Loading...
رشبھ پنت کی ماں کبھی گردوارے میں لنگر سیوا کرتی تھیں,گھر کے کرائے کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے... | Webdunia Hindi

رشبھ پنت کی ماں کبھی گردوارے میں لنگر سیوا کرتی تھیں,گھر کے کرائے کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے...

آج دیش کے ایسے چمکتے ہوئے کرکٹ ستارے ہیں,جو آنے والے سمیہ میں مہیندر سنگھ دھونی سے وکیٹکیپنگ کی گوروشالی وراثت لیتے ہوئے دکھائی دینگے۔ دنیا جس رشبھ کو چیتے جیسی چپلتا سے کیپنگ کرتے ہوئے دیکھتی ہے اور بلے باز میں ورودھی گیندباز پر کرارے پر ہار کرنے پر تعریفوں کے پل باندھتی ہے,اسی کرکٹر نے ایک دن ماں کو غریبی کے دنوں میں لنگر سیوا کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ انکے پریوار کے پاس مکان کرایا چکانے تک کے پیسے نہیں ہوا کرتے تھے۔ لیکن اپنی محنت کے بوتے پر رشبھ نے تمام تنگہالی کو دور کر دیا ہے۔
ہری دوار(اتراکھنڈ)میں4اکتوبر1997کو جنمے رشبھ پنت21سال کی عمر میں اپنی ماں کے تمام سپنوں کو پورا کر رہے ہیں۔ ہاں,انہیں اسکا ملال تاؤمر رہیگا که انکے پتا راجیندر پنت اپنے بیٹے کی کامیابی نہیں دیکھ سکے کیونکہ5اپریل2017کو انکی ہارٹئٹیک سے موت ہو گئی۔ پریوار کے نام پر رہ گئی ہیں توپنت اور بہن ساکشی۔ پتا چاہتے تھے که بیٹا بڑا ہوکر دیش کے لئے کرکٹ کھیلے۔ لیکن آج جب رشبھ بھارتیہ ٹیم کے لئے کھیل رہے ہیں تو انہیں دیکھنے والے پتا دنیا سے وداع ہو چکے ہیں۔
موگری سے ہوئی کرکٹ کی شروعات: رشبھ کے جنم کے بعد پریوار روڑکی میں جاکر بس گیا تھا۔ کرکٹ کا شوق انہیں بچپن سے ہی لگ گیا تھا,جب وہ دیہرادون کے انڈین سکول میں پڑھتے تھے۔ دوسرے بچوں کی طرح رشبھ نے پہلے کپڑے دھونے کی موگری کو ہاتھ میں تھاما اور پھر بلا۔ کرکٹ کا جنون جب پر وار چڑھنے لگا تو وہ بس میں بیٹھ کر روڑکی سے دہلی جانے لگے۔
راجستھان نے اپنی ٹیم سے باہر کیا: پنت نے اپنے پریوار کو دہلی شفٹ کر لیا۔ رشبھ نے کرکٹ کی کوچنگ شکھر دھون کے کوچ رہے تارک سنہا سے لینی شروع کی۔ چونکہ دہلی میں کرکٹ پرتیبھاؤں کی فوج تھی,لہٰذا انہوں نے رشبھ کو راجستھان سے کھیلنے کی صلاح دی۔
رشبھ نے انڈر 14اور انڈر 16کرکٹ راجستھان سے کھیلا۔ لیکن جب ایک دن انہیں ٹیم سے باہر کر دیا تو وہ اداس ہو گئے اور واپس دہلی چلے آئے۔ دہلی آنے کے بعد17سال کے رشبھ نے پرتگیا لی که اب وہ ایسا کھیلینگے که کوئی ٹیم انہیں باہر کا راستہ نہ دکھائے۔
ماں سروج کی قربانی بیکار نہیں گئی: رشبھ پنت کے ماتا پتا دہلی ضرور شفٹ ہو گئے تھے لیکن گھر میں اتنا پیسہ بھی نہیں آتا تھا که مکان کرایا دے سکیں۔ ماں سروج نے بیٹے کو کرکٹ کی طرف دھیان دینے کو کہا اور خود دہلی کے موتیباگ گردوارے میں لنگر سیوا دینے لگیں۔ رشبھ کو پتہ تھا که انکے کرکٹ جنون کے لئے ماں کیسی قربانی دے رہی ہیں,لہٰذا انہوں نے اس قربانی کو بیکار نہیں ہونے دیا۔
دن بھر کرکٹ میدان پر محنت کی:کچھ بڑا کرنے کے ارادے سے رشبھ دن بھر کرکٹ کے میدان پر گجارا کرتے تھے۔ ایک ہی دھن تھی که انہیں دوسروں سے کچھ الگ کرنا ہے۔ آخر وہ دن بھی آیا,جب18ویں جنم دن سے کچھ دن پہلے ہی انہیں رنجی ٹرافی میں دہلی ٹیم میں چن لیا گیا۔ دہلی اور بنگال کے میچ(22سے25اکتوبر2015)رشبھ نے پہلی پاری میں28اور دوسری پاری میں57رن ٹھونکے۔

پرتھم شرینی میں تہرا شتک: رشبھ نے32پرتھم شرینی میچ کھیلے اور2,440رن بنائے جسمیں6شتک اور10اردھشتک شامل ہیں۔ انہوں نے اچتم308رن بنائے۔ بطور کیپر رشبھ نے106کیچ لپکنے کے علاوہ10سٹنمپنگ بھی کی۔ رنجی میں عمدہ پردرشن کرنے کا پرسکار انہیں بھارت کی انڈر 19وشو کپ میں چنی گئی ٹیم شامل کرنے کا ملا۔2016میں انڈر 19وشو کپ میں انہوں نے18گیندوں پر اردھشتک بناکر راشٹریہ چینکرتاؤں کا دھیان اپنی اور کھینچا۔ وشو کپ میں شاندار پردرشن کے کارن ٹیم انڈیا کے لئے انکے دروازے کھل گئے۔
ٹیسٹ,ون ڈے اور آئی پی ای کریر: رشبھ پنت نے انگلینڈ کے خلاف(18سے22اگست2018)میں ٹیسٹ کیپ پہنی جبکہ پہلا ون ڈے ونڈیج کے خلاف21اکتوبر2018میں کھیلا۔ حالانکہ اسکے پہلے رشبھ کو آئی پی ای میں دہلی ڈییرڈیولس نے خریدا اور پہلا میچ انہوں نے گجرات لاینس کے خلاف27اپریل2016کو کھیلا تھا یعنی وہ19سال کی عمر میں پہلا آئی پی ای میچ کھیل رہے تھے۔

رشبھ نے9ٹیسٹ میچوں میں696 (اچتم159ناباد),کیپنگ کرتے ہوئے40کیچ, 2سٹنمپنگ, 3ون ڈے میں41رن, 13ٹی 20میچ میں229رن اور38آئی پی ای میچ میں1,248رن(اچتم128)بنائے ہیں۔
آکلینڈ اور ہیملٹن میں کھیلی وسفوٹک پاری:حال کے نیوزی لینڈ ٹور میں رشبھ پنت نے آکلینڈ میں دوسرے ٹی 20میچ میں بھارت کو سیریز میں1-1کی برابری دلانے میں مہتی بھومکا ادا کی۔ یہاں پر ناباد40رن کے علاوہ ایم ایس دھونی(ناباد20)کے ساتھ چوتھے وکیٹ کے لئے5.1اووروں میں44رنوں کی اوجت ساجھیداری بھی نبھائی۔ تیسرا ٹی 20میچ ہیملٹن میں تھا,جہاں پنت نے12گیندوں میں تڑاتڑ28رن بنا ڈالے۔ دربھاگیہ سے بھارت4رن سے میچ و سیریز ہار گیا۔


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation