Loading...
بھگوان بدھ کے سمبندھ میں10ان سنی باتیں| gautam buddha | Webdunia Hindi

بھگوان بدھ کے سمبندھ میں10ان سنی باتیں

buddha purnima
بھگوان بدھ کا دھرم پورو کے کئی راشٹروں کا دھرم ہے۔ جسمیں جاپان,دکشن کوریا,اتر کوریا,چین,ویتنام,تائیوان,تھائی لینڈ,کمبوڈیا,ہانگ کانگ,منگولیا,تبت,بھوٹان,مکاؤ,برما,لاگوس اور شری لنکا تو بودھہے ہی ساتھ ہی بھارت,نیپال,ملیشیا,انڈونیشیا,رشیا,سنیکت راجیہ امریکہ,فرانس,برٹین,جرمن,بانگلادیش,پاکستان,کنیڈا,سنگاپور,پھلیپینس,برازیل اور افغانستان میں بھی بودھوں کی سنکھیا اچھی خاصی ہے۔ حالانکہ کچھ ورشوں میں افغانستان,پاکستان اور بانگلادیش میں بودھوں پر ہوئے اتیاچار کے چلتے وہاں انکی سنکھیا کم ہو چلی ہے۔ آؤ جانتے ہیںکے بار میں10ان سنی باتیں۔

1.یہ سنیوگ ہے یا که پلاننگ که ویشاکھ پورنما کے دن بدھ کا جنم نیپال کے لمبنی ون میں عیسٰی پورو563کو ہوا۔ انکی ماتا مہا مایا دیوی جب اپنے نیہر دیودہ جا رہی تھیں,تو کپل وستو اور دیودہ کے بیچ نوتنوا اسٹیشن سے8میل دور پچھم میں رکمندیئی نامک ستھان کے پاس اس کال میں لمبنی ون ہوا کرتا تھا وہیں پتری کا جنم دیا۔ اسی دن(پورنما) 528عیسٰی پورو انہوں نے بودھگیا میں ایک ورش کے‍نیچے جانا که ستیہ کیا ہے اور اسی دن وہ483عیسٰی پورو کو80ورش کی عمر میں دنیا کو کشینگر میں الوداع کہہ گئے۔


2.بدھ کا جنم نامرکھا گیا۔ سدھارتھ کے پتا شدھودن کپل وستو کے راجا تھے اور انکا سمان نیپال ہی نہیں سموچے بھارت میں تھا۔ سدھارتھ کی موسی گوتمی نے انکا لالن پالن کیا کیونکہ سدھارتھ کے جنم کے سات دن بعد ہی انکی ماں کا دیہانت ہو گیا تھا۔


3.گوتم بدھ شاکیونشی چھتریہ تھے۔ شاکیہ ونش میں جنمے سدھارتھ کا سولہ ورش کی عمر میں دنڈپانی شاکیہ کی کنیا یشودھرا کے ساتھ وواہ ہوا۔ یشودھرا سے انکو ایک پتر ملا جس کا نام راہل رکھا گیا۔ بعد میں یشودھرا اور راہل دونوں بدھ کے بھکشو ہو گئے تھے۔

4.بدھ کے جنم کے بعد ایک بھوشیوکتا نے راجا شدھودن سے کہا تھا که یہ بالک چکرورتی سمراٹ بنےگا,لیکن یدی ویراگیہ بھاوٴ اتپن ہو گیا تو اسے بدھ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا اور اسکی کھ‍یاتی سموچے سنسار میں اننت کال تک قائم رہیگی۔ راجا شدھودن سدھارتھ کو چکرورتی سمراٹ بنتے دیکھنا چاہتے تھے اسی لئے انہوں نے سدھارتھ کے آس پاس بھوگ ولاس کا بھرپور پربندھ کر دیا تاکہ کسی بھی پرکار سے ویراگیہ اتپن نہ ہو۔ بس یہی غلطی شدھودن نے کر دی اور سدھارتھ کے من میں ویراگیہ اتپن ہو گیا۔

5.کہتے ہیں که ایک بار وہ شاکیوں کے سنگھ میں سملت ہونے گئے۔ وہاں انکا وچارک متبھید ہو گیا۔ من میں ویراگیہ بھاوٴ تو تھا ہی,اسکے علاوہ کشتریہ شاکیہ سنگھ سے ویچارک متبھید کے چلتے سنگھ نے انکے سمکش دو پرستاؤ رکھے تھے۔ وہ یہ که پھانسی چاہتے ہو یا که دیش چھوڑکر جانا۔ سدھارتھ نے کہا که جو آپ دنڈ دینا چاہیں۔ شاکیوں کے سیناپتی نے سوچا که دونوں ہی ستھتی میں کوشل نریش کو سدھارتھ سے ہوئے وواد کا پتہ چل جائیگا اور ہمیں دنڈ بھگتنا ہوگا تب سدھارتھ نے کہا که آپ نشچنت رہیں,میں سننیاس لیکن چپ چاپ ہی دیش سے دور چلا جاؤنگا۔ آپکی اچھا بھی پوری ہوگی اور میری بھی۔


آدھی رات کو سدھارتھ اپنا محل تیاگ کر30یوجن دور گورکھپور کے پاس امونا ندی کے تٹ پر جا پہنچے۔ وہاں انہوں نے اپنے راجسی وستر اتارے اور کیش کاٹ کر خود کو سننیست کر دیا۔ اس وقت انکی آیو تھی29ورش۔ کٹھن تپ کے بعد انہوں نے بودھی پراپت کی۔ بودھی پراپتی کی گھٹنا عیسٰی سے528ورش پورو کی ہے جب سدھارتھ35ورش کے تھے۔ بھارت کے بہار میں بودھگیا میں آج بھی وہ وٹورکش ودیمان ہے جسے اب بودھیورکش کہا جاتا ہے۔ سمراٹ اشوک اس ورش کی ایک شاخہ شری لنکا لے گئے تھے,وہاں بھی یہ ورش ہے۔

6.کچھ لوگ کہتے ہیں که شریمدبھاگوت مہاپران اور وشنپران میں ہمیں شاکیوں کی ونشاولی کے بارے میں الیکھ پڑھنے کو ملتا ہے۔ کہتے ہیں که رام کے2پتروں لو اور کش میں سے کش کا ونش ہی آگے چل پایا۔ کش کے ونش میں ہی آگے چلکر شلیہ ہوئے,جو که کش کی50ویں پیڑھی میں مہابھارت کال میں اپستھت تھے۔ انھیں شلیہ کی لگ بھگ25ویں پیڑھی میں ہی گوتم بدھ ہوئے تھے۔ اسکا کرم اس پرکار بتایا گیا ہے۔

شلیہ کے بعد بہتکشیہ,اورکشیہ,بتسدروہ,پرتویوم,دواکر,سہدیو,دھرواشچ,بھانرتھ,پرتیتاشو,سپرتیپ,مردیو,سنکشتر,کنراشرو,انترکش,سشین,سمتر,برہدرج,دھرم,کرتجیہ,ورات,رنج یہ,سنجے,شاکیہ,شدھودھن اور پھر سدھارتھ ہوئے,جو آگے چلکر گوتم بدھ کہلائے۔ انھیں سدھارتھ کے پتر راہل تھے۔ راہل کو کہیں کہیں لانگل لکھا گیا ہے۔ راہل کے بعد پرسینجت,شدرک,کلک,سرتھ,سمتر ہوئے۔ اس طرح کا الیکھ شاکیونشی سماج کی پستکوں میں ملتا ہے۔ شاکیوار سماج بھی ایسا ہی مانتا ہے۔


7.بھگوان بدھ نے بھکشؤں کے آگرہ پر انہیں وچن دیا تھا که میں'میترییہ'سے پن: جنم لونگا۔ تب سے اب تک2500سال سے ادھک سمیہ بیت گیا۔ کہتے ہیں که بدھ نے اس بیچ کئی بار جنم لینے کا پریاس کیا لیکن کچھ کارن ایسے بنے که وہ جنم نہیں لے پائے۔ انتت: تھیوساپھکل سوسائٹی نے جے.کرشنمورتی کے بھیتر انہیں اوترت ہونے کے لئے سارے انتظام کئے تھے,لیکن وہ پریاس بھی اسفل سی‍دھ ہوا۔ انتت: اوشو رجنیش نے انہیں اپنے شریر میں اوترت ہونے کی انومتی دے دی تھی۔ اس دوران جوربا دی بدھا نام سے پروچن مالا اوشو کے کہیں۔ دیہہ چھوڑنے کے پورو بدھ کے انتم وچن تھے'اپ دپو بھو:...سماستی۔ اپنے دیے خود بنو...سمرن کرو که تم بھی ایک بدھ ہو۔

8.بدھ کے پرمکھ گرو گرو وشوامتر,الارا,قلم,ادا کا راماپت تھے جبکہ بدھ کے پرمکھ دس ششے آنند,انرودھ(انوردھا),مہاکشیپ,رانی خیمہ(مہلا),مہاپرجاپتی(مہلا),بھدرکا,بھرگو,کمبال,دیودت,اور اپالی(نائی)تھے۔ دوسری اورکے پرچارکوں میں پرمکھ روپ سے انگلمال,ملند(یونانی سمراٹ),سمراٹ اشوک,ہوین تسانگ,فا شیین,ای جنگ,ہے چو,بودھستو یا بودھدھرما,ومل متر,ویندا(استری),اپگپت(اشوک کے گرو),وجربودھی,اشوگھوش,ناگارجن,چندرکیرتی,میترییناتھ,آریہ اسنگ,وسبندھو,ستھرمتی,دگناگ,دھرمکیرتی,شانترکشت,کملشیل,سوترانترک,آمرپالی,سنگھمترا آدی کا نام لیا جاتا ہے۔

بدھ کے دھرم پرچار سے انکے بھکشؤں کی سنکھیا بڑھنے لگی تو بھکشؤں کے آگرہ پر بودھ سنگھ کی ستھاپنا کی گئی۔ بودھ سنگھ میں بدھ نے استریوں کو بھی لینے کی انومتی دے دی۔ بدھ کے مہاپرنروان کے بعد ویشالی میں سمپن دوتیہ بودھ سنگیتی میں سنگھ کے دو حصے ہو گئے۔ ہینیان اور مہایان۔ سمراٹ اشوک نے249ای.پو.میں پاٹلپتر میں ترتیہ بودھ سنگیتی کا آیوجن کرایا تھا۔ اسکے بعد بھی بھرپور پریاس کئے گئے سبھی بھکشؤں کو ایک ہی طرح کے بودھ سنگھ کے انترگت رکھے جانے کے کنتو دیش اور کال کے انوسار ان میں بدلاؤ آتا رہا۔

9.شودھ بتاتے ہیں که دنیا میں سروادھک پروچن بدھ کے ہی رہے ہیں۔ یہ ریکارڈ ہے که بدھ نے جتنا کہا اور جتنا سمجھایا اتنا کسی اور نے نہیں۔ دھرتی پر ابھی تک ایسا کوئی نہیں ہوا جو بدھ کے برابر کہہ گیا۔ سیکڑوں گرنتھ ہے جو انکے پروچنوں سے بھرے پڑے ہیں اور آشچریہ که انمیں کہیں بھی دوہراو نہیں ہے۔35کی عمر کے بعد بدھ نے جیون کے پرتیک وشیہ اور دھرم کے پرتیک رہسیہ پر جو‍کچھ بھی کہا وہ ترپٹک میں سنکلت ہے۔ ترپٹک ارتھات تین پٹک ونیہ پٹک,ست پٹک اور ابھدھم پٹک۔ ستپٹک کے کھدک نکائے کے ایک انش دھم پد کو پڑھنے کا زیادہ پرچلن ہے۔ اسکے علاوہ بودھ جاتک کتھائیں وشو پرسدھ ہیں۔ جن کے آدھار پر ہی ایسپ کی کتھائیں نرمت ہوئی۔

10.پچھم کے بدھجیوی اور وگیانک بدھ اور یوگ کو پچھلے کچھ ورشوں سے بہت ہی گمبھیرتا سے لے رہے ہیں۔ چین,جاپان,شری لنکا اور بھارت سہت دنیا کے انیک بودھ راشٹروں کے بودھ مٹھوں میں پچھمی جگت کی تعداد بڑھی ہے۔ سبھی اب یہ جاننے لگے ہیں که پچھمی دھرموں میں جو باتے ہیں وہ بودھ دھرم سے ہی لی گئی ہے,کیونکہ بودھ دھرم,عیسٰی مسیح سے500سال پورو پورے وشو میں پھیل چکا تھا۔

دنیا کا ایسا کوئی حصہ نہیں بچا تھا جہاں بودھ بھکشؤں کے قدم نہ پڑے ہوں۔ دنیا بھر کے ہر علاقے سے کھدائی میں بھگوان بدھ کی پرتما نکلتی ہے۔ دنیا کی سروادھک پرتماؤں کا ریکارڈ بھی بدھ کے نام درج ہے۔ بت پرستی شبد کی اتپتی ہی بدھ شبد سے ہوئی ہے۔ بدھ کے دھ‍یان اور گیان پر بہت سے ملکوں میں شودھ جاری ہے۔



اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation