Loading...
جب نوکریاں ہی نہیں ہیں,تو آرکشن کس کام کا؟| Webdunia Hindi

جب نوکریاں ہی نہیں ہیں,تو آرکشن کس کام کا؟

Author انل جین|
سرکاری نوکریوں اور شیکشنک سنستھانوں میں آرتھک آدھار پردیئے جانے کے وبھن سرکاروں کے جو فیصلے اب تک اچ اور سرواچ نیایک سمیکشا میں اسنویدھانک قرار دیئے جاتے رہے ہیں,اب کیندر کی بھاجپا نیت سرکار اسی آشیہ کے اپنے فیصلے کو سنویدھانک جامع پہنانے جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں کیندریہ منتری منڈل نے اگڑی جاتیوں کے غریبوں کو10فیصدی آرکشن دینے کے پرستاؤ کو منظوری دے دی ہے۔ سرکار کے اس فیصلے کا مکھیہ وپکشی پارٹی کانگریس سہت انیہ دلوں نے بھی'کنتو پرنتو'کے ساتھ سمرتھن ہی کیا,لہٰذا اس سلسلے میں سرکار کی اور سے پیش سنودھان سنشودھن ودھیک بھی پارت ہو گیا۔

غورطلب ہے که ہمارے سنودھان میں ابھی آرتھک آدھار پر آرکشن کا کوئی پراودھان نہیں ہے۔ یہی وجہ رہی که1991میں جب پہلی پی وی نرسنہراو سرکار نے آرتھک آدھار پر10فیصدی آرکشن دینے کا پرستاؤ کیا تھا تو سپریم کورٹ کی9سدسیہ پیٹھ نے اسے خارج کر دیا تھا۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے صاف کہا تھا که سنودھان میں آرکشن کا پراودھان ساماجک گیربرابری دور کرنے کے مقصد سے رکھا گیا ہے,لہٰذا اسکا استعمال غریبی انمولن کاریہ کرم کے طور پر نہیں کیا جا سکتا۔
'اندرا ساہنی بنام بھارت سرکار'کے نام سے پرسدھ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا که آرتھک آدھار پر آرکشن دیا جانا سنودھان میں ورنت سمانتا کے مول ادھیکار کا النگھن ہے۔ اپنے فیصلے میں آرکشن کے سنویدھانک پراودھان کی وسترت ویاکھیا کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا 'سنودھان کے انوچھید16 (4)میں آرکشن کا پراودھان سمودائے کے لئے ہے,نہ که ویکتی کے لئے۔ آرکشن کا آدھار آئے اور سمپتی کو نہیں مانا جا سکتا۔'سپریم کورٹ نے سنودھان سبھا میں دیئے گئے ڈا.بیار آمبیڈکر کے وکتویہ کا حوالہ دیتے ہوئے ساماجک برابری اور اوسروں کی سمانتا کو سرووپری بتایا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کی روشنی میں راجستھان,گجرات,ہریانہ آدی راجیوں کی سرکاروں کے اسی طرح کے فیصلوں کو ان راجیوں کی ہائیکورٹوں نے بھی خارج کیا۔
اب مودی سرکار اپنے جس فیصلے کو سنویدھانک جامع پہنانے جا رہی ہے,وہ ہمارے سوادھینتا آندولن کے دوران وکست ہوئے مولیوں,اتہاسک پونا پیکٹ اور پھر سنودھان سبھا میں ہوئے آرکشن سمبندھی سموچے ومرش سے تیار ہوئے سنودھان کے انوچھید15, 16, 340آدی کے پراودھانوں یعنی سنودھان کی آتما اور آرکشن کی بنیادی اودھارنا کو بھرشٹ کرنے والا ہے۔

ویسے بھاجپا کا ماتر پت سنگٹھن راشٹریہ سوینسیوک سنگھ آر ایس ایس تو بنیادی طور پر آرکشن کی ویوستھا کے ہی خلاف رہا ہے۔ اسکے اس رخ کا اجہار آر ایس ایس پرمکھ موہنراو بھاگوت اور سنگھ کے انیہ پدادھکاریوں کے بیانوں کے ذریعے بھی اکثر ہوتا رہتا ہے۔ بہار چناؤ سے پہلے آرکشن کی سمیکشا والا بیان اور رامناتھ کووند کے راشٹرپتی بننے کے بعد سی پی ٹھاکر کا بیان که اب آرکشن ختم کرنے پر وچار کرنا چاہئیے,کیونکہ دیش کا راشٹرپتی ایک دلت ویکتی ہے۔ بھاجپا بھی مول روپ سے آرکشن کی ویوستھا کے خلاف رہی ہے لیکن راجنیتک تکاجوں کے مد نظر وہ کھل کر تو اسکا ورودھ نہیں کرتی ہے لیکن اسکا آگرہ آرتھک آدھار پر آرکشن دیئے جانے کو لیکر رہتا آیا ہے,جو که آرکشن کی مول اودھارنا کے خلاف ہے۔
بھاگوت کے آرکشن کی سمیکشا والے بیان کے بعد مودی کا کہنا که'میں اپنی جان کی قیمت پر بھی آرکشن کی رکشا کرونگا',بھاجپا کی اسی اوہاپوہ کو دکھاتا ہے۔ حالانکہ پردھان منتری نریندر مودی وبھن راجیوں میں چناؤ کے موقعوں پر بھی آرکشن کی موجودہ ویوستھا کے پرتی اپنی پرتبدھتا ظاہر کرتے رہے ہیں,لیکن اب آرتھک آدھار پر آرکشن سمبندھی انکی سرکار کا تازہ فیصلہ بتاتا ہے که آرکشن کے معاملے میں انکا بھی مول نظریہ سنگھ اور اپنی پارٹی کے پارمپرک سوچ سے جدا نہیں ہے۔
دراصل,مودی سرکار اس سمیہ نوٹبندی,جیئیسٹی,راپھیل لڑاکو ومان سودے اور ماب لنچنگ کی گھٹناؤں کو لیکر سوالوں سے بری طرح گھری ہوئی ہے۔ روزگار اور کھیتیکسانی کے مورچے پر بھی اسکے کھاتے میں ناکامی ہی درج ہے۔ اس سب کے چلتے پچھلے دنوں ہوئے5راجیوں کے ودھان سبھا چناووں میں بھاجپا کو قراری ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سرجکل سٹرائک,اربن نکسل اور پردھان منتری کی جان کو خطرہ جیسے مدعوں سے بھی اسے چناؤ میں کوئی فائدہ نہیں مل پایا۔ اب3مہینے بعد ہی اسے عام چناؤ میں بھی اترنا ہے۔ ایسے میں آرتھک آدھار پر10فیصدی آرکشن کے فیصلے کو مودی سرکار کے چناوی دانو کے روپ میں دیکھا جانا لازمی ہے۔
دراصل,سورن جاتیوں کو بھاجپا کا آدھار ووٹ بینک مانا جاتا ہے,لیکن کچھ مہینوں پہلے دلت اتپیڑن نرودھک قانون ایٹراسٹی ایکٹ میں سنشودھن پارت کرنے کے مودی سرکار کے فیصلے کی وجہ سے سورنوں کے ایک بڑے حصے میں بھاجپا کو لیکر کافی ناراجی ہے جس کا کھامیاجا اسے ہندی پٹّی کے3راجیوں مدھیہ پردیش,راجستھان اور چھتیس گڑ کے ودھان سبھا چناووں میں اٹھانا پڑا۔ ناراض سورن ووٹروں نے اپنے غصے کا اجہار کرتے ہوئے بھاجپا کو ووٹ دینے کے بجائے نوٹا کا وکلپ چنا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا که بھاجپا نے کئی ایسی سیٹیں گنوا دیں,جہاں اسکی ہار کے انتر سے زیادہ ووٹ نوٹا کے پکش میں پڑے تھے۔
کہنے کی آوشیکتا نہیں که بھاجپا نے اپنے سے چھٹکے سورن متداتاؤں کو سادھنے کے مقصد سے ہی10فیصدی آرکشن کا پینترا چلا ہے لیکن یہ پینترا بیحد جوکھمبھرا ہے۔ اس سے ناراض سورن تو ضرور بھاجپا کی اور لوٹ سکتے ہیں لیکن دلت,آدیواسی اور انیہ پچھڑی جاتیوں کے وہ متداتا بھاجپا سے چھٹک سکتے ہیں,جو پچھلے کچھ ورشوں سے بھاجپا کے ساتھ تھے اور جن کے سمرتھن کے بوتے ہی کیندر سہت کئی راجیوں میں بھاجپا اپنی سرکار بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔
حال کے ورشوں میں راجستھان میں راجپوتوں,مہاراشٹر میں مراٹھوں,ہریانہ,پچھمی اترپردیش اور راجستھان میں جاٹوں تتھا گجرات میں پٹیلوں نے آرکشن کی مانگ کو لیکر اگر آندولن کئے ہیں۔ یہ سبھی سورن سمودائے موٹے طور پر بھاجپا کے سمرتھک مانے جاتے ہیں۔ مودی سرکار نے اپنے تازہ فیصلے سے ان سبھی سمودایوں کو سادھے رکھنے کا پریاس بھی کیا ہے لیکن اسکا یہ پریاس اسکے لئے بھاری مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔ دیش کی کل آبادی میں سورنوں کی سنکھیا محض16-17فیصدی ہے اور سرکار انہیں10فیصدی آرکشن دینے جا رہی ہے۔
اس فیصلے سے دیش میں آرکشن کی آگ پھر بھڑک سکتی ہے۔ دلت,آدیواسی اور انیہ پچھڑی جاتیاں بھی اپنے موجودہ آرکشن کا پرتیشت اپنی سنکھیا کے آدھار بڑھانے کی مانگ کر سکتی ہیں۔ ویسے بھی بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی,راشٹریہ جنتا دل آدی کی طرف نعرہ لگایا ہی جاتا ہے 'جسکی جتنی سنکھیا بھاری,اسکی اتنی بھاگیداری۔'اب انکی طرف سے سوال اٹھ سکتا ہے که جب سرکار سپریم کورٹ دوارہ نردھارت آرکشن کی سیما کو بڑھانے اور اس میں ایک نئی شرینی جوڑ نے کے لئے سنودھان میں سنشودھن کر سکتی ہے تو پھر اس مانگ کو پورا کرنے کے لئے کیوں نہیں کر سکتی؟
سرکار نے اپنے فیصلے میں سورنوں کے آرتھک پچھڑیپن کا جو پیمانہ تے کیا ہے,وہ بھی بیحد ہاسیاسپد اور ورودھابھاسی ہے۔ فیصلے کے مطابق جن لوگوں کی پریوارک سالانہ آمدنی8لاکھ رپئے سے کم ہے,انہیں ہی غریب مانا جائیگا اور وہ ہی آرکشن کے اس پراودھان کا لابھ لے سکیں گے۔ سوال ہے که جب سرکار8لاکھ کی سالانہ آمدنی والے لوگوں کو آرتھک روپ سے پچھڑا مان رہی ہے تو پھر انکم ٹیکس کی سیما ڈھائی لاکھ رپئے رکھنے کا کیا اوچتیہ ہے؟
8لاکھ رپئے تک سالانہ یعنی لگ بھگ66ہزار رپئے مہینے کی آمدنی والے غریب ہیں اور آرکشن کے دائرے میں آتے ہیں تو10-12ہزار رپئے یا اس سے بھی کم کی ماسک آمدنی والے غریب سورنوں کے لئے تو آرکشن کا لابھ پانا ایک سپنا ہی رہیگا۔ پھر اس بات کی بھی کیا گارنٹی که جن کی سالانہ آمدنی8لاکھ سے زیادہ ہے,وہ اپنے ٹیکس صلاحکار وکیل یا چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کی مدد سے خود کو غریب ثابت کر آرکشن کا لابھ لینے کا اپکرم نہیں کرینگے؟ ابھی بھی اخباروں میں وگیاپن تو چھپتے ہی ہیں که 'ٹیکس بچانے کے اپائے جاننے کے لئے سمپرک کریں۔'
سب سے اہم سوال تو اس سرکار کے چند ورشٹھ اور پربھاوشالی منتریوں میں سے ایک نتن گڈکری کے کچھ سمیہ پہلے مراٹھا آرکشن آندولن کے سندربھ میں دیئے گئے ایک بیان سے نکلتا ہے۔ گڈکری نے کہا تھا که جب نوکریاں ہی نہیں ہیں تو آرکشن سے کیا حاصل ہوگا؟ فی الحال دیش میں بیروجگاری در8-9فیصدی تک جا پہنچی ہے اور شکشت بیروجگاری در16فیصدی کے آس پاس ہے۔

سینٹر فار مانٹرنگ انڈین اکونامی نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں دیش میں بڑھتی بیروجگاری کے آنکڑے جاری کرتے ہوئے بتایا ہے که ورش2018میں1.10کروڑ بھارتیوں نے نوکریاں گنوائی ہیں۔ اس سلسلے میں پردھان منتری نریندر مودی کا وہ عجیب و غریب دعویٰ بھی یاد کیا جا سکتا ہے,جو کچھ مہینوں پہلے ایک انٹرویو میں انہوں نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا که انکی سرکار کی نیتیوں سے دیش میں روزگار کے اوسر تو بڑھے ہیں لیکن کتنے لوگوں کو روزگار ملا ہے,اس سمبندھ میں سرکار کے پاس ڈاٹا اپلبدھ نہیں ہے۔
بہرحال,سرکار کے آرکشن سمبندھی فیصلے کے تکنیکی پہلوؤں اور سیاسی نپھے نقصان سے ہٹ کر بات کریں تو ہمارے سنودھان نرماتاؤں نے اتہاسک کارنوں سے سماج کے ونچت اور شوشت جاتی سمودایوں کے ساماجک و شیکشنک پچھڑیپن کو دور کر انہیں سماج کی مکھیہ دھارا میں شامل کرنے کے مقصد سے سنودھان میں وشیش اوسر یعنی آرکشن کی ویوستھا کی تھی۔ لیکن یہ ویوستھا پچھلے ڈھائی تین دشک سے جہاں ایک اور راجنیتک دلوں کے لئے ووٹ بٹورنے کا اوزار بنی ہوئی ہے,وہیں دوسری اور اس ویوستھا نے وبھن جاتی سمودایوں میں بھی نئی مہتواکانکشائیں جگائی ہیں۔ جو سمودائے یا راجنیتک دل کبھی آرکشن کی اس ویوستھا کا مکھر ہوکر یا دبے سوروں میں ورودھ کرتے تھے,وہ بھی پچھلے کچھ ورشوں سے اسکے راجنیتک فائدے دیکھ کر اسکے مرید ہو گئے ہیں۔
لیکن یہ کیسی وڈمبنا ہے که ایک طرف سرکاری نوکریاں لگاتار کم ہوتی جا رہی ہیں اور دوسری طرف سرکاریں آرکشن پر آرکشن دیئے جا رہی ہے۔ قریب3دشک پورو نوؤداریکرت آرتھک نیتیاں لاگو ہونے کے پہلے تک دیش کے ثقل روزگار میں سرکاری نوکریوں کا حصہ2فیصدی ہوتا تھا جسمیں اداریکرن کے بعد وبھن شیتروں میں نجیکرن کے چلتے لگاتار کمی آتی جا رہی ہے۔ اسکے باوجود الگ الگ جاتیہ سمودایوں کی اور سے آرکشن کی مانگ اٹھتی رہتی ہے۔ چونکہ ہماری بیترتیب وکاس پرکریا کا فائدہ سماج کے کچھ ہی طبقوں تک پہنچا ہے اسلئے وبھن جاتیاں اپنے کو کسین کسی طرح آرکشت شرینی میں شامل کرانا چاہتی ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے که انکے ایسا کرنے میں کامیاب ہو جانے کے بعد بھی آرکشن کا فائدہ چند لوگوں کو ہی مل پاتا ہے۔ دراصل,آرکشن سے اگر سچ مچ ویاپک طور پر سماج کا بھلا ہوتا تو کئی آرکشت جاتیاں اب بھی پچھڑیپن کے چکرویوہ میں نہ پھنسی ہوتیں۔ آرکشن کی مانگ اور اسکے ورودھ کے لگاتار اگر ہوتے جانے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے که ہماری سرکاروں نے سروگراسی وکاس کی نیتیاں اپنائی ہیں جسکی وجہ سے ایسی ارتھویوستھا نہیں بن سکی ہیں,جو سبھی کو روزگار دینے کا سامرتھیہ رکھتی ہو۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation