Loading...
کیا ہورمج جلڈمرومدھیہ پھر امریکہ ایران کے تناؤ کی چپیٹ میں ہے| Webdunia Hindi

کیا ہورمج جلڈمرومدھیہ پھر امریکہ ایران کے تناؤ کی چپیٹ میں ہے

sea
Last Updated: منگلوار, 14مئی2019 (11:36 IST)
ہورمج جلڈمرومدھیہکاروبار کے لئے اہم ہونے کے ساتھ ہی کئی دشکوں سے تناؤ کے گھیرے میں ہے۔ امریکہ کے تناؤ سے اس علاقے کا کیا لینا دینا ہے۔
کے دو تیل ٹینکروں کو نقصان پہنچا ہے۔ گھٹنا ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کا تناؤ بڑھا ہوا ہے۔ سعودی عرب نے اسے"توڑ پھوڑ کی کارروائی"بتاتے ہوئے اسکی نندا کی ہے اور اسے تیل کی ویشوک آپورتی کی سرکشا کو جوکھم میں ڈالنے کی کوشش بتایا ہے۔ جس جگہ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا وہ ہورمج جلڈمرومدھیہ کے باہر ہے۔ یہاں سے بڑی سنکھیا میں تیل کے ٹینکر گجرتے ہیں۔
نے ایک دن پہلے جانکاری دی تھی که چار ویوپارک جہازوں میں پھجائرا امیرات کے پاس توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ پھجائرا امیرات دنیا کے سب سے وشال تیل بنکروں میں سے ہے جو ہورمج جلڈمرومدھیہ کے باہر ہے۔ سنیکت عرب امیرات نے یہ جانکاری نہیں دی ہے که اسکے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے۔ ایران کے ودیش منترالیہ نے اس گھٹنا کو"چنتاجنک اور بھیانک"بتاتے ہوئے اسکی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔
ہورمج جلڈمرومدھیہ ایک اہم راستہ ہے جو مدھیہ پورو کے تیل اتپادک دیشوں کو ایشیاء, اور اتری امریکہ اور اس سے بھی آگے کے بازاروں سے جوڑتا ہے۔ یہ جلمارگ ایران اور اومان کو الگ کرتا ہے۔ ساتھ ہی کھاڑی کے دیشوں کو اومان کی کھاڑی اور عرب ساگر سے جوڑتا ہے۔ اس جلڈمرومدھیہ کی چوڑائی سب سے کم جہاں ہے,وہاں33کلومیٹر ہے لیکن جہازوں کے گجر نے کا راستہ دونوں دشاؤں میں محض تین کلومیٹر ہے۔

یو ایس اینرجی انپھارمیشن ایڈمنسٹریشن کا آکلن ہے که2016میں اس جلمارگ سے ہر دن1.85کروڑ بیرل تیل گذرا۔ یہ ساگر کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے والے کل تیل کا قریب30فیصدی ہے۔ تیل کے کاروبار کا وشلیشن کرنے والی کمپنی وورٹیکسا کے مطابق2017میں یہ ماترا1.72کروڑ بیرل پرتی دن اور2018کے پہلے چھہ مہینے میں ہی1.74کروڑ بیرل پرتی دن تھی۔ فی الحال ویشوک بازار میں تیل کی کھپت قریب10کروڑ بیرل پرتی دن ہے.تو اس لحاظ سے دنیا کے تیل کا تقریباً20فیصدی یہاں سے گزرتا ہے۔
زیادہ تر کچا تیل سعودی عرب,ایران,سنیکت عرب امیرات,کویت اور عراق سے آتا ہے۔ یہ سبھی دیش تیل نریاتک دیشوں کے سنگٹھن کے سدسیہ ہیں اور اس راستے کا استعمال کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ اس راستے کا استعمال لکوڈ نیچرل گیس یعنی ایلئینجی کے لئے بھی ہوتا ہے۔ قطر اسکا سب سے بڑا نریاتک ہے۔

1980-88کے بیچ ہوئے ایران عراق یدھ میں دونوں دیشوں نے ایک دوسرے کے تیل نریات کو دھکا پہنچانے کی کوشش کی تھی جسے ٹینکر وار کہا جاتا ہے۔ بحرین میں موجود امریکہ کے پانچوے بیڑے کے پاس اس علاقے میں چلنے والے ویوپارک جہازوں کی سرکشا کی ذمیداری ہے۔ امریکہ اور ایران کے بیچ فی الحال تناؤ بڑھا ہوا ہے۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ ہوئی پرمانو سندھی توڑنے کے ساتھ ہی کسی بھی دیش کے ایران کے ساتھ تیل خریدنے پر روک لگا دی ہے۔ چین اور بھارت جیسے کچھ دیشوں کو جو اس میں چھوٹ ملی ہوئی تھی وہ بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ امریکہ ایران پر دباوٴ بڑھانے کی کوشش میں ہے اور اسکا تیل نریات شونیہ کرنا چاہتا ہے۔
ایسی ستھتی میں اس علاقے میں تناؤ بڑھنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ سنیکت عرب امیرات اور سعودی عرب ہورمج جلمرومدھیہ کا کوئی وکلپ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اسکے لئے زیادہ پائپ لائن بنانے کی بھی تیاری ہے۔ علاقے میں تناؤ کا نتیجہ تیل ٹینکروں کو بھگتنا پڑا ہے۔ جولائی1988میں امریکی جنگی جہاج نے ایک ایرانی ہوائی جہاج کو مار گرایا۔ ومان میں سوار290لوگوں کی موت ہو گئی۔ بعد میں امریکہ نے اسے کرو کی غلطی سے ہوا حادثہ بتایا جس نے یاتری ومان کو لڑاکو جہاج سمجھ لیا۔ ایران نے اسے جان بوجھ کر کیا گیا حملہ بتایا۔
جلئی2008میں امریکہ نے کہا که ایرانی بوٹ اسکے جنگی جہازوں کو دھمکی دے رہے ہیں۔ جون2008میں تب ایران کے روولیوشنری گارڈ کے چیف رہے موہممد علی زعفری نے کہا تھا که اگر حملہ ہوا تو وہ اس علاقے سے تیل کی ڈھلائی پر نینترن کر لیں گے۔ یہ اکیلا ایسا موقع نہیں تھا جب ایران کی طرف سے ایسی بات کہی گئی ہو۔

جولائی2010میں جاپانی تیل ٹینکر ایم سٹار پر ہورمج کے علاقے میں حملہ ہوا۔ اسکی ذمیداری ال قاعدہ سے جڑے عبداللہ اعظم برگیڈس نے لی۔ جنوری2012میں ایران نے امریکہ اور یوروپ کے پرتیبندھوں کے جواب میں اس راستے کو بند کرنے کی دھمکی دی۔ یہ پرتیبندھ ایران پر اسکےکو روکنے کا دباوٴ بنانے کے لئے لگائے گئے۔
مئی2015میں ایرانی جہازوں سے سنگپر کے جھنڈے والے ایک ٹینکر پر گولیاں داگی گئیں۔ ایران کا کہنا تھا که اس جہاج نے ایران کے آئل پلیٹپھارم کو نقصان پہنچایا تھا۔ ایران نے ایک کنٹینر شپ کو بھی ضبط کر لیا۔2018میں بھی ایرانی راشٹرپتی حسن روہانی نے دھمکی دی تھی که وہ ہورمج کے راستے سے گجر نے والے تیل پر روک لگائینگے۔ ایران کی اسی طرح کی دھمکیاں تناؤ کی ستھتی میں ہورمج کو لیکر دنیا کی چنتا بڑھا دیتی ہیں۔

اینار/آئی بی(رایٹرس)


اور بھی پڑھیں:


Web Tranliteration/Translation