Loading...
سورن آرکشن کے ذریعے مودی کی وپکش کو نئی چنوتی: نظریہ| Webdunia Hindi

سورن آرکشن کے ذریعے مودی کی وپکش کو نئی چنوتی: نظریہ

-پردیپ سنگھ(ورشٹھ پترکار)

سورن جاتیوں کے لئے شکشا اور نوکریوں میں دس فیصدی آرکشن دینے کا نریندر مودی سرکار کا فیصلہ ایک تیر سے کئی نشانے سادھتا ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے نظریے سے سرکار کا یہ قدم گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے,پر اسکے ساتھ کئی کنتو پرنتو جڑے ہوئے ہیں۔

سوموار کو کیندریہ کیبنیٹ کی بیٹھک ساؤتھ بلاک کی بجائے سنسد پرسر میں ہوئی۔ بیٹھک آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں چلی۔ اس میں سورن جاتیوں کو دس فیصدی آرکشن کے لئے سنودھان سنشودھن ودھیک کے مسودے کو منظوری دی گئی۔ مودی نے اپنی کاریہ شیلی کے مطابق اسکو گوپنی رکھا۔


حالانکہ ابھی تک اسکی اپچارک گھوشنا نہیں کی گئی ہے,کیونکہ سنسد کا ستر چل رہا ہے اور اس دوران سرکار سنسد سے باہر کوئی نیتی گت گھوشنا نہیں کر سکتی۔ اسلئے اسکی اپچارک جانکاری دیش کو سنسد میں منگلوار کو پیش ہونے والے سنودھان سنشودھن ودھییک کے ذریعے ہی ملے گی۔

پردھان منتری نے اپنے اس قدم سے اپنے راجنیتک ورودھیوں کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ انکے لئے سرکار کے اس قدم کا سمرتھن اور ورودھ کرنا دونوں کٹھن ہو جائیگا۔ کئی ایسے شیتریہ دل ہیں جسمیں بہوجن سماج پارٹی بھی شامل ہے,جو پچھلے کئی سالوں سے غریب سورنوں کو آرکشن دینے کی مانگ کرتی رہی ہیں۔


ان سب کے لئے چناؤ کے سمیہ اس سنودھان سنشودھن ودھیک کا ورودھ کرنا سمبھو نہیں ہوگا,اسی لئے کانگریس نے اسکا سمرتھن کرتے ہوئے روزگار کا سوال اٹھایا ہے۔ کئی پارٹیاں ابھی تے نہیں کر پا رہی ہیں که کیا بولیں۔ گجرات چناؤ کے بعد پہلی بار پردھان منتری نے راشٹریہ ومرش کو نرنائک طریقے سے بدل دیا ہے۔ پچھلے ایک سال سے بھاجپا اس میں پچھڑ رہی تھی۔

ایسے سمیہ جب سارے دیش میں رام جنم بھومی کی چرچا ہو رہی ہے مودی نے نیا دانو چل دیا ہے۔ ابکا یہ مدعا چناؤ تک راشٹریہ ومرش کے کیندر میں رہ سکتا ہے۔


پھر آکرامک نظر آئیگی بھاجپا
مندر مدعے پر بچاو کی مدرا میں کھڑی بھاجپا اب اس مدعے پر آکرامک نظر آئیگی۔ رام مندر کے مدعے پر جو لوگ سکریہ تھے انمیں سورنوں کی سنکھیا ہی زیادہ تھی۔ سرکار کے اس قدم سے انوسوچت جاتی/جنجاتی کے مدعے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بدلنے سے سورنوں میں اپجی ناراضگی کافی حد تک کم ہوگی۔

مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھاجپا کو اسکی بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔ بھاجپا سرکار سے ناراضگی کے یہ دو مدعے ختم تو نہیں ہو نگے پر انکی دھار ضرور کند ہو جائیگی۔ سوال ہے که یہ کام مودی سرکار پانچ راجیوں کے چناؤ سے پہلے بھی کر سکتی تھی۔ لیکن اسنے نہیں کیا,کیوں؟ بھاجپا نہیں چاہتی تھی که اتنے بڑے برہماستر کا استعمال چھوٹے لکشیہ کے لئے کیا جائے۔ پوری پارٹی کی رننیتی کے کیندر میں اس سمیہ صرف لوک سبھا چناؤ ہیں۔

جاتیہ آندولنوں کا فوری طور پر شمن ہوگا
سورن جاتیوں کو آرکشن دینے کے فیصلے سے دیش کے الگ الگ راجیوں میں چلے تین جاتیہ آندولنوں کا بھی فوری طور پر تو شمن ہو جائیگا۔ گجرات میں پاٹیدار آندولن,مہاراشٹر میں مراٹھا اور ہریانہ میں جاٹ آندولن نے سرکار کے لئے بہت مشکل کھڑی کر دی تھی۔


اتفاق سے تینوں ہی راجیوں میں بھاجپا کی سرکار ہے,اسلئے بات سیدھے مودی تک پہنچتی تھی۔ یہ تینوں جاتیاں پچھڑے ورگ کے کوٹے میں آرکشن کی مانگ کر رہی تھیں۔ انکی مانگ کا سمرتھن کرنا پچھڑوں کی ناراضگی کا سبب بن سکتا تھا۔ آرکشن کی سیما49.5فیصدی سے بڑھاکر59.5فیصدی کرنے سے کسی سے کچھ چھینا نہیں جا رہا,اسلئے دلتوں,آدیواسیوں اور پچھڑوں میں اگڑوں کو ملنے والے آرکشن سے کوئی ناراضگی نہیں ہوگی۔

ساتھ ہی سورنوں میں آرتھک روپ سے کمزور طبقے کی شکایت بھی دور ہوگی۔ اسے لگتا تھا که کیول جاتی کے کارن اسکی غریبی کو غریبی نہیں مانا جاتا۔ مودی سرکار کے اس قدم سے اگڑی جاتیوں میں پوری آرکشن ویوستھا کو لیکر پنپ رہے انستوش پر تھوڑا پانی پڑےگا۔ اسلئے جاتیہ ویمنسیہ کی جو کٹتا سماج میں دکھ رہی تھی وہ تھوڑی تو کم ہوگی ہی۔


بھاجپا کے اندر بھی سورنوں کے ایک ورگ کو اس بات کا گلا تھا که پردھان منتری ہر سمیہ پچھڑوں اور دلتوں کی بات کرتے ہیں۔ سورنوں کے ووٹ بھاجپا کو ملتے ہیں پر پارٹی اور سرکار انکے بارے میں کچھ سوچتی نہیں۔ یہ ایک نئے طرح کی سوشل انجینیرنگ ہے۔ جسمیں ایک ورگ کو کچھ ملنے سے دوسرا ورگ ناراض نہیں ہو رہا ہے۔ اب سنسد میں اس مدعے پر جس طرح کی راجنیتک گولبندی بنیگی وہ کافی حد تک لوک سبھا چناؤ کا راجنیتک سمیکرن بھی تے کریگی۔

آرکشن کے راستے میں کئی روڑے
سرکار نے غریب سورنوں کو دس فیصدی آرکشن دینے کا فیصلہ تو کر لیا ہے,پر اسکے راستے میں مشکلیں بھی کئی ہیں۔ پہلی سمسیا,سنسد کے دونوں سدنوں سے دو تہائی بہہ مت سے پاس کرانے کی چنوتی ہے۔ زیادہ تر پارٹیاں اسکا ورودھ تو نہیں کر پائینگی,پر انکی کوشش ہوگی که اسے ٹال دیا جائے۔ جس سے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا اسکا شرییہ نہ لے سکے۔

اسکے لئے پرور سمتی(سیلیکٹ کمیٹی)کے راستے پر وپکش اڑا تو سرکار کیا کریگی۔ مان لیں که یہ سنسد سے پاس ہو بھی گیا تو سپریم کورٹ میں کیا یہ سنودھان سنشودھن ٹک پائیگا۔ کیونکہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بارے میں سرکار کیا ترک دیگی,جسمیں برابری کے ادھیکار کی رکشا کے لئے اسنے تے کیا تھا که آرکشن کی سیما پچاس فیصدی سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔


اس سنودھان سنشودھن ودھیک کا حشر کچھ بھی ہو لیکن یہ تو تے ہے که یہ مدعا لوک سبھا چناؤ کے پرمکھ مدعوں میں ایک ہوگا۔ بھاجپا کو لوک سبھا چناؤ کے لئے ایک نیا مدعا مل گیا ہے۔ یہ پاس ہو گیا تو بھاجپا کو چناوی فائدہ ملیگا۔ نہیں پاس ہوا تو پارٹی وکٹم کارڈ کھیلیگی۔ ایسے میں یہ متداتا پر نربھر ہے که وہ اسے مودی سرکار کا چناوی سٹنٹ مانتا ہے یا صحیح نیت سے کیا گیا فیصلہ۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation