Loading...
کلائمیٹ انجینئرنگ,تباہی ثابت نہ ہو| Climate Engineering | Webdunia Hindi

کلائمیٹ انجینئرنگ,تباہی ثابت نہ ہو

Climate Engineering
پن سنشودھت سوموار, 7جنوری2019 (12:06 IST)
کو روکنے کے لئے پرکرتی سے چھیڑ چھاڑ,وگیان کی ایسی کوششوں کو کلائمینٹ انجینئرنگ کہا جاتا ہے۔ وگیانکوں کے پاس اسکے کئی ماڈل ہیں۔ لیکن ماڈلوں سے زیادہ چنتائیں انہیں پریشان کر رہی ہیں۔ جوالا مکھی کے پھٹتے ہی وایومنڈل میں دھوئیں اور راکھ کا غبار پھیل جاتا ہے۔ سلفر یعنی گندھک کے کن کافی اونچائی تک پہنچ جاتے ہیں اور سوریہ کی کرنوں کو روکنے لگتے ہیں۔ نتیجہ,تاپمان میں گراوٹ۔

دنیا میں کہیں بھی ہونے والا ایک بڑا جوالا مکھی دھماکہ تاپمان کو آدھا ڈگری تک گرا دیتا ہے۔ وگیانک قدرت کے اس کھیل کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وایومنڈل میں سلفر پارٹکلس کی مدد سے وہ گلوبل وارمنگ سے لڑنا چاہتے ہیں۔


الرکے نمایر,جرمن شہر ہیمبرگ کے ماکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار مٹیریولاجی میں وگیانک ہیں۔ تکنیکی سنبھاوناؤں کی اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں, "ہمیں لگتا ہیں که تکنیکی روپ سے سلفر ڈائے آکسائڈ کو وایومنڈل میں چھوڑنا سمبھو ہے۔"

رپھلیکٹروں کی طرح کام کرتے ہوئے یہ پارٹکل سورج کی روشنی کو پراورتت کر سکتے ہیں۔ ایک ویشوک رکشا چھتری,جو شائد ہماری پرتھوی کو ٹھنڈا کر سکے۔ سیدھانتک روپ سے یہ سوچا جا سکتا ہے که سلفر کے جتنے چاہے کنوں کو سٹریسوپھیر میں پہنچایا جا سکتا ہے,جیسا1991میں پھلیپینس کے پناٹبو میں ہوئے وسفوٹ کے دوران ہوا تھا۔ تب سلفر کی چادر کو پوری طرح سے گھلنے میں قریب ایک سال لگ گیا تھا اور تاپمان اسکے بعد ہی بڑھنا شروع ہوا۔

الرکے نمایر اس وسفوٹ کے اثر کے بارے میں کہتی ہیں, "پناٹبو نے دھرتی کو ٹھنڈا کیا,سلفر کی چادر پوری دنیا میں پھیل گئی تھی اور اسکی وجہ سے ویشوک تاپمان آدھا ڈگری تک کم ہو گیا تھا۔بھی اسی طرح کام کریگی,یہ ہم پر ہے که ہم تاپمان کتنا کم کرنا چاہتے ہیں۔

اس طرح کے دخل کے کتنے ویاپک پرنام ہو نگے,یہ سمجھنا ابھی سوچ سے پرے ہے,الرکے نمایر کہتی ہیں, "جلوایو بہت ہی جٹل معاملہ ہے,اسے ہم ماڈل کیلکلیشن سے نہیں سمجھ سکتے,ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں که چونکانے والا سائڈ افیکٹ نہیں ہوگا۔ ہم ایسے پرناموں کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔"


دنیا بھر کے وگیانک جلوایو کو پربھاوت کرنے کے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ کلائمیٹ انجینئرنگ کا مطلب ہے,پرتھوی کے راسائنک اور بھوتک گنوں پر اثر ڈالنا۔

آندرییاس اوسلش,جرمن شہر کیل کا ہیلمہولس سینٹر فار اوسین ریسرچ میں شودھ کر رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں که کلائمیٹ انجینئرنگ کا دھرتی پر موجود جیون پر کیا اثر پڑےگا, "ہم کلائمیٹ انجینئرنگ کے دو طریقوں کی تلنا کرتے ہیں۔ پہلا,مثلاً ایک سنکیت کو دیکھنا,گرم ہوتی جلوایو اور سوریہ کے وکرن کو کم کرنا۔ دوسری میتھڈ کے تحت جلوایو پرورتن کے کارن سیؤٹو اور دوسری گرین ہاؤس گیسوں کو واتاورن سے نکال کر زمین اور سمندر میں سٹور کرنا۔"

ذرا سی کارروائی کے بڑے اور ویاپک پرنام ہو سکتے ہیں۔ آندرییاس اوسلش کے کمپیوٹر کی کیلکلیشن تو یہی بتاتی ہے۔ کچھ آسان سے آئڈیاز زبردست لگتے ہیں,جیسے سیؤٹو کو سمندر میں سٹور کرنا۔ گرم پانی کے مقابلے ٹھنڈے جل میں کہیں زیادہ کاربن ڈائے آکسائڈ سنچت کی جا سکتی ہے۔ طاقتور پنپوں کے ذریعے سمندر کی گہرائی سے سرد پانی کو اوپر لایا جا سکتا ہے۔ یہ پانی وایومنڈل کی سیؤٹو کو سوکھیگا۔ لیکن ایسا کرنا بھی جوکھم سے بھرا ہے۔

آندرییاس اوسلش کہتے ہیں, "ماڈل سمیلیشن کے ذریعے ہم سوچتے ہیں که آج ہونے والے10فیصدی اتسرجن کو خپہ سکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرکے ہم دکشن ساگر کے ایکو سسٹم میں بہت ہی بڑا بدلاؤ کرینگے,شیوال کی وردھی سے چھیڑ چھاڑ ہوگی,پانی میں آکسیجن کی اور زیادہ کمی ہوگی۔ اور یہ سب آج کے10فیصدی اتسرجن کے لئے۔"


کچھ ایسے ہی نتیجے آرکٹک ساگر میں ہوئی ایک ریسرچ کے دوران بھی سامنے آئے۔ رسرچروں نے وہاں پھیٹوپلیکٹن نام کا رسائن ڈالا۔ یہ سیؤٹو کو باندھتا ہے اور پھر اسے سمندر کی گہرائی میں ڈبوتا ہے۔ یہ رسائن لہروں کے ساتھ دور دور تک پھیلتا ہے۔ یہ اتسوکشم مائکرو آرگینجم کو بڑھاوا بھی دیتا ہے۔

لیکن اس معاملے میں بھی,صرف10فیصدی اتسرجن کو ٹھکانے لگایا جا سکتا ہے,پورے ایکو سسٹم پر اسکے اثر کا بھی ابھی اندازہ نہیں ہے۔ زمین پر بھی کلائمیٹ انجینئرنگ کے ایکسپیرمینٹ چل رہے ہیں۔ سوٹزرلینڈ میں ہوا سے سیؤٹو فلٹر کی جا رہی ہے۔ اس سیؤٹو کو یا تو پودھوں کے لئے کھاد کے روپ میں استعمال کیا جاتا ہے یا پھر زمین کے بھیتر سٹور کیا جاتا ہے۔ اس ماڈل کو دنیا بھر میں لاگو کیا جا سکتا ہے۔

زمین کے بھیتر سیؤٹو کے سٹوریج کو لیکر بھی کئی طرح کی آشنکائیں ہیں۔ آلوچکوں کا کہنا ہے که طاقتور بھوکمپ آیا تو گیس لیک ہو جائیگی,یہ بھوجل میں بھی گھل سکتی ہے۔ اسکے دورگامی نتیجوں کے بارے میں ٹھوس روپ سے ابھی کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔


کلائمیٹ انجینئرنگ کا سوال راجنیتاؤں کو بھی پریشان کر رہا ہے۔ اسے,سچ مچ اور کیسے استعمال کیا جائے,اس بارے میں کوئی نیم نہیں ہے۔ لیکن ایک بات پکی ہے,اگر کچھ نہیں کیا گیا تو گلوبل وارمنگ بڑھتی جائیگی۔ دھرووں پر موجود برف پگھلتی جائیگی اور ریگستانوں کا وستار ہوگا۔

اوسلش کے مطابق کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہوگا, "ہم گلوبل وارمنگ میں ناٹکیہ اضافہ دیکھ رہے ہیں اور ہم ایسا کوئی اوسر نہیں دیکھ رہے ہیں جسمیں ہم تے کئے گئے جلوایو سمبندھی لکشیوں کو پورا کر سکیں۔ کلائمیٹ انجینئرنگ کے بنا انھیں پورا سمبھو نہیں۔ اسکا مطلب ہے که ہمیں ابھی تے کرنا ہے که ہم ہر قسم کے اثر کے ساتھ کلائمیٹ انجینئرنگ کے راستے پر بڑھے یا جلوایو سمبندھی لکشیوں کو بھول جائیں۔"

لیکن خود وشیشگیہ بھی سندیہوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ جلوایو میں انسانی دخل کے کئی انیہ گھاتک پرنام ہو سکتے ہیں۔ کچھ طاقتیں راجنیتک منشا سے اس تکنیک کا استعمال کر سکتی ہیں۔ الرکے نمایر کہتی ہیں, "مجھے لگتا ہے که اسکے پیچھے راجنیتی ہے,جو سب سے بڑی سمسیا ہے کیونکہ اسے لیکر سب کے لئے انترراشٹریہ نیم بنانا بہت مشکل ہے۔ سب کی سویکرتی۔ نجی روپ سے مجھے سب سے بڑا ڈر یہی لگتا ہے که بھوشیہ میں اسکے ذریعے یدھ بھی چھیڑا جا سکتا ہے۔"

سمیہ ہاتھ سے پھسل رہا ہے اور فی الحال کوئی نہیں کہہ سکتا که ان وواداسپد پریوگوں کے ذریعے سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا۔


اوئیسجے/آر پی


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation