Loading...
اسلام اور دیش چھوڑنے والی سعودی یوتی کو نہیں بھیجا جائیگا واپس| Webdunia Hindi

اسلام اور دیش چھوڑنے والی سعودی یوتی کو نہیں بھیجا جائیگا واپس

نے کہا ہے که وہ اپنے گھر سے بھاگ کر آئیکی ایک یوتی کو واپس انکے گھروالوں کے پاس ڈپورٹ نہیں کرینگے۔ تھائی لینڈ کے امگریشن ادھیکاریوں نے پہلے18ورشیا رہاف محمد القنون کوبھیجنے کی کوشش کی تھی جہاں انکے گھر والے موجود ہیں۔ مگر اب ادھیکاریوں نے کہا ہے که انکی سرکشا کے لحاظ سے انہیں ڈپورٹ نہیں کیا جائیگا۔


اس یوتی کا کہنا ہے که انہیں ڈر ہے که اسکے گھر والے اسے مار ڈالیں گے کیونکہ انہوں نےتیاگ دیا تھا۔ رہاف کویت سے بھاگ کر بینکاک آ گئی تھیں جہاں سے وہ آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں مگر وہاں ہوائی اڈے پر سعودی ادھیکاریوں نے انکا پاسپورٹ ضبط کر لیا۔

اسکے بعد انہیں دوبارہ کویت بھیجنے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے اپنے آپ کو ایئرپورٹ پر ہی ایک ہوٹل میں بند کر لیا اور وہاں سے وہ سوشل میڈیا اور فون کے ذریعے مدد لینے کی کوشش کرنے لگیں۔

اسلام چھوڑنے کی وجہ سے جان کا ڈر
انہوں نے سماچار ایجینسی رایٹرس سے بات کرتے ہوئے کہا که میرے بھائی اور پریوار اور سعودی دوتاواس کے لوگ کویت میں میرا انتظار کر رہے ہو نگے۔ میری جان خطرے میں ہے۔ میرے گھر والے کسی بھی چھوٹی بات پر میری جان لینے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔ انکے سندیشوں کے بعد کئی مانوادھیکار سنگٹھنوں نے بھی انکی سرکشا کو لیکر چنتا جتائی تھی۔


رہاف نے کہا که وہ تب تک اپنے ہوٹل کے کمرے سے نہیں نکلینگی جب تک که انہیں سنیکت راشٹر شرنارتھی ایجینسی سے نہیں ملنے دیا جاتا۔ یوئینئیچسیار کی ہیڈ آف کمینکیشنس میلسا فلیمنگ نے ٹویٹ کیا ہے که بینکاک میں انکی ٹیم رہاف سے مل رہی ہے۔

تھائی لینڈ کی امگریشن پولیس کے پرمکھ سراچاتے ہکپرن نے بھی سوموار کو کہا که وہ اب تھائی لینڈ کے ادھیکار شیتر میں ہیں,کوئی ویکتی یا کوئی بھی دوتاواس انہیں کہیں اور جانے کے لئے دباوٴ نہیں ڈال سکتا۔

ہوا کیا تھا؟
رہاف محمد القنون کا کہنا ہے که وہ شنیوار کو جیسے ہی بینکاک پہنچیں,ایک سعودی راجنیک نے انکا پاسپورٹ ضبط کر لیا جس سے وہ فلائٹ سے اترتے وقت ملی تھیں۔

پھر رویوار کو تھائی ادھیکاریوں نے کہا که انہیں ڈپورٹ کیا جائیگا کیونکہ انکے پاس تھائی ویزا نہیں ہے۔ حالانکہ رہاف کا کہنا تھا که وہ تو بس بینکاک کے راستے آسٹریلیا جا رہی تھیں اور انکے پاس آسٹریلیا کا ویزا ہے۔

وہیں بینکاک میں سعودی دوتاواس کے ادھیکاریوں کا کہنا تھا یوتی کو ایئرپورٹ پر اسلئے روکا گیا,کیونکہ انکے پاس واپسی کا ٹکٹ نہیں تھا اور انہیں سوموار کو کویت واپس بھیج دیا جائیگا,جہاں انکے پریوار کے لوگ موجود ہیں۔

سعودی ادھیکاریوں نے کہا که انہیں بینکاک میں کسی کو روکنے کا ادھیکار نہیں ہے۔ دوتاواس یوتی کے پتا سے سمپرک میں ہے۔ یوتی نے اسکے بعد ایئرپورٹ سے ہی ٹوٹّر اور فون کے مادھیم سے اپنی حالت بتانی شروع کر دی۔

انہوں نے وہیں سے بی بی سی سے بھی بات کی اور بتایا که میں نے اپنی کہانی اور تصویریں سوشل میڈیا پر ساجھا کی ہیں۔ اس وجہ سے میرے پتا مجھ سے بہت زیادہ ناراض ہیں۔ میں اپنے دیش میں پڑھائی یا نوکری نہیں کر سکتی۔ میں آزاد ہونا چاہتی ہوں,پڑھنا اور نوکری کرنا چاہتی ہوں۔

سوموار کو سوشل میڈیا پر انکے ہوٹل کے کمرے کی تصویریں بھی نظر آئیں
محمد القنن کے اس معاملے نے سال2017کے ایک پرانے معاملے کی یادوں کو تازہ کر دیا ہے جب ایک اور سعودی مہلا فلیپینس کے راستے آسٹریلیا جانا چاہتی تھی۔

24ورشیہ دینا علی لسلوم کویت سے پھلپینس کے راستے آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں,لیکن منیلا ایئرپورٹ سے انکا پریوار انہیں واپس سعودی لے گیا۔

اس سمیہ علی لسلوم نے کنیڈا کے ایک پریٹک کے فون سے ٹوٹّر پر ایک ویڈیو اور ایک سندیش پوسٹ کیا تھا جسمیں انہوں نے کہا تھا که انکا پریوار انکی ہتیا کر دیگا۔ سعودی عرب لوٹنے کے بعد علی لسلوم کے ساتھ کیا ہوا یہ کوئی نہیں جانتا۔

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation