Loading...
آئی پی ای کا کاروباری تماشا اور اوسادگرست سماج| Webdunia Hindi

آئی پی ای کا کاروباری تماشا اور اوسادگرست سماج

Author انل جین| Last Updated: شنیوار, 18مئی2019 (18:25 IST)
انڈین کرکٹ لیگ(آئی پی ای)ٹورنامینٹ کے دوران ہونے والی سٹیباجی اس بار بھی5لوگوں کی اسامیک موت کا کارن بنی ہے۔کے سٹے میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد وارانسی کے ایک ویکتی نے پہلے اپنی3بیٹیوں کو جہر کھلایا اور پھر خود بھی جہر کھاکر آتم ہتیا کر لی۔ دوسری گھٹنا مرادآباد کی ہے,جہاں ایک ویکتی نے سٹے میں اپنی جمع پونجی گنوا دینے کے بعد خود کو لگاکر جان دے دی۔ بھارت میں پچھلے1دشک سے ہو رہے اس سالانہ ٹورنامینٹ کے دوران اس طرح کی خبریں ہر سال آتی ہیں اور ٹورنامینٹ ختم ہونے کے بعد بھی آتی رہتی ہیں۔
وارانسی کے جس ویکتی نے آتم ہتیا کی,اسنے پہلے اپنی3بیٹیوں کو جہر کھلایا اور پھر خود بھی جہر کھاکر اپنی جان دے دی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے که اس ویکتی پر بیٹیوں کے پالن پوشن,شکشا,شادی آدی ذمیداریوں کو لیکر کتنا دباوٴ رہا ہوگا؟

اسی کے چلتے اسنے آسانی سے بہت سارا پیسہ کمانے کی للک میں آئی پی ای کی سٹیباجی کا وکلپ چنا ہوگا۔ مگر وہاں بھی اسے ناکامی ہاتھ لگی اور وہ قرض میں ڈوبتا گیا,سوابھاوک روپ سے نراشا اورنے اسے گھیر لیا ہوگا اور اپنی اسفلتا اور وپنتا سے پار پانے کا راستہ اسے آتم ہتیا میں نظر آیا ہوگا۔
اسی طرح مرادآباد میں خودکشی کرنے والا ویکتی مہاراشٹر سے چلکر کسی کاروبار کی تلاش میں مرادآباد آ کر بس گیا تھا۔ اسنے بھی اسی طرح پریوارک دائتو کا نرواہ نہ کر پانے کی ستھتی میں آئی پی ای کی سٹیباجی کا راستہ چنا اور اپنا پیسہ ڈوب جانے کی وجہ سے خودکشی کا راستہ چنا۔

وارانسی اور مرادآباد کے ان2لوگوں نے جس آئی پی ای کو اپنی امیدوں اور سپنوں کا سہارا بنایا تھا,وہ دراصل کھیل نہیں,بلکہ سٹیباجوں,آوارہ پونجی کے مالکوں,بھرشٹ کرکٹ پرشاسکوں اور مناپھاکھور میڈیا کے لئے ایک ایسا سالانہ کاروباری اوینٹ ہے,جو طرح طرح کے چھلچھدم سے بھرا ہوتا ہے۔ اس اوینٹ کو کامیاب بنانے کے لئے دیش میں بڑھتی بیروزگاروں کی فوج تو ہے ہی,جو اسے کھیل یا منورنجن مان کر ٹی وی یا موبائل سے چپ کی رہتی ہے۔
کئی لوگ اپنا کام دھندھا چھوڑکر اس بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بن کر اس یا اس ٹیم کے جیتنے ہارنے کی کامنا کرتے ہیں اور ان پر سٹے کا دانو بھی لگاتے ہیں۔ دنیا بھر کے ککریٹ کھلاڑیوں کی حیثیت اس کاروبار میں موہروں سے زیادہ کی نہیں ہوتی۔ حالانکہ انہیں بھی اپنی بھومکا نبھانے کے لئے بھرپور پیسہ ملتا ہے۔

اس کاروباری ککریٹ اوینٹ کے تحت ہونے والے مقابلوں پر اربوں رپئے کا سٹہ ہوتا ہے۔ وبھن ٹیموں کے بیچ ہونے والے مقابلوں کا نتیجہ بھی اکثر سٹہ کاروبار کے سوتر دھار ہی تے کرتے ہیں جسے میچ فکسنگ کہا جاتا ہے۔ کم سمیہ میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی للک میں کئی لوگ اس سٹیباجی کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور پہلے اپنی جیب کا پیسہ اور پھر جان بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے که کھیل کی آڑ میں ہونے والے اس فریبی کاروبار کی جانکاری سرکار کو نہ ہو,لیکن اسکی تٹستھتا بتاتی ہے که اسکا بھی پروکش سنرکشن ساماجک طور پر وناشکاری اس کاروبار کو پراپت ہے۔ یہی وجہ ہے که سبھی سرکاریں اپنے اپنے راجیہ میں اس آیوجن کے لئے بجلی,پانی,پولیس اور انیہ تمام سنسادھن ادارتاپوروک اپلبدھ کراتی ہیں۔

بہرحال,آئی پی ای کی سٹیباجی کے جال میں الجھ کر ہونے والی آتم ہتیا کی گھٹنائیں یہ بتاتی ہیں که ہمارےمیں گھنگھور آرتھک گیربرابری کے چلتے پچھلے کچھ دشکوں سے جلد سے جلد اور غلط طریقوں سے پیسہ کمانے کی پرورتی لوگوں میں تیزی سے وکست ہوئی ہے۔
اسکے باوجود آرتھک وشمتا کی کھائی کو پاٹنے کی دشا میں ویوستھاگت چنتا دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ ان دنوں پریوار کا اچت طریقے سے بھرن پوشن,بچوں کی پڑھائی لکھائی,سواستھیہ,منورنجن,وواہ جیسی ضروری ذمیداریوں کا نرواہ کر پانا عام آدمی کے لئے کئی طرح کی دشواریوں سے بھرا ہوتا جا رہا ہے,خاص کر شہری جیون میں یہ دشواریاں کبھی کبھی زیادہ ہی تراسد روپ میں سامنے آتی ہیں۔
کسانوں کی آتم ہتیا کے لمبے عرصے سے جاری سلسلے سے ہٹ کر بات کریں تو بھی پچھلے کچھ سالوں کے دوران آرتھک تنگی کے چلتے قرض کا بوجھ,پریوارک قلح,بیروجگاری یا پھر پریکشا یا پریم میں ناکامی کے چلتے خودکشی کی گھٹنائیں ہمارے سماج میں لگاتار بڑھتی گئی ہیں۔ اسے لیکر انیک سماجشاستری اور منوویگیانک ادھئین بھی ہو چکے ہیں۔

مگر یہ سوال اپنی جگہ بنا ہوا ہے که لوگ مانسک طور پر اتنے لاچار یا کمزور کیسے ہوتے جا رہے ہیں که جیون کی چنوتیوں اور سمسیاؤں کا مقابلہ کرنے میں معمولی سی اسفلتا ملنے پر اپنی جان دے دینے کو آسان وکلپ کے روپ میں چن لیتے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے که آخر ہمارا سماج بھی اتنا آتمکیندرت اور نشٹھر کیسے ہو گیا ہے که وہ ایسے لوگوں کو کسی طرح کا سہارا نہیں دے پاتا؟
یہ وہ سوال ہیں,جو ہمارے ساماجک ومرش میں اکثر سطح پر آتے رہتے ہیں اور فی الحال آئی پی ای کرکٹ کے سٹے میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد2لوگوں کی خودکشی کے بعد ایک بار پھر سطح پر تیر رہے ہیں۔ آتم ہتیا کی اسی طرح کی اور بھی خبریں آئے دن ملتی رہتی ہیں,جو الگ الگ کارنوں کے چلتے ہوتی ہیں۔

دراصل,ایسی تراسد گھٹناؤں کے پیچھے بڑی وجہ بڑھتا شہری دباوٴ ہے۔ بہت سارے لوگ صدور گاؤوں,قصبوں اور چھوٹی جگہوں سے پلائن کر بڑے شہروں یا مہانگروں میں اس امید کے ساتھ جاتے ہیں که وہ وہاں جیونیاپن کے لئے کوئی بہتر سادھن تلاش لیں گے۔ لیکن جب ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو نراشا اور اوساد کے شکار ہو جاتے ہیں اور موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
کئی سماجشاستری ادھئین بتاتے ہیں که آرتھک تنگی کے چلتے خودکشی کی جتنی بھی گھٹنائیں ہوتی ہیں,انمیں عام طور پر پریوار کے بھرن پوشن کے لئے سنگھرش کر رہے لوگ ہوتے ہیں۔ انہیں پریوار کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کافی مشقت کرنی پڑتی ہے اور کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے که خودکشی کی زیادہ تر گھٹنائیں سیمانت کسانوں,چھوٹے اور مجھولے ویوپاریوں میں ادھک دکھائی دیتی ہیں۔ کسانوں کی آتم ہتیا کو لیکر تو کھیتی میں سودھائیں بڑھانے کی باتیں اور داویں ہماری سرکاریں خوب کرتی ہیں,لیکن چھوٹے بڑے شہروں میں روزمرہ کی ضرورتوں کے لئے سنگھرش کرنے والے لوگوں کے لئے جیون سمبندھی سرکشا کے کسی ویوہارک اپائے پر کبھی گمبھیرتا سے وچار نہیں کیا جاتا۔

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation