Loading...
رانا پلاجا حادثے سے بانگلادیش نے کیا سیکھا؟| bangladesh textile industry | Webdunia Hindi

رانا پلاجا حادثے سے بانگلادیش نے کیا سیکھا؟

bangladesh textile industry
پن سنشودھت گرووار, 11جولائی2019 (13:04 IST)
میں رانا پلاجا درگھٹنا میں1000سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ اسکے بعد سے دیش کےمیں بہت سارے بدلاؤ آئے ہیں لیکن ٹریڈ یونینوں کا گٹھن اب بھی نہیں ہوا ہے۔
رانا پلاجا کی درگھٹنا اور عمارت کے گرنے کی تصویریں دنیا بھر میں دیکھی گئیں۔24اپریل2013کو عمارت کے ڈھہنے سے3000
سے زیادہ ٹیکسٹائل کرمی سٹیل اور کنکریٹ کے ملبے کے نیچے دب گئے۔1135کی جان چلی گئی۔ جو بچ گئے انمیں سے ادھکتر گمبھیر روپ سے گھائل ہو گئے تھے۔ انسان نرمت اس آپدا نے اس قیمت کو صاف کر دیا جو دھنی پچھمی دنیا میں سستے کپڑوں کے لئے غریب دیشوں کے لوگ چکا رہے ہیں۔

اسکے بعد کپڑا مزدوروں کی سرکشا کے لئے بہت سارے قدم اٹھائے گئے ہیں۔ انمیں آگ اور عمارت سرکشا کا سمجھوتہ بھی شامل ہے جو دنیا کے پرمکھ کپڑا برانڈوں,کھدرا وکریتاؤں اور ٹریڈ یونینوں نے سویچھک روپ سے کیا ہے۔ انترراشٹریہ شرم سنگٹھن آئییلؤ کے بانگلادیش ڈایریکٹر ٹومو پوسیانین نے ڈایچے ویلے کو بتایا که پلانٹ اور کارخانوں کی سرکشا کے لئے بہت کچھ ہوا ہے۔"ادیوگ میں کرمچاریوں کی سرکشا بیشک بہت بہتر ہوئی ہے,خاص کر نریات والے کپڑا ادیوگ میں۔"
آدرش شرم سرکشا
کارخانوں میں زیادہ تر بدلاؤ آگ سے سرکشا,بھون سرکشا اورکے دوران سرکشا کے شیتر میں ہوا ہے۔ اب پہلے سے زیادہ کنٹرولنگ ہوتی ہے اور نئے مانک بھی بنے ہیں۔ راجدھانی ڈھاکہ کے پچھم میں قریب دو گھنٹے کی دوری پر ستھت غاضی پور میں ایک دس منزلہ کارخانے میں ان پرورتنوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں ہانگ کانگ کی ہوپ لون کمپنی کے کارخانے میں قریب6,000لوگ کام کرتے ہیں جو مکھیت ایچئیم,پرائمارک اور سیئینڈئے جیسے برانڈ کے لئے انڈرگارمینٹ بناتے ہیں۔

2014میں بنا کارخانہ دیکھنے پر اچھا پربھاؤ چھوڑتا ہے۔ کارخانے کے نکٹ بڑے بڑے ڈیزل جینریٹر لگے ہیں جو قانونی طور پر تے کئے گئے ہیں۔ درگھٹنا کی ستھتی میں بھاگنے کا سپشٹ راستہ,آگ بجھانے کے لئے اگنشمن ینتر اور آگ کی چیتاونی دینے والے سائرن ہر کہیں لگے ہیں۔ ایک چھوٹے ہیلتھ سینٹر پر دو ڈاکٹر کام کرتے ہیں,بچوں کے دیکھ بھال کی سودھا ہے اور کارخانے کے وشال کینٹین میں مفت کھانا بھی ملتا ہے۔ سرکاری ادھیکاریوں کے انسپیکشن کے دوران تکنیک اور دوسرے ینتروں میں کوئی خامی پتہ نہیں چلی۔
نرواچت
کامگار پریشد
اس فیکٹری کی ایک اور خاص بات یہ ہے که یہاں کے کرمچاری سنگٹھت ہیں۔ قریب دو سال سے یہاں ایک پلانٹ کامگار پریشد کام کر رہی ہے۔ اسکے پہلے کامگاروں کے ہکوں کا پرتندھتو ایک کامگار سمتی کرتی تھی,جسکے سدسیوں کو کمپنی کے ادھیکاری منونیت کرتے تھے۔ کارخانے میں کام کرنے والی اورمی,شوپوں اور حلیمہ نے ڈایچے ویلے کو بتایا که جب کامگاروں نے ایک نرواچت کامگار پریشد کی مانگ کی تو شروع میں پربندھن اور کامگاروں کے بیچ کافی تناؤ رہا۔
پرمبدھن نے کامگاروں کے گھر دھمکی بھری چٹھیاں لکھیں اور انہیں نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی۔ اورمی بتاتی ہیں, "ہمیں ڈر تھا که کہیں نوکری نہ چلی جائے۔"لیکن کامگاروں کے سمرتھن سے کامگاروں کے سوتنتر پرتندھتو کی مانگ پوری ہوئی۔ وہ سب اب ٹریڈ یونین کے سدسیہ ہیں۔ بانگلادیش میں کارخانوں میں ٹریڈ یونین کا ہونا عام نہیں ہے اور یہ کارخانہ اکیلا ہے جہاں ایک ٹریڈ یونین سکریہ ہے۔ پچھمی دیشوں کی طرظ پر یہ کسی ٹریڈ یونین کی شاخہ نہیں ہے۔
شروعاتی اوشواس
کارخانے کے ایچ آر پرمکھ محمد عاطف چودھری نے ڈایچے ویلے کو بتایا که کارخانہ پربندھن کو ڈر تھا که باہر سے ٹریڈ یونین کے لوگ ہستشیپ کرینگے اور کامگاروں کو بھڑکائینگے۔ لیکن جب اسکے باوجود کامگاروں کے سمرتھن سے سٹاف کاؤنسل کا گٹھن ہو گیا تو شروع میں انہیں لگا که وہ بہت طاقتور ہیں۔ چودھری کہتے ہیں, "انہیں لگا که وہ پربندھن اور ایچ آر سے اوپر ہیں۔"لیکن اسکے بعد دونوں پکشوں نے سہیوگ کے لئے ہمت جٹائی اور کڑی سودے بازی کے بعد دو سال کے ایک کاریہ کرم پر سہمت ہوئے۔ اس میں مہتوپورن مانگوں کو شامل کیا گیا ہے,جیسے که کامگاروں کے بچوں کے لئے بڑا کنڈرگارٹن۔ چودھری کہتے ہیں که انکی کوشش سنتلن قائم کرنے کی ہے۔
شروعاتی سندیہوں کے بعد پربندھن کی سمجھ میں آ گیا که کامگار پریشد کا ہونا فائدےمند بھی ہو سکتا ہے۔ چودھری بتاتے ہیں, "اب ہمیں کرمچاریوں سے سوچنا مل رہی ہے,پربندھن بہتر فیصلے لے سکتا ہے۔"ایچ آر پرمکھ کا کہنا ہے که اکثر کامگار پریشد سمسیاؤں کو بڑھا چاکر پیش کرتی ہے,لیکن وہ سمسیاؤں کی اور دھیان بھی دلاتی ہے,جن کا ویسے پتہ نہیں چلتا۔"اس سے اتپادن کشلتا بھی بڑھتی ہے۔"کامگاروں کے پرتندھیوں کو اپنے کام پر غرو ہے تو کامگار پریشد کا ورودھ کرنے والے منیجر اس بیچ کارخانہ چھوڑکر جا چکے ہیں۔
شروعاتی دور میں مزدور آندولن
تنخواہ میں وردھی کو لیکر دونوں پکشوں میں تکرار جاری ہے لیکن پھر کامگار پریشد کے سدسیہ کارخانے میں ماحول کو رچناتمک بتاتے ہیں۔ کارخانوں میں کامگاروں کے پرتندھتو کے فائدے سے آئییلؤ کے ادھیکاری ٹومو پسیانین کو قائل کرانے کی ضرورت نہیں۔ وہ کہتے ہیں, "کامگاروں کی ایک آواز ہونی چاہئیے۔ انکے بنا کوئی ستھائی روپ سے سرکشت اور نیایوچت کام کا ماحول نہیں ہو سکتا۔"رانا پلاجا کی درگھٹنا کے بعد بانگلادیش نے شرم سرکشا کے معاملے میں بھلے ہی بہت پرگتی کی ہے,لیکن ساماجک ادھیکاروں کے معاملے میں وہ ابھی بھی بہت پیچھے ہیں۔ ویتن کم ہیں اور کام کی جگہ یون اتپیڑن سمسیا بنی ہوئی ہے۔
پسیانین کہتے ہیں که ادیموں میں کامگاروں اور مالکوں کے بیچ بھروسے کی سمسیا ہے۔ بانگلادیش میں ساماجک مدعوں پر آپسی سنواد کی کوئی پرمپرا نہیں ہے۔ حالانکہ2013کے بعد سے بانگلادیش میں500سے ادھک ٹریڈ یونین بنی ہیں لیکن انمیں سے بہت کم ہی سکریہ ہیں۔ اور یہ بات غاضی پور کے اس کارخانے کے ٹریڈ یونین کے لئے بھی لاگو ہوتی ہے۔ وہ دوسروں سے الگ تھلگ صرف اپنے یہاں کام کرتے ہیں اور دوسری ٹریڈ یونینوں یا کامگار پریشدوں سے انکا کوئی سمپرک نہیں ہے۔
پاردرشتا سوچنا: یہ رپورٹ جرمن سنیکت راشٹر سوسائٹی کے ریسرچ دورے کے بعد لکھی گئی ہے۔

رپورٹ روڈیون ایبگہاؤجین

 

اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation