Loading...
ناگرکتا ودھیک پر پھر ابلہ آسام| assam refugees issue | Webdunia Hindi

ناگرکتا ودھیک پر پھر ابلہ آسام

پن سنشودھت منگلوار, 8جنوری2019 (12:08 IST)
غیر مسلم شرنارتھیوں کو جلدی ہی پہچان اور بھارتیہ ناگرکتا دلانے کی بات کہہ کر پردھان منتری نریندر مودی نے پہلے سے جل رہے آسام اور پورووتر کی آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ہے۔ آٹھ جنوری کو کی گئی ہے بند کی اپیل۔

پاکستان,افغانستان اور بانگلادیش سے آنے والے غیر مسلم شرنارتھیوں کو پہچان اور بھارتیہ ناگرکتا دلانے کے لئے تیار'ناگرکتا(سنشودھن)ودھیک, 2016'پر پورووتر بھارت ابل رہا ہے۔ اس سے کتھت روپ سے اسمیہ پہچان اور سنسکرتی پر خطرہ پیدا ہونے کے سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ اکت ودھیک پر گٹھت سنیکت سنسدیہ سمتی سرکار کو اپنی رپارٹ سونپنے والی ہے۔


کس بیان سے بھڑکے
اس پرستاوت سنشودھن پر راجیہ میں وواد تو دو سال پہلے سے ہی چل رہا تھا۔ لیکن مودی نے اپنے آسام دورے کے دوران ایک ریلی میں ناگرکتا(سنشودھن)ودھیک, 2016کے شیگھر پارت ہونے کی بات کہہ کر برے کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے یہ بیان آسام کے بانگلادیش سے لگے براک گھاٹی کے سب سے بڑے شہر سلچر میں بی جے پی کی ایک ریلی میں دیا تھا,جہاں بانگلادیشی آپرواسی سب سے زیادہ ہیں۔

پردھان منتری نے کہا تھا, "سرکار ناگرکتا(سنشودھن)ودھیک کے معاملے میں آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ ودھیک ستھانیہ لوگوں کی بھاوناؤں اور جیون سے جڑا ہے۔ اسے کسی کے فائدے کے لئے نہیں بنایا گیا ہے۔ یہ اتیت میں کی گئی غلطیوں اور انیائے کا پرایشچت ہے۔"انہوں نے35سال سے لٹکے آسام سمجھوتے کی چھٹھی دھارا کو لاگو کرنے کے پرتی اینڈیئے سرکار کا سنکلپ بھی دوہرایا تھا۔ پردھان منتری نے کہا تھا که اب آسام کی ساماجک,سانسکرتک و بھاشائی پہچان کی رکشا کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

کیندر سرکار نے جولائی, 2016میں ناگرکتا ادھنیم, 1955کے کچھ پراودھانوں میں سنشودھن کے لئے ایک ودھیک پیش کیا تھا۔ لیکن اس پر وواد کے بعد اسے سنیکت سنسدیہ سمتی کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ پرستاوت سنشودھن کے مطابق پاکستان,افغانستان اور بانگلادیش سے بنا کسی ویدھ کاگجات کے آنے والے غیر مسلمان آپرواسیوں کو بھارت کی ناگرکتا دے دی جائیگی۔ اسکے دائرے میں ایسے لوگ بھی شامل ہو نگے جن کا پاسپورٹ یا ویجا ختم ہو گیا ہے۔ پرستاوت سنشودھن کے بعد اب انکو اویدھ ناگریک یا گھسپیٹھیا نہیں مانا جائیگا۔
ورودھ پردرشنتیج
پردھان منتری کی ٹپنی کے بعد سے ہی راجیہ میں ورودھ پردرشنوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ کئی جگہوں پر مودی کے پتلے جلائے گئے ہیں۔ اکھل آسام چھاتر سنگھ(آسو)اور نارتھ ایسٹ سٹوڈینٹس آرگنائجیشن(نیسو)نے اس مدعے پر آٹھ جنوری کو آسام و پورووتر بند کی اپیل کی ہے۔ پورے راجیہ میں اکت ودھیک کی پرتیاں بھی جلائی جا رہی ہیں۔

مودی کی ٹپنی نے آسام سرکار میں بی جے پی کی ساجھی دار آسام گن پریشد(ایجیپی)کے لئے بھی بھاری مشکل پیدا کر دی ہے۔ گن پریشد شروع سے ہی اکت ودھیک کا ورودھ کرتی رہی ہے۔ پارٹی کئی بار دھمکی دے چکی ہے که اسکے پارت ہونے کی ستھتی میں وہ بی جے پی سے سمبندھ توڑ لیگی۔


پورو مکھیہ منتری پرفل کمار مہنت کا کہنا ہے که راجیہ میں اب اور شرنارتھیوں کو رکھنے کی شمتا نہیں ہے۔ مہنت کہتے ہیں, "بی جے پی نے ستا میں آنے کی ستھتی میں راجیہ سے اویدھ بانگلادیشی ناگرکوں کو کھدیڑنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن وڈمبنا یہ ہے که اب وہی پارٹی غیر مسلمان آپرواسیوں کو ناگرکتا دینے کی وکالت کر رہی ہے۔"وہ کہتے ہیں که یہ اتہاسک آسام سمجھوتے کے پراودھانوں کا کھلا النگھن ہے۔

پورووتر کا پرویشدوار کہے جانے والے اس راجیہ میں بانگلادیش سے اویدھ گھس پیٹھ کا مدعا بیحد سنویدنشیل رہا ہے۔ اسی کے ورودھ میں راجیہ میں چھہ سال تک چلے آسام آندولن کے ذریعے آسام گن پریشد کا جنم ہوا تھا اور وہ ورش1985میں بھاری بہہ مت کے ساتھ جیت کر ستا میں آئی تھی۔


اسمیہ سماج کے لئے سنویدنشیل مدعا
آسو کے ادھیکش دیپنکر ناتھ کہتے ہیں, "اکت ودھیک اسمیہ سماج کو برباد کر دیگا۔ سرکار راجیہ کے لوگوں پر جبراً یہ ودھیک تھوپ رہی ہے کیندر سرکار کو ووٹ بینک کی راجنیتی کے لئے پورووتر کے ستھانیہ لوگوں کے بھوشیہ کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنا چاہئیے۔"وہ کہتے ہیں که سرکار راجیہ کے لوگوں کی بھاوناؤں کی ان دیکھی کر اسے سنسد میں پیش کرنے جا رہی ہے۔


ودھیک کا ورودھ کرنے والے سنگٹھنوں کی دلیل ہے که یہ ودھیک آسام سمجھوتے کے پراودھانوں کا النگھن ہے۔ اس سمجھوتے میں کہا گیا ہے که24مارچ, 1971کے بعد آسام آنے والے لوگ ودیشی مانے جا ئینگے۔ لیکن اس ودھیک کے ذریعے سرکار تمام ایسے لوگوں کے بھارتیہ ناگریک بننے کا راستہ صاف کر رہی ہے۔


پردھان منتری کے بیان کے بعد راجیہ میں آئے راجنیتک ابال سے صاف ہے که ستھانیہ سنگٹھنوں اور عام لوگوں کے لئے ناگرکتا ودھیک کا مدعا کتنا سنویدنشیل ہے۔ تمام سنگٹھنوں نے چیتایا ہے که اکت ودھیک خارج نہیں ہونے تک آندولن لگاتار تیز ہوگا۔ موجودہ حالات میں لوک سبھا چناووں سے پہلے راجیہ کی14میں سے11سیٹیں جیتنے کا سپنا دیکھ رہی بی جے پی کے لئے آگے کی راہ مشکلوں سے بھری ہے۔

رپورٹ پربھاکر,کولکاتہ


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation