ٹھیکہ امبانی کو؟
انکا سوال ہے که ایچئیئیل کا ٹھیکہ ردّ کرکے'ایئے' (انل امبانی)کو کیوں دیا گیا؟ امبانی کی کمپنی کو30,000کروڑ روپے کا ٹھیکہ دے دیا گیا۔ کیا واستو میں ایسا ہے؟ اس وشیہ پر ٹپنی کرنے والے زیادہ تر یا تو راجنیتک ٹپنیکار ہیں یا راجنیتک جھکاو رکھنے والے ہیں۔ رکشا سودوں میں اتنی بڑی رقم جڑی ہوتی ہے که اسکا معمولی انش بھی بہت بڑی رقم بناتا ہے۔

مانا جا سکتا ہے که رفال ومان بنانے والی کمپنی داسو نے آپھسیٹ پارٹنر چنتے وقت کچھ ایسی کمپنیوں کو وریتا دی,جن سے سرکار کے رشتے مدھر ہیں۔ اس میں کیا تیشدا پرکریاؤں کا النگھن ہوا ہے؟


قیمت کیوں بڑھی؟
سرکار کہتی ہے که پھلائی اوے اور پوری طرح لیس ومان کی قیمت یو پی اے کے سودے سے کم ہے۔ کانگریس اس سے الٹ بات کہتی ہے۔ لیکن کانگریس کیول ایک قیمت کا ذکر کر رہی ہے,دو کا نہیں۔ ومان کی قیمت,انکی سنکھیا اور خرید کی پرکریا تتھا سمجھوتے میں کئے گئے بدلاووں کی جانچ کرنے کی سنستھاگت ویوستھا دیش میں ہے۔ ایسا نہیں کسی بھی سودے کا لیکھا جوکھا رکھا جاتا ہے۔

سودا کتنا بھی گوپنی ہو,سرکار کے کسی نہ کسی انگ کے پاس اسکی جانکاری ہوتی ہے۔ خرید کا لیکھا جوکھا رکھنے کی ذمیداری سیئیجی کی ہے۔ سوچنائیں سنویدنشیل ہوں تو انہیں ماسک کرکے وورن دیش کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔ اسکا وورن بھی دینا ہوگا۔ سوال ہے که کب؟


سنسد کے شیت ستر میں سیئیجی کی رپورٹ پیش ہونے کی آشا تھی۔ پر اب کہا جا رہا ہے که چناؤ تک شائد یہ سمبھو نہیں ہوگا۔ دوسری سنستھاگت پڑتال سپریم کورٹ میں سمبھو ہے۔ پچھلے مہینے14دسمبر کو عدالت نے ومان خرید کی نرنیہ پرکریا,مولیہ نردھارن اور بھارتیہ آپھسیٹ پارٹنر تینوں مسئلوں پر فیصلہ سنایا۔ فیصلے کی شبداولی کے کارن کچھ سنشیہ ہیں,جن کا نوارن عدالت سے ہی ہوگا,سردیوں کی چھٹی کے بعد۔

اتنی لمبی پرکریا
وڈمبنا ہے که ہمارے رکشا ادیوگ کا وکاس نہیں ہو پایا۔ اس وجہ سے بھاری قیمت دیکر ودیشی ہتھیار خریدے جاتے ہیں۔ ان پرہوتا ہے اور پھر خرید رک جاتی ہے۔ ایسا عرصے سے ہو رہا ہے۔ وایوسینا نے سنہ2001میں126ومانوں کی ضرورت بتائی تھی۔ ایک لمبی پریکشن پرکریا میں دنیا کے چھہ نامی ومانوں کے پریکشن ہوئے۔ انتت31جنوری2012کو بھارت سرکار نے گھوشنا کی که رفال ومان سب سے اپیکت ہے۔

اس سودے کے تحت18تییارشدا ومانسے آنے تھے اور108لائسینس کے تحت ایچئیئیل میں بنائے جانے تھے۔ گھوشنا کے باوجود سمجھوتہ نہیں ہوا۔ قیمت کے علاوہ بھارتیہ پارٹنر(یعنی ایچئیئیل)کا مسئلہ بھی تھا۔ فرانسیسی کمپنی ایچئیئیل میں بنے ومان کی گنوتا کی ذمیداری لینے کو تیار نہیں تھی۔ ساتھ ہی ایچئیئیل میں یہ ومان تیار کرنے میں فرانس کے مقابلے تقریباً ڈھائی گنا سمیہ زیادہ لگتا۔ جس ومان کو فرانس میں داسو100مانو دن میں بناتا,اسے ایچئیئیل میں بنانے میں257مانو دوس لگتے۔

یو پی اے نے فیصلہ ٹالا
5فروری2014کو تتکالین رکشامنتری اےکے اینٹنی نے پترکاروں کو بتایا که اس وت ورش میں سرکار کے پاس اتنا پیسہ نہیں بچا که سمجھوتہ کر سکے,اسلئے اسے ٹالا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا که ومان کی لائف سائکل کاسٹ کی گننا پرکریا پر پنروچار کیا جا رہا ہے۔ یعنی که قیمت کو لیکر کوئی بات تھی۔


مولیہ نردھارن کو بھی سمجھنا چاہئیے۔ بنیادی قیمت ومان کی ہوتی ہے۔ اس پر لگنے والے ایویانکس,ریڈار,سینسر,مسائل تتھا دوسرے شستراستر اور اپکرنوں کی قیمت اوپر سے ہوتی ہے۔ اسکے40سال تک رکھ رکھاؤ کی بھی قیمت ہوتی ہے۔

رفال کے سلسلے میں آپھسیٹ پارٹنر کی بات بھی ہو رہی ہے۔ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں که ایچئیئیل کا سمجھوتہ توڑکر امبانی کو دیا گیا ہے؟ امبانی ومان بنانے نہیں جا رہے ہیں۔ اسکا بھارت میں لائسینسی نرمان نہیں ہو رہا ہے۔ سرکار نے2015میں126ومانوں کے ٹینڈر کو واپس لے لیا۔


ہاں,دیکھنا یہ چاہئیے که اس ٹینڈر کو ردّ کرنے کی پرکریا صحیح تھی یا نہیں۔ ہم سبھی126ومان فرانس سے خریدتے تو شائد سستے پڑتے پر اس سے سودیشیکرن کی پرکریا پر وپریت پربھاؤ پڑتا۔ چونکہ سودا پوری سنکھیا میں ومانوں کا نہیں ہوا,اسلئے اسکی جگہ ایک اور پرکریا شروع کی گئی ہے,جسمیں بھارتیہ کمپنیاں اپنے ودیشی پارٹنر کے ساتھ اپنے پرستاؤ دے رہیں ہیں۔ یہ سٹریٹیجک پارٹنرشپ کی نئی نیتیوں کے تحت کیا جا رہا ہے۔

آپھسیٹ پارٹنر مانے کیا؟
دیش میں60فیصدی سے زیادہ رکشا تکنیک ودیشی ہے۔ یو پی اے اور اینڈیئے دونوں پر رکشا سامگری کے سودیشیکرن کا دباوٴ ہے۔ اسکے لئے نجی شیتر کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کیول ساروجنک شیتر کے سہارے کام پورا نہیں ہوگا۔ رکشا خرید نیتی میں سودیشی تتو بڑھانے کے لئے آپھسیٹ نیتی کو جوڑا گیا ہے۔ اسکا ادیشیہ ہے که جب ہم ودیشی سامگری کھریدینگے,تب بدلے میں یا تو تکنیکی ہستانترن ہونا چاہئیے یا ودیشی کمپنی کو ہمارے دیش سے کوئی سامگری خریدنی چاہئیے۔

رفال کی کمپنی داسو کو سودے کی50فیصدی راشی بھارت میں آپھسیٹ کے تحت خرچ کرنی ہے۔ اسکے لئے داسو نے بھارتیہ کمپنیوں سے آپھسیٹ سمجھوتے کئے ہیں۔ کتنی کمپنیوں سے سمجھوتے ہوئے ہیں,اسے لیکر تمام باتیں ہیں۔


انکی سنکھیا40-50سے لیکر70-80تک بتائی جاتی ہے۔ ان میں ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمس لمٹیڈ,مہندرا ایروسٹرکچر,بھارت پھورج,لکشمی مشین وکرس,تروینی ٹربائن,گلاسٹرانکس,لارسن اینڈ ٹوبرو کے ساتھ داسو ریلائنس جوائنٹ وینچر کا نام بھی ہے۔ پر30,000کروڑ اترنجنا ہے۔

سٹریٹیجک پارٹنرشپ میں لڑاکو ومانوں کے انجنوں کے وکاس کی سودیشی تکنیک کے وکاس کا موقع بھی ملیگا۔ سودیشی کاویری انجن کے وکاس میں رکاوٹ آ گئی ہے۔ آپھسیٹ سمجھوتے میں اس انجن کے ادھار کا کاریہ کرم بھی شامل ہے۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation