Loading...
End of terrorism۔ آتنکواد کے خاتمے لئے مفید کیول'مودی شیلی' | Webdunia Hindi

آتنکواد کے خاتمے کے لئے مفید کیول'مودی شیلی'

Author شرد سنگی| Last Updated: رویوار, 12مئی2019 (12:35 IST)
شری لنکا کے کرور اور وحشی آتنکی حملے کے بعدکے پرسدھ اخبار ڈان کے ایک ورشٹھ پترکار نے اپنے ایک لیکھ میں لکھا که سامانیہ طور پر یہ عام دھارنا تھی که یدی جہادیوں اور کٹرپنتھی یووکوں کو شکشت کر انہیں نوکری کے اوسر دیئے جائیں تو وہ کٹر پنتھ کے مارگ سے ہٹ کر مکھیہ دھارا میں شامل ہو سکتے ہیں۔
کنتو نئے انبھو سے یہ سوچ بیمانی ہو چکی ہے,کیونکہ شری لنکا کے آتم گھاتی دستے میں سے کئی شکشت اور اچھے گھروں کے یووک بھی تھے۔ پچھمی دیشوں میں تو یہ دھارنا پہلے ہی دھوست ہو چکی تھی,جب نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اڑانے والے آتنکی اچھی طرح شکشت اور پرشکشت تھے,یہاں تک که کچھ نے تو پچھمی دیشوں میں بھی ادھئین کیا ہوا تھا۔

شری لنکا کے حملے میں ہوئی تباہی کے پشچات ایشیاء میں بھی پل رہی یہ دھارنا سماپت ہو چکی ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں که یووا یدی اشکشا,شوشن اتھوا بیروجگاری کی وجہ سے آتنکی بن جاتے تو آج دنیا بھر میں کروڑوں میں آتم گھاتی دستے گھوم رہے ہوتے۔ سیدھا ارتھ ہے مرض کچھ اور ہے اور دنیا کو دکھایا کچھ اور ہی جا رہا ہے۔ اب سپشٹ ہو چکا ہے که آتنکیوں کا غریبی,بیروجگاری و شوشن جیسی سمسیاؤں سے سیدھا کوئی رشتہ نہیں ہے۔
مارکسوادیوں اور کمینسٹوں دوارہ جب چین اور روس میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی تب بھی اس لیکھک کے مت کے انوسار اس میں بھی سروہارا ورگ کا استعمال ہی کیا گیا تھا۔ سچ کہیں تو وچار دھارا کی آڑ میں وہ ایک ستا کی لڑائی تھی۔ جو نہیں مانے,اسکا قتل کرو اور اتوادیوں کا ورچسو سویکار کرو۔ ستا ایک شوشک کے ہاتھوں سے نکل کر دوسرے شوشک کو ستھان انترت ہو گئی تھی۔ سروہارا ورگ کی ستھتی تو آج بھی ویسی ہی ہے,جیسے پہلے تھی۔
آدھونک یگ میں یہی کہانی سیریا میں دوہرائی گئی۔ آتنکی سنگٹھن اسس دوارہ کیا گیا کتلیام کسی وچار دھارا کی لڑائی نہیں تھی۔ وہ تو دھن,سوہت اور ستا کی لڑائی تھی۔ یدی وچار دھارا ترکسمت اور دھرمسنگت ہوتی تو سارے اسلامک دیش اس سنگٹھن کے سمرتھن میں کھڑے ہو جاتے۔'خلیفہ'کی وچار دھارا جنتا کو بیچ کر ستا کو ہتھیانا مقصد تھا۔

وچار دھارا اور دھرم کے نام پر یووکوں کو آسانی سے گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ دھرم کے نام پر اتوادیوں کا کام تو اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔ فرجی وچار دھارا کو دھرم سے جوڑکر یوواؤں کے دماغ میں جہر بھرا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسا دشکوں سے ہو رہا ہے۔
اب یہ بھی کوئی رہسیہ نہیں ہے که وہ کون لوگ ہیں,جو انکے دماگوں میں جہر بھر رہے ہیں؟ تکلیف اس بات کی ہے که سرکاروں سے انہیں پرشریہ ملتا ہے۔ مسعود اظہر اور حافظ سعید جیسے آتنکی ان کارخانوں کو چلاتے ہیں,جو ہزاروں یووا جندگیوں کے ساتھ آگ کا کھیل,کھیل رہے ہیں۔

حال ہی میں سنیکت راشٹر سنگھ نے بھارت سرکار کے پریاسوں سے مسعود اظہر کو ویشوک آتنکیوں کی سوچی میں ڈالا۔ کنتو آپ کو شائد یہ پتہ نہ ہو که مسعود اظہر اس سوچی میں آنے والا پاکستان کا وہ146واں آتنکی تھا۔ ویشوک آتنکیوں کی سوچی میں کل850نام ہیں۔اورکے بعد پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جسکے سب سے زیادہ ناگریک اس آتنکیوں کی سوچی میں شامل ہیں۔
پرشن یہاں یہ ہے که اس سوچی میں ایک نام اور جڑنے سے پاکستان کو کیا کوئی فرق پڑتا ہے؟ اپنے آپ کو آتنک سے ترست دیش بتاکر دنیا میں سہانبھوتی بٹورنے کی کوشش کرنے والے دیش میں سنیکت راشٹر سنگھ دوارہ گھوشت دردانت آتنکی موج کر رہے ہیں۔

ایسے دیشوں کو کتنی بار بھی بے پردہ کر دو,انہیں کوئی شرم نہیں آتی۔ جب تک سرکاری سرپرستی کا سایہ ان سویمبھو مولاناؤں سے نہیں اٹھیگا,جب تک یہ دیش بھرمت وچار دھارا کو پوشت کرتے رہینگے۔ جب تک آتنک کے سرگناؤں کو پناہ ملتی رہیگی تب تک یہ آتنکی مانوتا پر نرنتر پر ہار کرتے رہینگے اور مودی جیسے نیتا ہی انکو انکی'بھاشا'میں'جواب'دیتے رہینگے۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation