Loading...
گریٹیسٹ شومین راج کپور:ہم تمہارے رہینگے صدا| Raj Kapoor The Greatest Showman of Hindi Cinema | Webdunia Hindi

گریٹیسٹ شومین راج کپور:ہم تمہارے رہینگے صدا

بھارتیہ سنیما کے سورنیگین فلمکار راج کپور کو گزرے ہوئے کئی سال ہو گئے,لینک وہ کبھی اپراسنگک نہیں ہو نگے,کیونکہ انکا ویکتتو اور کرتتو ساروکالک مہتو کا ہے۔ صرف ساڑھے ترسٹھ سال کی عمر میں انہوں نے اس دنیا سے ناٹکیہ رخصت لی,جب وہ دادا صاحب پھالکے اوارڈ گرہن کرنے دہلی گئے تھے۔2مئی1988کو سری فورٹ آڈٹوریم میں تتکالین راشٹرپتی مہامہم ایس.وینکٹرمن نے جب دیکھا که راج کپور کو منچ تک آنے میں تکلیف ہو رہی ہے,تو وہ خود ہی انکی سیٹ تک گئے اور سمانپٹ‍ٹکا پردان کی۔

ٹھیک اسی شن اس مہانایک کو دمے کا زوردار دورہ پڑا اور وہ سیٹ پر نڈھال ہو گئے۔ راشٹرپتی نے ترنت حرکت میں آ کر انہیں اپنی ایمبلینس سے اکھل بھارتیہ آیور وگیان سنستھان پہنچایا,جہاں پورے ایک ماہ تک وہ مرتیو سے جوجھے اور چل بسے۔ انکے پارتھو شریر کو‍راج کیہ ومان سے ممبئی پہنچایا گیا اور اگلے دن3جون کو چیمبور کر مے‍ٹوریم میں انکا داہ سنسکار کر دیا گیا۔

پہنچی وہیں پہ خاک,جہاں کا خمیر تھا۔ اسی چیمبور میں انکا آر.کے.سٹوڈیو تھا,جو اب بک چکا ہے,مگر عام بھارتیوں کے دلوں میںاب بھی جندا ہیں۔ ایسی امرتا بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ راج کپور نے اپنی مہانتم فلممیں گایا بھی تھا-
'کل کھیل میں ہم ہوں نہ ہوں,گردش میں تارے رہینگے صدا
بھولوگے تم,بھولینگے وہ,پر ہم تمہارے رہینگے صدا

نیل کمل کے نائک
راج کپور لگاتار چار دشک تک پھلمود‍یوگ پر چھائے رہے۔ صرف گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے مہان نردیشک دیوکی بوس کی فلم'والمیکی'میں اپنے پتا پرتھوی راج کپور کے ساتھ کام کیا تھا۔ پرتھوی راج نیو تھئیٹرس کلکتہ میں ملازم تھے,بعد میں جب وہ ممبئی آئے تو پانچ اور پھلموں میں کشورویہ راج کپور نے چھوٹی چھوٹی بھومکائیں کیں۔

نرماتا نردیشک کیدار شرما نے اپنی فلم'نیل کمل'میں مدھوبالا کے ساتھ نائک کا رول انہیں دیا اور بائیس سال کی عمر میں راج کپور نے اپنی پہلی فلم'آگ'بناکر سنیپریمیوں کو چکت کر دیا۔ انہوں نے1947میں اپنے سٹوڈیو کی ستھاپنا کی,جہاں'آگ'سے'رام تیری گنگا میلی' (1985)تک انہوں نے کل18پھلموں کا نرمان کیا,جن میں سے ایک ادھ کو چھوڑکر شیش سبھی کو کالجیی کرتیاں مانا جاتی ہے۔

پھلمیں بنانے کے لئے وہ ابھنیہ سے پیسہ کماتے تھے۔ وہ آزاد بھارت میں ابھرے تین پرمکھ ابھینیتاؤں(دلیپ دیو راج)میں شمار تھے تو شانتارام,سہراب مودی,محبوب,بمل رائے,گردت,دیو آنند اور اشوک کمار جیسے فلمکاروں کی شرینی میں بھی تھے۔ انکا ویکتتو بہہ ایامی تھا۔ وہ نرماتا,نردیشک,سمپادک,سٹوڈیو مالک,کہانی اور گیت سنگیت کی سمجھ رکھنے والے وچارشیل,سنویدنشیل شومین تھے۔ اپنی رچناتمک پرکریا کے دوران راج کپور نے ایسا بہت کچھ کیا,جو آج بھی انوکرنیہ مانا جاتا ہے۔ نئے نرماتا نردیشکوں کے لئے انکی فلم بائبل کے سمان ہے۔
جیون کی پاٹھشالا
راج کپور کی وراثت کا لیکھا جوکھا بہت وسترت ہے۔ انکی سب سے بڑی وشیشتا انکے سوچ کی مولکتا تھی۔ میٹرک کی پریکشا میں لیٹن اور گنت وشیوں میں فیل ہو جانے کے کارن انہوں نے اپچارک شکشا کو اناوشیک مان کر چھوڑ دیا تب پاپا پرتھوی راج کپور سے انہوں نے کہا تھا که اگر کسی کو وکیل بننا ہو تو آل کالج میں جاتا ہے۔ ڈاکٹر بننے والا میڈکل میں جاتا ہے۔ مجھے فلم نرماتا بننا ہے,میں کہاں جاؤں؟ راہ تھی-جیون کی پاٹھشالا۔

انہوں نے رنجیت سٹوڈیو,بامبے ٹاکیج اور پھر پرتھوی تھئیٹرس میں پرشکشن لیا۔ سنگیت بھی سیکھا۔ پھلمودیوگ میں دھومکیتو کی طرح ابھرنے کے بعد انہوں نے بڑی تیزی سے اپنی ٹیم جٹائی۔ شنکر جےکشن,مکیش,لتا منگیشکر,شیلیندر,حسرت جیپری,مناع ڈے وغیرہ راج کپور کی ہستی کے اوبھاجیہ انگ تھے۔ اپنے ابھینیتا روپ کے لئے انہوں نے چارلی چیپلین کی ٹریمپ(آوارہ)چھوی کا چین کیا اور عام آدمی بن گئے۔ کلاس اور ماس نے انکی اس چھوی کو سمان روپ سے پسند کیا۔ انکی لوکپریتا اس اپ مہا دیپ تک ہی سیمت نہیں رہی,روس,چین,ٹرکی تک پہنچی۔

وہ انترراشٹریہ خیاطی پانے والے پہلے بھارتیہ فلمکار تھے۔ مرتیو سے پورو امریکہ میں بھی انکی پھلموں نے لوکپریتا پائی اور وہ گلوبل ہو گئے۔ انترراشٹریہ سطر کی پھلمیں بنانے والے ستیہ جیت رائے بھی راج کپور کی آرمبھک پھلموں کے پرشنسک تھے۔

بھولا اور بھلا مانس
راج کپور نے جواہر لال نہرو کے آدرشواد کو انگیکار کیا تھا اور وہ امن کے پیروکار تھے۔ اپنے مادھیم کی شکتی کو وہ جانتے تھے اور اپنے کرتویوں کا بھی انہیں احساس تھا۔ انکی پھلموں کے کیلڈوسکوپ میں کئی رنگوں کی پھلمیں ہیں,جنہیں سیلیولائڈ پر کوتا کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی پھلموں میں ساماجک پرتبدھتا اور منورنجن تتھا کلا اور ویوسائے کے بیچ سامنجسیہ قائم کر بھارتیہ سنیما کو نئی دشا دی۔
بھاوک اور وچارشیل راج کپور کی سنگٹھن شمتا اد‍بھت تھی۔'اہں برہماسمی'کے درشن میں یقین کرنے والے راج کپور ایشور بھیرو بھی تھے,لیکن انکے آس پاس ریشنل(وویکی)لوگوں کا جماوڑا تھا۔ انہوں نے'آگ'اور'برسات'کے بعد'آوارہ' (1951)بناکر وشو سنیما کے دوار پر زوردار دستک دی۔

بوٹ پالش,شری420,جاگتے رہو,جس دیش میں گنگا بہتی ہے(1960),سنگم(1964),اور میرا نام جوکر(1970)بنائی۔ اسکے بعد یووا پریمی کے چولے کو اتار پھینکا۔ اگلے دشک میں انہوں نے اپنے تین بیٹوں کو ابھنیہ اور نردیشن کے شیتر میں اتارا,جن میں سے رشی کپور نے اچھی سپھلتا پائی۔ رندھیر کپور بھی پھیکے نہیں رہے۔ راج کپور کے ابھنیہ والی بینروں کی پھلمیں بھی کمتر نہیں ہوتی تھیں,کیونکہ انکے کیندر میں بھی بھولا اور بھلے مانس راج کپور ہی ہوتے تھے۔
آر.کے.بینر کی پھلموں کے لیکھک بھی ایک سے بڑھکر ایک دھاکڑ لوگ رہے۔ خواجہ احمد عباس نے,جو سویں بھی اچھے پھلم نرماتا تھے,راج کپور کے لئے آوارہ,شری420,میرا نام جوکر اور بابی جیسی پھلمیں لکھیں۔ انہیں آشچریہ ہوتا تھا که میری کہانی پر جو فلم راج کپور بناتا ہے,وہ سپرہٹ ہوتی ہے,جبکہ سویں کی پھلمیں پٹ جاتی ہیں۔ عباس نے آوارہ کی کہانی محبوب کو بھی دینا چاہی تھی,لیکن وہ مکر گئے,جبکہ آوارہ نے راج کپور کا بھاگیہ پلٹ دیا۔ راج کپور کی پہلی فلم'آگ'کے لیکھک اندر راج آنند تھے,جنہوں نے بعد میں'آہ'اور'سنگم'کی کہانی لکھی۔

دوسری فلم'برسات'کے کہانی کار رامانند ساگر تھے۔ بنگال کے پرسدھ رنگکرمی شمبھو مشرع اور امت میترا نے دوبھاشی فلم'جاگتے رہو' (ہندی)اور'ایک‍دنیر راتری' (بنگلہ)لکھی تھی۔ جس دیش میں گنگا بہتی ہے,کے لیکھک ارجن دیو رشک تھے,جبکہ'رام تیری گنگا میلی'کی کہانی خود راج کپور کی تھی۔ پریاگ راج,جینیندر جین,پربھاکر تامہنے,اختر مرجع,ویریندر سنہا,کامنا چندرا آدی بھی انکے کہانی کار رہے۔ شیلیندر اور حسرت کے علاوہ پنڈت نریندر شرما,نیرج ار وٹ‍ٹھلبھائی پٹیل نے بھی آر.کے.‍کی پھلموں کو گیت دیئے۔

راج کپور اطمینان سے پھلمیں بناتے تھے اور پوری تسلی ہونے پر ہی انہیں پردرشت کرتے تھے۔ سمیہ سمیہ پر انہوں نے آرتھک جھٹکے بھی سہے۔ آتم کتھا فلم'میرا نام جوکر'اپنے آپ میں تین پھلموں کا مسالہ سمیٹے ہوئے تھی اور اگر یہ باکس آفس پر پٹتی نہیں تو راج کپور کا پکا ارادہ تھا که وہ جوکر بھاگ دو بھی بنائینگے۔ لیکن اس فلم کے نرمان میں چھ: سال لگ گئے۔'آوارہ'اور'جاگتے رہو'کے سمان ہی جوکر بھی راج کپور کی کالجیی فلم سمجھی جاتی ہے۔
'...جوکر'
کے بعد راج کپور نے ہالی وڈ کی فلم'لو سٹوری'کی پریرنا سے'بابی'بنائی اور آرتھک سنکٹ سے ابر گئے,کیونکہ وہ جنرچی کا رہسیہ جان گئے تھے۔ ہون کرتے ہاتھ نہ جلا بیٹھیں,اسلئے انہوں نے اپنی پھلموں میں بولڈ سنان درشیوں کا سہارا لیا,جس سے تتکالین بدھجیوی اور خاص کر پرتسپردھی نرماتا نردیشک بہت کنٹھت ہوئے۔ راج کپور کو اپنے جیون کے اتراردھ میں آلوچنا کا شکار ہونا پڑا اور انکے ابھنیہ کو بھی گھسا پٹا بتایا گیا۔ لیکن ماتر پن چبھانے سے راج کپور جیسی‍شخصیت کیا فرق پڑتا؟ وہ سپھلتا کے جھنڈے پھہراتے رہے۔

راج کپور,دلیپ کمار اور دیو آنند ہندی سنیما کے پہلے بڑے تین ستارے تھے۔ کندنلال سہگل اور اشوک کمار سے انکی ستھتی بیشک بھن تھی۔ تینوں مہتواکانکشی یووا ترک تھے اور کم وبیش نیہرویگین آدرشواد سے پربھاوت بھی تھے۔ اشوک کمار,دیو آنند اور دلیپ کمار نے بھی پھلموں میں اپنے پریواروں کی ساکھ قائم کرنے کے پریتن کئے,لیکن پرتھ‍وی راج کے پریوار نے جو ستھایتو پایا,اسکا کوئی ثانی نہیں۔ راج کپور کے بھائی شمّی کپور اور ششی کپور انکے جیونکال میں ہی اپنے ڈھنگ کے نرالے ابھینیتا اور فلمکار تھے۔ راج کپور کے تینوں بیٹوں-رندھیر,رشی اور راجیو نے بھی ابھنیہ اور نردیشن کے شیتر میں اپنی اپنی پاری کھیلی۔ قرینہ,کرشمہ اور رنبیر کپور پرمپرا کو آگے تک لے آئے۔

سرودھرم سمبھاو
راج کپور سرودھرم سمبھاو کے مارگ پر چلتے تھے۔1976میں گایک مکیش کا ندھن امریکہ میں ہوا,تو راجیندر کمار کے ساتھ شو لینے ایئرپورٹ گئے۔ راج کپور نے کہا- 'میرا دوست یاتری کی طرح گیا تھا,لگیج کی طرح لوٹا۔'
راج کپور کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ دادا صاحب پھالکے اوارڈ لینے دہلی گئے تھے۔ مکیش کی طرح لوٹے۔ مکیش کی انتییشٹی میں انہوں نے سبھی دھرم کے پرارتھناکار بلائے تھے۔ راجیندر کمار نے کہا- 'میرا داہ سنسکار بھی ایسے ہی کرنا۔'اصل میں یہی ہوا بھی۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation