Loading...
پچھم بنگال میں مودی کا کیول شور ہے یا سچ بھی-لوک سبھا چناؤ2019 | Webdunia Hindi

پچھم بنگال میں مودی کا کیول شور ہے یا سچ بھی-لوک سبھا چناؤ2019

Last Updated: بدھوار, 15مئی2019 (19:29 IST)
-زبیر احمد(دم دم,پچھم بنگال)

ممتا بنرجی:'چوکیدار؟'
بھیڑ:'چور ہے'
جنتا کی اور سے اچھی پرتکریا ملنے پر ممتا سٹیج پر ایک چھور سے دوسری چھور تک ہاتھ میں مائک پکڑے چلتی ہیں اور کہتی ہیں, "میں دو منٹ خاموش رہتی ہوں,آپ زور سے بولو,چوکیدار..."بھیڑ میں'چور ہے'کی آواز دو منٹ تک گونجتی رہتی ہے۔

پچھم بنگال میں لوک سبھا چناؤ کے آخری دور کا چناوی ماحول کافی گرم ہے۔ یہاںاور دوسری پارٹیوں کی ریلیاں ہر جگہ ہو رہی ہیں۔ لیکن ترنمول کانگریس کی نیتا اور مکھیہ منتری ممتا بنرجی سب سے ادھک ریلیاں اور روڈ شو کر رہی ہیں۔
وشیشگیوں کے انوسار وہ جس طرح سے نریندر مودی پر پر ہار کر رہی ہیں اس سے صاف ظاہر ہے که وہ بھاجپا سے پریشان ہیں۔ ہر ریلی میں ممتا بنرجی چوکیدار والے نعرے کو دوہراتی ہیں۔ وہ اوسطاً ایک سبھا میں ایک گھنٹہ لمبا بھاشن دیتی ہیں جسمیں آدھے سے زیادہ سمیہ نریندر مودی پر پر ہار کرتی ہیں۔

یہ عام چناؤ کا آخری دور ہے۔ آخری چرن میں پچھم بنگال کی نو سیٹوں کے لئے ممتا بنرجی پورا زور لگا رہی ہیں۔ وہ ہر دن تین سے چار چناوی سبھائیں اور روڈ شو کرتی ہیں۔ مکھیہ منتری اپنے ہر بھاشن میں رفال,نوٹبندی,بیروزگاری اور جیئیسٹی جیسے مدعے اٹھاتی ہیں۔

وہ نریندر مودی اور بھاجپا پر سماج کو بانٹنے کا الزام بھی لگاتی ہیں۔ انکے سمرتھکوں میں اتساہ ہے۔ ریلیوں میں آئے لوگ انکی ہر بات سے سہمت نظر آتے ہیں اور اپنے نیتا کی آواز میں آواز ملاتے ہیں۔

کولکتہ سے100کلومیٹر دور آدمپر گاؤں کی جن سنکھیا200کے قریب ہے۔ یہ بسرہاٹ چناوی شیتر کا ایک گاؤں ہے جہاں ٹیئیمسی کی امیدوار فلم سٹار نصرت جہاں چناوی میدان میں ہیں۔ میں نے گاؤں والوں سے پوچھا یہاں ووٹ مانگنے کوئی امیدوار آیا تو جواب آیا,نہیں۔ اسکے باوجود انکے انوسار لوگوں نے ٹیئیمسی کے پکش میں ووٹ ڈالنے کا من بنا لیا ہے۔

'ہم ٹوپی پہن کر سینہ تان کر گھوم سکتے ہیں'
ایک27ورشیہ یووا نے کہا, "ممتا دیدی نے انکے سکول جانے والی لڑکیوں کو سائکل دی ہے۔ ہمیں چاول ملتا ہے۔ ہمارے گاؤں تک آنے والی سڑک بنا دی گئی۔ ہمارا جیون سکھی ہے۔ سی پی ایم راج میں ہم غریبی سے دکھی رہتے تھے۔"آدمپر سے لگے ایک اور چھوٹے سے گاؤں کے باہر مین روڈ پر کچھ مسلمان بیٹھے بات چیت کر رہے تھے۔ وہ ایک آواز میں ممتا بنرجی کے پکش میں بولتے ہیں۔

میں نے پوچھا که کچھ لوگ کہتے ہیں که ممتا پچھم بنگال کے30پرتیشت مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کر رہی ہیں تو وہاں بیٹھے محمد بشیر ملا,جو ایک زمانے میں سی پی ایم کے سمرتھک تھے,کہتے ہیں دیدی نے انکے سمودائے کو سرکشا اور سمان دیا ہے۔
TMC bengal
ملا بتاتے ہیں, "ہم اس راجیہ میں ٹوپی اور داڑھی کے ساتھ اپنی پہچان کے ساتھ سینہ طعن کر گھوم سکتے ہیں جو دوسرے راجیوں کے مسلمان مودی راج میں نہیں کر سکتے۔"پچھم بنگال کے گرامین علاقوں میں پرویش کریں تو آپ کا سواگت ٹیئیمسی کے جھنڈوں اور ممتا بنرجی کے پوسٹروں سے ہوتا ہے۔

اتر اور پچھم بھارت میں جگہ جگہ پردھان منتری نریندر مودی کا مسکراتا ہوا چہرہ پوسٹروں اور بلبورڈ میں اکثر دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ پچھم بنگال کے شہروں اور دیہاتوں میں ایسے پوسٹر کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ترنمول کے جھنڈے اور ممتا بنرجی کے پوسٹر آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

یہاں نریندر مودی کا نام لینے والے بہت کم ملیں گے۔ اس راجیہ میں'دیدی'کے نام سے پہچانے جانی والی ممتا بنرجی ادھک لوکپریہ نظر آتی ہیں۔ اتر بھارت میں نریندر مودی کی سویکاریتا ہے پر پچھم بنگال میں ممتا کے سامنے کوئی نہیں ہے۔
سوموار کو ڈائمنڈ ہاربر چناوی شیتر میں انکے بھاشن کے لئے سیکڑوں لوگ جمع تھے۔ زبردست گرمی اور رمضان کے باوجود لوگ اپنے نیتا کا دیدار کرنے آئے تھے۔ بھیڑ میں موجود سمیع ملا نے کہا, "میں مرتے دم تک دیدی کا ساتھ نہیں چھوڑونگا۔"انکے قریب کھڑی وحیدہ غرو سے کہتی ہیں, "یہاں کیول دیدی کی لہر ہے۔"انک بوس نامی ایک یووا نے کہا, "دیدی بنگال کی شیرنی ہیں۔"

اس چناوی شیتر سے ٹیئیمسی کے امیدوار ابھیشیک بنرجی میدان میں ہیں جو ممتا بنرجی کے بھتیجے بھی ہیں اور لوگوں کی مانے تو انکی وارث بھی۔ ابھیشیک یہاں سے پچھلی بار بھی چناؤ جیتے تھے۔ ممتا بنرجی نے2011کے ودھان سبھا چناؤ میں34ورش تک راج کرنے والے وامپنتھی مورچے کو اکھاڑ پھینکا تھا۔ لگاتار چناؤ جیتنے کے کارن انکی پارٹی کی جڑیں شہروں اور گرامین علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور مضبوط ہیں۔

بھاجپا بھی نہیں ہے کمزور
لیکن کئی سیاسی وشلیشک کہتے ہیں که بھاجپا نے راجیہ میں اپنی ستھتی کافی مضبوط کی ہے۔ یہاں نریندر مودی اور پارٹی ادھیکشنے کئی ریلیاں کی ہیں۔ جھارکھنڈ سے سٹے آدیواسی علاقوں میں پارٹی نے اپنی جگہ بنائی ہے۔ پچھلے چناؤ میں بھاجپا کو42میں سے کیول دو سیٹیں ملی تھیں۔ اس بار پارٹی کو کئی سیٹیں ملنے کی امید ہے۔

روندر بھارتی یونیورسٹی کے پروفیسر سویساچی باسو کی چناووں پر گہری نظر ہوتی ہے۔ انکے مطابق بھاجپا کو اس بار10سیٹیں مل سکتی ہیں۔ وہ آگے کہتے ہیں, "اس چناؤ میں بھاجپا دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر سکتی ہے اور اسکا ووٹ شیئر بھی بڑھ سکتا ہے۔"

ترنمول کانگریس کے نیتا دبے شبدوں میں یہ سویکار کرتے ہیں که شائد بھاجپا کو پچھلی بار سے تھوڑی زیادہ سیٹیں ملیں۔ مجھ سے پارٹی کے دو بڑے نیتاؤں نے سویکار کیا که بھاجپا کا اثر راجیہ میں بڑھا ہے لیکن وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں که بھاجپا کے پکش میں نیشنل میڈیا نے ماحول ادھک بنایا ہے۔

گرامین علاقوں میں ٹیئیمسی کی دہشت؟
ممتا کے ایک قریبی نیتا نے کہا, "دیکھیئے گراؤنڈ پر بھاجپا کے کاریہ کرتا ادھک نہیں ہیں۔ انکے پاس ہماری طرح کاریہ کرتاؤں کی فوج نہیں ہے۔ گرامین علاقوں میں پارٹی کی شاکھائیں نہیں ہیں تو وہ جیتینگے کیسے؟"

ممتا بنرجی کے خلاف آلوچنائیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ سی پی ایم کے کئی نیتاؤں نے ہمیں بتایا که گرامین علاقوں میں ٹیئیمسی کی دہشت پھیلی ہوئی ہے۔ بھاجپا کے کاریہ کرتاؤں نے ٹیئیمسی کے راج کو غنڈہ راج بتایا۔ ایسی شکائتیں کچھ عام لوگوں نے بھی کیں۔ کئی نے کہا که ذاتی طور پر ممتا بنرجی ٹھیک ہیں لیکن انکے پارٹی کے لوگوں میں گھمنڈ آ گیا ہے اور وہ چھوٹی بات پر ہنسا پر اتارو ہو جاتے ہیں۔

میں نے شہری اور گرامین علاقوں میں ٹیئیمسی کے کئی کاریہ کرتاؤں کے سامنے جنتا کی یہ شکایت انکے سامنے رکھی۔ وہ اس الزام کو خارج کرتے ہوئے کہتے ہیں که ہنسا بھاجپا کے کاریہ کرتا کرتے ہیں,وہ کیول جوابی ایکشن کرتے ہیں۔ ٹیئیمسی کے کاریہ کرتاؤں نے ہمیں بتایا که وہ ابھی سے2021میں ہونے والے ودھان سبھا کی تیاری میں جٹ گئے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے که پچھم بنگال میں عام چناؤ کے نتیجوں کا پربھاؤ ودھان سبھا پر پوری طرح سے ہوگا۔

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation