Loading...
برتھ ڈے سپیشل:ششی کپور اور'جنون' | Webdunia Hindi

برتھ ڈے سپیشل:ششی کپور اور'جنون'

بات جبکی ہوتی ہے تو انکی ایک رومانٹک ہیرو والی امیج ابھر کر سامنے آتی ہے۔
'کہہ دوں
تمہے'والی بند اس مستی ہو یا پھر'کھلتے ہیں گل'والا شاعرانہ انداز,وہ زیادہ تر پھلموں میں ہلکے پھلکے رولس میں ہی نظر آئے۔ جب جب پھول کھلے,شرمیلی,کبھی کبھی,دیوار...انکی پھلمیں باکس آفس پر جم کر چلی اور ششی کپور کو درشکوں کا اپار سنیہہ ملا۔

ستر کے دشک کے اتراردھ میں ششی کپور نے اپنا پروڈکشن ہاؤس بنایا,جسکے تحت کئی پھلموں کا نرمان ہوا۔ ان پھلموں میں وہ ایک دم الگ روپ میں نظر آئے۔ جنون,کلیگ,اتسو,وجیتا جیسی کئی پھلموں میں
انہوں نے ثابت کر دیا کی'ششی کپور'ایک رومانٹک ہیرو سے بڑھکر اور بھی بہت کچھ ہیں۔ نہ کیول وہ مین سٹریم سنیما کے لوکپریہ ہیرو ہیں بلکہ وہ ایک سپھل نرماتا ہیں اور ایک زبردست ابھینیتا بھی!
ان پھلموں میں ششی جی کے ابھنیہ کو درشکوں اور سمیکشکوں دونوں سیں ہی خوب پرشنسا ملی۔ چاکلیٹ ہیرو کی پرت کے نیچے چھپا ہوا یہ ہیرا اب چمچماتا ہوا نظر آنے لگا۔ اپنے کریر کی دوسری پاری کھیلنے ششی کپور میدان میں اتر چکے تھے۔

1978میں فلم جنون ریلیز ہوئی۔ بطور نرماتا ششی کپور کی یہ پہلی مووی تھی۔ نردیشن کیا تھا شیام بینیگل نے۔ فلم کی کہانی سنہ1857کی ہے۔ یہ وہ دور تھا کی جب انگریزی حکومت کی جیادتیاں بےقابو ہو چلی تھی۔ دیش بھر میں انگریزوں کے خلاف سیلاب سا اٹھ رہا تھا۔ منگل پانڈے جنگ کا اعلان کر چکے تھے۔ انکی پھانسی کے بعد تو ودروہ جوالا اور بھی بھڑک اٹھی۔ لوگوں کے دلوں میں کرودھ دھدھک رہا تھا۔ دہلی,لخنؤ,میرٹھ,رام پور جگہ جگہ سینکوں کی ٹکڑیاں ایکترت ہونے لگ گئی۔ انگریزوں کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے کے لئے وہ بےقرار تھی۔

فلم کی کہانی لکھنؤ میں رہنے والے جاوید خان اور انکے پریوار کے ارد-گرد بنی گئی ہے۔ لکھنؤ میں ہندستانی سینکوں کی ایک ٹکڑی ایک چرچ پر حملہ کرتی ہے۔ حملے میں مریم لبڈار نامک مہلا کا پتی جو کی ایک انگریز فوجی تھا,مارا جاتا ہے۔ جیسے تیسے,چھپتے چھپاتے مریم اپنی اور بیٹی رتھ کی جان بچاتی ہے۔ ایسے میں شہر کا ایک ساہوکار ان ماں بیٹی کو اپنے یہاں پناہ دیتا ہے۔

کتھا نائک جاوید خان رتھ کے پیار میں دیوانے ہیں۔ پیار جب دو انگی کی حدیں پار کر دیتا ہے تو وہ جنون بن جاتا ہے۔ جاوید خان کا بس یہی حال ہے۔ اسے جب پتہ چلتا ہے کی رتھ اپنی ماں کے ساتھ ساہوکار کے یہاں ہے تو جناب وہاں سیں زبردستی دونوں کو اپنے گھر لے آتے ہیں۔ گھر میں انکی بیوی ہے جو دیکھ سکتی ہے کی اسکا شو ہر کس طرح ایک پرائی عورت کی محبت میں پاگل ہو چلا ہے۔ پر وہ کریں بھی تو کیا؟ اپنے سر پھرے پتی کے آگے بےبس ہیں بیچاری۔

جاوید خان رتھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے,پر رتھ کی ماں مریم اسکے آگے کچھ شرطیں رکھتی ہے۔ رتھ کا جاوید خان کے آگے شرطیں رکھنا اتنا ہی بیمانی ہے,جتنا کی ایک بکرے کا قصائی کے آگے شرطیں رکھنا۔ جاوید خان گرم جوش ہے اور بیحد جذباتی بھی۔ اگر چاہے تو مریم کو نظر انداز کرکے رتھ سیں زبردستی نکاح کر سکتا تھا پر وہ ایسا نہیں کرتا اور مریم کی شرطیں مان لیتا ہے۔

فلم کی بنیاد جو کی اسکی کہانی ہے بہت ہی سشکت ہے۔ رسکن بانڈ کے اپنیاس'A
flight of
pigeons'پر یہ فلم آدھارت ہے۔ شیام بینیگل کا بہترین دگدرشن فلم کو گنپورنتا کے اونچائی پر لے جاتا ہے۔

آئیے بات کرتے ہیں اب ابھنیہ کی۔ نصیرالدین شاہ جاوید خان کے بھائی کے رول میں نظر آتے ہیں۔ اپنے چھوٹے سے رول میں بھی پرے فلم پر گہرا پربھاؤ چھوڈتیں ہے۔ انگریزوں سے نفرت اور جنگ ہارنے کا درد اپنے ابھنیہ سیں درشکوں تک بخوبی پہنچاتے ہیں۔

شبانہ اعظمی جاوید خان کی بیگم پھی‍ردوس کی بھومکا کمال کی خوبصورتی سے نبھاتی ہیں۔ ایسی عورت جسے اپنے بےاولاد ہونے کا غم اندر ہی اندر کچوٹتا ہے اور شوہر کی بیوفائی کا درد انگارے بن کر اسکی لفظوں سے پھٹتا ہیں۔ شبانہ اعظمی نے پھی‍ردوس بیگم کے که‍ردار کو یادگار بنا دیا ہے۔

سشما سیٹھ جاوید خان کے موسی کی بھومکا میں ہیں۔ ویکتتو میں نوابی شان,بولنے میں لکنوی ادب اور دل میں اپار ممتا۔ سشما جی اس فلم دودھ میں گھلے شکر کا کام کرتی ہیں۔ باقی سپورٹنگ کاسٹ میں کلبھوشن خربندہ,دیپتی نول,بینجامن گیلانی,عصمت چغتائی اور پرل پدمسی جیسے بہترینہر چھوٹے بڑے رول میں اپنی امیٹ چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔

نفیسہ علی بیحد سندر دکھتی ہیں اور اپنے کردار کو اچھی طرح سے نبھاتی ہے۔ انکے حصے میں زیادہ ڈایلاگس نہیں ہیں اور انکی بھومکا بھی کافی سیدھی سرل ہے۔ بیشک وہ بھومکا میں تھوڑا اور نکھار لا سکتی تھی,لیکن پھر بھی انکے ابھنیہ میں نخس نہیں نکالا جا سکتا۔

فلم کے طعنے بانے میں اگر کوئی کمزور بکھی‍یا ہے,تو وہ ہوگا فلم کا لاؤڈ بیکگراؤنڈ میوزک۔ کیمراورک بھی بہتر ہو سکتا تھا۔ بہرحال اس سجیلے قالین کے گنے چنے کمزور بکھیے نظر پر حاوی نہیں ہوتے۔ قالین کی سندرتا انکو اپنے آپ میں بڑی سہجتا سے سما لیتی ہے۔

زبردست ابھنیہ کے جوہر دکھاتی ہے۔ فلم کی مریم لبڈار اور اصلی زندگی کی جینیفر کینڈل مسیس ششی کپور۔ مریم اپنا پتی کھو چکی ہیں۔ ڈری ہوئی ہے اپنے لئے اور اپنے بیٹی کے لئے۔ پر ڈر اور بے بسی کے عالم میں بھی اپنے آتمسمان کے پرتی مریم اتینت سجگ ہے.اپنے بیٹی کی ڈھال ہیں۔ خوف,ووشتا,درڈھتا اور دھیرج...ساری بھاونائیں آنکھوں اور ہاو بھاووں کے ذریعے بڑی سکشلتا جینیفر درشکوں تک پہنچاتی ہے۔

ویسے تو جینیفر ہندی سنیما کے پردے پر کبھی زیادہ نظر نہیں آئی,
پر انکی ہر ایک فلم انکے کے عمدہ ابھنیہ کوشل کا پرمان ہے۔ ہندی سنیما کے درشکوں کے لئے جنون کی میڈم مریم لبڈار کو بھلا پانا ناممکین ہے۔

پرمکھ بھومکا میں ہیں ششی کپور۔ تیز طرار,خاندانی رئیس جاوید خان پٹھان۔ روتھ کے پیار میں جاوید خان اپنا گھر بار,سوجھ بوجھ,آتمسمان یہاں تک کی اپنی زندگی تک دانو پہ لگا دیتا ہے۔ یوں ٹوٹ کر پیار کرنا,پاگل پن کی حد تک کسی کو چاہنا اور پیار میں فنا ہو جانا...۔ ششی کپور نے جاوید خان کی بھومکا میں جی جان لگا دی ہے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کی وہ جاوید خان کا کردار نبھاتے نہی بلکہ اسے جیتے ہے۔

کی بات کریں تو فلم میں گانے ادھک سنکھیا میں نہیں ہیں اور جتنے ہیں بھی سارے سچئیشنل ہیں۔ اس فلم کے گانے فلم کے پرواہ کو روکتیں نہی بلکہ کسی جھرنے کی طرح کہانی کے پرواہ سیں جڑ جاتے ہیں اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ فلم کی سنیمیٹوگراپھی اچھی ہے۔ فلم کے سنجیدہ موڈ کو اچوک سمپریشت کرتی ہے۔ ایڈیٹنگ بھی بالکل سٹیک۔

اچھا دگدرشن اور اچھے کلاکار ہو,تو بنا ڈھیر ساری بجٹ کے بھی ایک اتم فلم بنائی جا سکتی ہے۔ فلم بنانے والے جب کسی فلم کو پوری آستھا اور شدت کے ساتھ بناتے ہیں اس فلم کو دکھاوے کے ٹیکن کی ضرورت ہی مہسس نہیں ہوتی۔ جنون میں نہ بھاری بھرکم سنواد ہے نہ سپرسٹاروں کا جمگھٹ,نہ آنکھے چوندھانے والے سیٹس ہیں اور نہ ہی مہنگے کاسٹیومس۔ پھر بھی یہ فلم اتمتا کے سارے نکشوں پر اصلی سونے کی طرح کھری اترتی ہے۔ اس فلم کو سنیما کے پردے پر آئے حال ہی میں تیس سال پرے ہوئے پر آج بھی جنون ہندی سنیما کی بہترین پھلموں میں سے ایک معنی جاتی ہے اور ششی کپور کے کریر کا ایک سنہرا پنا۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation